No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
” ماہ روش ..”
ارتضٰی ماہ روش کے بے جان وجود کو اپنے بازو میں لیتے چلایا تھا. اُس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے. اردگرد کی پرواہ کیے بغیر وہ ماہ روش کو پکارتا پاگل ہو اُٹھا تھا.
زیمل بھی روتے ہوئے ارتضٰی کی حالت دیکھ رہی تھی.
ارتضٰی نے ماہ روش کی نبض چیک کی. جو ابھی بھی ہلکی ہلکی چل رہی تھی. ارتضٰی کے مردہ ہوتے دل کو لگا تھا جیسے وہ دوبارہ جی اُٹھا ہو. وہ ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر ماہ روش کے وجود کو احتیاط سے بانہوں میں سمیٹتے باہر کی طرف بھاگا تھا.
زیمل جلدی سے ارحم کی طرف بڑھی تھی. جو باقی لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد غفور اور دلاور کو اپنے قبضے میں کر چکا تھا. آرمی کے اہلکار بھی وہاں پہنچ چکے تھے. اور اُن کو گرفتار کرکے وہاں سے لے جانے لگے تھے.
جب اُدھر سے فارغ ہوتے ارحم نے ایک نظر ریحاب پر ڈالی تھی. جو ماہ روش کی حالت پر پتھرائی آنکھوں سے اُس جگہ کو دیکھ رہی تھی جہاں ماہ روش کا خون زمین پر پھیلا ہوا تھا.
” تمہارے ہر جھوٹ اور فریب کو جانتے ہوئے بھی سر آنکھوں پر بیٹھایا تھا میں نے تمہیں. مگر تم…. تم نے کیا کیا. کوئی اتنا خود غرض کیسے ہوسکتا ہے.”
ارحم غصے سے ریحاب کی طرف بڑھا تھا جب زیمل نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے کوئی بھی جذباتی عمل کرنے سے روکا تھا.
ارحم کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت اور غصے کی چنگاریاں دیکھ ریحاب کو لگا تھا اُس نے سب کچھ کھو دیا ہے.
ارحم غصے سے مٹھیاں بھینچتے مزید ایک نظر بھی ریحاب پر ڈالے بغیر وہاں سے نکل گیا تھا.
زیمل نے ارحم کو باہر کی طرف جاتے دیکھ ایک نظر ریحاب پر ڈالی تھی. جو پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی. زیمل کی آنکھوں کے سامنے باربار وہ منظر گھوم رہا تھا جب ریحاب نے ماہ روش کے اُوپر بندوق تانی تھی. مگر اِس وقت وہ ماہ روش کی دوست نہیں بلکہ ایک آرمی آفیسر تھی.ریحاب کو بحفاظت یہاں سے نکالنا اُس کی ڈیوٹی تھی. اور ماہ روش نے بھی تو ریحاب کے دھوکے کے باوجود خود پر گولیاں کھا کر اُسے محفوظ رکھا تھا.
زیمل نے ریحاب کا ہاتھ تھام کر کھڑا کیا تھا. اور اپنے ساتھ لیے آگے بڑھی تھی.
ریحاب اِس وقت خود سے بھی نظریں ملانے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی. اُس نے ماہ روش کے ساتھ کیا کیا تھا. مگر ماہ روش پھر بھی اُس پر ایک خراش بھی نہیں آنے دی تھی.
ریحاب کا دل ماہ روش کی خیریت کے لیے دعا گو تھا. اگر ماہ روش کو کچھ ہوجاتا تو شاید پھر اتنے گلٹ کے ساتھ وہ بھی زندہ نہ رہ پاتی.
