No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
” سر آپ فکر مت کریں. میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے ارحم سمیت ہم میں سے کسی کو نقصان پہنچے یا ہماری اتنے مہینوں سے کی گئی محنت ضائع جائے. “
ارتضٰی کے خود کو سنبھالنے اور پروفیشنل انداز میں کہے جانے والے الفاظ پر جنرل یوسف مطمئن ہوئے تھے.
” میجر جاذل سونیا والا کام کہاں تک پہنچا. “
ارتضٰی کی بات پر سب جاذل کی طرف متوجہ ہوئے تھے.
” کل رات فون آیا تھا اُسکا ملنا چاہتی ہے مجھ سے. اور سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ کہ وہ مجھے ذی ایس کے پلازہ میں بلا رہی ہے. “
جاذل کی بات پر زیمل نے فکرمندی سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
” ہممہ بات تو واقعی عجیب سی ہے. مگر ایک دو دن کا مزید ویٹ کر لو اور اُس کے بعد جانا. کیا پتا یہ بھی اُن کی کوئی چال ہو.
جس طرح وہ لوگ ہمارے قریب پہنچیں ہے. یہ بات اِگنور کی جانے والی بلکل بھی نہیں ہے. اور اگر جس پر مجھے شک ہے یہ سب اُس نے کیا ہے تو میں اُسے چھوڑوں گا نہیں.”
ارتضٰی کے جاذل کو منع کرنے پر زیمل کے اعصاب ریلیکس ہوئے تھے. کیونکہ جاذل کا اکیلا ذی ایس کے پلازہ میں داخل ہونا خطرے سے خالی نہیں تھا.
” میں بھی یہی سوچ رہا ہوں. اور جہاں تک میرا خیال ہے مجھے وہاں اکیلے جانا چاہیے. زیمل کو اپنے ساتھ وہاں لے کر جانا میرے خیال میں مناسب نہیں ہے.
آگے سے حالات کچھ بھی ہوسکتے ہیں.”
جاذل زیمل کی نظریں خود پر محسوس کرتے بنا اُسے دیکھے ارتضٰی سے مخاطب تھا.
وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو خطرے میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے.
” مگر میجر جاذل یہ مشن صرف آپ کا نہیں میرا بھی ہے. اور جب شروع سے میں آپ کے ساتھ رہی ہوں تو اب جب اِس کی کامیابی کا ٹائم آیا ہے. تو آپ مجھے سائیڈ پر کرکے سارا کریڈٹ خود لینا چاہتے ہیں. “
ارتضٰی کے کچھ بولنے سے پہلے ہی زیمل بول پڑی تھی.
جب اُس کی بات سنتے اتنی سیریس سچویشن میں بھی سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
جاذل سب کے سامنے اُسے محبت پاش نظروں سے گھورنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پایا تھا.
سب لوگ زیمل کی باتوں کی وجہ اچھے سے سمجھ رہے تھے. جس نے یہ سب کریڈٹ لینے کے لیے نہیں بلکہ جاذل کو اکیلے نہ جانے دینے کی وجہ سے بولا تھا.
” کیپٹن زیمل میجر جاذل بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں. آپ اُن کے ساتھ نہیں جائیں گی. “
ارتضٰی کے دوٹوک انداز پر زیمل دانت پیس کر رہ گئی تھی. جاذل تو اِس وقت اُسے بلکل اگنور کیے ہوئے تھا. جس پر اُس نے ماہ روش کی طرف ملتجی انداز میں دیکھتے ارتضٰی سے سفارش کرنے کا کہا تھا.
ماہ روش کو بھی جاذل اور ارتضٰی کی بات مناسب لگی تھی. اِس لیے اُس نے کندھے اُچکاتے زیمل کی کسی قسم کی مدد کرنے پر بے بسی کا اظہار کیا تھا.
کچھ دیر مزید ڈسکشن کے بعد سب ایک دوسرے کو گڈ بائے کہتے اپنے اپنے مشنز پر نکل چکے تھے. اُنہیں کسی بھی طرح سب سے پہلے ارحم کو ڈھونڈنا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” برہان اِس سے ملو. یہ گلزار ہے میرا محسن جس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے میری جان بچائی ہے. اب یہ میرا سب سے زیادہ خاص آدمی ہے. “
ذی ایس کے نے گلزار کو بلواتے برہان سے ملوایا تھا. جو بیڈ پر لیٹا ہوا تھا. اُس کے چہرے اور جسم پر تشدد کے نشان تھے.
” صاحب جی اِن کا یہ حال کس نے کیا. آپ بس مجھے اُس کا نام بتا دیں. میں اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے آپ کے آگے ڈھیر کر دوں گا. “
برہان جو اپنے باپ کے اتنی جلدی کسی پر ٹرسٹ کرنے پر حیران تھا. مگر گلزار کا بغور جائزہ لیتے اور اُس کی بات میں چھپے کچھ کر دیکھانے کا جذبہ برہان کو بھی اُس سے متاثر کر گیا تھا.
” وہ بھی پتا چل جائے گا. ابھی اتنی بھی کیا جلدی ہے. کیونکہ جس نے میرے بیٹے پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے. اُس کا انجام درد ناک ہی ہوگا.
ایک کا تو کر چکے اب اُس کے باقی ساتھیوں کی باری ہے.”
ذی ایس کے کے لہجے میں نفرت اور بدلے کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں. جب اُس کی آخری بات پر گلزار نے اپنے تاثرات حتی الامکان طور پر نارمل رکھنے کی کوشش کرتے خاموش نظروں سے اُن کی طرف دیکھا تھا.
جو دونوں باپ بیٹا اپنی بات پوری کرتے اب قہقے لگا رہے تھے.
گلزار چاہنے کے باوجود اُن سے پوری بات نہیں پوچھ پایا تھا.
” گلزار تم جاؤ باہر اور ہمایوں کو میرے پاس بھیجو. “
ذوالفقار کے حکم پر گلزار وہاں سے نکل گیا تھا.
” بندہ تو کافی کام کا لگ رہا ہے. مگر پھر بھی آپ نے یہاں بلانے سے پہلے اِس کے بارے میں ساری معلومات اکٹھی کر لی ہے نا. اِس وقت کسی پر بھی بھروسہ کرنا سہی نہیں رہے گا. “
گلزار کے نکلتے ہی برہان نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا.
کیونکہ کچھ وقت دشمنوں کے قبضے میں رہ کر اُس نے جو تکلیف برداشت کی تھی. اب دوبارہ وہ اُس کے قریب سے بھی نہیں گزرنا چاہتا تھا.
