Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

مگر زیمل جاذل کی بات سنی اِن سنی کرتی ویسے ہی بیٹھی رہی تھی. جب پانچ منٹ بعد انٹر کام بجا تھا.
” کیپٹن زیمل آپ کو شاید میری بات سنائی نہیں دی میں نے آپ کو اپنے آفس بلایا ہے. “
جاذل دوبارہ اپنی بات دوہراتے ایک ایک لفظ پر زور دیتے بولا.
” سر میں اِس وقت نہیں آسکتی. بہت ضروری کام کر رہی ہوں.”
زیمل جتنا اُسے اگنور کرنا چاہتی تھی وہ اُتنا ہی اپنی ضد پر اڑ گیا تھا.
” کیپٹن زیمل بھاڑ میں گیا آپ کا کام ابھی اور اِسی وقت میرے آفس آئیں ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا. “
جاذل جانتا تھا کہ زیمل سونیا کو اُس کے اتنے قریب دیکھ اندر ہی اندر اچھی خاصی ناراض ہوچکی ہے. اِس لیے وہ ایک بار اُس سے بات کرکے کلیئر کرنا چاہتا تھا مگر وہ زیمل ہی کیا جو آرام سے بات مان لے. اِس لیے جاذل اپنا لہجہ تیز کرتے غصے سے بولا.
” سر بھاڑ میں جائیں آپ اور بھاڑ میں جائے آپ کا آرڈر نہیں آؤں گی میں آفس. جو کرنا ہے کر لیں. “
زیمل جاذل کی سوچ سے بھی زیادہ تپی ہوئی تھی. اِس لیے اُسی کے لہجے میں جواب دیتے اُس نے فون رکھنا چاہا تھا.
” اگر آپ اگلے دس منٹ میں میرے آفس نہ آئیں تو میں وہاں سے سب کے سامنے اُٹھا کر یہاں لے آؤں گا. پھر کسی بھی بات کا گلہ مجھ سے مت کیجئے گا. “
جاذل نے بات کہتے کھٹاک سے فون رکھ دیا تھا.
جب کے جاذل کی بات سنتے زیمل کا دل زور سے دھڑکا تھا.
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے پہلے پانچ منٹ تو وہ ڈھیٹ بن کر بیٹھی رہی مگر پھر جاذل کی دھمکی کا سوچتے وہ فائل اُٹھاتی آفس کی طرف بڑھ گئی تھی. کیونکہ اُسے ڈر تھا کہ کہیں واقعی اپنی بات پر عمل کرتے وہ یہاں نہ پہنچ جائے.
” جی فرمائیں کیا مسئلہ ہے آپ کو.”
زیمل زور سے فائل اُس کے ٹیبل پر پٹختے بولی.
” مسئلہ تو کچھ خاص نہیں ہے. مگر ایک بہت ضروری کام تھا آپ سے. یہ لپسٹک کا مارک دھلوانا تھا. “
جاذل کو زیمل کا تپا تپا سا انداز بہت مزا دے رہا تھا. اِس لیے جاذل نے مزید اُسے غصہ دلاتے کہا.
جاذل کی بات پر ماہ روش کی نظریں فوراً اُس کی وائٹ شرٹ پر موجود ریڈ کلر کے ہونٹوں کے نشان پر گئی تھیں.
جسے دیکھ زیمل کے اندر پھر سے آگ بھڑک اٹھی تھی.
” آئم سوری سر میرے پاس آپ کے فضول کاموں کے لیے بلکل ٹائم نہیں ہے. اور ویسے بھی میں آپ کو صرف اتنا بتانے آئی تھی کہ آپ کی وہ چہیتی اب جاچکی ہے. اِس لیے اب میرا ڈیوٹی ٹائم بھی ختم ہوگیا ہے.
مجھے مسٹر کاظم کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے. مجھے پہلے ہی کافی دیر ہوچکی ہے. اوکے بائے. “
زیمل بھی حساب برابر کرتے وہاں سے پلٹی تھی کیونکہ اب آگ لگنے کی باری جاذل کی تھی.
” واٹ ربیش. تم اُس گھونچو کے ساتھ ڈنر پر جاؤ گی.”
جاذل فوراً آپ سے تم پر آیا تھا.
