No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
“کون ہو تم اور یوں چوروں کی طرح یہاں کیا کررہی ہو.”
اُس نے سرد آنکھیں زیمل کی گہری جھیل آنکھوں میں گاڑھی تھی.
“واٹ نان سینس. میں نہیں تم چوروں کی طرح داخل ہوئے ہو اِس گھر میں. “
زیمل اُس کی بات پر غصے سے پھنکاری اور جھٹکے سے اُس کی گرفت سے خود کو چھڑوایا تھا. اور ہاتھ بڑھا کر اُس کا نقاب اُتارنا چاہا تھا.
“یہ بھی ٹھیک ہے. خود کو بچانے کے لئے دوسروں پر الزام لگا دو. میں اگر چوروں کی طرح آیا ہوں تو تم جیسے بہت مہذب انداز میں داخل ہوئی ہو. تم بھی تو دیوار پھلانگ کر ہی آئی ہونا. “
وہ بھی زیمل کے انداز میں بولتا اُسے اُسکی کوشش میں ناکام کرتے ایک بار پھر قابو کر چکا تھا.
“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے. چور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی بےبہودہ انسان ہو. بار بار مجھے کیوں ٹچ کر رہے ہو. “
زیمل کے الزام پر جاذل نے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھا.
“او ہیلو میڈم دماغ ٹھیک ہے تمہارا. تم مسلسل مجھ پر حملہ آور ہورہی ہو جسے صرف روکنے کی کوشش کر رہا ہوں میں. اِسے زبردستی چھونا نہیں اپنا دفاع کرنا کہتے
ہیں. ہو تو تم چیونٹی سی پتا نہیں اتنی طاقت کہاں سے آئی ہے تم میں. “
جاذل کا اچھا خاصہ دماغ گھوما تھا. اِس لیے اُس کے نازک سراپے پر نظریں گاڑھتے طنز کیا تھا.
“دیکھو زیادہ پرسنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے. اور اگر تم کسی کے گھر چوری کرنے کے لیے جاؤ گے تو تم کیا سمجھتے ہو. آگے سے پھولوں کے ہار پہنائے جائیں گے تمہیں. “
زیمل نے بھی اُس کو منہ توڑ جواب دیا تھا. جسکی نقاب سے جھانکتی آنکھیں اُسے پزل کررہی تھیں.
“پھولوں کے ہار تو نہیں مگر ہاں یہ بلکل اندازہ نہیں تھا کوئی حسینہ اِس طرح استقبال کرتے ملے گی. اور میں اب بتاتا ہوں زبردستی چھونا ہوتا کیا ہے. “
اُس کے اچانک بدلتے لہجے سے زیمل کو خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دی تھی.
کیونکہ جاذل اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کرچکا تھا.
“تم ایک انتہائی گھٹیا شخص ہو. مجھے لگا تھا کیا پتا کوئی غلط فہمی ہوئی ہو اِس لیے آرام سے تم سے بات کررہی تھی. مگر اب نہیں چھوڑوں…… “
جاذل کا چہرا زیمل کے بے حد قریب کرنے کی وجہ سے اُس کی بات ادھوری رہ گئی تھی. وہ اتنا قریب تھا کہ زیمل کو لگا تھا. اگر وہ بولتی تو ضرور اُس کے ہونٹ جاذل کے چہرے سے ٹچ ہوتے.
“کون ہے وہاں.. “
وہ دونوں ابھی اُسی پوزیشن میں ہی تھے جب وہاں لائٹ آن ہونے پر روشنی پھیلنے کے ساتھ کسی کی آواز اُبھری تھی. وہ دونوں جھٹکے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوئے تھے.
سامنے کھڑے ارتضٰی کو دیکھ جاذل کے ساتھ ساتھ زیمل بھی شرم سے پانی پانی ہوئی تھی. اُوپر سے ارتضٰی کے ایکسپریشن سے زیمل کو ڈوب مرنے کا دل چاہا تھا. وہ جاذل کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتی جلدی سے وہاں سے نکل گئی تھی. کیونکہ جس طرح ارتضٰی جاذل کو دیکھ رہا تھا یہ ہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ جانتے ہیں ایک دوسرے کو.
