Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ارتضٰی آج کل اپنی دلی کیفیت پر کچھ زیادہ ہی اُکتایا ہوا تھا. پتا نہیں کیوں اُسے ماہ روش میں ایک انجانی سی کشش محسوس ہوتی تھی.
جیسے جیسے دن گزر رہے تھے یہ چھوٹی سی لڑکی اُس کے دل کے قریب ہوتی جا رہی تھی. اُس سے خود سے کیے گئے عہد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر رہی تھی. جس کی وجہ سے ارتضٰی آج کل بہت جھنجھلایا ہوا تھا.
“نہیں میری لائف میں محبت جیسی کسی چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے. یہ اتنے دن اکٹھے رہنے کی وجہ سے ایک اُنسیت سی محسوس ہورہی ہے مجھے اُس سے. ورنہ ایسا کچھ نہیں ہے. “
ارتضٰی نے کتنی بار کی طرح ایک بار پھر خود کو نارمل کرتے دل کو سمجھانا چاہا تھا. مگر پہلے کی طرح دل کی دغابازی پر شدید غصے میں آتے سامنے پڑا کپ اُٹھا کر بازو گھماتے ہوا میں اُچھالا تھا. اور تو کوئی چیز اُسے وہاں نظر نہیں آئی تھی اِس لیے بچارہ کپ اُس کے غصے کا شکار ہوا تھا.
“آہہہ.”
اپنے پیچھے ماہ روش کی آواز سنتے ارتضٰی فوراً سے پلٹا تھا. وہ کپ سیدھا کمرے میں داخل ہوتی ماہ روش کی پیشانی پر جا لگا تھا. اور جتنی شدت سے ارتضٰی نے پھینکا تھا. ماہ روش کی پیشانی بُری طرح زخمی ہوچکی تھی. اُس کے ماتھے سے تیزی سے خون بہتا دیکھ ارتضٰی تڑپ کر اُس کی طرف بڑھا تھا.
“اوہ شٹ ماہ روش یہاں بیٹھیں آپ. “
ارتضٰی نے خود کو ملامت کرتے ماہ روش کا بازو پکڑ کر اُسے ساتھ پڑی چارپائی پر بیٹھایا تھا.
“آپ اِسے یہاں دبا کر رکھیں تاکہ خون زیادہ نہ بہے. “
ارتضٰی اُسے اپنی پاکٹ سے رومال نکال کر دیتا اپنے بیگ کی طرف بڑھا تھا.
“آئم ریلی سوری. میری وجہ سے آپ کو اتنی گہری چوٹ لگ گئی. “
ارتضٰی اُس کا خون نکلتا دیکھ فکرمند ہوتا اِس بات سے انجان تھا کہ آگے وہ ماہ روش کو اب نجانے کتنی بار ایسے ہی زخم دے کر لہولہان کرنے والا تھا.
ماہ روش اپنا درد بھولے حیرت سے ارتضٰی کا یہ نیا رُوپ دیکھ رہی تھی. اُسے آج پہلی بار ارتضٰی کی آنکھوں میں اپنے لیے چاہت اور فکر نظر آئی تھی. اِس کا مطلب اِس نئے سفر میں وہ اکیلی نہیں تھی.
ارتضٰی کرسی گھسیٹ کر اُس کے بلکل سامنے بیٹھا تھا. اور اُس پر تھوڑا آگے کو جھک کر ڈریسنگ کرنے میں مصروف تھا. اُس کے وجود سے اُٹھتی خوشبو ایک بار پر ماہ روش کو اپنے حصار میں جکڑ رہی تھی. ارتضٰی کی گرم سانسیں اُسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھیں. جس کی وجہ سے گھبراتے ماہ روش نے آنکھیں بند کر لی تھیں. اُس کی اُنگلیوں کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کرتے ماہ روش کا دل زور سے دھڑکا تھا. اِس شخص کی اتنی سی قربت بھی اُس کے لیے جان لیوا ثابت ہورہی تھی.