” تم فکر مت کرو. میں ساری تسلی کر چکا ہوں. اِس نے جو بھی اپنے بارے میں بتایا ہے. وہ سب سچ ہے. ہمارے آدمی اِس کے گاؤں میں جاکر ساری تسلی کر آئے ہیں. “
باپ کو پوری طرح سے مطمئن دیکھ برہان بھی مطمئن ہوا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر مجھے وہاں جانے میں کوئی پرابلم نہیں ہے. مگر میں ارتضٰی سر کی پرمیشن کے بغیر ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھاؤ گی. “
جنرل یوسف کی پوری بات سنتے ماہ روش عجیب کشمکش میں پھنس چکی تھی.
وہ چاہتے تھے ماہ روش اپنے باپ کے پاس جاکر رہے اور اندر ہی اندر ذی ایس کے پلازہ میں چھپائی گئی ذوالفقار کے خلاف ساری انفارمیشن حاصل کر لے.
لیکن اُن کے مطابق ارتضٰی اِس بات پر بلکل بھی راضی نہیں تھا. اور سختی سے اِس بات کو دوبارہ نہ چھیڑنے کا کہا تھا. اِسی لیے جنرل یوسف ماہ روش سے چاہتے تھے کہ وہ بنا ارتضٰی کو بتائے وہاں چلی جائے. اور ماہ روش کا دل یہ بات ماننے کو قطعی تیار نہیں تھا.
وہ اتنا بڑا قدم اٹھا کر ایک بار پھر ارتضٰی کو اپنی جانب سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی تھی. مگر دوسری طرف جنرل یوسف کے پلان پر چلتے وہ ذوالفقار کے خلاف تمام ثبوت حاصل کر سکتی تھی. اُس کا دماغ بلکل ماؤف ہوچکا تھا. اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اِس موڑ پر لیا گیا اُس کا کون سا فیصلہ ارتضٰی سمیت اُس کی پوری ٹیم اور ملک کے لیے مفید ثابت ہوسکتا تھا.
” کیپٹن ماہ روش آپ جذباتی ہوکر سوچ رہی ہے. آپ جانتی ہیں آپ کے اِس انکار سے کیا کیا ہوسکتا ہے.
کیپٹن ارحم کی جان جاسکتی ہے. ذی ایس کے کے اتنے قریب پہنچ کر اُس پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے وہ فرار ہوسکتا ہے. جیسے اُس نے پہلے کیا تھا. یا اگر اُس نے کوئی انتہائی قدم اُٹھایا تو ملک میں تباہی و بربادی پھیل سکتی ہے. نجانے پھر کتنے بے قصور مظلوم لوگ درد ناک موت کے گھاٹ اُترتے اپنی جانیں کھو سکتے ہیں.
اور ہاں
ارتضٰی سکندر بہت محبت ہے نا آپ کو اُس سے. تو ہمیشہ ہر مشن میں سرخرو لوٹنے والا. میجر ارتضٰی سکندر اِس مشن کی ناکامی کا بوجھ برداشت کر پائے گا.
وہ سکندر کی طرح ایک غیرت مند مرد ہے. جو مر تو سکتا ہے. مگر ہار برداشت نہیں کرسکتا. “
جنرل یوسف نے ماہ روش کو ایموشنل بلیک میل کرتے اپنی بات پر راضی کرنا چاہا تھا.
وہ اچھے سے جانتے تھے ماہ روش کو کیسے ہینڈل کرنا ہے. کیونکہ ارتضٰی اُسے کسی صورت جانے نہیں دے گا اُنہیں جو کچھ بھی کرنا تھا. ارتضٰی کی بے خبری میں ہی کرنا تھا.
” مگر ارتضٰی سر کو منا کر بھی تو میں اُن کی مرضی سے جاسکتی ہوں نا. میں وہاں جانے سے انکار بلکل نہیں کررہی. مجھے پلیز ایک بار اُن سے بات کرنے دیں میں اُنہیں منا لوں گی. “
ماہ روش نے جنرل یوسف سے آخری بار التجا کرتے ہوئے کہا تھا.
مگر اِس وقت وہ خود بے بس تھے. وہ ماہ روش سے کوئی ہمدردی نہیں جتا سکتے تھے.
” ارتضٰی کو میں ہر طرح سے منانے کی کوشش کر چکا ہوں. مگر نہ وہ مانا ہے. اور نہ ہی اُس نے اب ماننا ہے. اگر مجھے زرا سا بھی لگتا کہ آپ کے منانے سے وہ مان جائے گا تو میں آپ کو اِس طرح ارتضٰی کو بنا بتائے جانے کا کبھی نہ کہتا. “
جنرل یوسف کی بات پر ماہ روش نے نم آنکھوں سے اُن کی طرف دیکھتے سر اثبات میں ہلا دیا تھا.
” اوکے سر میں ارتضٰی سر کو بنا بتائے بنا ملے وہاں جانے کو تیار ہوں.”
ماہ روش نے یہ بات کس دل سے کی تھی یہ وہی جانتی تھی. ارتضٰی کی ناراضگی کا سوچتے اُس کا دل نجانے کتنی بار ٹکڑوں میں بٹا تھا.
اپنے باپ کے گھر جاتے اُسے اِس بات پر یقین نہیں تھا کہ وہ اب وہاں سے زندہ لوٹ پائے گی بھی یا نہیں. دوبارہ کبھی وہ ارتضٰی سے مل پائے گئی دیکھ پائے گی بھی یا نہیں.
مگر ماہ روش اپنے آنسو صاف کرتے ارتضٰی کے ساتھ بیتائے اُن چند حسین لمحوں کو اپنے دل میں بسائے خود کو مضبوط کرتے وہاں سے نکل گئی تھی.
ماہ روش کے جاتے ہی جنرل یوسف کرسی پر ڈھانے کے انداز میں بیٹھ گئے تھے.
اُنہوں نے اپنے ملک کی سلامتی کے لیے خود غرض بنتے اِس معصوم لڑکی سے بہت بڑی قربانی مانگ لی تھی.
مگر اُن سب آفیسرز کی زندگی ہوتی ہی ایسی تھی. ہر موڑ پر نئے سے نیا امتحان اُن کا منتظر ہوتا تھا.
اپنے ملک اور اُس کے لوگوں کے لیے وہ اپنی زندگیاں بھلائے. صرف اُن کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیتے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی آندھی طوفان کی طرح جنرل یوسف کے آفس میں داخل ہوا تھا.
