No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
“تم یہاں کیا کر رہی ہو. مقصد کیا ہے تمہارا یہاں آنے کا. “
ارتضٰی ایک ہاتھ اُس کے گرد رکھے بلکل اُس کے اُوپر جھکا ہوا تھا. ماہ روش کے قریب دیکھ ارتضٰی کو تھوڑی دیر پہلے والی بے چینی اب ختم ہوتی محسوس ہوئی تھی.
“میرا کوئی مقصد نہیں ہے میں یہاں صرف اپنی فرینڈ سے ملنے آئی ہوں.”
ماہ روش بمشکل گلابی آنکھیں کھولتے بھرائی آواز میں بولی. آج اتنے ٹائم بعد وہ اُس کی خوشبو اپنے آس پاس بکھرتی محسوس کررہی تھی. ارتضٰی کے گھنے سیاہ بال کشادہ پیشانی پر گرے ہوئے تھے. چہرے کے وجیہہ نقوش تنے ہوئے تھے. بے خودی میں اُس کا جائزہ لیتی ماہ روش کا دل اُس کے اتنے قُرب پر زور سے دھڑکا تھا. جو پوری طرح اُس پر چھایا ہوا تھا. مگر اُس کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے نفرت دیکھ وہ فوراً نظریں پھیر گئی تھی.
اُس کا اِس طرح نظریں پھیرنا ارتضٰی کو بہت ناگوار گزرا تھا. ارتضٰی کی شعلے لپکاتی نگاہیں ماہ روش کے بغیر ڈوپٹے کے حسین سراپے پر تھیں. کھڑکی سے چھن کر آتی روشنی ماہ روش کی دلکشی میں مزید اضافہ کررہی تھی.
ارتضٰی پہلے دن سے ہی ماہ روش کی آنکھوں میں اپنے لیے چاہت دیکھ چکا تھا. دماغ کے لاکھ کہنے کے باوجود دل اُس کے جذبوں سے انکاری نہیں ہوا تھا. وہ اِس لڑکی کو اپنے لیے تڑپتے دیکھنا چاہتا تھا. مگر اُس کا خود کو اگنور کیا جانا کسی صورت پسند نہیں تھا.
اِس لیے ابھی بھی ماہ روش کا نظریں چرانے بلکل بھی برداشت نہیں کر پایا تھا.
“کوئی مقصد ہونا بھی نہیں چاہئے. میری فیملی میرا سب کچھ ہے. اگر اُنہیں کسی نے زرا بھی تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو میں چھوڑوں گا نہیں اُسے.
تمہیں میری پہلی اور آخری وارننگ ہے آئندہ میرے گھر کے کسی فرد کے آس پاس بھی نظر آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
ارتضٰی سلگتے ہوئے لہجے میں وارن کرتا اُٹھا تھا. کیونکہ اب زیادہ دیر ماہ روش کے قریب رہنا اُس کے لیے ہی مشکل پیدا کر رہا تھا. وہ جیسے ہی پیچھے ہٹا اُس کی نظر ماہ روش کے ہاتھوں کی طرف گئی تھی.
بے اختیاری میں ایک دم بے تابی سے ہاتھ بڑھاتے ارتضٰی نے اُنہیں تھامنا چاہا تھا. لیکن اُس کی فیلنگز سے انجان ماہ روش نے اپنی مُٹھی بند کر لی تھی. وہ نہیں چاہتی تھی ارتضٰی اُن زخموں کو دیکھ اُس پر ترس کھائے. ارتضٰی کی باتیں سن کر شدید احساسِ توہین سے ماہ روش کا چہرا سُرخ ہوچکا تھا.
ارتضٰی اُس کی حرکت پر ہوش میں آتے سر جھٹکتا غصے سے وہاں سے نکل گیا تھا. اُسے خود پر ہی غصہ آیا تھا کہ کیوں اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا جو اِس قابل ہی نہیں ہے.
ارتضٰی کے جانے کے بعد ماہ روش کی نیند بھی اُس سے روٹھ چکی تھی.
وہ تو جانتی بھی نہیں تھی ارتضٰی کی فیملی کو اور اُن کو نقصان پہنچانے کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی پھر وہ اُس پر اتنا بڑا الزام کیوں لگا گیا تھا.