اُسے آنکھیں میچیں دیکھ ارتضٰی کو لگا تھا جیسے اُسے بہت درد ہورہا ہے. وہ بہت ہی احتیاط اور نرمی سے اُس کا زخم صاف کرتے مرہم لگانے میں بزی تھا. جب اُس کی نظر ماہ روش کے معصوم سے چہرے پر پڑی تھی. اور جیسے اُسی پل اُس کے دل سے اقرار ہوا تھا. یہ لڑکی اُس کے دل میں گھر کر چکی تھی.
ارتضٰی کا دل بے اختیار اُس کی لرزتی پلکوں کو چھونے کو چاہا تھا. مگر ابھی وہ ایسا کوئی حق نہیں رکھتا تھا. اپنے جذبات پر قابو پاتے ارتضٰی فوراً اُس کے قریب سے اُٹھا اور باہر نکل گیا تھا.
اُس کے جاتے ہی ماہ روش نے آنکھیں کھولی تھیں. اور مسکراتے اپنے زخم پر ہاتھ رکھا تھا. جو تھوڑے سے درد کے ساتھ اُسے بہت بڑی خوشی بھی دے گیا تھا.
اُسے کچھ دنوں سے ارتضٰی کا انداز کافی بدلہ بدلہ سا لگ رہا تھا. مگر آج تو اُس کی آنکھوں میں واضح تڑپ اور فکر دیکھی تھی. وہ اُس کے لیے اہمیت رکھتی تھی اِس سوچ پر ہی ماہ روش خود کو ہواؤں میں اُڑتا محسوس کر رہی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

آج جاگیرداروں کی حویلی میں ایک جشن کا سماں تھا. بہت ساری بڑی بڑی شخصیات وہاں جما تھیں. جس کی وجہ سے وہاں کی سیکیورٹی پہلے سے بھی زیادہ سخت کی گئی تھی.
اُن کے مطابق کوئی بھی اتنی جرأت نہیں رکھتا تھا کہ بغیر اجازت گاؤں یا حویلی میں قدم رکھ سکتا مگر پھر بھی احتیاطی تدابیر کرنا بھی ضروری تھا.
امرا کوٹ گھنے جنگلوں کے درمیان گھرا ہوا تھا. جنگل میں خطرناک قسم کے جانور پائے جاتے تھے اِس لیے کوئی گاؤں میں داخل ہونے کے لیے اُس راستے کا استعمال کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا.
مگر پاک فوج کے جوان جو اپنی جان ہتھیلی پر لئے ملک کی خدمت میں ہر وقت سرگرم رہتے تھے. یہ جنگل اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا.
میجر ارتضٰی کے دیئے گئےسگنل کے مطابق جنرل یوسف نے فوج کو وہاں داخل ہونے کا آرڈر دے دیا تھا. آج رات کو ہی حویلی میں ریڈ کرکے اُن سب کو رنگے ہاتھوں پکڑنا تھا.
حویلی کے پچھلے گیٹ پر دو گارڈز پہرا دے رہے تھے جب پیچھے سے آتے ارتضٰی نے ایک کو دبوچ کر اُس کی شہ رگ کاٹتے اُسے ایک طرف پھینکا تھا. دوسرا گارڈ اُس کی طرف بڑھا ہی تھا. جب درخت کی آڑ میں کھڑی ماہ روش نے سلنسر لگے پسٹل سے اُس کی کنپٹی کا نشانہ لیتے اُسے وہیں ڈھیر کیا تھا.
بہت ہی پُھرتی کے ساتھ دیوار کے ساتھ چلتے وہ دونوں بیسمنٹ کی طرف نیچے جاتی سیڑیوں کی جانب بڑھے تھے. جہاں سامنے ہی گیلری میں دو آدمی بندوق اُٹھائے چکر لگا رہے تھے.