اُسے زیمل کی بات کسی صورت ہضم نہیں ہوئی تھی. سونیا کے ساتھ میل جول اُس کی ڈیوٹی کا حصہ تھا. مگر زیمل کا کاظم میں انٹرسٹ لینا جاذل کو زہر سے بھی بُرا لگا تھا.
” پلیز میجر جاذل آپ کسی کی یوں انسلٹ نہیں کرسکتے. اور میری مرضی میں جو مرضی کروں. کاظم کے ساتھ ڈنر پر جاؤں یا کسی اور کے ساتھ آپ مجھے نہیں روک سکتے. “
جاذل اپنی چیئر سے اُٹھ کر قریب آچکا تھا. جب زیمل سینے پر دونوں بازو باندھے جاذل کو چڑاتے ہوئے بولی. اُسے جاذل کا طیش زدہ انداز اب مزہ دے رہا تھا.
” تم نہیں جاؤ گی ڈنر پر نہ اُس کے ساتھ اور نہ کسی اور کے کے ساتھ. “
جاذل دو قدم اُٹھاتے زیمل کے قریب آتے بولا. دونوں کے درمیان اب صرف ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا.
” میں جاؤں گی آپ کے پاس مجھے روکنے کا کوئی حق نہیں ہے. “
زیمل بھی بنا جاذل سے گھبرائے اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی.
” حق ہے اِن فیکٹ سب سے زیادہ حق تو مجھے ہی حاصل ہے. شوہر ہوں میں تمہارا. “
جاذل کے بدلتے انداز پر زیمل نے حیرانی سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
” آپ اچھے سے جانتے ہیں وہ ایک کاغذی رشتہ ہے. اِس سے زیادہ کچھ نہیں. آپ مجھ پر کوئی حق نہیں رکھتے. نہ ہی میں ایسا کوئی حق مانتی ہوں. “
زیمل کو جاذل کے اٹل انداز سے خوف محسوس ہونے لگا تھا. مگر وہ اپنے لہجے کو مضبوط بنائے اُس سے ڈٹ کر مقابلہ کررہی تھی.
“مگر میں آج اور ابھی سے مانتا ہوں. “
جاذل مزید پھیلا تھا.
” مجھے ڈنر کے لیے جانا ہے دیر ہورہی ہے. “
زیمل اُس کی بات کو صاف نظر انداز کرتی جانے کے لیے مڑی تھی.
جب جاذل نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اپنی جانب کھینچا تھا. زیمل سنبھلنے کی کوشش کیے بغیر سیدھی جاذل کے سینے سے جا ٹکرائی تھی.
” یہ کیا بدتمیزی ہے. “
زیمل نے آنکھیں پھاڑے غصے سے جاذل کو گھورا. اور اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتے دور ہونا چاہا تھا. مگر جاذل نے اُسے ایسا کوئی بھی موقع دیے بغیر اپنے بانہوں میں اُٹھائے باہر کی طرف بڑھا تھا.
” واٹ نان سینس میجر جاذل یہ آپ کیا کررہے ہیں. مجھے نیچے اُتاریں. “
زیمل نے ٹانگیں ہلاتے اترنے کی کوشش کی تھی. مگر جاذل اُس کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہ ہونے دیتے وہاں سے نکل آیا تھا.
جاذل بلڈنگ کی خفیہ سیڑھیوں سے ہوتے بیک گیٹ پر موجود اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا.
” آپ یہ کیا کررہے ہیں مجھے کہاں لے کر جارہے ہیں. “
زیمل نے جاذل کو گاڑی کا دروازہ کھولتے دیکھ غصے سے پوچھا. کیونکہ اُس کی مسلسل مزاحمت کا تو جاذل پر کوئی اثر ہو نہیں رہا تھا. زیمل کے ناخن جاذل کی گردن پر ایک دو خراشیں بھی ڈال چکے تھے مگر جاذل کو پرواہ کہاں تھی.
” ڈنر پر لے کر جا رہا ہوں. وہیں جانا تھا نا آپ نے. “
جاذل نے زیمل کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے گاڑی کو لاک کیا تھا.
” مگر میں خود جاسکتی ہوں. “
زیمل فوراً جذبز ہوئی تھی. اُس نے تو جھوٹ بولا تھا. اب وہ وہاں پر کاظم کو کیسے بلائے گی.
جاذل زیمل کی کسی بھی بات کا جواب دیے بغیر گاڑی ڈرائیو کرتا رہا تھا.