ماہ روش اُٹھ کر کھڑکی کے پاس آکھڑی ہوئی. اور رشک بھری نظروں سے نور پیلس کی طرف دیکھا تھا. کیونکہ اُس میں رہنے والا ایک ایک مکین ارتضٰی کے لیے بہت امپورٹنٹ تھا.
“ﷲ جی میں نے زندگی میں ایک ہی تو خواہش کی تھی آپ سے پہلی دفعہ کچھ مانگا تھا. کیا میں اتنی گنہگار ہوں کہ میری ایک دعا بھی قبول نہیں ہوسکتی.
لیکن اب میں اپنے لیے کچھ نہیں چاہتی. جانتی ہو اُس شخص کے لیے میں کبھی امپورٹنٹ نہیں ہوسکتی. مگر پلیز ﷲ جی اُس کی آنکھوں میں موجود نفرت ختم کردیں. مجھ میں اُسے سہنے کی ہمت نہیں ہے. “
ماہ روش آنسوؤں سے بھیگے چہرے کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھتے شکوہ کناں تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“ریحاب کب سے آنٹی کی کال آرہی ہے تم ریسیو کیوں نہیں کر رہی ہو. “
کرن نے اُسے ایک بار پھر کال کاٹتے دیکھ ٹوکا.
“کل اپنے شوہر کے ساتھ پارٹی انجوائے کرتے اِنہوں نے بھی ایسے ہی میری کال کاٹی تھی اب یہ بھی تھوڑا انتظار کریں. “
ریحاب نے موبائل سکرین پر جگمگاتی اپنی ماں کی تصویر کو گھورتے تڑخ کر بولی.
“اچھا کتنی بار تو کاٹ چکی ہو کال اب تو اٹینڈ کر لو. “
کرن اُسے ڈھیٹ بنا دیکھ ایک بار پھر گویا ہوئی. جب ریحاب بُرا سا منہ بناتی کال اٹینڈ کرتے دوسری طرف بڑھی.
“مما بس کریں. یہ دیکھا وا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے. اچھے سے جانتی ہوں کتنی فکر ہے آپ کو میری.”
ریحاب نے اُن کے ایکسکیوز کرنے پر اُکھڑے لہجے میں جواب دیا.
ریحاب کا تعلق ایک بروکن فیملی سے تھا. اُس کے پیرنٹس کے درمیان لڑائیاں تو شروع دن سے ہی تھیں مگر جب وہ دس سال کی تھی تو دونوں نے ایک دوسرے سے تنگ آکر سیپریشن کر لی تھی. اور دونوں میں سے کسی نے بھی ریحاب اور اُس سے دو سال چھوٹے انیس کے بارے میں نہیں سوچا تھا.
اُس کے بابا نے تو طلاق کے فوراً بعد ہی دوسری شادی کر لی تھی. لیکن اُن کی بیوی ریحاب اور انیس کو اپنے ساتھ رکھنے کے حق میں نہیں تھی. جس کی وجہ سے وہ اپنی دوسری بیوی کو لے کر انگلینڈ شفٹ ہوگئے تھے. ریحاب اور انیس اپنے چچا اور دادا کے پاس ہی تھے. جب کچھ ٹائم بعد اُنہیں اپنی ماں کی بھی دوسری شادی کرنے کی خبر ملی تھی.
ریحاب کے والد اُن کی ضرورت کے لحاظ سے ہر مہینے بہت سارے پیسے اُن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتے تھے. اور اُن کی ماں بھی فون کرکے اُن کی خیریت دریافت کرلیتی تھیں.
بظاہر تو سب ٹھیک تھا مگر اپنی چچی اور تائی کی ناپسندیدگی کو دیکھتے رحاب اور انیس نے ہاسٹل میں شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا تھا. اور وہاں کسی کو اُن کی پرواہ ہوتی تو اُنہیں روکتے اِس لیے بغیر کسی رکاوٹ کے وہ لوگ اپنے اپنے ہاسٹل شفٹ ہوگئے تھے.
دونوں بہن بھائی اکثر ملتے رہتے تھے. مگر اپنے پیرنٹس کو اپنی شکل نہ دیکھانے کی قسم کھا رکھی تھی دونوں نے.