ارتضٰی نے اُن کے سڑھیوں کے قریب آتے ہی گولیوں سے بھون کر رکھ دیا تھا. جب اُن کو گرتا دیکھ ہال سے ایک آدمی باہر کی طرف آیا تھا. ارتضٰی اور ماہ روش بھی سیڑھیاں پھلانگ کر نیچے آچکے تھے.
اُس شخص نے پسٹل نکالتے ماہ روش کا نشانہ لینا چاہا تھا مگر ارتضٰی نے اُسے کسی قسم کی مہلت دیئے بغیر خنجر نکال کر اُس کے بازو پر وار کیا تھا. جس کی وجہ سے اُس کی بندوق نیچے جا گری تھی.
ارتضٰی کو اُسے قابو کرتا دیکھ ماہ روش اندر کی طرف بڑھی تھی. جب سامنے کا منظر دیکھ اُس کا دل جیسے کسی نے مُٹھی میں لیا تھا. مختلف عمر کے پچاس سے زائد بچے بچیوں کو بہت بُرے حال میں وہاں زنجیروں سے باندھا گیا تھا. کتنے ہی آنسو اُس کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے. نجانے کتنی ماؤں کی گود اُجاڑ کر یہ ظالم اِن بچوں کو یہاں لائے تھے جنہیں زرا بھی خدا کا خوف نہیں تھا. وہ جلدی سے آگے بڑھتی سب کو اُن بیریوں سے آزاد کرنے لگی تھی. ارتضٰی کو بھی اندر داخل ہوتا دیکھ بچے کافی خوفزدہ ہوچکے تھے.
“بچوں آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے. اب آپ لوگ بلکل سیف ہیں. “
ماہ روش کو ایک پانچ سال کے بچے کی آنکھوں میں کسی سمجھدار انسان جیسا خوف نظر آیا تھا. اُس کی ننھی کلائیوں پر باندھے ہونے کی وجہ سے بلکل خون جم چکا تھا.
انسان اتنے ظالم کیسے ہوسکتے ہیں جو صرف چند پیسے اور نفسانی خواہشات کے آگے انسانیت کو شرمسار کر دیتے ہیں.
اُن دونوں نے پچھلے راستے سے ہی بحفاظت اُن تمام بچوں کو باہر نکالا تھا. کچھ ہی دیر میں آرمی وہاں پہنچ چکی تھی. ارتضٰی واپس حویلی میں داخل ہوچکا تھا. جبکہ ماہ روش بچوں کو گاڑی میں بیٹھاتے وہاں سے نکل آئی تھی. کیونکہ بچوں کی حفاظت بہت ضروری تھی جب تک وہ سب لوگ اُن کے قبضے میں نہ آجائے. حویلی میں دونوں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ جاری تھی. مگر ماہ روش کو پورا یقین تھا فتح اُنہیں کی ہونے والی تھی.
اُن کی گاڑی گاؤں کی حدود میں سے نکلنے ہی والی تھی. جب اُسے کچھ فاصلے پر روڈ کے بلکل درمیان میں پانچ لوگ بندوقیں اُٹھائے کھڑے نظر آئے. یقیناً اُنہیں اطلاع مل چکی تھی. وہ ڈرائیور کے ساتھ آگےفرنٹ سیٹ پر تھی. جبکہ بچے پیچھے گاڑی لاک ہونے کی وجہ سے بلکل سیف تھے.
“یہ لوگ جتنی بھی فائرنگ کریں آپ کو گاڑی روکنی نہیں ہے. بلکہ زگ زیگ میں اور رش ڈرائیونگ کریں تا کہ یہ ٹائرز کو نقصان نہ پہنچا سکیں. “
ماہ روش کے آرڈر کو فالو کرتے ڈرائیور نے بلکل ویسے ہی کیا تھا. وہ لوگ بھی گاڑی پر فائرنگ شروع کر چکے تھے. ماہ روش ایک سائیڈ سے باہر نکل کر اُن کی فائرنگ کا جواب دے رہی تھی. اُن میں سے دو افراد کو وہ جہنم واصل کرچکی تھی.