کچھ دیر بعد گاڑی ایک خوبصورت سے گھر کے سامنے جا رکی جو باہر سے تو بہت ہی شاندار لگ رہا تھا مگر اندر سے بلکل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا. گارڈ کے گیٹ کھولتے ہی جاذل گاڑی اندر لے آیا تھا.
” یہ کس کا گھر ہے آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں. “
زیمل کے سوال ایک بار پھر سٹارٹ ہوچکے تھے.
مگر جاذل نے اُسی طرح خاموشی سادھے زیمل کا ہاتھ پکڑتے اُسے گاڑی سے باہر نکالا تھا.
پورچ سے نکلتے جاذل اُسے لیے گھر کے اندر کی طرف بڑھا تھا.
جیسے ہی زیمل نے اندر قدم رکھا اچانک سے لائٹس آن ہوئی تھیں. اور سامنے کا دلفریب منظر دیکھتے زیمل مبہوت رہ گئی تھی.
پورے ہال کو وائٹ کلر کے مختلف قسم کے پھولوں سے سجایا گیا تھا. سٹائلش سے دیے پھولوں کے درمیان پڑے اُن کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کررہے تھے.
زیمل نے اردگرد کا جائزہ لیتے قدم اندر کی طرف بڑھائے.
اُس کے لیے یہ سب بہت ہی انوکھا اور خوبصورت تھا.
اتنی زبردست اور دلفریب ڈیکوریشن اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی.
وائٹ کلر اُس کا فیورٹ تھا. مگر آج جس طرح سے ہر چیز میں اُس کا استعمال کیا گیا تھا. یہ کلر اُسے اتنا اچھا کبھی نہیں لگا تھا.
ہال کے بلکل درمیان فانوس کے بلکل نیچے ایک خوبصورت سے سجے ٹیبل کے گرد دو چیئرز رکھی گئی تھیں.
زیمل اُس ماحول میں اتنی مدہوش ہوچکی تھی کہ اُسے جاذل کا خیال ہی نہیں آیا تھا.
زیمل نے اچانک ہوش میں آتے پلٹ کر جاذل کی طرف دیکھا تھا. جو وہیں پر موجود سینے پر ہاتھ باندھے زیمل کی طرف دیکھ رہا تھا. اُس کے اپنی طرف متوجہ ہونے پر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا وہ اُس کے قریب آیا تھا.
” یہ سب کیا ہے. مطلب یہ سب کس کے لئے.”
زیمل کے بے تکے سوال پر جاذل نے مسکراتے سر نفی میں ہلایا تھا.
” سونیا کے لیے کیا سب. اچھا ہے نا اُس پسند آئے گا کیا.”
جاذل کی آنکھوں میں چھپی شرارت پر بغیر غور کیے اُس کی بات کو سچ سمجھتے زیمل کا موڈ آف ہوا تھا.
” ہاں بہت اچھا ہے اُسے بہت پسند آئے گا. “
زیمل جاذل کو دانت پیس کر جواب دیتی وہاں سے جانے کے لیے مڑی تھی.
” کیپٹن زیمل کیا آپ اِس چھچھورے بندے کے ساتھ آگے کی اپنی پوری زندگی گزارنا چاہیں گی.”
جاذل نے زیمل کی کلائی کو اپنی گرفت میں لیتے جو بات کہی تھی اُس نے زیمل کو پلٹنے پر مجبور کردیا تھا.
اُسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ جاذل نے یہ بات مذاق میں کہی ہے یا وہ واقعی ہی سیریس ہے.
زیمل کے ساکت انداز پر جاذل ہولے سے مسکرایا تھا.
” میں اظہار کے معاملے میں بلکل اناری ہوں نہیں جانتا تم تک اپنے جذبات کیسے پہنچاؤں. ہاں مگر اتنا جانتا ہوں کہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں. محبت جس رشتے سے کچھ ٹائم پہلے واقف بھی نہیں تھا. اب ایک پاگل سی سرپھری لڑکی سے اُسی رشتے میں بُری طرح گرفتار ہوچکا ہوں.
ہمارا رشتہ جو صرف ایک کنٹریکٹ کی بیس پر کیا گیا تھا. میں اُس کو اپنی زندگی کا سب سے اہم رشتہ بنانا چاہتا ہوں کیا تمہیں بھی میرا ساتھ منظور ہے. “
جاذل کی بات پر زیمل حیرت ذدہ سی اُسے دیکھے گئی تھی. اُسے اِس وقت بلکل بھی جاذل سے کسی ایسی بات کی امید نہیں تھی.