زیمل کا ارادہ تھا کہ ریحاب کو گھر ڈراپ کرکے. خود جلد سے جلد ہاسپٹل پہنچے مگر ریحاب کی ہاسپٹل جانے کی التجا پر مجبوراً گاڑی اُس طرف ہی موڑ دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی کی نظریں آئی سی یو کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں. اُس کے کپڑے پوری طرح ماہ روش کے خون سے لال ہوچکے تھے. مگر اُسے کسی بھی بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی. اِس وقت اُس کے لیے اپنی سانسوں سے بھی زیادہ ماہ روش کی سانسیں ضروری تھیں.
ڈاکٹرز کے ماہ روش کی کنڈیشن پر مایوسی کا اظہار کرنے پر ارتضٰی اُن پر اچھا خاصہ بھڑک چکا تھا. کیونکہ ماہ روش کے حوالے سے کوئی بھی غلط نیوز سننے کی ارتضٰی میں اِس وقت ہمت بلکل نہیں تھی.
اُسے اب احساس ہورہا تھا ماہ روش اُس کے لیے کتنی ضروری ہے. جسے ہر وقت وہ ٹھکراتا اور بے عزت کرتا آیا تھا. اور اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتا آیا تھا. جسے اُس نے زندگی میں سب سے غیر اہم انسان کہا تھا.
وہ تو اُس کی سانسوں میں بستی تھی. اُس کے لیے سب سے زیادہ ضروری تھی. اُس کی بے سکونی نہیں بلکہ اُس کے سکون کی وجہ تھی.
ماہ روش کا زخمی وجود بار بار نظروں کے سامنے آکر ارتضٰی کی تڑپ میں مزید اضافہ کررہا تھا. اُس کی تکلیف کا احساس ارتضٰی کی جان نکال رہا تھا.
ارتضٰی کو ماہ روش کو کہا ایک ایک لفظ رُلا رہا تھا.
اُس نے ماہ روش کو غدار اور نجانے کیا کچھ کہا تھا. اور آج ماہ روش نے اُسے ثابت کردیا تھا کہ وہ جیسے ظاہر سے تھی ویسا ہی اُس کا باطن تھا.
وہ آج ارتضٰی کو بہت بڑی ہار سے دوچار کر گئی تھی.
جاذل , ارحم, زیمل اور ریحاب بھی وہاں پہنچ چکے تھے. جاذل نے ارتضٰی کے پاس آتے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا.
” ارتضٰی حوصلہ رکھو. اُوپر والا سب بہتر کرے گا. “
ارتضٰی نے جاذل کی آواز پر سرخ انگارہ آنکھیں اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا. جب اُسی وقت آئی سی یو کا دروازہ کھول کر ڈاکٹر باہر نکلا تھا.
” ڈاکٹر صاحب ماہ روش کی حالت کیسی ہے. وہ ٹھیک ہوجائے گی نا. ہوش میں کب آئے گی. “
ارتضٰی کی حالت اِس وقت ایک لُٹے پُٹے شخص جیسی ہورہی تھی جس کا سب کچھ چھن چکا ہو اور اب اُس کے پاس جیسے جینے کو کچھ بچا ہی نہ ہو.
” اُن کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا. بہت زیادہ خون بہہ چکا ہے. ہم پوری کوشش کررہے ہیں. ہمارے سینئرز ڈاکٹرز کی ٹیم بھی آچکی ہے. ابھی تھوڑی دیر میں آپریشن ہے اُس کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے.”
ڈاکٹر بات کرکے جلدی سے آگے کی طرف بڑھ گیا تھا.
ارتضٰی اِس وقت بے بسی اور اذیت کی انتہاؤں پر تھا. اُسے آج ماہ روش کی تڑپ کا شدت سے احساس ہورہا تھا. وہ بھی تو اُس کے لیے ایسے ہی تڑپ رہی تھی. مگر ارتضٰی نے اُس کی حالت پر رحم نہیں کیا تھا تو آج وہ کیوں کرتی.
ارتضٰی جیسے ہی پلٹا اُس کی نظر زیمل کے ساتھ کھڑی ریحاب پر پڑی تھی. جو ماہ روش کی اِس حالت کی ذمہ دار تھی.