“کیا ہو رہا تھا یہاں. “
ارتضٰی مشکوک نظروں سے دیکھتے جاذل کی طرف بڑھا.
“جیسا تم سمجھ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ہورہا تھا. “
جاذل مسکرا کر اُسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا.
“لیکن میں نے تو کچھ ایسا ویسا کہا ہی نہیں. “
ارتضٰی بھی چھیڑنے والے انداز میں بولا
“کون تھی یہ لڑکی. ؟”
جاذل نے ارتضٰی کے ساتھ اندر کی طرف بڑھتے پوچھا.
“ویسے جس پوزیشن میں ابھی تھوڑی دیر پہلے تم تھے یہ سوال مجھے تم سے پوچھنا چاہئے.”
ارتضٰی اُسے بخشنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا. جواب میں جاذل نے مسکین صورت بنا کر اُسے دیکھا.
“ساتھ والے گھر میں رہتی ہے شاید. میں نے اُسے دیوار پھلانگ کر اِس طرف آتے دیکھا لیا تھا. اور تم سیدھی طریقے سے اندر داخل نہیں ہوسکتے کیا. “
ارتضٰی اُس کی شکل دیکھ بولا. جانتا تھا اتنی دور سے ڈرائیونگ کرکے آنے کی وجہ سے بہت تھکا ہوا تھا.
“یار سرپرائز دینا چاہتا تھا مگر اُس لڑکی نے سارا خراب کر دیا. “
جاذل خراب موڈ کے ساتھ بولا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“اگر تم آج نہ آتی تو میں نے چھوڑنا نہیں تھا تمہیں.”
زیمل ماہ روش کے سامنے بیٹھتے بولی.
“اچھا اب بس کرو زیادہ باتیں مت بناؤ اور میری بیٹی کے لئے کچھ کھانے کو لاؤ.”
سلمہ بیگم نے ماہ روش کو پیار کرتے کہا.
“بس اب آپ کی لاڈلی آگئی ہے. اب تو مجھے کوئی لفٹ ہی نہیں ملنی. “
زیمل اُن دونوں کو مسکرا کر دیکھتی کچن کی طرف بڑھی.
“بہت پیارا گھر ہے یہ. ہمیشہ کی طرح زبردست چوائس رہی تمہاری. “
ماہ روش زیمل کے ساتھ پورا گھر دیکھتی اُس کے بیڈ روم میں داخل ہوئی.
“ماہی ابھی تم نے ساتھ والا گھر نہیں دیکھا یار اتنا خوبصورت ہے کیا بتاؤ. اور اُس سے بھی زیادہ اُس گھر میں رہنے والے لوگ بہت اچھے ہیں. سوائے ایک بندے کے پرسوں رات ہی ملاقات ہوئی اُس فضول بندے سے میری”
زیمل رات والا واقع یاد آتے ہی غصے سے بولی
“کیوں بھئی اُس ایک بندے نے ایسا کیا کر دیا. “
ماہ روش اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے بولی. جب زیمل نے رات کا سارا قصہ اُس کے گوشہ گزار کیا جسے سن کر ماہ روش اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پائی تھی.
“ماہی تم میرا مذاق اُڑا رہی ہو. “
زیمل نے تپ کر اُسے دیکھا. مگر ماہ روش کو یوں کھکھلا کر ہنستے دیکھ اُسے بہت پیار آیا تھا. جو کم ہی ایسے دل سے ہنستی تھی.
“ہاہاہاہا نہیں میری جان میں تمہارا مذاق کیوں بناؤ گی. مگر تمہیں کیا ضرورت تھی اِس طرح وہاں جانے کی. اور بجائے گارڈ کو بتانے کے اُس بندے سے اُلجھنے کی.”
ماہ روش نے ہنستے اُسے سمجھایا تھا.
“مجھے کیا پتا تھا نیکی گلے پڑ جائے گی. میں تو ہمسایہ ہونے کا فرض نبھانے گئی تھی. “
زیمل نے منہ پُھلایا تھا.
“اچھا یہ آنٹی کیا کہہ رہی تھی کیوں نہیں مان رہی اُن کی بات تم. کہیں کسی اور کو پسند تو نہیں کرتی تم. “
ماہ روش مشکوک انداز میں اُسے دیکھتی قریب ہوئی. جب اُس کی آخری بات پر زیمل نے اُسے گھوری سے
نوازا.