” آپ کو منع کیا تھا نا ماہ روش کو وہاں بھیجنے سے پھر بھی آپ کو میری بات سمجھ نہیں آئی. کیوں کیا آپ نے ایسا. اور وہ بے وقوف لڑکی آپ کی بات پر عمل کرتے وہاں چلی بھی گئی. “
ارتضٰی اُن کے ٹیبل پر موجود تمام چیزوں کو ہاتھ مار کر نیچے گراتے ٹیبل پر تقریباً جھکتے دہاڑا تھا.
اُس کو ابھی ابھی پتا چلا تھا. کہ ماہ روش ذی ایس کے پلازہ میں داخل ہو چکی ہے. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دنیا کی ہر چیز کو تہس نہس کر دے.
ماہ روش اکیلی اُن درندہ صفت انسانوں کے بیچ پہنچ چکی تھی. جہاں ماہ روش کا ایک منٹ رہنا بھی سیف نہیں تھا.
” میجر ارتضٰی بی ہیو یور سیلف. یہ کیا طریقہ ہے.اپنے آفیسر سے بات کرنے کا. میں اپنے کسی بھی عمل میں تمہارا جواب دہ بلکل نہیں ہوں.”
جنرل یوسف ارتضٰی کی حالت سے نظریں چراتے سخت لہجے میں بولے تھے.
” وہ میری بیوی ہے. جس کو آپ نے میرے منع کرنے کے باوجود موت کے منہ میں بھیج دیا ہے. آپ کس بات کی دشمنی نکال رہے ہیں مجھ سے. پہلے اتنے سالوں اُس کے بارے میں سب جانتے ہوئے بھی اُسے مجھ سے دور رکھا. ہم دونوں کی تڑپ ہمارا درد کوئی چیز آپ کو پگھلا نہیں پائی اور اب جب اتنی آزمائشوں کے بعد وہ مجھے ملی تو آپ نے پھر اُسے مجھ سے دور کردیا. آخر کیوں توڑنا چاہتے ہیں آپ مجھے. “
بات کرتے کرتے ارتضٰی کی آواز مدھم سی ہوگئی تھی.
جبکہ اُس کی تکلیف پر جنرل یوسف کو اپنا دل چیرتا ہوا محسوس ہوا تھا. یہ دونوں بچے اُن کو بہت زیادہ عزیز تھے. اور آج دونوں کو پھر سے ایک دوسرے کے لیے ٹوٹتے بکھرتے دیکھنا جنرل یوسف کو اذیت سے دوچار کر گیا تھا.
” اینی ویز. آپ کو جو کرنا تھا آپ کر چکے. اب جو مجھے مناسب لگے گا میں وہ کروں گا. “
ارتضٰی قہر بھری نظروں سے اُن کی طرف دیکھتے وہاں سے نکل گیا تھا.
جبکہ جنرل یوسف اُسے آوازیں دیتے ہی رہ گئے تھے. مگر اِس وقت ارحم کے ساتھ ساتھ ارتضٰی سکندر کی ماہ روش خطرے میں تھی. وہ کیسے چین سے بیٹھ سکتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ہمایوں کو جیسے ہی پتا چلا تھا کہ ماہ روش ذی ایس کے کے پاس آنا چاہتی ہے تو ذوالفقار کو انکار کرتا دیکھ ہمایوں نے نجانے کون کون سی وجوہات اور نجانے کتنی دلیلیں دے کر راضی کیا تھا.
ذوالفقار کا ارادہ ماہ روش پر اِس طرح اپنی اصلیت ظاہر کرنے کا نہیں تھا. مگر پھر ہمایوں کے سمجھانے پر اول تو ماہ روش جیسی معصوم لڑکی اپنے باپ کے خلاف جانے کے بارے میں سوچے گی بھی نہیں اور اگر ایسا کوئی اعتراض ظاہر کیا تو اُس کو یہاں سے نکلنے ہی نہیں دیا جائے گا.
ہمایوں بس کسی صورت چاہتا تھا کہ ماہ روش اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کے قریب آجائے. جس دن سے اُس نے ماہ روش کو دیکھا تھا. اُس کے بے پناہ حُسن نے اُس کی نیندیں اُڑا دی تھیں.
ماہ روش کے یہاں آنے کے بعد ہمایوں کا اگلا کام اُس سے شادی کرنی تھی. جس کے لیے ابھی اُسے ماہ روش اور ذوالفقار کو منانے کے لیے طویل جنگ لڑنی تھی.
مگر فلحال جو جنگ اُس نے لڑی تھی. وہ اب ہمایوں جیت چکا تھا. اور ماہ روش اُس کی خواہش کے مطابق اب اُس کے سامنے موجود تھی.
” بابا آپ کو میں نے اتنا زیادہ مِس کیا مگر آپ نے ایک بار بھی مجھ سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش نہیں کی. اِس لیے اب آخر کار تنگ آکر میں نے خود ہی آپ کے پاس آنے کا فیصلہ کر لیا. “
ماہ روش ذوالفقار کے سینے سے لگی اپنے شکوے کیے جارہی تھی. جس پر ذوالفقار کچھ کچھ بے زاری سے جواب دے رہا تھا.
” پیاری لڑکی اب تو آپ اپنے بابا کہ پاس آچکی ہیں. اب اتنا سیڈ کیوں ہورہی ہیں. آپ کے اِس خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ اور زیادہ حسین لگے گی. اِس لیے میری خاطر تھوڑا سا مسکرا دیں. “
ہمایوں کی بات پر ماہ روش کا دل چاہا تھا. اِس گھٹیا تاڑو انسان کا دماغ ٹھکانے لگا دے مگر اِس وقت وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی.
ہمایوں کی بات پر ہولے سے مسکرا دی تھی.
” اوکے بچو تم دونوں بیٹھو باتیں کرو. مجھے زرا تھوڑا ضروری کام ہے. میں ابھی آتا ہوں تھوڑی دیر میں. “
ذوالفقار اُن دونوں کو کہتا وہاں سے نکل گیا تھا.
جب اُسی لمحے گلزار نے وہاں قدم رکھا تھا. ماہ روش اور ہمایوں کو آمنے سامنے صوفے پر بیٹھا دیکھ اُس نے سرد نگاہیں دونوں پر ڈالتے مٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کرنا چاہا تھا.
خود پر کسی کی گہری پر تپیش نظریں نوٹ کرتے ماہ روش نے اِردگرد دیکھا تھا جب اُس کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑے گلزار پر پڑی تھی.
جس کی لال انگارہ ہوتی آنکھیں دیکھ ماہ روش کو خوف سا محسوس ہوا تھا. گلزار کے گھنی مونچھوں تلے لب سختی سے ایک دوسرے میں پیوست اُس کے اندر بھڑکتے لاؤے کا پتا دے رہے تھے.