ریحاب اپنی محرومیاں اندر ہی چھپائے سب کے سامنے خود کو بہت ہی خوش طبیعت دیکھاتی تھی اور ایسے ظاہر کرتی تھی جیسے اُسے تو کسی بھی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا.
“میرے اور انیس کے ایگزیم چل رہے ہیں نہیں مل سکتے آپ سے اور پلیز آپ ہماری فکر چھوڑیں. اپنے بچوں اور شوہر پر دھیان دیں. اوکے بائے. “
ریحاب نے بے زاری سے کہتے فون بند کر دیا تھا. بات کرتے وہ یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر آگئی تھی. وہ پلٹنے ہی لگی تھی. جب ایک چیخ کی آواز پر جلدی سے سمت کا تعین کرتے آگے بڑھی تھی.
مگر آگے کا منظر دیکھ اُس نے جلدی سے اپنی چیخ روکنے کے لیے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا تھا.
پانچ آدمی دو لڑکوں کو بُری طرح تشدد کے بعد چاقو لیے اُن کی طرف بڑھے تھے.
ریحاب کے پاس اب واپس جاکر کسی کو بلانے کا ٹائم نہیں تھا کیونکہ وہ لڑکے نیم مردہ ہوچکے تھے. اِس لیے جلدی سے موبائل نکال کر سامنے کا منظر قید کرنے لگی تھی.
اُن لڑکوں کی گردن کاٹتے دیکھ ریحاب اپنی چیخ نہ روک پائی تھی جب چیخ کی آواز پر اُن سب نے اُس کی جانب دیکھا تھا. وہ فوراً وہاں سے بھاگی تھی.
“پکڑو اُس لڑکی کو وہ ہمیں دیکھ چکی ہے. اور مجھے لگتا ہے ویڈیو بھی بنائی ہے اُس نے ہماری. “
اُن میں سے ایک آدمی چلاتے ریحاب کے پیچھے بھاگا تھا جب باقی سب بھی اُن لڑکوں کو وہیں پھینکتے اُس طرف بڑھے تھے.
ریحاب گھبراہٹ میں یونی کے اندرونے حصے میں جانے کے بجائے بیک گیٹ سے باہر بھاگی تھی. وہ سنسان روڈ پر بھاگتے بہت آگے نکل آئی تھی. کیونکہ وہ غنڈے مسلسل اُس کا پیچھا کر رہے تھے.
بار بار پیچھے مڑ کر دیکھنے کی وجہ سے وہ آگے سے آتی گاڑی کو نہ دیکھ پائی تھی. اگر سامنے والا بروقت بریک نہ لگاتا تو ریحاب نے ضرور گاڑی کے نیچے آجانا تھا.
خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے کے باوجود وہ کار کے بونٹ پر جا گری تھی.
“محترمہ آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے. میرا پیچھا چھوڑنے کا کوئی ارادہ ہے آپ کا. “
ارحم زور سے گاڑی کا دروازہ بند کرتا اُس کے سامنے آیا تھا. ارحم کو سامنے دیکھ ریحاب جلدی سے اُس کی طرف بڑھی. اِس وقت ارحم اُسے کسی فرشتے سے کم نہیں لگا تھا.
“میرے پیچھے غنڈے لگے ہیں پلیز میری مدد کریں. وہ لوگ کسی کا قتل کر رہے تھے میں نے دیکھ لیا اُنہیں اب وہ مجھے بھی مار دے گے پلیز مجھے اُن سے بچا لو. “
ریحاب بہت ڈر چکی تھی. ارحم کا بازو پکڑتے روتے ہوئے بولی.
جب ارحم نے ایک نظر اُس کے اُلجھے بکھرے حلیے پر ڈالی تھی.
بلیک کپڑوں میں ملبوس جس کا دوپٹہ ایک کندھے پر جھول رہا تھا. خوبصورتی سے بنائے گئے ہیئر سٹائل سے بالوں کی بہت سی لٹیں نکل کر چہرے کے آس پاس بکھری ہوئی تھیں.
“مس ریحاب ایکٹنگ تو بہت اچھی کر لیتی ہیں آپ. مگر اِس بار میں آپ کے ڈرامے میں نہیں آنے والا. کسی اور پر ٹرائے کریں. “
ارحم جلدی میں ہونے کی وجہ سے اُسے ہری جھنڈی دیکھاتے گاڑی کی طرف بڑھا.