“تم جانتی تو ہو. میں اِس فضول جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتی. اور ماما کو اکیلا چھوڑ کر جانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتی. پر ماما ہیں کہ مجھے سمجھ ہی نہیں رہیں. “
زیمل سلمہ بیگم کی وجہ سے بہت فکرمند تھی.
“کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو. مگر آنٹی بھی اپنی جگہ غلط نہیں ہیں. اُنہیں تمہاری بہت فکر ہے. اِس لیے اُن سے لڑنے کے بجائے اُن کی بات تحمل سے سنو اور سمجھنے کی کوشش بھی کرو.
بہت خوش قسمت ہو تم جو اتنا خوبصورت رشتہ ہے تمہارے پاس. ورنہ مجھ جیسے بھی بہت سارے بدقسمت لوگ ہیں جو ماں جیسا پیارا رشتہ ہونے کے باوجود بھی اُن کے لمس سے انجان ہیں. “
ماہ روش نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تھی. اور آنکھوں میں بے ساختہ اُمڈ آنے والی نمی کو پیچھے دھکیلتے مسکرائی.
“اوکے ٹھیک ہے کہہ دو ماما کو مگر میری ایک شرط ہے لڑکا جو بھی ہوگا اُسے یہاں میرے اور ماما کہ ساتھ رہنا ہوگا. اپنا گھر چھوڑ کر. “
زیمل نے جیسے احسان کیا تھا.
“واہ کیپٹن زیمل بہت بڑا احسان ہےآپ کا ہم پر. اِس سے اچھا تو تم انکار ہی کردیتی. ایسا کون سا گھر داماد ملے گا تمہیں.”
ماہ روش اُس کی چالاکی پر دانت پیستے بولی. جب اُس کو غصے کرتے دیکھ زیمل مسکرائی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“جاذل بھائی شکر ہے آپ آئے اور ارتضٰی بھائی کا موڈ ٹھیک ہوا. “
نعمان ارتضٰی کو مسکراتے دیکھ جاذل کے کان میں گھس کر بولا.
“نعمان کیا بول رہے ہو ارتضٰی بھائی کے بارے میں زرا اُونچا بولو سمجھ نہیں آئی. “
منیزہ اُسے تنگ کرتے ارتضٰی کو سنانے کی خاطر جان بوجھ کر اُونچی آواز میں بولی.
“میں کہہ رہا تھا آج اتنے دنوں بعد ارتضٰی اور جاذل بھائی اکٹھے گھر میں موجود ہیں کیوں نہ اِن دونوں کی جیب ہلکی کروائی جائے. “
نعمان نے جلدی سے بات بدلتے اُسے گھورا تھا.
سب لوگ ڈرائنگ روم میں اکٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے. آج بہت دنوں بعد گھر کا ماحول ٹھیک ہوا تھا. ارتضٰی زینب بیگم کے سامنے بیٹھا اُن سے سر کی مالش کروا رہا تھا.
ارباز اور بلال صاحب بھی وہاں پاس ہی بیٹھے اپنے آفس کی فائل کھولے کچھ ڈسکس کرنے میں مصروف تھے.
جاذل اور ارتضٰی کی دوستی بہت مثالی تھی. ہمیشہ ہر جگہ اکٹھے رہے تھے. کبھی بھی کوئی خوشی ہو یا غم ہو وہ ہر پل ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے تھے. اِس لیے گھر میں بھی سب کو جاذل بہت عزیز تھا. اُسے اِس گھر میں ایک بیٹے کی حیثیت حاصل تھی.
” ویسے آئیڈیا تو بہت اچھا ہے. آپ کے بھائی تو کہیں لے کر جاتے نہیں ہیں. اِسی بہانے اِن کو بھی احساس ہوجائے گا. “
نیہا نے بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی. ارباز یوں سب کے سامنے اپنی بیوی کا شکوہ سن ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا تھا. جبکہ باقی سب اُسے کی شکل دیکھ کر ہنسنے لگے تھے.
“ٹھیک ہے بھابھی اگر آپ کہہ رہی ہیں تو ضرور چلتے ہیں ہم باہر. کیوں ارتضٰی.؟”
جاذل نے بات ختم کرتے سوالیہ انداز میں ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا.