ماہ روش ابھی بغور اُس کا گہری نظروں سے جائزہ لینے ہی والی تھی. جب ہمایوں کی آواز پر وہ واپس پلٹ آئی تھی.
” ماہ روش میرے خیال میں اب آپ کو کچھ دیر آرام کرنا چاہئے. اتنا لمبا سفر طے کرنے سے آپ تھک گئی ہوں گی. “
ہمایوں کی گھٹیا نگاہیں ماہ روش کے وجود پر پھسلتی گلزار کے قہر کو بڑھا گئی تھی.
ہمایوں کی معیت میں چلتے ماہ روش نے ایک نظر پلٹ کر گلزار کی طرف دیکھا تھا. اُس کی چھٹی حس اُسے بتا رہی تھیں کہ یہ بندہ اُس کا کوئی اپنا ہی ہے. مگر ایسا کون ہے جس نے ذوالفقار کے گھر تک رسائی حاصل کر لی. کہیں ارتضٰی تو نہیں.
اچانک خیال آتے ہی ماہ روش نے فوراً پلٹ کر دیکھا تھا. مگر اب وہ وہاں موجود نہیں تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش کی ذی ایس کے پلازہ میں آج دوسری رات تھی. کل کی رات اُس نے بلکل نارمل انداز میں گزاری تھی. تاکہ اگر کوئی اُس پر نظر رکھ بھی رہا ہو تو شک نہ ہوسکے.
مگر آج اچھی طرح تسلی کے بعد کے اُس پر نظر نہیں جارہی ماہ روش نے آج اُوپر موجود دو آخری پورشنز پر جانے کا فیصلہ کیا تھا. جہاں ذی ایس کے نے کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی تھی.
یہاں تک کہ سونیا, برہان اور ہمایوں بھی وہاں نہیں جا سکتے تھے. جس سے ماہ روش کو اتنا تو آئیڈیا ہوچکا تھا کہ ذی ایس کے کے تمام راز وہاں ہی موجود ہیں. اور آج اُس نے اُوپر جانے والے راستے کا تعین کرتے وہاں جانے کا پورا ارادہ کر لیا تھا.
ارتضٰی سے ملے بات کیے پورے دو دن گزر چکے تھے. جو کہ ماہ روش کے لیے سب سے زیادہ بے چینی کا باعث تھا. اور یہ سوچ کر کے ارتضٰی اُس کے اِس اقدام پر کتنا غصے میں ہوگا. ماہ روش کی بے قراری اور پریشانی مزید بڑھ گئی تھی. اِس وقت اُس کا شدت سے دل چاہا تھا ارتضٰی سے ملنے پر اُس سے بات کرنے پر. چاہے وہ ڈانٹ ہی دے مگر وہ اُس کی آواز سننا چاہتی تھی.
جب وہ نہیں ملا تھا تو کیسے بھی کرکے ماہ روش اپنے دل کو سنبھال لیتی تھی. مگر اب جب اُس کی قربت میسر آکر پھر چھین لی گئی تھی تو ماہ روش کے لیے صبر کرنا انتہائی مشکل ہورہا تھا.
مگر وہ جانتی تھی اِس وقت کسی صورت اُس کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی تھی. جب کافی دیر بعد ارتضٰی سکندر کی محبت کی حسین یادوں سے نکلتے ماہ روش گھڑی پر ٹائم دیکھتے بستر سے اُٹھی تھی. وہ اِس وقت ریڈ اور بلیک کنٹراس کے گرم سوٹ میں ملبوس تھی. جس میں اُس کی دودھیا رنگت مزید دھمک رہی تھی. باہر کس کو شک نہ ہو اِس لیے ماہ روش نے لائٹ آن نہیں کی تھی. زیرو پاور کے بلب کی مدھم روشنی پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی.
ماہ روش نے اپنی بلیک شال اُتار کر بیڈ پر ڈالتے کھلے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپٹنا چاہا تھا. وہ یہاں سے اپنا حلیہ بلکل چینج کرکے نکلنا چاہتی تھی. تاکہ اگر کسی کی نظر پڑ بھی جائے تو کوئی اُسے پہچان نہ سکے.
ماہ روش جوڑا بنا کر پلٹی ہی تھی. جب اچانک کلک کی آواز پر الرٹ ہوتے ماہ روش کی نظریں فوراً کھڑکی کی طرف اُٹھی تھیں.
” کک کون ہے وہاں. “
کسی کو کھڑکی کے راستے اندر داخل ہوتے دیکھ ماہ روش نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی تھی. کیونکہ اِس وقت بہادر بن کر اپنی اصلیت کسی پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی.
مگر سامنے موجود شخص کو دیکھ ماہ روش کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں.
ذی ایس کے کا خاص بندہ رات کے اِس پہر اُس کے روم میں کیا کررہا تھا. اور جس طرح باہر سے کھڑکی کا لاک کھول کر مہارت سے وہ اندر داخل ہوا تھا. ماہ روش سمجھ گئی تھی کہ یہ کوئی بہت ہی پکا کھلاڑی ہے.
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے روم میں قدم رکھنے کی.”
ماہ روش نے بیڈ پر پڑی اپنی شال اُٹھا کر اپنے گرد لپیٹتے سخت لہجے میں اُس سے پوچھا تھا.
مگر آگے سے وہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر سرد نگاہوں سے ماہ روش کو گھورتے اُس کی طرف بڑھا تھا.
وہ جیسے ہی ماہ روش سے چند قدموں کے فاصلے پر پہنچا تھا. اُس کی خوشبو ماہ روش کے نتھنوں سے ٹکراتی اُسے حیرت کا دوسرا جھٹکا دے گئی تھی.
اِس خوشبو کو تو وہ کروڑوں میں بھی پہچان سکتی تھی. کیونکہ یہ اُس کے کھڑوس میجر کی سحر ذدہ کر دینے والی خوشبو تھی. جو اُسے زندگی کا احساس بخشتی تھی.
ماہ روش نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا. اور بغور مقابل کا جائزہ لیتے جیسے ہی اُس کی آنکھوں میں جھانکا خوشی اور سکون کی لہر ماہ روش کے تن بدن میں دور گئی تھی. وہ اُس کا ارتضٰی سکندر تھا کیسے نہ پہچان پاتی وہ اُسے.
ارتضٰی کا حلیہ اِس وقت بلکل چینج تھا. کیونکہ اُس نے مکمل طور پر گلزار نامی شخص کا گیٹ اپ کر رکھا تھا.