گاڑی کی سپیڈ کی وجہ سے اُن لوگوں کے نشانے مسلسل چوک رہے تھے. گاڑی کا فرنٹ مرر بُری طرح ڈیمج ہوچکا تھا. لیکن پوری بہادری کے ساتھ اُن سے مقابلہ کرتے وہ گاڑی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہوچکی تھی. اور ساتھ ہی ارتضٰی کو میسج بھی سینڈ کر دیا تھا. جسے پڑھ کر ارتضٰی مطمئین ہوتے فائرنگ مزید تیز کر چکا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ہمیشہ کی طرح ارتضٰی اور ماہ روش اپنے اِس مشن میں بھی سُرخرو ٹھہرے تھے. ملک کے غدار سب کے سامنے بے نقاب ہوچکے تھے. اتنے اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کے ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہونے پر پوری قوم اُن پر تھوک رہی تھی.
گاؤں سے آنے کے بعد ماہ روش اور ارتضٰی کی ابھی تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی. آج ہی ارتضٰی کیس سے مکمل طور پر فری ہوا تھا.
اتنے دن ہوگئے تھے ارتضٰی نے اُسے نہیں دیکھا تھا. دل نے اُسے دیکھنے اور بات کرنے کی خواہش کی تھی. وہ جنرل یوسف سے مل کر ماہ روش کے بارے میں سوچتے اُن کے آفس سے نکلا ہی تھا. جب سامنے سے آتی ماہ روش سے زور دار تصادم ہوا تھا.
ارتضٰی کو تو کوئی فرق نہیں پڑا تھا لیکن ماہ روش ضرور زمین بوس ہو جاتی جب ارتضٰی نے اُسے تھام کر گرنے سے بچایا تھا.
“آپ ہر وقت گرتی ہی رہتی ہیں کیا. “
ارتضٰی اُس کو سنبھالتے مسکرا کر چھیڑتے ہوئے بولا تھا. ابھی ہی تو دل نے اُسے دیکھنے کی خواہش کی تھی اور وہ سامنے تھی.
جبکہ ماہ روش اُسے پہلی دفعہ مسکراتے دیکھ وہیں ساکت ہوئی تھی. مسکرانے سے ارتضٰی کے رُخسار پر ہلکے سے گرہے واضع ہوئے تھے. جن میں ماہ روش کواپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا.
“کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں نا. “
ارتضٰی نے اُس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا تھا. جس پر ہوش میں آتے ماہ روش اپنی بے اختیاری پر جی بھر کر شرمندہ ہوئی تھی.
“جی سر. “
ارتضٰی کی شوخ نظروں سے گھبراتے وہ اتنا ہی بول پائی تھی.
“آپ کا زخم کیسا ہے اب. “
ارتضٰی کی نظریں اُس کی لرزتی پلکوں سے ہوتے پیشانی کی طرف گئی تھیں. جہاں اُسی کا دیا ہوا زخم کافی حد تک ٹھیک تو ہوچکا تھا. لیکن گہرا ہونے کی وجہ سے اپنا نشان چھوڑ گیا تھا.
ارتضٰی اُس نشان کو دیکھتے ہی جیسے بے خود سا ہوا تھا اور کسی بھی بات کی پرواہ کئے بغیر ہاتھ بڑھا کر اُس کو چھوا تھا.
اُس کی حرکت پر ماہ روش بُری طرح پزل ہوئی تھی.
جب اچانک ماہ روش کے موبائل پر آتی کال اُسے ہوش کی دنیا میں واپس لائی تھی.
غیر ارادی طور پر اُس کی نظر موبائل سکرین پر پڑی تھی جب سامنے جگمگاتی تصویر کو دیکھ وہ وہیں ساکت ہوا تھا.