“اِس بار میں جھوٹ نہیں بول رہی پلیز میرا یقین کرو. “
ریحاب اُسے جاتا دیکھ جلدی سے اُس کے سامنے آئی تھی.
“وہ رہی لڑکی. “
اِس سے پہلے کے ارحم گاڑی میں بیٹھتا اُسے واقعی میں پانچ غنڈے ریحاب کی طرف آتے دیکھائی دیے تھے.
“خبردار جو مزید ایک قدم بھی آگے بڑھایا تم لوگوں نے.”
اُن کو اتنے قریب دیکھ ریحاب جلدی سے ارحم کے پیچھے چھپی تھی. ارحم نے بھی معاملے کی سنگینی کو سمجھتا اُن کو وارن کیا تھا.
“اے ہیرو ہٹ جاؤ آگے سے اور اِس لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو. ورنہ تمہارا اِس سے بھی بُرا حال ہوگا. “
اُن میں سے ایک خطرناک تاثرات کے ساتھ ارحم کو گھورتا ریحاب کی طرف بڑھا تھا.
مگر اُس سے پہلے ہی ارحم کے پڑنے والے زور دار مکہ سے دور جا گرا تھا.
اپنے آدمی کو گرتا دیکھ باقی چاروں بھی ارحم کو مارنے آگے بڑھے تھے. لیکن ارحم نے بُری طرح اُنہیں پیٹتے چند ہی لمحوں میں وہیں ڈھیر کر دیا تھا.
“ریحاب کول ڈاؤن. چلو گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں تمہارے ہاسٹل ڈراپ کر دیتا ہوں. “
ریحاب کانپتے وجود کے ساتھ گاڑی کے دروازے کے ساتھ لگی کھڑی تھی. جب ارحم اُس کے قریب آتا نرم لہجے میں بولا.
ریحاب کا یہ خوفزدہ انداز دیکھ ارحم نے ایک قہر برساتی نظر بے حال پڑے آدمیوں پر ڈالی تھی.
“پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. اور اگر دوبارہ اُنہیں نے کوئی دھمکی دینے کی کوشش کی تو مجھے فوراً انفارم کرنا. “
ارحم نے گاڑی اُس کے ہاسٹل کے سامنے روکتے ایک نظر ڈری سہمی ریحاب پر ڈالی تھی. ریحاب نے اُس کی بات پر صرف سرہلایا تھا.
“آپ کا نام کیا ہے. “
اُس کے آپ کہنے پر ارحم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی. اُس نے مختصر سا جواب دیا تھا.
“ارحم آصف.”
“آپ نے اتنے لوگوں کا اکیلے مقابلہ کیسے کیا ہے. آپ کیا کام کرتے ہیں. “
ریحاب کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا. کہ وہ اُسے اُن غنڈوں سے بچا کر بحفاظت ہاسٹل لے آیا تھا.
“میں اُن سے بھی بڑا غنڈہ ہوں. یہ سب تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا. “
ارحم اُس کی طرف جھکتے متبسم لہجے میں بولا. جس پر ریحاب مزید گھبراتے دروازے کے ساتھ چپک گئی تھی. ارحم نے بغور اُس کی بھیگی آنکھوں کو دیکھا تھا.
“آپ پلیز ڈور اَن لاک کریں مجھے باہر نکلنا ہے. “
ریحاب کو اُس کے تیور مزید خوف ذدہ کر رہے تھے.
“ہاہاہاہا مذاق کر رہا ہوں. میں ایک بہت ہی شریف شہری ہوں.”
ریحاب کی حالت دیکھ ارحم کا قہقہ گاڑی میں گونجا تھا.
“تھینکیو سومچ. میں آپ کا اتنا بڑا احسان کبھی نہیں بھولوں گی. “
دروازہ اَن لاک ہونے پر ریحاب بولتی باہر نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“کیپٹن ماہ روش آپ جانتی بھی ہیں کیا کہہ رہی ہیں. تین سال سے میں آپ کی یہی بات سنتا آرہا ہوں مگر اب مزید میں آپ کو کوئی فیور نہیں دے سکتا. اور مجھے آپ سے بلکل امید نہیں تھی کہ پرسنل وجوہات کی بنا پر آپ اتنے بڑے مشن سے انکار کریں گی. “
جنرل یوسف نے ماہ روش کی طرف دیکھتے افسوس سے سر ہلایا تھا.