” کس سے اجازت لے کر آئی ہو تم یہاں. کہا تھا نا میں نے تمہیں کبھی مجھ سے دور جانے کی کوشش مت کرنا.”
ارتضٰی کی مدھم مگر چنگارتی آواز پر ایک پل کے لیے ماہ روش سہمی تھی. مگر اگلے ہی لمحے اُس کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر ماہ روش ارتضٰی کی کمر کے گرد بازو حمائل کرتے اُس کے سینے میں منہ چھپائے اُس سے بلکل لپٹ گئی تھی.
” میں اِس وقت کتنا مِس کر رہی تھی آپ کو. لو یو اینڈ تھینکیو سو مچ. “
ماہ روش اپنا سارا شرم اور جھجھک ایک سائیڈ پر رکھتے ارتضٰی کے سینے میں چھپی اپنے بے قرار دل کو قرار بخش رہی تھی.
جبکہ ارتضٰی کو ماہ روش سے ایسے کسی والہانہ پن کی اُمید بلکل نہیں تھی. وہ تو کل سے اتنے غصے میں تھا کہ نجانے کتنے لوگوں کو اپنے قہر کا نشانہ بنانے کے باوجود نارمل نہیں ہو پایا تھا. اور آج موقع ملتے وہ غصے میں بھڑکتے ماہ روش کے پاس پہنچا تھا. وہ ماہ روش کی اچھی خاصی کلاس لینے کے موڈ میں تھا. مگر یہاں آکر تو پانسا ہی پلٹ گیا تھا.
ماہ روش کے نرم گرم لمس اور مسحور کن سانسوں نے اُس کا سارا غصہ اور اشتعال جھوک کی طرح بیٹھا دیا تھا.
” میں جانتی ہوں آپ مجھ سے بہت ناراض ہیں . مگر آپ خود سوچیں اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ بھی تو یہی کرتے نا. اگر میرے یہاں آنے سے ہمارے مشن کے کامیابی کے تھوڑے سے بھی چانسز بڑھ سکتے ہیں تو میں کیسے پیچھے ہٹ جاتی. میں بھی تو ذی ایس کے سے اپنی ماں پر کیے ظلم کا بدلہ لینا چاہتی ہوں. اپنی زندگی کی تمام محرومیوں کا حساب لینا ہے مجھے اُس سے. اور آپ کو اپنی ماہ روش پر اتنا یقین تو ہونا چاہیے کہ وہ اِن درندوں سے لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے. میجر ارتضٰی سکندر کی بیوی اُس کا سر کبھی نہیں جھکنے دے گی.
ہاں آپ کو بتائے بنا یہاں آکر میں نے بہت غلط کیا اُس کے لیے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں اور آپ جو بھی سزا دینا چاہیں میں تیار ہوں اُس کے لیے. “
ارتضٰی کے سینے پر لب رکھتے ماہ روش نے جس طرح اپنی بات سمجھاتے اُس کے آگے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا. ارتضٰی سکندر کا رہا سہا غصہ بھی ختم ہوچکا تھا.
ماہ روش کے ہونٹوں کا نرم گرم لمس ارتضٰی سکندر کے اندر لگی آگ کو ٹھنڈا کر گیا تھا. ماہ روش ارتضٰی کے گرد ویسے ہی بانہوں کا حصار باندھے ہوئے تھی. مگر ارتضٰی نے ابھی تک اُسے اپنی بانہوں میں نہیں بھرا تھا.
وہ اِس وقت بے انتہا حیرت ذدہ تھا کہ اُس کا غصہ اتنے آرام سے کیسے اُتر گیا. کیونکہ اُس کی لائف میں آج تک ایسا نہیں ہوا تھا. مگر آج سے پہلے اُس کی ماہ روش بھی تو اُس کے پاس نہیں تھی. اور اگر تھی بھی سہی تو اتنا حق اُس کے پاس نہیں تھا جو ساتھ گزاری اُس حسین رات میں ارتضٰی سکندر نے اُسے بخشا تھا. تبھی تو آج ماہ روش اتنی ہمت کرپائی تھی.
ورنہ ارتضٰی سکندر کے غصے کو ختم کرنا ہمیشہ سب کے لیے ناممکن ہی رہا تھا.
ارتضٰی ماہ روش کے اِس استحقاق بھرے انداز پر اور اُس کے الفاظ پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا. غصہ تو اُس کا اب بلکل ختم ہوچکا تھا. مگر ماہ روش سے ناراضگی کے اظہار کرکے وہ تھوڑا بہت تو اُسے اُس کی غلطی کا احساس کروانا چاہتا تھا. جو وہ اُسے بنا بتائے یہاں آکر کر چکی تھی. کیونکہ ہمایوں کا ماہ روش کو دیکھنے والا منظر بار بار ارتضٰی کے سامنے آکر اُس کے غصے کو بڑھا دیتا تھا.
” آپ معاف نہیں کریں گے مجھے. بہت ناراض ہیں مجھ سے. “
ماہ روش نے ارتضٰی کو ویسے ہی بے حس کھڑا دیکھ اُس کے سینے سے سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تھا.
” تم نے جو غلطی کی ہے وہ میں کسی صورت معاف نہیں کر سکتا. “
ارتضٰی نے بغور اُس کے حسین رُوپ کو آنکھوں میں بساتے سخت لہجے میں کہا. اُس نے ماہ روش کو خود سے قریب ابھی بھی نہیں کیا تھا. جو بات ماہ روش کی آنکھوں میں آنسو لے آئی تھی.
” میں معافی مانگ تو رہی ہوں نا.”
بات کرتے دو آنسو ٹوٹ کر ماہ روش کی گالوں پر بکھرے تھے اور بس یہی پر ارتضٰی کی ساری ایکٹنگ ختم ہوئی تھی.
” اِس میں رونے والی کیا بات ہے پاگل لڑکی نہیں ہوں ناراض تم سے مذاق کر رہا تھا. “
ارتضٰی ماہ روش کے آنسو اپنے پوروں پر چنتے محبت پاش لہجے میں بولا. ماہ روش کے آنسو تو وہ اب کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا تھا.
” نہیں آپ مجھ سے ناراض ہیں. ورنہ آپ اِس طرح بے رُخی نہ دیکھاتے. آپ نے ایک بار بھی مجھے خود سے قریب نہیں کیا اِس کا یہی مطلب..”
ماہ روش کی بات پر جہاں ارتضٰی کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ بکھری تھی. وہیں ماہ روش نے زبان دانتوں تلے دباتے اپنی بے اختیاری پر خود کو کوسا تھا.