“یہ کون ہیں. “
ماہ روش کو فون اٹینڈ کرتے دیکھ ارتضٰی نے بےتاثر لہجے میں پوچھا تھا.
“یہ میری دادو ہیں. “
ماہ روش بغیر اُس کے لہجے پر غور کیے ایکسکیوز کرتی موبائل کان سے لگاتے دوسری طرف بڑھی تھی.
“ابھی اور اِسی وقت کیپٹن ماہ روش کا کمپلیٹ بائیو ڈیٹا سینڈ کرو مجھے. “
ارتضٰی نے آفس میں آتے مین یونٹ میں موجود آفیسر کو کال کرتے کہا. جب کچھ ہی منٹوں بعد جو معلومات اُسے دی گئی تھی. ارتضٰی کو لگا تھا وہ پوری دنیا کو آگ لگا دے. وہ اتنا بڑا دھوکہ کیسے کھا سکتا تھا.
“میں اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا ہوں. جس سے مجھے سب سے زیادہ نفرت کرنی چاہیے اُس سے محبت کیسے کرسکتا ہوں. نہیں وہ لڑکی میری محبت کے قابل کیسے ہوسکتی ہے وہ تو میری نفرت کے قابل بھی نہیں ہے. اُسے میں اتنا معتبر کیسے کر سکتا ہوں. “
شدید غصے اور طیش میں آتے ارتضٰی نے ہاتھ کو مکے کی شکل میں سامنے پڑے کانچ کے ٹیبل پر دے مارا تھا. جو ایک چھناکے کی آواز سے ٹوٹتا ارتضٰی کا ہاتھ بُری طرح لہولہان کر گیا تھا.
“سر یہ کیا کیا آپ نے کتنا خون بہہ رہا ہے آپ کا. “
ماہ روش اندر داخل ہوتے ارتضٰی کا ہاتھ دیکھ بھاگتے ہوئے اُس کی طرف بڑھی تھی. ارتضٰی کا درد محسوس کرتے اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے.
ماہ روش نے ارتضٰی کا ہاتھ پکڑتے اپنا دوپٹہ رکھ کر خون روکنا چاہا تھا.
“ڈونٹ ٹچ می. “
ارتضٰی اپنا ہاتھ چھوڑواتے دہاڑا تھا. جس پر ماہ روش نے گھبرا کر آنسو بھری آنکھوں سے اُس کی طرف دیکھا.
“سر کیا ہوا ہے میں…”
ماہ روش نے پوچھنا ہی چاہا تھا جب ارتضٰی نے اُس کی بات سنے بغیر اپنے دوسرے ہاتھ سے پیچھے سے اُس کی گردن کو دبوچتے اپنے بے انتہا قریب کیا تھا.
“نفرت کرتا ہوں میں تم سے. اگر مجھ پر ہو تو ابھی اور اسی وقت اپنے ہاتھوں سے تمہیں ختم کر دوں. نفرت ہے مجھے تمہاری اِس دھوکے باز صورت سے. “
ارتضٰی کی آنکھوں سے پھوٹتے شراروں میں ماہ روش کو اپنا آپ جلتا محسوس ہوا تھا. ارتضٰی کی گرم سانسوں کی تپش اُس کا چہرا جھلسا رہی تھیں.
“دفعہ ہوجاؤ میری نظروں سے دور. اور اگر اپنی بہتری چاہتی ہو تو دوبارہ کبھی میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا.”
ارتضٰی نے اُسے زور سے پیچھے کی طرف جھٹکا تھا. جس پر اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ماہ روش لڑکھڑا گئی تھی.
وہ ارتضٰی کے اِس بدلتے رویے کو سمجھنے سے قاصر تھی. ابھی تھوڑی دیر پہلے تو اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے چاہت دیکھی تھی. تو پھر اچانک ایسا کیا ہوا تھا جو وہ ایسا سلوک کر رہا تھا اُسے. مگر پوچھتی بھی تو کیسے وہ تو کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھا.