اور جاذل کے اتنے بڑے اظہار پر اُس کا دماغ جھنجھا اُٹھا تھا.
پہلی دفعہ اُسے اپنے دل کی دھڑکنے آؤٹ آف کنٹرول ہوتی محسوس ہوئی تھیں. مگر وہ ابھی کچھ بھی سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی. اُس کے لیے یہ سب بہت نیا تھا.
نہ ہی وہ خود کو مینٹلی تیار کر پائی تھی.
” نہیں ایسا نہیں ہوسکتا. میجر جاذل یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. آئی تھنک آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. “
زیمل کی بات پر جاذل کو جھٹکا لگا تھا.
” آر یو کریزی زیمل غلط فہمی کی بنیاد پر میں یہ سب کروں گا. “
زیمل کے اُلٹے جواب پر جاذل کا دماغ گھوم چکا تھا.
وہ اچھے زیمل کی اپنے لیے فیلنگز سمجھ چکا تھا. مگر زیمل خود ہی ابھی کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی.
” نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا. “
زیمل نے جاذل کا بدلتا موڈ دیکھتے بات کو سنبھالنا چاہا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی جاذل کے موبائل پر آنے والی رنگ پر وہ اُس طرف متوجہ ہوا تھا.
اور بات سنتے ہی عجلت میں زیمل کو ڈرائیور کے ساتھ گھر جانے کی ہدایت کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
جبکہ زیمل خاموش نظروں سے اُسے جاتے دیکھ رہی تھی. اُسے جاذل کو ایک بار پھر سے ناراض کردیا تھا. جاذل اُس کے ایک بار دھتکارنے کے باوجود اتنی محبت سے اُس کی طرف بڑھا تھا. مگر ایک بار پھر بے وقوفی کا مظاہرہ کرتے وہ اُسے خود سے دور کر چکی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” اگر میرا بیٹا اُن ایجنسی والوں کے ہاتھ لگ گیا تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا سب کچھ تباہ کردوں گا. “
ذی ایس کے کو کسی پل چین نہیں مل رہا تھا. وہ ہر حال میں اپنے بیٹے تک پہنچنا چاہتا تھا. مگر برہان کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا.
اِس وقت بھی اپنے آدمی کی مخبری پر وہ ایک علاقے میں پہنچا تھا. مگر وہاں پر برہان کا نام ونشان بھی موجود نہیں تھا.
” بابا آپ کو اِس طرح وہاں اکیلے نہیں جانا چاہئے تھا. یہ دشمنوں کی کوئی سازش بھی ہوسکتی ہے. اور وہ علاقہ تو ویسے بھی ہمارے لیے سیف نہیں ہے. “
ہمایوں ذی ایس کے سے بات کرتا فکرمند لہجے میں بولا.
” تو کیا میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہوں. اور اپنے بیٹے کی موت کی خبر کا انتظار کروں. “
ذی ایس کے نے غصے میں کہتے فون بند کردیا تھا. جب اچانک اُس کی گاڑی پر فائرنگ سٹارٹ ہوچکی تھی. اُس کے پروٹوکول کی والی پہلی گاڑی کو بلاسٹ سے اُڑا دیا گیا تھا.
یہ سب دیکھتا ذوالفقار جلدی سے اپنا اسلحہ نکالتا گاڑی سے نکلا تھا. مگر باہر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوچکی تھی. اُس کے آدمی ایک کہ بعد ایک گرے رہے تھے.
ذوالفقار کااکیلا اُن سے مقابلہ کرنا ناممکن ہوگیا تھا. ابھی اُسے اپنی جان بچانا بھی مشکل ہی لگ رہا تھا. کیونکہ آگے والی دونوں گاڑیوں کو آگ لگ چکی تھی.
ذوالفقار نے جیسے ہی اپنی گاڑی کے پیچھے سے نکل کر بھاگنا چاہا. حملہ آوروں نے دور سے ہی اُس پر فائر کھول دیا تھا. اُس کا نشانہ سیدھا ذوالفقار کے سینہ پر تھا. اِس سے پہلے کے اُس کی گن سے نکلنے والی گولیاں ذوالفقار کا کام تمام کرتیں.