ارتضٰی طیش کے عالم میں ریحاب کی طرف بڑھا تھا.
” تم تمہارا کیا بگاڑا تھا اُس نے. کیوں کیا اُس کے ساتھ ایسا. تم ہم میں سے کسی اور کو بھی بلا سکتی تھی. اور جب وہ تمہاری مدد کرنے پہنچی تو تم نے اُسی کو دھوکہ دے دیا.
یاد رکھنا اگر میری ماہ روش کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا. “
ارتضٰی نے زور سے ریحاب کی نازک گردن کو اپنے آہنی ہاتھ کے شکنجے میں لیا تھا. ریحاب کو تو پہلے ہی اُس سے بہت ڈر لگتا تھا. اب بھی اُس کی سخت گرفت سے ریحاب کو اپنی سانس رُکتی محسوس ہورہی تھی. وہ بُری طرح کھانس رہی تھی. مگر اُس نے ارتضٰی کو روکنے کی یا اُس کے ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہیں کی تھی. وہ خود کو اِسی سلوک کے قابل سمجھ رہی تھی.
جاذل نے جلدی سے آگے آتے ارتضٰی کو اُس سے دور کیا تھا. ورنہ وہ آج ریحاب کا گلا گھونٹ ہی دیتا.
ارحم اِس وقت خود اتنا شرمندہ تھا کہ وہ پہلے ہی وہاں سے باہر جا چکا تھا.
ارتضٰی کا دل چاہ رہا تھا اِس وقت پوری دنیا کو آگ لگا دے. سب کچھ تہس نہس کر دے اُسے کسی بھی حالت میں ماہ روش چاہئے تھی. اپنا سکون واپس چاہئے تھا.
” ارتضٰی. “
زینب کی روتی آواز پر ارتضٰی جھٹکے سے پلٹا تھا. مگر وہاں جنرل یوسف کے ساتھ اپنے گھر والوں کو کھڑا دیکھ حیران ہوا.
” پھوپھو کیا ہوا آپ کو. آپ رو کیوں رہی ہیں. ماما کیا ہوا ہے. “
ارتضٰی پہلے ہی اتنا پریشان تھا. اُن سب کو اِس طرح روتا اور پریشان دیکھ اُس کے حواس جھنجھنا گئے تھے.
جب جنرل یوسف کے اشارے پر زینب بیگم ارتضٰی کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر موجود ایک روم کی طرف بڑھ گئی تھیں.
” ارتضٰی آئی سی یو میں موجود زندگی اور موت کی جنگ لڑتی لڑکی کوئی اور نہیں. میری بیٹی ہے ارتضٰی وہ میری ماہ روش ہے. ماہ روش مری نہیں تھی وہ زندہ تھی. اور میں نے پوری زندگی اِسی غم میں. اُس خبر پر یقین کرتے اُس سے دور رہ کر گزار دی.”
زینب بیگم ارتضٰی کے سر پر بم پھوڑتی اُس کے سینے سے لگ کر بُری طرح رونے لگ گئی تھیں. اور جنرل یوسف کی بتائی ساری سچائی اُس کو بتاتی چکی گئی تھیں.
جبکہ ارتضٰی اُن کی بات پر بلکل ساکت اور بے جان ہوچکا تھا. اُسے کسی بات کا ہوش نہیں رہا تھا. نہ سینے سے لگی زینب کو تھاما تھا. نہ باقی گھر والوں کی اذیت پر کچھ بول سکا تھا.
اُس کی تو آنکھوں میں وہ ایک ایک لمحہ کسی فلم کی طرح گھوم رہا تھا. جس میں اُس نے ماہ روش کو بے عزت کیا تھا. اُسے غدار کی بیٹی کہہ کر دھتکارا تھا. اُس کو ٹارچر کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا تھا. کتنی اذیت دی تھی اُس معصوم کو جس کا کسی معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا.