” اوہ تو اتنا رونا اِس لیے آرہا ہے میری خوبصورت سی وائف کو. “
ارتضٰی نے ماہ روش کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے خود سے قریب کیا تھا. اور ماہ روش کے خفت سے سُرخ پڑتے چہرے پر جھکتے اُس کے ایک ایک نقش کو اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا تھا.
ارتضٰی کی جان لیوا قربت پر ماہ روش کی سانسیں تیز سے تیز تر ہوئی تھیں. اُس کے ہونٹوں کا پر شدت لمس ماہ روش کی جان نکال رہا تھا. ارتضٰی ماہ روش کی حالت کی پرواہ کیے بغیر اُس کے چہرے پر پے در پے اپنے ہونٹوں کے نشان چھوڑتا اُس کی گردن پر جھکا تھا. اور ہاتھ بڑھاتے اپنی راہ میں حائل ماہ روش کی بلیک شال کو اُس کی گردن سے جدا کرتے وہاں بھی اپنی محبت کے پھول کھلاتا چلا گیا تھا.
ارتضٰی نے چند ہی منٹوں میں ماہ روش کو بے حال کرکے رکھ دیا تھا.
” سر پلیز… “
بہت دیر بعد ماہ روش لڑکھڑاتی آواز میں صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی.
” کیا ہوا اتنی جلدی گھبرا گئی. ابھی تو میں نے اچھے سے بتایا ہی نہیں کہ میں ناراض نہیں ہوں. “
ارتضٰی ماہ روش پر رحم کھاتے پیچھے ہٹا تھا. مگر پھر بھی شوخ نظروں سے دیکھتے اُسے چھیڑنے سے باز نہیں آیا تھا. جو گہرے گہرے سانس لیتی ٹھیک سے اُسے گھور بھی نہیں پائی تھی.
” میرا وہ مطلب نہیں تھا. آپ بہت بُرے ہیں مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی. “
ماہ روش ارتضٰی کی بے باک نظروں سے گھبراتی اُس سے دو قدم دور ہوئی تھی.
جب اُس کے بغیر ڈوپٹے کے حسین سراپے پر پرشوق نظریں گاڑھے ارتضٰی اُس کی طرف بڑھا تھا.
” ابھی تو مزید بُرا بننا ہے مجھے اور دور کہاں جارہی ہو. یہاں آؤ میرے پاس میری گزری رات کا حساب کون دے گا. “
ارتضٰی ماہ روش کو اُلٹے قدموں پیچھے جاتے دیکھ اُسے وارن کرتے بولا.
جس پر ماہ روش نے کھلکھلاتے نفی میں سر ہلایا تھا. مگر اِس کے بعد وہ مزید ایک قدم بھی پیچھے نہیں بڑھا پائی تھی کیونکہ ارتضٰی نے ایک ہی جست میں اُس کی طرف اپنا بازو بڑھاتے اُسے واپس اپنے قریب کھینچ لیا تھا.
” کل مجھے گلزار کے رُوپ میں دیکھ کر تمہیں زرا سا بھی شبہ نہیں ہوا مجھ پر. “
ارتضٰی اُسے اپنے بے حد قریب کرتے سینے میں بھینچتے ہوئے بولا. آنکھوں کی پیاس بجھائے نہیں بجھ رہی تھی. پچھلے دو دن ماہ روش کے بغیر اُس نے کیسے گزارے تھے یہ وہی جانتا تھا. یہ لڑکی خون بن کر اُس کی رگوں میں دوڑنے لگی تھی. جس کے بغیر اُسے اب یہ زندگی بے معنی لگتی تھی.
” نہیں اِس دل نے آپ کے آس پاس ہونے کی گواہی دی تھی مجھے. آپ کو پتا ہے میں یہاں اتنے آرام سے کیسے آگئی. اِس لیے کہ میں جانتی ہوں میں جہاں بھی جاؤ گی بلکل محفوظ ہوں. میرا شوہر میری جان اور عزت کا محافظ ہر جگہ سائے کی طرح میرے ساتھ ہوگا. اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے گا.
جس تحفظ کے احساس کو میں بچپن سے ترس رہی ہوں. اُس کا احساس مجھے آپ نے کروایا ہے. آپ کے مل جانے سے مجھے زندگی کی ہر خوشی مل گئی ہے.”
ماہ روش ارتضٰی کے پیروں پر پیر رکھے اُس کے سینے پر ٹھوڑی ٹکائے محبت بھرے لہجے میں اپنے دل کی بات کہتی ارتضٰی کو مبہوت کر گئی تھی. ارتضٰی نے جھک کر مسکراتے ماہ روش کے گلابی بھرے بھرے گالوں کو چوم لیا تھا.
” میں وعدہ کرتا ہوں میری جان تمہارا یہ محافظ ہمیشہ ایسے ہی تمہارے آگے کھڑا رہے گا. کوئی بُری نظر کوئی دکھ و غم تمہارے قریب بھٹک نہیں پائیں گے. “
ارتضٰی کی مسکراہٹ پر ماہ روش اُس کے ڈمپل دیکھ مبہوت ہوئی تھی. جب ارتضٰی نے اُس کی یہ حرکت نوٹ کرتے اپنے گال اُس کے سامنے کیے تھے.
اور آج ماہ روش نے بھی اپنی ساری جھجھک سائیڈ پر رکھتے ارتضٰی کے گڑھوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا تھا. وہ ہمیشہ سے دیوانی رہی تھی اِن کی اور آج اُن کو چھو بھی لیا تھا.
وہ دونوں اِس وقت ایک دوسرے کی قربت میں مدہوش یہ بھول چکے تھے کہ وہ اِس وقت کہاں موجود ہیں. جب اچانک دروازے پر ہونے والی دستک نے اُنہیں اپنی طرف متوجہ کیا تھا.
مگر جیسے ہی دستک دینے والے کی آواز ارتضٰی کے کانوں سے ٹکرائی وہ ارتضٰی کی سرد پڑتی آگ کو پھر سے ہوا دے گئی تھی. ہمایوں دستک دینے کے ساتھ ساتھ ماہ روش کا نام بھی پکار رہا تھا.
” اِس کمینے کی اتنی جرأت اِس وقت میری بیوی کے کمرے میں آنے کی ہمت کیسے کی اِس نے. “
ارتضٰی بھسم کرنے والے انداز میں دروازے کی طرف بڑھا تھا. جب جلدی سے ماہ روش نے اُس کو بازو سے تھام کر روکا تھا.
” ارتضٰی آپ کیا کررہے ہیں. اگر اُس نے آپ کو اِس طرح میرے کمرے میں دیکھ لیا تو ہمارا سارا پلان خراب ہوسکتا ہے. آپ پلیز رُک جائیں. “
ماہ روش ارتضٰی کو طیش کے عالم میں دروازے کی طرف بڑھتا دیکھ جلدی سے سامنے آتے بولی.