کسی سے نے اُسے بازو سے پکڑ کر دوسری جانب گھسیٹا تھا. اور ذوالفقار کی ڈھال بنتے حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ شروع کردی تھی.
جس طرح وہ شخص دھڑا دھڑ حملہ آوروں کو گرا رہا تھا. اِس وقت وہ ذوالفقار کو کسی فرشتے سے کم نہیں لگا تھا.
پر زور انداز سے اُن سب کا مقابلہ کرتے اُس شخص نے اگلے چند منٹوں میں اُن سب لوگوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا.
خطرہ ٹلتے دیکھ وہ جلدی سے ذوالفقار کی طرف بڑھا تھا.
” صاحب آپ ٹھیک ہو. آپ کو چوٹ تو نہیں لگی. “
ذوالفقار کو پکڑ کر اُوپر اُٹھاتے اُس نے پوچھا.
” تم کون ہو. یہاں کیسے پہنچے اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر میری جان کیوں بچائی.”
ذوالفقار نے اُس کی بات کو اِگنور کرتے اپنے دماغ میں موجود اُلجھنوں کو ختم کرنا چاہا تھا.
ذوالفقار کے مشکوک انداز پر وہ شخص ہولے سے مسکرایا تھا.
” صاحب گلزار نام ہے میرا یہ جس گاؤں سے آپ گزر رہیں ہیں. اِسی کا ہی ایک غریب سا باسی ہوں میں. میں وہاں اپنے کھیتوں میں کام کررہا تھا. جب یہاں کسی کو مشکل میں دیکھ کر مدد کرنے آگیا.
اپنے علاقے میں کسی کے ساتھ ایسا ہوتے نہیں دیکھ سکتا. “
گلزار نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو تاؤ دیتے اپنا تعارف کروایا تھا.
” مگر جس مہارت سے تم نے اُن سب لوگوں کا مقابلہ کیا ہے. اور تمہارا بندوق استعمال کرنے کا انداز دیکھ کر تو نہیں لگتا کہ تم ایک عام انسان ہو. “
گلزار کی بات سننے کے باوجود ذوالفقار کی تسلی نہیں ہوپائی تھی.
” صاحب پیٹ کی بھوک کچھ بھی کروا دیتی ہے. اور اِن سے تو چولی دامن کا ساتھ ہے. مگر دو سال ہوگئے اِن کا ساتھ چھوڑے. یہ تو ابھی وہاں آپ کے آدمی کے پاس سے اُٹھائی ہے.
اوکے صاحب اب میں چلتا ہوں. “
گلزار ہاتھ میں پکڑی بندوق ذوالفقار کی طرف بڑھاتے وہاں سے جاتے بولا.
” ایک منٹ رکو. کیا تم مجھے اپنی کہانی تفصیل سے سنا سکتے ہو. کیا پتا میں تمہاری کوئی مدد کرسکوں.”
گلزار کے بڑھتے قدم ذوالفقار کی آواز پر تھمے تھے.
” کیا مطلب کیسی مدد. “
گلزار نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا.
” تم پہلے اپنے بارے میں سب بتاؤ مجھے. پھر میں تمہیں جواب دوں گا اِس بات کا. “
ذوالفقار کی گہری نظریں گلزار کا ایکسرے کرنے میں مصروف تھیں. اُسے وہ اپنے کام کا بندہ لگا تھا.
” نہ صاحب جی مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے کیا. جو اپنے پچھلے سارے کرتوت آپ کو بتا دوں. آپ جو آگے سے کوئی پولیس والے نکلے میں تو بے موت مارا جاؤں گا. “
گلزار نے پولیس کا سوچتے جھجھری لی تھی.
اُس کے انداز کو دیکھتے ذی ایس کے نے قہقہ لگایا تھا.
” ایسا کچھ نہیں ہے تم مجھ پر اعتبار کرسکتے ہو. “
ذوالفقار کے بار بار یقین دلانے پر آخر کار گلزار راضی ہو ہی گیا تھا.
” صاحب ماں تو میرے پیدا ہوتے ہی فوت ہوگئی. باپ نے ہی مزدوری کرتے پال پوس کر بڑا کیا. مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا. ابھی میں بمشکل پندرہ سال کا ہوا. جب میرا باپ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوگیا. میرے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے. اتنے مہنگے علاج کا انتظام کہاں سے کرتا.