ماہ روش ایک دکھ بھری نظر اُس کے ہاتھ پر ڈالتی باہر نکل گئی تھی. جس سے تیزی سے بہتا خون فرش کو بھی رنگین کر گیا تھا.
اُس دن کے بعد سے ماہ روش نے کبھی ارتضٰی کے سامنے جانے کی کوشش نہیں کی تھی. وہ ارتضٰی کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے اتنی نفرت دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی. مگر آج بھی اُس کے لیے تڑپ رہی تھی. دل میں اُس دشمنِ جاں کے لیے محبت کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھ رہی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“واؤ یار اِس ٹائم ہاسٹل سے نکلنے کا اپنا ہی مزہ ہے. اصل رنگینیاں تو اِس وقت دیکھنے کو ملتی ہیں “
کرن ریسٹورنٹ میں بیٹھے کپلز کی طرف دیکھتے بولی.
“ہاں نا یار کتنے لکی لوگ ہیں یہ. ہائے پتا نہیں اتنا اچھا ٹائم کب آئے گا ہمارا. ابھی تو یہ بکس ہی جان کا عذاب بنی ہوئی ہیں. “
فضہ نے بھی حسرت سے کہا.
“بول تو تم ایسے رہی ہو جیسے ہر ٹائم بکس کھول کر ہی بیٹھی رہتی ہو. پتا بھی ہے کہ سبجیکٹ کون سے ہیں اِس بار. “
ریحاب نے ہنستے اُس کا مذاق اڑایا تھا. جب اچانک اُس کی نظر کارنر والے ٹیبل پر پڑی تھی.
“اوہ تو یہ شریف انسان بھی آیا ہوا ہے. آج تو میں اِسے نہیں چھوڑوں گی. “
ریحاب کی بات پر اُن دونوں نے بھی اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا. جہاں ارحم بیٹھا فون پر بات کرتا ہنستا نظر آیا تھا.
“تم کیا کرنے والی ہو. “
فضہ نے اُسے ویٹر کی طرف اشارہ کرتا دیکھ مشکوک انداز میں گھورا.
“ابھی پتا چل جائے گا. “
تھوڑی ہی دیر بعد ویٹر ہاتھ میں ٹرے تھامے اُن کی طرف آتا دیکھائی دیا.
ریحاب نے ویٹر کو کافی رکھ کر جانے کا اشارہ کرتے بیگ سے ایک چھوٹی سی ڈبی نکالی تھی.
“ریحاب پاگل ہوگئی ہو کیا. یہ تو صرف وارڈن کے لیے رکھی ہوئی نا ہم نے. ایسا مت کرو پکڑے گئے تو بہت بے عزتی ہونی ہے. “
وہ دونوں اُس کی آنکھوں میں موجود شرارت دیکھ اُس کا ارادہ بھانپتے باز رکھنے کی کوشش کی تھی. مگر وہ ریحاب ہی کیا جو کسی کی سن لے.
وہ لوگ اکثر یہاں آتی تھیں اِس لیے ریحاب ایک دو ویٹرز سے واقف تھی. دور کھڑے ویٹر کو اشارے کرتے پاس بلایا تھا اور سب سے نظر بچا کر اُس کے ہاتھ میں پانچ سو کا نوٹ پکڑاتے. ارحم کی طرف لے جانے کا کہا تھا.
“اب پتا چلے گا اِس کو کہ ریحاب سے پنگا لینے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے. “
ارحم کو ویٹر سے کافی کا مگ پکڑتے دیکھ ریحاب کی آنکھیں خوشی سے چمکی تھیں.
کافی دیر بعد جب ریحاب کو لگا کہ وہ کافی پی چکا ہوگا. وہ اُن دونوں کو باہر نکلنے کا کہتی جلدی سے ارحم کی طرف بڑھی تھی.