“اوکے جائیں گے مگر سب لوگ. پھوپھو, ماما اور چچی آپ لوگ بھی چلیں گی ہمارے ساتھ. “
ارتضٰی اُن سب کی طرف دیکھتا محبت سے بولا.
اور اُن کے بہت انکار کے باوجود سب نے اُن کو مناکر ہی دم لیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“زیمل یار بس کردو اب. غلطی ہوگئی جو تمہارے ساتھ شاپنگ کرنے آگئی. لگتا ہے پورے سال کی چیزیں خریدنی ہیں تمہیں. “
ماہ روش کو چھے گھنٹے گزر چکے تھے زیمل کے ساتھ مال میں خوار ہوتے مگر زیمل کا دل ہی نہیں بھر رہا تھا. آخر کار ماہ روش اُکتا کر بولی.
“بس یہ لاسٹ شاپ تھی. چلو اب کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں جا کر ڈنر کرتے ہیں. “
اب تو زیمل بھی تھک چکی تھی. اِس لیے اُس پر ترس کھاتے بولی
“احسان عظیم ہے آپ کا مجھ پر. “
ماہ روش جل کر بولتے اُس کا بازو پکڑ کر باہر نکلی کہ کہیں اُس کی دوبارہ کسی چیز پر نظر نہ پڑ جائے.
زیمل ماہ روش کو اپنے فیورٹ ریسٹورنٹ میں لے کر آئی تھی. ماہ روش کو بھی وہ جگہ بہت پسند آئی تھی. جہاں آؤٹ ڈور بھی ٹیبلز لگائے گئے تھے. وہ دونوں بھی اُنہیں میں سے ایک کی طرف بڑھ گئی تھیں.
دونوں مستی اور باتوں کے ساتھ مزے سے ڈنر کرنے میں مصروف تھیں. زیمل کال آنے کی وجہ سے اُٹھ کر دوسری طرف بڑھی. جب بے اختیار ماہ روش کی نظر کچھ فاصلے پر کھیلتے بچوں پر پڑی تھی.
جو وہاں لگے جھولوں پر کھیلنے میں مصروف تھے. ماہ روش فوراً اپنی کرسی سے اُٹھ کر اُس طرف بھاگی تھی کیونکہ جس جھولے پر دو ٹوئنز بیٹھے تھے اُس کی زنجیر بلکل ٹوٹنے والی تھی. اور اردگرد سے گزرتے ویٹر بھی اُن کی طرف متوجہ نہیں تھے.
ماہ روش نے جلدی سے اُن کے پاس پہنچ کر زنجیر کو تھامتے چلا کر ویٹر کو آواز لگائی تھی. اور ساتھ ہی اُن بچوں کو نیچے اُترنے کو کہا تھا. کیونکہ زنجیر ٹوٹ کر ماہ روش کے ہاتھوں کو زخمی کر گئی تھی. مگر اُس نے درد سہتے اُن بچوں کو گرنے سے بچایا تھا.
ناہید بیگم بھی اُسی وقت طلحہ اور ہادی کو دیکھنے باہر آئی. لیکن سامنے کا منظر دیکھ دل تھامتی اُن کے پاس پہنچی تھیں.
ناہید بیگم نے بچوں کو اپنے قریب کرتے تشکر آمیز انداز میں ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
“بیٹا آپ کا بہت بہت شکریہ میرے بچوں کو چوٹ لگنے سے بچالیا آپ نے. “
ناہید بیگم نے ماہ روش کی طرف دیکھتے کہا.
“نہیں آنٹی اِس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں. میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا. “
ماہ روش مسکرائی تھی.
“بیٹا آپ کے ہاتھ تو بُری طرح زخمی ہوگئے ہیں. “
ناہید بیگم نے فکرمندی سے اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر دیکھے.
جب اُسی لمحے ارتضٰی نے ناہید بیگم کو واپس نہ آتے دیکھ باہر قدم رکھا تھا مگر ماہ روش کو ناہید بیگم کے قریب کھڑے دیکھ مٹھیاں بھینچتے نفرت سے آگے بڑھا تھا.