” نہیں میں اِس خبیث کو آج سبق سیکھا کر ہی رہوں گا.”
ارتضٰی اِس وقت ماہ روش کی کوئی بات بھی سننے کو تیار ہی نہیں تھا. اُس کے سر پر تو ہمایوں کو ختم کرنے کا خون سوار ہوچکا تھا.
اِس سے پہلے کے ارتضٰی دروازے تک پہنچ کر لاک اوپن کرتا ماہ روش نے ایک بار پھر اس کے آگے آتے اُسے کالر سے پکڑ کر اپنے ہونٹ ارتضٰی کے ہونٹوں پر رکھ دیے تھے. ارتضٰی ماہ روش کے عمل پر اپنی جگہ ساکت ہوا تھا.
ماہ روش کی کمر دروازے سے لگی ہوئی تھی. اور آنکھیں بند کیے وہ ہولے ہولے کانپتے ارتضٰی سکندر کو روکنے میں کامیاب ہوچکی تھی.
ارتضٰی کے رُک جانے اور باہر سے بھی دستک کا سلسلہ ختم ہوتا محسوس کرتے ماہ روش نے ارتضٰی سے الگ ہونا چاہا تھا. مگر اب ارتضٰی اُسے چھوڑنے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا.
وہ جانے انجانے میں اُس کی شدتوں کو بھڑکا گئی تھی. اور اب اپنی جلدبازی اور مصلحت میں اُٹھائے گئے اقدام کا انجام اُس کو اندر تک کانپنے پر مجبور کر گئی تھی.
” یار مجھے نارمل کرنے کے یہ اتنے زبردست طریقے کہاں سے سیکھے تم نے. “
ارتضٰی کافی دیر تک ماہ روش کے اندر اپنی سانسیں اُنڈیلنے کے بعد اُسے آزاد کرتے بولا.
جو اپنی الجھی بکھری سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ارتضٰی کے سینے پر سر رکھے ہوئے تھی.
جس طرح ارتضٰی غصے میں دروازے کی طرف بڑھا تھا. ماہ روش کو سب کچھ ختم ہوتا محسوس ہوا تھا.
اِس لیے اُس وقت جو دماغ میں آیا اُس نے ارتضٰی کو روکنے کے لیے کردیا تھا. مگر اب وہ حیا کے مارے ارتضٰی سے نظریں بھی نہیں ملا پارہی تھی.
” اوکے اب میں چلتا ہوں. اپنا بہت سا خیال رکھنا اور اِس شخص کا تو میں ایسا بندوبست کروں گا کہ دوبارہ تمہاری طرف تو کیا کسی بھی لڑکی کی طرف دیکھنے کی جرأت نہیں کر پائے گا.
اور ہاں تم میرے آنے سے پہلے جہاں جانے کی تیاری کر رہی تھی. وہاں اِس وقت جانا خطرے سے خالی نہیں ہے. وہاں جانے کا صحیح ٹائم صبح کے چھ بجے ہے. کیونکہ اُسی دوران وہاں پر پہرے پر موجود گارڈ تبدیل ہوتے ہیں. اِس وقت سب سے زیادہ سیکیورٹی ہوتی ہے وہاں. “
ارتضٰی ماہ روش کو اپنے سینے میں بھینچ کر اُس کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے بہت ضروری ہدایات دیتے اُس سے دور ہوا تھا. جب اُس کے جانے پر ماہ روش کی آنکھوں میں اُداسی سی چھا گئی تھی.
مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے ماہ روش نے ہاتھ ہلاتے اُسے خدا حافظ کہتے رخصت کیا تھا. جو جاتے جاتے بھی اُس کی بہت مدد کر گیا تھا.
ماہ روش جانتی تھی ارتضٰی اِس وقت تو اُس کی پریشانی کی وجہ سے رُک گیا تھا. مگر وہ ہمایوں کو اب کسی صورت چھوڑنے والا نہیں تھا.
ماہ روش کا دل ارتضٰی کی سلامتی کے لیے دعا گو تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ریحاب کو سوتا دیکھ صائمہ بیگم اُس کے اُوپر کمبل ٹھیک کرتیں لائٹ آف کرتیں اُس کے کمرے سے نکل گئی تھیں.
آج تیسرا دن تھا ارحم کی ابھی تک کوئی خبر نہیں ملی تھی. ریحاب نے اتنی ٹینشن لی تھی کہ کل رات کو نروس بریک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے وہ اپنے روم میں بے ہوش ہوکر گرگئی تھی.
مسلسل پندرہ گھنٹوں کی بے ہوشی کے بعد اُسے ہوش آیا تھا. مگر اب بھی ارحم کو بار بار پکارتے اور روتے اُس کی حالت مزید بگڑ رہی تھی. صائمہ بیگم نے اُس کو بہت مشکل سے تھوڑا سا سوپ پلا کر میڈیسن دی تھی تاکہ اُس کا دماغ تھوڑا سا ریلیکس ہو جائے.
ریحاب نیند کی آغوش میں تھی جب اُسے محسوس ہوا تھا. کہ ارحم اُس کے بہت قریب ہے. اُسے اپنے چہرے پر مانوس سا لمس محسوس ہوا تھا. اُس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنی چاہی تھی. مگر وہ نجانے کیوں کر ہی نہیں پارہی تھی.
اُس نے روتے ہوئے ارحم کو پکارا تھا اور بہت کوشش کے بعد آخر کار آنکھیں کھولنے میں کامیاب ہوتے وہ اُٹھ بیٹھی تھی. مگر ارحم وہاں کہیں موجود نہیں تھا. ریحاب کی امید سے جگمگاتی آنکھیں پھر سے ویران ہوئی تھیں. دیوانوں کی طرح اردگرد دیکھتے ریحاب نے ارحم کو ڈھونڈنا چاہا تھا. لیکن وہ وہاں کہیں موجود نہیں تھا. دروازہ ہنوز بند تھا. کھڑکی پر بھی ویسے ہی پردے گرے ہوئے تھے.
بہت سے آنسو ٹوٹ کر ریحاب کے چہرے کو بھگوتے چلے گئے تھے. وہ بے دم سی ہوتی واپس بستر پر گری تھی.
” کہاں ہیں ارحم آپ پلیز لوٹ آئیں پلیز. نہیں رہ سکتی میں آپ کے بغیر. مر جاؤ گی میں. واپس آجائیں خدا کے لیے واپس آجائیں آپ کی ہر بات مانوں گی کبھی آپ کو ہرٹ نہیں کروں گی. “
ریحاب ہچکیوں کے درمیان روتے ارحم کو پکاری جارہی تھی.