مگر اپنے باپ کو یوں تڑپ تڑپ کر مرنے بھی نہیں دے سکتا تھا. اُنہیں دنوں میری ملاقات ایک کالی نامی شخص سے ہوئی جو اُس وقت کا ایک مشہور ڈاکو مانا جاتا تھا. میری پریشانی سمجھتے کچھ دنوں کی ٹریننگ دینے کے بعد اُس نے مجھے بھی اپنے ساتھ کام پر رکھ لیا. ڈاکو ہونے کے ساتھ ساتھ میں کچھ ہی عرصے میں کرائے کا غنڈہ بھی بن گیا.
پیسے کی بھوک ہی ایسی ہوتی ہے صاحب. باپ کے علاج کے لیے اب میرے پاس پیسا ہی پیسا تھا. مگر وہ پیسا سب بے کار چلا گیا کیونکہ دو سال پہلے میرا باپ زندگی کی جنگ ہارتے مجھے اکیلا چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چلا گیا. “
بات کرتے گلزار کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے.
ذوالفقار کی اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر تھی. گلزار کی آنکھوں کا چھلکتا دکھ اُس کی باتوں کی سچائی کا گواہ تھا.
ذوالفقار نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اُسے حوصلہ دیا تھا.
“دو سال ہوئے وہ کام چھوڑے. مگر آج اِن بندوقوں کو دیکھتے اندر کی آگ باہر آگئی. “
گلزار نے اپنے آنسو صاف کرتے کہا.
” میرے ساتھ کام کرو گے. “
ذوالفقار کی بات پر گلزار نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا.
” کک مطلب صاحب میں سمجھا نہیں. آپ اتنے بڑے آدمی ہو آپ کو میری کیا ضرورت. “
گلزار اُس کی شاندار گاڑیوں اور گارڈز کی طرف دیکھتے بولا.
” بہت ضرورت ہے. تم اچھے سے سوچ لو یہ میرا ایڈریس ہے. کل اِس پر آجانا. تمہارا انکار ہم دونوں کے لیے فائدے مند ہوسکتا ہے.
عیش کرو گے میرے ساتھ کام کرکے. “
ذوالفقار کی آنکھوں کی فرعونیت واضح تھی.
جب اُسی لمحے ہمایوں اپنے گارڈز سمیت وہاں پہنچا تھا.
” تھینک گارڈ بابا آپ ٹھیک ہیں. آئیں پلیز گاڑی میں بیٹھیں یہاں رُکنا خطرے سے خالی نہیں ہے. “
ہمایوں نے غور سے گلزار کو گھورتے ذی ایس کے سے کہا تھا.
جب اُس کی بات پر ذی ایس کے مسکرایا تھا.
” مجھے یہاں اب کوئی خطرہ نہیں ہے. “
اُس کا اشارہ گلزار کی طرف تھا. جس پر گلزار نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو ہلکے سے خم دیا تھا.
ذوالفقار اُسے ایک بار پھر اپنی بات ماننے کی ہدایت دیتا وہاں سے نکل آیا تھا.
” بابا یہ شخص کون تھا. “
گاڑی میں بیٹھتے ہمایوں نے فوراً تجسس کے مارے سوال کیا تھا. کیونکہ ذوالفقار کے مزاج سے وہ اچھے سے واقف تھا. وہ کسی بھی شخص سے بلاوجہ بات نہیں کرتا تھا. اور مسکرانا تو بہت دور کی بات ہے.
” اِسی نے حملہ آوروں سے بچایا ہے مجھے. محسن ہے میرا یہ. “
ذی ایس کے کو گلزار نے کچھ زیادہ ہی امپریس کردیا تھا.
” مگر آپ کو اِس طرح اتنی جلدی کسی پر اتنا ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے.”
ہمایوں نے اُسے ہوشیار کرنا چاہا تھا.
” ہمم جانتا ہوں. اِس لیے تمہاری ڈیوٹی ہے کل تک اِس گلزار کا سارا بائیو ڈیٹا میرے سامنے ہونا چاہیے.”