اور جس نے زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف اور محرومی برداشت کی تھی.
ارتضٰی کا دل کررہا تھا. خود کو شوٹ کرلے. یا اپنے آپ کو اِس سے بھی زیادہ درد ناک سزا دے. مگر سزا تو واقعی اُسے بہت ہی درد ناک مل رہی تھی. ماہ روش کی تکلیف پر اُس کو اپنا دل چیرتا محسوس ہورہا تھا.
” ارتضٰی میری بچی زندہ تھی. میری نظروں کے سامنے تھی اور میں اُسے پہچان بھی نہ پائی. کتنی بد نصیب ماں ہوں میں. میری بیٹی ملی بھی مجھے تو کس حال میں. “
ارتضٰی نے دکھ سے اُن کی طرف دیکھا تھا. وہ اِس وقت اُن کی تکلیف پر کچھ نہیں کرسکتا تھا. کیونکہ وہ خود اِس وقت اذیت کی حدوں کو چھو رہا تھا.
” آپ نے اور بابا نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا. میں نے کہا تھا نا آپ سے ماہ روش کے بارے میں انویسٹی گیشن کرنے دیں. اُس گھٹیا شخص نے کیا پتا ماہ روش کو زندہ رکھا ہو نہ مارا ہو. مگر آپ دونوں نے مجھے جھوٹے ثبوت دیکھا کر روک دیا.
بہت بڑی غلطی کی میں نے آپ لوگوں پر بھروسہ کرکے. ماہ روش کو کتنی اذیت دی میں نے. اور آپ خاموش تماشائی بنے رہے. “
ارتضٰی نے جنرل یوسف کو غصے اور شکوہ کناں نظروں سے دیکھا تھا.
جنرل یوسف نے شرمندہ ہوتے نظریں چرا لی تھیں. مگر سکندر کے وعدے اور مصلحت کے تحت وہ یہ سچائی نہیں بتا سکتے تھے.
لیکن آج ماہ روش کے بارے میں خبر ملتے ہی اُنہیں اب یہ سب چھپانا ٹھیک نہیں لگا تھا. وہ جانتے تھے کہ ماہ روش کی حالت کتنی کریٹیکل ہے. اِس لیے نور پیلس جاکر اُنہوں نے ساری سچائی بتا دی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
اندر ماہ روش کا آپریشن جاری تھا. سب لوگ باہر ہی موجود تھے. وہاں موجود ہر ایک کا دل اور زبان ماہ روش کی سلامتی کے لیے دعا گو تھا.
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ارتضٰی کو اپنی دھڑکنے مدھم ہوتی محسوس ہورہی تھیں. اِس وقت ارتضٰی کی حالت دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا. کہ یہ وہی کھڑوس اور اکڑو میجر ارتضٰی سکندر ہے.
وہ تو اِس وقت ماہ روش کے عشق میں پاگل کوئی دیوانہ لگ رہا تھا.
ارتضٰی کو ماہ روش کے ساتھ روا رکھا جانے والا اپنا رویہ اور اُس کی ایمانداری اور محبت کو ٹھکرانے کا پچھتاوا اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا.
زیمل کا دل اپنی دوست کی تکلیف پر خون کے آنسو رو رہا تھا.
جن لوگوں کے لیے کچھ دیر پہلے ماہ روش بے چین تھی. وہ سب اِس وقت دل و جان سے ماہ روش پر قربان ہونے کو تیار تھے.
اور جس شخص کی محبت پانے کے لیے وہ تڑپ رہی تھی. وہ تو اپنا آپ فراموش کیے صرف اُس کا منتظر تھا. اُس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے تڑپ رہا تھا.
ریحاب اِس وقت خود کو سب کا مجرم تصور کررہی تھی. اُس نے ایک نظر خود سے بہت دور کھڑے ارحم کو دیکھا. جو اُس پر ایک نگاہ غلط ڈالنے کا بھی روادار نہیں تھا.