” سر پلیز آپ جانتے ہیں میرے انکار کا ریزن. اور میجر ارتضٰی بھی راضی نہیں ہوں گے میرے ساتھ کام کرنے پر.”
ماہ روش بے بس ہوئی تھی.
“جانتا ہوں اِسی لیے. آپ کو پہلے ہی بلا کر بتا دیا ہے تاکہ آپ مینٹلی طور پر خود کو اِس کیس کے لیے تیار کر لیں.”
جنرل یوسف کا لہجہ دو ٹوک تھا.
“انکل پلیز جب وہ میری شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں تو میرے ساتھ کام کرنے کو کیسے تیار ہوں گے. “
ماہ روش کی ملتجی انداز پر جنرل یوسف نے ترحم آمیز نظروں سے اُسے دیکھا.
جو اتنے بڑے مشن سے صرف اِس لیے پیچھے ہٹ رہی تھی تاکہ ارتضٰی اُس کی وجہ سے اپنی لائف کے اتنے اہم مشن کو لیڈ کرنے سے انکار نہ کر دے.
وہ ماہ روش کو اُس وقت سے جانتے تھے. جب وہ معصوم سی بارہ سال کی ایک ناسمجھ بچی تھی. خالہ جان نے اپنے آخری لمحات میں اُنہیں اپنی پوتی کی ذمہ داری سونپی تھی. بظاہر اُس سے انجان بنتے وہ اُس کی ہر بات سے واقف تھے.
اپنے بچوں سے بھی زیادہ وہ اُنہیں عزیز تھی. وہ اُس کی زندگی کی ہر تلخ حقیقت سے بھی واقف تھے. مگر چاہ کر بھی فلحال اُس کے لیے کچھ نہیں کرسکتے تھے.
“ماہ روش بیٹا آپ کو اِس بات کی فکر کرنے کی بلکل ضرورت نہیں ہے. میجر ارتضٰی کو سمجھانا میرا کام ہے. اب آپ جاسکتی ہیں. “
ماہ روش بے چارگی سے اُنہیں دیکھتی وہاں سے نکل آئی تھی.
کل رات ارتضٰی کی نفرت دیکھ وہ زیمل کے بہت روکنے کے باوجود بھی جنرل یوسف کے بلانے کا بہانا کرکے وہاں سے آگئی تھی. تاکہ دوبارہ اُس سے سامنا نہ ہوسکے. مگر اب جنرل یوسف کا نیا آرڈر سن کر اُس کی ٹینشن اور پریشانی مزید بڑھ گئی تھی. اُس کی بہت کوشش کے بعد بھی جنرل یوسف اُس کی کوئی بھی بات سمجھنے کو تیار نہیں تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“اوہ نو جاذل بھائی مارے گئے. “
جاذل نعمان, طلحہ اور ہادی کی ضد پر اُن کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا جب اُس کی ماری گئی شارٹ پر بال ہوا میں اُڑتی دروازے سے اندر داخل ہوتی زیمل کی ناک کو سلامی دے گئی تھی.
“زیمل آپی تو بہت غصے والی ہیں. جاذل بھائی اب آپ کی خیر نہیں. “
زیمل کو ناگواری کے تاثرات سجائے اپنی طرف بڑھتا دیکھ وہ تینوں جاذل کو اکیلا چھوڑ خاموشی سے وہاں سے کھسک چکے تھے.
“آپ کو شرم نہیں آتی اِس عمر میں اِس طرح کی حرکتیں کرتے ہوئے.”
زیمل نے پاس آتے جاذل کو خونخوار نظروں سے گھورا.
” محترمہ عمر سے کیا مطلب ہے آپ کا اور ایسا کیا کیا ہے میں نے.”
جاذل اُس کے ہاتھ سے بال چھینتے دنیا جہاں کی معصومیت لیے بولا. جب کہ آنکھوں میں شرارت واضح تھی. اُس کی یہ حرکت زیمل کو مزید تپا گئی تھی.
“ایک نمبر کا چھیچھورا انسان. “
زیمل دانت پیستے گویا ہوئی.