ذوالفقار کی بات پر ہمایوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا
” سوہا نے جن لوگوں کی نشاندہی کی. کچھ پتا چلا اُن کا یا نہیں. مجھے جلد از جلد اُس ٹیم کے ہر ممبر کی ساری انفارمیشن چاہئے. “
ذوالفقار کی پریشانیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا. اُس کی چھٹی حس اُسے کچھ بُرا ہونے کا الارم دے رہی تھی. اِس بار تو وہ سب کچھ چھوڑ کر بھاگ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ اُس کا بیٹا خطرے میں تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” آج تو بڑی رونق لگی ہوئی یہاں. واؤ کتنی زبردست مہندی لگ رہی ہے. “
ماہ روش لاؤنج میں داخل ہوتے خوشگواریت سے بولی. جہاں ہر طرف رنگ اور خوشبو پھیلی ہوئی تھی.
” ماہی آؤ نا تم بھی لگواؤ. “
نیہا جو دونوں ہاتھوں میں بھر بھر کر مہندی لگوا چکی تھی. ماہ روش کو بھی اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تھا.
باقی سب خواتین بھی وہیں براجمان کسی نہ کسی کام میں مصروف تھیں
” مگر یہ سب ہو کس خوشی میں رہا ہے. “
زیمل نیہا کہ پاس بیٹھتے بولی. جواب دینے سے پہلے نیہا ماہ روش کا ہاتھ مہندی لگانے والی کے ہاتھ میں دے چکی تھی.
” ارتضٰی بھائی کی شادی ہورہی نا. تمہیں بتایا تھا نا اُن کی شادی کے بارے میں تم بھول گئی شاید. “
نیہا کی بات پر ماہ روش ساکت نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی. آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوچکے تھے. جنہیں چھپانے کے لیے ماہ روش نے فوراً چہرہ جھکا لیا تھا. سب لوگ اُنہیں دونوں کی طرف متوجہ تھے.
ماہ روش کوئی سخت ردعمل دے کر کسی کے سامنے کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی.
اُس کا دل چاہا تھا ابھی اُس سنگدل بے وفا کے پاس جائے اور اُس سے پوچھے کہ اور کتنے ظلم ڈھانے باقی ہیں. اگر یہ سب ہی کرنا تھا تو وہ نرم محبت بھرا رویہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی.
کیوں دل میں بہار لاکر ایک بار پھر اُسے ویرانیوں کے سپرد کرنا چاہتے ہو.
مگر ماہ روش نے سوچ لیا تھا. بس بہت ہوگیا. بہت بے مول کر لیا تھا اُس نے خود کو اور اپنی محبت کو اُس پتھر دل شخص کے سامنے. اب اور نہیں.

ارتضٰی کو کسی اور عورت کا ہوتا دیکھنا ماہ روش کے لیے موت کے برابر تھا. لیکن اب اُس نے پتھر ہوتے یہ درد سہنے کا فیصلہ کرلیا تھا.
” اسلام وعلیکم بیوٹیفل لیڈیز. “
زیمل اور ریحاب نے لاؤنج میں داخل ہوتے با آواز بلند سلام کیا تھا.
جس پر ماہ روش کے سوائے وہاں موجود سب لوگوں نے اُن کا خوشدلی سے استقبال کیا تھا.
ماہ روش نے زیمل کے چہکتے انداز پر کھا جانے والی نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
” واؤ ماہی کتنی پیاری مہندی لگ رہی تمہارے ہاتھوں پر. مجھے بھی لگوانی ہے. “
زیمل ماہ روش کی گوریوں کو مکمل نظر انداز کرتے باقی سب سے باتوں میں مصروف تھی.
ماہ روش نے ایک ہاتھ پر مہندی لگتے ہی جان چھڑواتے فوراً اُٹھنا چاہا تھا.
” ارے ماہ روش آپ کہاں جارہی. دوسرے ہاتھ پر بھی لگوائیں نا. بہت اچھی لگے گی. “
ماہ روش کو اُٹھتے دیکھ ریحاب نے اُس کو بنا کچھ بولنے کا موقع دیے اُس کا دوسرا ہاتھ بھی آگے کردیا تھا.
ماہ روش نے بے چارگی سے ریحاب کی طرف دیکھا جو جواب میں ہلکا سا مسکرائی تھی.
ماہ روش کو اِس وقت ہر بندہ اپنا دشمن لگ رہا تھا. زینب, ناہید بیگم سب لوگ بڑے خوش اور مطمئن انداز میں اپنی تیاریوں میں مصروف تھیں. اُس کی کسی کو پرواہ ہی نہیں تھی.