” یاﷲ جی ہمیشہ میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے ایسا. کیوں تمام آزمائشیں میری زندگی میں ہی لکھ دی گئی ہیں. میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں مگر پلیز ارحم کو مجھ سے مت چھینے گا.”
ریحاب گرگراتے اُوپر والے سے فریاد کرتے ارحم کے واپس لوٹنے کی دعائیں مانگ رہی تھی. مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اُس کی سنی جائے گی یا ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ لوٹا دیا جائے گا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” تمہیں کہا تھا میں نے کہ میرے ساتھ زرا بھی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا. ورنہ تمہیں میں چھوڑوں گا نہیں. بولو ذوالفقار ہمارے خفیہ ٹھکانے تک کیسے پہنچا. ارحم کے بارے میں کیسے پتا چلا اُسے. “
ارتضٰی سوہا کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچتے اُس پر دھاڑا تھا.
سوہا پچھلے چار دنوں سے غائب تھا. ارتضٰی کو پہلے ہی اُس کی طرف سے کسی گڑبڑ کا اندازہ ہوچکا تھا. مگر برہان کی بازیابی اور ارحم کی گمشدگی اُس کو سوہا کی طرف سے مکمل طور پر مشکوک کر گئی تھی.
اِس لیے تین دنوں کی تلاش کے بعد آج آخر کار سوہا کو ڈھونڈ نکالا تھا.
ارتضٰی کی نظروں میں موجود چنگاریاں دیکھ وہ سمجھ گئی تھی کہ اُس کا انجام قریب ہے.
” میجر صاحب جھوٹ نہیں بولوں گی میں آپ سے. میں بہت مجبور تھی. میرا باپ اور بھائی اُس کے قبضے میں تھے. وہ اُنہیں مار دیتا اِس لیے مجبوراً مجھے ایسا کرنا پڑا. “
سوہا سر جھکائے روتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کر گئی تھی. اور وہیں ارتضٰی کی سانسیں تھمی تھیں. مطلب اُس کے پوری ٹیم خطرے میں تھی.
” کیا کیا بتایا ہے تم نے. جلدی بولو. “
ارتضٰی کے چلانے پر سوہا مزید سہمی تھی. کیونکہ اُس کے پیچھے کھڑی ارتضٰی کی فی میل اہلکار اُس کی پہلے ہی چمڑی اُدھیر چکی تھیں. اور ابھی بھی ارتضٰی کے ایک اشارے کی منتظر تھیں.
” کیپٹن ارحم, میجر جاذل اور کیپٹن زیمل کے بارے میں تمام انفارمیشن دے چکی ہوں میں اُن کو. اور اب کیپٹن ارحم کے بعد میجر جاذل اور کیپٹن زیمل پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ. “
سوہا کی بات پر ارتضٰی نے اُس کی گردن کو اپنی ہاتھ میں بُری طرح دبوچ لیا تھا. اُس کا دل چاہا تھا اِس لڑکی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے.
” ماہ روش کے بارے میں کیا بتایا ہے تم نے. “
ارتضٰی نے اُس کی گردن کو آزاد کرتے اپنا آخری سوال پوچھا تھا.
جب بُری طرح کھانستے تکلیف کے باوجود بھی سوہا مسکرائی تھی.
” فکر مت کریں میجر صاحب آپ کی محبت بلکل محفوظ ہے. آپ کے لیے یہ بات مضحکہ خیز ہی ہوگی مگر بہت محبت ہوگی ہے آپ سے. اِس لیے اپنی محبت اور اُس کی محبت پر آنچ آتے نہیں دے سکتی تھی میں اِس لیے آپ دونوں کا نام تک نہیں بتایا اُن لوگوں کو. “
سوہا کے منہ سے محبت نام سنتے ارتضٰی کو یہ لفظ بھی اِس وقت انتہائی بُرا لگا تھا.
جب اُس کی کسی بات کا جواب دیے بغیر وہ پیچھے کھڑی اہلکارز کو اشارہ کرتا وہاں سے نکل گیا تھا. جب پیچھے سوہا کی دلخراش چیخیں ہر طرف پھیل گئی تھیں.
ارتضٰی وہاں سے نکل کر بھاگتے ہوئے اپنی گاڑی میں آبیٹھا تھا. اور ساتھ ہی جاذل کا نمبر ٹرائے کیا تھا. ارتضٰی کا دل بس یہی دعا کررہا تھا. کہ جاذل ابھی تک ذی ایس کے پلازہ میں داخل نہ ہوا ہو. مگر اُس کا نمبر مسلسل بند مل رہا تھا. جس کا مطلب تھا جاذل وہاں پہنچ چکا ہے.
ارتضٰی نے زیمل کا نمبر ڈائل کیا تھا مگر اُس کی طرف سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہورہا تھا. جس پر ارتضٰی کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی.
وہ گاڑی کی سپیڈ تیز سے بھی تیز تر کرتا گیا تھا تاکہ جلد از جلد وہاں پہنچ سکے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاذل آج سونیا کے بلانے پر ذی ایس کے پلازہ میں پہنچ چکا تھا. وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے. مگر یہاں آنے سے پہلے وہ خود کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار کرکے آیا تھا.
زیمل اُس سے ناراض تھی کیونکہ وہ بھی جاذل کے ساتھ جانا چاہتی تھی. مگر جاذل کے کہنے پر ارتضٰی کے منع کرنے پر وہ جاذل پر غصہ تھی. اور وہ اِس وقت اِس بات سے لاعلم تھی کہ جاذل وہاں جاچکا ہے.
” ہائے ہینڈسم .”
سونیا وہاں داخل ہوتے چہکتے ہوئے بولی. اُس کو اندر داخل ہوتے دیکھ جاذل اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا. جب وہ سیدھی اُس کے سینے سے آلگی تھی. جاذل نے اُس کے گرد بازو کا حصار باندھتے اُس کی وارفتگی کا جواب دیا تھا.
” میں بتا نہیں سکتی جاذل تمہیں یہاں دیکھ کر میں کتنی خوش ہوں. اور جس وجہ سے میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے. میں اچھے سے جانتی ہوں اُسے سن کر تمہیں بھی بہت خوشی ہوگی. “
سونیا جاذل کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے کہا.
جبکہ جاذل اُس کے انداز سے چونکا تھا. اُسے سونیا آج کافی بدلی بدلی لگ رہی تھی.
جاری ہے