“آپ نے مجھ سے کچھ کہا. “
جاذل نے زیمل کی بڑبڑاہٹ پر سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا. جب اُس کی نظر زیمل کی سُرخ ہوتی ناک پر پڑی تھی.
“اب مجھے کیا پتا تھا آپ اپنے راستے کے بجائے. اِس طرح گیٹ سے داخل ہوں گی. مگر پھر بھی آئم سوری “
جاذل کی نظریں بار بار اُس کی چھوٹی سی سُرخ ہوتی ناک اور غصے سے پھولے ہوئے گالوں کی طرف بھٹک رہی تھیں. جنہیں نوٹ کرتے زیمل مزید تلملائی تھی.
“میں ہی پاگل ہوں جو ہر بار آپ جیسے انسان سے اُلجھ پڑتی ہوں جسے نہ تو لڑکیوں سے بات کرنے کا پتا ہے اور نہ ہی اُنہیں دیکھنے کا. “
زیمل اُس کی کنفیوژ کرتی نظروں پر پیر پٹختی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی.
جبکہ اُس کی بات جاذل کو غصہ دلانے کے بجائے ہنسنے پر مجبور کرگئی تھی.
“ویری انٹرسٹنگ گرل. “
زیمل کی پشت کو دیکھ وہ زیرِ لب بڑبرایا تھا.
جاذل اور ارتضٰی ہمیشہ لڑکیوں سے دور ہی رہے تھے. ارتضٰی کے اپنے ریزنز کی طرح جاذل بھی کچھ وجوہات کی وجہ سے صنفِ نازک سے کوسوں دور رہا تھا. اور دوسری وجہ آرمی کی ٹف روٹین بھی تھی.
مشن میں بھی ساتھ کام کرنے والی لڑکیاں اُس کے روکھے پھیکے رویے کی وجہ سے زیادہ بات کرنے کی ہمت نہیں کرپاتی تھیں مگر اب زیمل جیسی پٹاخہ لڑکی کے ساتھ اُلجھنا اُسے مزا دینے لگا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش نے جیسے ہی گھر میں قدم رکھا اُسے کچھ گڑبڑ سی محسوس ہوئی تھی.
” یہ بیگز کس کے پڑے ہیں. کوئی گیسٹ آئے ہیں کیا گھر میں.”
ماہ روش نے پاس سے گزرتی ملازمہ کو مخاطب کرتے ڈرائنگ میں رکھے بیگز کی طرف اشارہ کیا تھا.
“یہ بڑی بیگم صاحبہ کا سامان ہے وہ یہ گھر چھوڑ کر جارہی ہیں. “
ملازمہ اُسے جواب دیتی وہاں سے نکل گئی تھی. ماہ روش بے حد حیرانی کے ساتھ آسیہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھی.
“ماما یہ ملازمہ کیا کہہ رہی ہے. آپ گھر چھوڑ کر جارہی ہیں. “
ماہ روش آسیہ بیگم کے پاس آتی بولی. جو بیگ میں اپنی چیزیں رکھ رہی تھیں.
“بلکل ٹھیک سنا ہے تم نے. “
وہ ویسے ہی اپنے کام میں مصروف رہی تھیں.
“مگر ماما آپ ہم سب کو چھوڑ کر کیوں جا رہی ہیں. بابا سے کوئی لڑائی ہوئی ہے آپ کی. “
ماہ روش اُن کا بازو پکڑتے فکرمندی سے بولی.
“سب کو نہیں صرف تمہیں اور تمہارے باپ کو چھوڑ کر جا رہی ہوں. میرے بچے ساتھ جا رہے ہیں میرے. “
ماہ روش کا بازو جھٹکتے وہ اُن کا چہرا ہر احساس سے عاری تھا.
“ماما میں بھی تو آپ کی ہی بیٹی ہوں نا آپ اِس طرح کیوں کر رہی ہیں. “
ماہ روش کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا آخر ہوا کیا ہے.
“نہیں ہو تم میری بیٹی. میری بیٹی مر چکی ہے.”
آسیہ بیگم بیگ سائیڈ پر کرتی ماہ روش کے بلکل سامنے آکھڑی ہوئی تھیں. جو نا سمجھی سے بس اُنہیں تکی جا رہی تھی.