وہ سب ابھی اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے . جب آئی سی یو کا دروازہ کھلا تھا.
ارتضٰی اور باقی سب بھی فوراً ڈاکٹر کی طرف متوجہ ہوئے تھے.
مگر ڈاکٹرز کی دی گئی خبر نے اُن سب کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی.
” آئم سوری. ہم نے بہت کوشش کی مگر پیشنٹ کی حالت بہت کریٹیکل ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں کوما میں جانے سے نہیں بچا پائے. “
ڈاکٹر کی بات سنتے ارتضٰی نفی میں سر ہلاتے پیچھے کی طرف ہوتے لڑکھڑایا تھا. زینب اور باقی سب بھی صدمے کی حالت میں ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہے تھے.
” ڈاکٹر صاحب ریکوری کے کتنے پرسنٹ چانسز ہیں. “
ارحم نے ایک اُمید کے زیرِ اثر پوچھا تھا.
” کچھ نہیں کہا جاسکتا. آپ لوگوں کو ہر وقت کسی بھی سچویشن کے لیے تیار رہنا ہوگا. پیشنٹ کو چند گھنٹوں, دنوں یا مہینوں میں بھی ہوش آسکتا ہے.
اور
سوری ٹو سے. پر شاید زندگی بھر وہ ایسے ہی رہیں.
لیکن یہ صرف میں اُن کی کنڈیشن کو دیکھ کر کہہ رہا ہوں. ورنہ اُوپر بیٹھا وہ رب بہت غفور و رحیم ہے. شفا دینا تو اُسی کہ ہاتھ میں ہے. آپ کی پیشنٹ کو دعاؤں کی سخت ضرورت ہے. “
ڈاکٹر اپنی بات کہتے وہاں سے نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی نے بے جان ہوتی ٹانگوں کے ساتھ کمرے میں قدم رکھا تھا. ماہ روش بیڈ پر مشینوں کے سہارے بے سُد لیٹی تھی.
دھیرے سے چلتے ارتضٰی اُس کے بیڈ کے قریب پہنچا تھا. جن آنکھوں میں اُس نے ہمیشہ اپنے لیے چاہت اور بے پناہ محبت دیکھی تھی. اُن پر اِس وقت گھنیری پلکوں کی چادر گرائے ماہ روش آنکھیں موندے ہوئے تھی.
ابھی کل ہی تو ماہ روش نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اُس سے. اور اُس نے کیا کیا تھا. انتہائی بے دردی سے اُسے دھوکے باز اور جھوٹا کہہ دیا تھا.
ارتضٰی پورے استحقاق سے ماہ روش کے بیڈ پر اُس کے پاس جا بیٹھا تھا. اور احتیاط سے اُس کا نرم و ملائم ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے چوم لیا تھا.
” بہت بُرا ہوں میں بہت زیادہ. یہ سب کچھ میرے ساتھ ہونا چاہیئے تھا. تم کسی صورت اتنی تکلیفوں کی حق دار نہیں ہو. تم تو بہت معصوم , صاف اور سچے دل کی مالک ہو.
بہت محبت کرتا ہوں تم سے. پلیز ایک بار آنکھیں کھول دو. کبھی خود سے جدا نہیں کروں گا. ہمیشہ اپنے سینے سے لگا کر رکھوں گا. کوئی دکھ کوئی درد تمہارے قریب بھی نہیں بھٹکنے دوں گا. مگر خدا کے لیے مجھے اتنی بڑی سزا مت دو. اُٹھ جاؤ میری زندگی پلیز. “
ارتضٰی نے جھک کر ماہ روش کی پیشانی چومی تھی. جب ایک آنسو ٹوٹ کر ماہ روش کے بالوں میں جذب ہوا تھا.
جاری ہے