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری مدر کے پاس بھی آنے کی. “
ارتضٰی نے ماہ روش کا بازو پکڑ کر اُسے ناہید بیگم سے دور جھٹکا تھا. جب ماہ روش نے گرنے سے بچنے کے لیے پیچھے کھڑے پلر کو تھاما تھا.
آج پورے تین سال بعد وہ اِس ستمگر کو دیکھ رہی تھی. جس کی آنکھوں میں اُسے اپنے لیے پہلے سے بھی کہیں زیادہ نفرت دیکھائی دی تھی.
“ارتضٰی یہ کیا طریقہ ہے. “
ناہید بیگم ارتضٰی کا ایسا جلالی انداز دیکھ شاک کی کیفیت میں بولیں. طلحہ اور ہادی بھی ہقا بقا رہ گئے تھے.
“ماما چلیں آپ لوگ یہاں سے. میں اِس لڑکی کا سایہ بھی آپ لوگوں پر پڑنے نہیں دینا چاہتا. “
ارتضٰی ماہ روش کی طرف دیکھتے حقارت سے بولا. جب ماہ روش مزید اُس کی نظریں برداشت نہ کرتے وہاں سے نکل آئی تھی.
“ارتضٰی تمہیں کیا ہوگیا ہے. اُس بچی نے اپنی پرواہ کئے بغیر طلحہ اور ہادی کی جان بچائی ہے اور تم نے اُس کے ساتھ کیسا سلوک کیا. ہاتھ دیکھے تھے تم نےاُس کے کس بُری طرح سے زخمی تھے.
مگر تمہیں اپنے غصے سے آگے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا. کیا میں وجہ جان سکتی ہوں اِس کی. “
ناہید بیگم ارتضٰی کی اِس حرکت پر دکھ سے بولیں. مگر اِس وقت وہ خود کو اُن کی کسی بھی بات کو جواب دینے کے قابل نہ سمجھتے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ارتضٰی کی نظر روڈ سائیڈ کھڑی گاڑی میں ماہ روش کے ساتھ بیٹھی زیمل پر پڑی تھی اور یہ جان کر کہ وہ اُس کے گھر کے اتنے قریب رہتی ہے. ارتضٰی کے غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا.
گھر آکر ارتضٰی مسلسل اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا. اُسے کسی صورت سکون نہیں مل رہا تھا.
ناہید بیگم سے ماہ روش کا سن کر ایک پل کے لیے اُس کا دل بے چین ہوا تھا. مگر یہ بات جان کر کے ماہ روش اُس کی فیملی کے اتنے قریب پہنچ چکی ہے ارتضٰی کی نفرت پھر سے اُبھر آئی تھی.
پچھلے چار گھنٹوں سے وہ ایسے ہی پاگل ہورہا تھا. جب سکون نہ محسوس کرتے کچھ سوچتے وہ باہر کی طرف بڑھا تھا.
کھڑکی کے ذریعے اندر داخل ہوتے ارتضٰی بیڈ کی طرف بڑھا تھا. اور بیڈ پر لیٹے بے خبر وجود کو غصے بھری نظروں سے گھورا تھا.
ارتضٰی نے آگے بڑھ کر اُسے پکڑ کر جھنجھوڑنا چاہا تھا. مگر اُس کے چہرے پر نظر پڑتے ارتضٰی کے ہاتھ وہیں رُکے تھے. ماہ روش کے چہرے پر اُسے آنسوؤں کے واضح نشان نظر آرہے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی سے سامنے کے بعد وہ زیمل کے ساتھ گھر آتے فوراً اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی . نجانے کتنا ٹائم روتے اُس کی آنکھیں بُری طرح سوج چکی تھیں. ہاتھ کے زخم سے بھی خون بہہ کر اب خود ہی خشک ہوچکا تھا.
اُس کو سوئے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی. جب ایک عجیب سے احساس سے کسمسا کر آنکھیں کھولی تھیں مگر اپنے اتنے قریب کسی کو کھڑا دیکھ اِس سے پہلے کے ماہ روش کی منہ سے ڈر کے مارے چیخ نکلتی ارتضٰی اُس کے اُوپر جھکتا اپنا مضبوط ہاتھ اُس کے منہ پر رکھ گیا تھا.
جاری ہے