اور زیمل تو ارتضٰی کے بارے میں اُس کی فیلنگز سے اچھے سے واقف تھی. وہ ارتضٰی کی بیلا کے ساتھ شادی پر ایسے خوش ہورہی تھی. جیسے ماہ روش نہیں بیلا اُس کی بیسٹ فرینڈ ہو.
ماہ روش نے غصے سے گھور کر اپنے ہاتھوں کی دیکھا. مہندی تو اُس کے ہاتھوں میں ایسے لگی ہوئی تھی جیسے وہی دلہن ہو.
” ماما میرے سر میں درد ہورہا ہے. میں کچھ دیر آرام کرنے جارہی ہوں. “
ماہ روش مہندی ختم ہوتے ہی جلدی سے وہاں سے اُٹھی تھی. تاکہ کمرے میں جاکر جلد سے جلد اِسے دھو سکے.
” بیٹا آپ چلی جانا. پر پلیز تھوڑی دیر کے لیے ادھر آنا مجھے ایک ہیلپ چاہئے تھی آپ کی. “
ناہید بیگم نے پیار سے پچکارتے ماہ روش کو اپنی طرف بلایا تھا کیونکہ وہ ماہ روش کے اندر جانے کا مقصد اچھے سے سمجھ گئی تھیں.
ماہ روش مجبوراً اُن کے پاس جا بیٹھی تھی.
” بیٹا آج ہی یہ سیٹ جیولر نے بنا کر بھیجا ہے ارتضٰی کی دلہن لے لیے بنوائے میں نے. مگر سمجھ نہیں آرہا. کل بارات کے لیے اِن سب میں سے کون سا سیٹ اچھا لگے گا.”
ناہید بیگم کی بات پر ماہ روش نے ایک خفا نظر اُن پر ڈالی تھی. اُس کے یہاں آنے سے لے کر اب تک ناہید بیگم نے اُس سے زینب بیگم سے بھی زیادہ پیار دیا تھا. اُسے اپنی سگی بیٹی مانا تھا.
مگر اب اُس کے دل کی حالت سے اتنی انجان کیوں بن رہی تھیں وہ.
” بڑی ماما سب ہی بہت اچھے ہیں. مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی. آپ پلیز جس نے یہ پہننا ہے اُسی سے ہی پوچھ لیں نا. “
ماہ روش کا صبر جواب دے چکا تھا. وہ بہت ہی نرمی سے اُنہیں جواب دیتی وہاں سے اُٹھ گئی تھی.
اُس کے وہاں سے جاتے ہی سب نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا.
” ہائے ﷲ مجھے تو ماہی سے بہت ڈر لگ رہا ہے. کل جیسے ہی اُسے سب سچ پتا چلے گا. سب سے پہلے اُس نے میرا گلا ہی دبانا ہے. ابھی بھی کتنے غصے سے دیکھ رہی مجھے.
ارتضٰی سر کو بھی لگتا ہے اتنے مشکل مشکل مشن کرتے اب اپنی اصل زندگی میں بھی ہر کام اُلٹے طریقے سے کرنے کی عادت ہوگئی ہے. “
زیمل کی بات پر وہاں سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” ماہی کا اُترا چہرا دیکھ میرا تو اپنا دل کررہا تھا . اُسے سب سچ بتا دوں مگر پھر اپنے اُس بقول ماہی کے کھڑوس بیٹے کا سوچ کر چپ کر گئی. “
ناہید بیگم بھی ماہ روش کو اُداس دیکھ خود بھی اُداس ہوئی تھیں.
” اب اتنا کھڑوس بھی نہیں ہے میرا بیٹا. ماہی کو نہ بتانے کے پیچھے بھی اُس کا کوئی ریزن ہوگا. کیونکہ ماہی کو پریشان تو اب وہ خود بھی نہیں دیکھ سکتا.”
زینب بیگم کے لہجے میں ارتضٰی کے لیے بے پناہ محبت تھی.
” ریحاب زیمل بیٹا آپ دونوں کے ڈریسز تیار کروادیے ہیں میں نے آپ لوگ اُوپر جاکر ایک دفعہ چیک کر لیں. نیہا آپ جاکر دیکھا دو. “
ناہید بیگم کی بات پر وہ تینوں سر ہلاتے اُوپر کی طرف بڑھ گئی تھیں.

جاری ہے