“ہائے مسٹر شریف کیسے ہیں آپ. “
ارحم کے ٹیبل پر پڑا خالی مگ دیکھ کر ریحاب چہکتے ہوئے بولی. جب ارحم اُس بے وقوف حسینہ کو دوبارہ اپنے سامنے دیکھ دھیرے سے مسکرایا تھا.
“ﷲ کا بہت کرم ہے. آپ سنائیں کیسا چل رہا آپ کا بزنس. “
ارحم کے طنز پر ریحاب نے گھور کر اُسے دیکھا.
“میری فکر کرنے کے بجائے آپ اپنے بارے میں سوچ لیں. کیونکہ میری سپیشل کافی پی کر اپنے حواس قائم رکھنا کافی مشکل ہوجاتا ہے.”
اُسے اپنی جلا دینی مسکراہٹ سے نوازتے ریحاب وہاں سے پلٹی تھی. اور ارحم کے چہرے پر پھیلنے والی مسکراہٹ نہ دیکھ پائی تھی.
ابھی وہ ریسٹورنٹ سے باہر نکلی ہی تھی. جب ارحم اُسے بازو سے کھینچتے تاریک گوشے کی طرف لے گیا تھا.
“چھوڑو مجھے.”
ریحاب اچانک نازل ہونے والی افتاد پر گھبراتے بولی.
جب ارحم کو سامنے دیکھ اُس کی آنکھیں مزید پھیلی تھیں.
“کیا مکس کیا ہے میری کافی میں. تم چوری کے ساتھ ساتھ نشہ بھی کرتی ہو کیا. کوئی ایسی ہی چیز ملائی ہے نا تم نے میری کافی میں. “
ارحم نے اُسے مسلسل مزاحمت کرتے دیکھ اُس کے دونوں بازو اُس کی کمر کے پیچھے موڑے تھے.
“چھوڑو مجھے. میں کوئی نشہ نہیں کرتی اور اُس دن بھی تمہیں بتایا تھا. وہ صرف ایک مذاق تھا. “
ریحاب اردگرد دیکھتے گھبراتے ہوئے بولی. کیونکہ اُس طرف کسی انسان کا کوئی نام و نشان نہیں تھا.
“ہاہا ہمت صرف اتنی سی ہے تو اتنے بڑے بڑے کام کیوں کرتی ہو. آج تو میری کافی میں نشہ آور چیز ملانے کی سزا کے طور پر تمہیں میں اپنے ساتھ ہی لے کر جاؤں گا. “
ارحم اپنا چہرہ اُس کے قریب کرتے اُس کی ہرنی جیسی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھ کر بولا. جب اُس کی بات پر ریحاب مزید خوفزدہ ہوئی تھی. کیونکہ آج اُسے ارحم کے تیور کافی خطرناک لگ رہے تھے.
“دیکھو میں نے کوئی نشہ آور چیز مکس نہیں کی تمہاری کافی میں. بلکہ صرف بد ہضمی والی دوا مکس کی ہے. اور اُس کا بھی تم پر کوئی اثر نہیں ہورہا. اِس لیے پلیز مجھے جانے دو.”
ریحاب جتنا ہاتھ چھوڑانے کی کوشش کرتی اُتنا اُس کے نزدیک ہورہی تھی. اِس لیے اب وہ سٹل کھڑے دل ہی دل میں اُسے گالیوں سے نوازتی منت بھرے لہجے میں بولی.
جب اُس کی بات سن ارحم کا زور دار قہقہہ گونجا تھا. اُسے ایسی ہی کسی بات کی امید تھی. اِس بے وقوف لڑکی سے.
ویٹر کو بغیر آرڈر کے کافی لاتے دیکھ ارحم کو گڑبڑ لگی تھی. جب اُس کے ایک دو بار غصے سے پوچھنے پر ویٹر نے اپنی نوکری جانے کے خوف سے سب اُگل دیا تھا.
“ایسے کیسے جانے دوں. سزا تو ملے گی ہی اِس حرکت پر.”