“میں ہی جانتی ہوں آج تک تمہیں اِس گھر میں اپنی بیٹی کی حیثیت سے کیسے برداشت کیا میں نے. تم میری بیٹی نہیں ہو. تم ذوالفقار کی ناجائز اولاد ہو. “
آسیہ بیگم نے جانے سے پہلے اُسے حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھا تھا. جس کی وجہ سے وہ اتنے سالوں سے انگارے پر لُوٹ رہی تھیں.
ماہ روش کے چہرے پر زلزلے کے سے آثار تھے.
” ہاں تم میری بیٹی نہیں ہو. میری سگی بیٹی مر چکی ہے. اگر آج وہ زندہ ہوتی تو تمہارے جتنی ہوتی. “
بات کرنے کے دوران آسیہ بیگم کی آنکھیں بھیگی تھیں.
“یہی وجہ ہے میری تم سے نفرت کرنے کی. کوئی بھی عورت اتنا بڑا دل نہیں رکھ سکتی کہ اپنے شوہر کی ناجائز اولاد کو سینے سے لگائے.
اور جس شوہر کی خاطر اتنے سال تمہارا وجود برداشت کیا اُس نے پریشانیوں اور دکھوں کے سوا دیا ہی کیا مجھے. میں جارہی ہوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے یہ گھر چھوڑ کر. اپنے بچوں کو اِس گھٹن ذدہ ماحول سے نکال کر امریکا اپنے بھائی کے پاس.”
ماہ روش کے بے جان ہوتے وجود پر ایک نظر ڈالتے وہ اپنا بیگ لیے وہاں سے نکلی تھیں.
“تم نے ہمیشہ مجھے ماں سمجھا اور بولا ہے. اِس لیے جاتے جاتے ایک مشورہ ہے میرا تمہارے لیے اگر ہوسکے تو اپنے باپ سے بہت دور چلی جاؤ وہ اچھا انسان نہیں ہے.”
دروازے کے پاس پہنچتے آسیہ بیگم نے پلٹ کر ساکت کھڑی ماہ روش پر ترس بھری نگاہ ڈالتے کہا اور وہاں سے نکل گئی تھیں.
ماہ روش گرنے کے سے انداز میں زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی اور کتنی آزمائشیں باقی تھیں اُس کی زندگی میں.
آنسو لڑی کی طرح آنکھوں سے جاری تھے. وہ ایک ناجائز اولاد تھی. یہ سوچ آتے ہی اُس کا دل چاہا تھا اپنے وجود کو آگ لگا دے. اُسے خود سے گھن آرہی تھی. ماما کا کبھی بھی اُسے اپنے قریب نہ ہونے دینا اور دادو کا بابا سے بات نہ کرنا علیحدہ رہنا کیا یہ سب اِسی وجہ سے تھا.
نجانے کتنے گھنٹے اُسے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے گزر چکے تھے. مگر آنسو تھے کہ رُکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے.
“تو کہیں سر ارتضٰی کی مجھ سے نفرت کی وجہ یہی تو نہیں ہے. ہاں یقیناً میرے بارے میں جاننے کے بعد اِس طرح اچانک اُن کے رویے میں تبدیلی آئی.
اگر ایسا ہے تو بلکل ٹھیک ہی تو کیا اُنہوں نے کوئی بھی شریف انسان مجھ جیسی لڑکی کو کیسے اپنا سکتا ہے. اور میں بے وقوف اُس شاندار آدمی کے ساتھ کی خواہش مند تھی. “
ماہ روش بھیگی آنکھیں صاف کرتے اپنا ہی مذاق اڑاتے خود پر ہی ہنسی تھی.
“ٹھیک ہی تو کہاں اُنہوں نے اپنی والدہ سے مجھ جیسی لڑکی کا سایہ بھی نہیں پڑنا چاہئے اُن کی زندگی پر. کاش خود کشی حرام نہ ہوتی تو ابھی اِسی وقت خود کو ختم کر لیتی. “
ماہ روش نے تلخی سے سوچا.
اُس کا سر بُری طرح چکرا رہا تھا. جس کی پرواہ کیے بغیر ماہ روش اپنی جگہ سے اُٹھی تھی مگر اگلے ہی لمحے طرح حواس کھوتے زمین بوس ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