ارحم کی بات ریحاب نے گھبراتے ہوئے اُسے دیکھا. مگر جلدی سے نظریں جھکا گئی تھی کیونکہ وہ اُس کے بہت قریب کھڑا تھا.
ریحاب کو ہاسٹل کی بھی بہت ٹینشن ہورہی تھی. رات کے ٹائم باہر نکلنے کی پرمشن نہیں تھی اور وہ لوگ وارڈن کو چکما دے کر نکلی ہوئی تھیں.اگر کسی کو اُن کی غیر موجودگی کا پتا چل گیا تو بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوسکتا تھا.
“دیکھو پلیز تمہیں جو سزا بھی دینی ہے. کل صبح دے دینا پر پلیز ابھی مجھے جانے دو. میں وعدہ کرتی ہوں. تم جب جہاں ملنے کو کہو گے میں وہاں آجاؤں گی. پلیز ابھی جانے دو. “
ریحاب گھبراہٹ میں اُس سے جان چھڑوانے کے لیے جو دماغ میں آیا اُسے بولتی گئی کیونکہ اِس وقت اُسے جلد از جلد یہاں سے نکلنا تھا.
“ایسے کیسے مان لوں میں تمہاری بات. پہلے مجھے پوری گارنٹی چاہئے کے تم ملنے آؤ گی مجھے جہاں اور جب بھی بلاؤں. “
ارحم فل مستی کے موڈ میں تھا.
“اوکے یہ لو. یہ میرا کارڈ ہے اِس میں. میرا فون نمبر ایڈریس وغیرہ سب کچھ موجود ہے.”
ارحم سے آزاد ہوتے ریحاب نے جلدی سے بیگ سے کارڈ نکال کر اُس کی طرف بڑھایا تھا. اور بھاگتے وہاں سے نکل گئی تھی.
“پاگل لڑکی.اپنی اِن بے وقوفیوں کی وجہ سے کسی بڑی مشکل میں نہ پھنس جائے. “
ارحم اِس طرح کارڈ دے جانے اُسے دور ہوتے دیکھ ہولے سے بڑ بڑایا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

زیمل ہاتھ میں چائے کا مگ لیے ٹیرس پر آکر کھڑی ہوئی تھی. رات کے وقت اُسے یہاں کھڑا ہونا بہت پسند تھا. روز یہاں آکر چائے انجوائے کرنا اُس کا معمول بن چکا تھا.
ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہوتے اچانک اُس کی نظر نور پیلس کی طرف اُٹھی تھی. گیٹ کے مخالف سمت قدرے تاریک کونے والی دیوار پھلانگ کر اُسے کوئی شخص اندر داخل ہوتا محسوس ہوا تھا.
اِس وقت اِس طرح کسی کے گھر میں داخل ہونے کا اور کیا مقصد ہوسکتا تھا. گھر کا فرد تو ایسے اندر نہیں آئے گا.
اِس کا مطلب یہ کوئی چور اندر داخل ہوا ہے.
یہ سب سوچتے زیمل جلدی سے باہر کی طرف بھاگی تھی. اور اگلے پانچ منٹ میں نور پیلس کی دیوار پھلانگتے اُس شخص کی تلاش میں آگے بڑھی تھی.
جہاں سے زیمل نے اُس شخص کو اندر داخل ہوتے دیکھا تھا وہ اُسی سائیڈ پر اردگرد دیکھتے آگے بڑھی تھی. جب پیچھے سے کسی نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنے قبضے میں لیتے ایک جھٹکے سے اُس کی کمر کو دیوار سے جا لگایا تھا. اور دیوار پر اُس کے اردگرد ہاتھ رکھتے مکمل اپنے حصار میں لیا تھا.
زیمل نے دور سے آتی بلب کی ہلکی سی روشنی میں اُس کی طرف دیکھا تھا لیکن نقاب ہونے کی وجہ سے وہ اُس کا چہرا نہیں دیکھ پائی تھی.

جاری ہے