No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
وہ کسمسا کر اُس کے حصار سے نکلی تھی. ہر گزرتا لمحہ اس کے خوف اور گھبراہٹ میں اضافہ کر رہا تھا.
اُس کے گریز پر ارحم دھیرے سے مسکرایا تھا. وہ ریحاب کی کیفیت اچھے سے سمجھ رہا تھا.
اُٹھ کر ریحاب کے قریب ہوتے اُس کی نظر ریحاب کے گلے میں پہنے لاکٹ پر پڑی تھی جس کی اصلیت وہ اچھے سے جانتا تھا. نجانے اُسے اچانک کیا ہوا تھا کہ اُس نے ہاتھ بڑھا کر ریحاب کی نازک سی گردن میں پہنا وہ لاکٹ اُتارنا چاہا تھا. جو اُن دونوں کی پرائیوسی ڈسٹرب کررہا تھا.
” پلیز ارحم یہ آپ کیا کررہے ہیں. “
ریحاب کو اُس سے ایسی کسی حرکت کی امید نہیں تھی. اُس کے دماغ میں غفور کی دھمکی گھوم رہی تھی.
مگر ارحم نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا.
” تمہاری اِس خوبصورت گردن میں یہ نہیں بلکہ میری محبت کی نشانی ہونی چاہیے. “
ارحم اپنی خمار آلود نظریں اُس پر گاڑھے بولا. اور ایک ہاتھ اُس کی گردن کے پیچھے لے جاکر لاکٹ اُتار دیا تھا. ریحاب چاہنے کے باوجود بھی اُسے روک نہیں پارہی تھی کیونکہ ارحم آج کسی اور موڈ میں ہی تھا. ارحم کی اُنگلیوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے ریحاب کی سانسیں بگڑ رہی تھیں.
ارحم نے وہ لاکٹ سائیڈ دراز میں ڈال کر اپنی پاکٹ سے ایک ڈائمنڈ کا پینڈنٹ نکال کر اُسے ریحاب کی گردن میں پہنا دیا تھا.
ارحم نے ریحاب کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے اپنے چہرے کے بہت قریب کیا تھا.
” میں نہیں جانتا تھا کہ مجھے کبھی کسی سے اتنی محبت بھی ہوجائے گی. کوئی میرے لیے اتنا ضروری بھی ہوسکتا ہے. محبت کے ساتھ ساتھ تمہارے لیے میرے دل میں بہت عزت اور بھروسہ ہے.
تم پر بے حد یقین ہے مجھے کہ تم کبھی کچھ غلط نہیں کرو گی. کبھی بھی کسی موڑ پر میرا بھروسہ نہیں توڑو گی. ایسا ہے نا؟. “
ارحم نے ریحاب کی آنکھوں میں اپنی جذبوں سے بوجھل آنکھیں گاڑھی تھیں. جن کے وار سے بچنا شاید اب ریحاب کے لیے بھی ناممکن تھا. وہ نہیں جانتی تھی جھوٹ کی بنیاد پر قائم کیا گیا یہ رشتہ اُن دونوں کے دلوں کی گہرائی میں اُتر جائے گا.
ریحاب نے ارحم کے پر حدت لمس کے زیرِ اثر اثبات میں سر ہلایا تھا.
” محبت سے بھی زیادہ مجھے تمہارا یقین چاہئے میں چاہتا ہوں. تم مجھ پر سب سے زیادہ اعتبار کرو. کبھی بھی کوئی بات نہ چھپاؤ مجھ سے. ہمارے درمیان کسی قسم کا کوئی پردہ نہیں ہونا چاہئے. “
ارحم کی ایک ایک بات ریحاب کے دل میں اُتر رہی تھی. وہ مبہوت سی اپنے سامنے بیٹھے اِس وجیہہ شخص کی طرف دیکھ رہی تھی جس کے نام آج اُس نے اپنی زندگی لکھ دی تھی.
” کیا ہمارے درمیان ابھی کوئی ایسی بات ہے جس کے بارے میں مجھے نہیں پتا یا تم مجھے بتانا چاہتی ہو. جو تمہیں پریشان کر رہی ہے. اگر کوئی بھی بات ہے تو تم مجھے بلاجھجک بتا سکتی ہو. میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں.”
ارحم چاہتا تھا ریحاب اُس پر بھروسہ کرے اُسے بلیک میلر کے متعلق اپنے منہ سے ساری بات بتائے. اِس لیے وہ اُسے اپنا اعتبار سونپتے بولنے پر اُکسا رہا تھا.
ریحاب کا دل چاہا تھا سب کچھ ارحم کو بتا دے. اُس کے سینے کے مضبوط حصار میں چھپ کر اپنی تمام پریشانیاں اور خوف ختم کر دے. اب تو ارحم اُس کا وہ لاکٹ بھی اُتار چکا تھا. اُس کا دماغ بار بار اُسے ارحم کو سب کچھ بتانے پر آمادہ کررہا تھا.
لیکن دل کی اپنی دہایا جاری تھی جو اُسے یہ جذباتی قدم اُٹھانے سے روک رہی تھیں. اگر ارحم کو پتا چل جاتا کہ ریحاب کا یہاں اُس کی سیج پر بیٹھنا صرف ایک پلاننگ کے تحت ہوا ہے تو جن آنکھوں میں وہ ابھی اپنے لیے بے پناہ چاہت دیکھ رہی ہے وہاں نفرت دیکھنا اُس کے لئے بہت اذیت ناک ہوجاتا.
ارحم کی محبت کا پودا تو بہت پہلے ہی اُس کے دل میں اُس چکا تھا. مگر اُس کی موجودگی کا احساس ریحاب کو آج ہورہا تھا. اور یہ اُس کے لیے بہت ہی اچھوتا احساس تھا کہ یہ شخص بغیر کسی غرض اور لالچ کے اُسے چاہتا تھا.معتبر تو اُس نے ریحاب کو کیا تھا اتنے لوگوں کی موجودگی میں اپنا نام اور ایک مقام دے کر.
وہ ارحم کو سچائی بتا کر خود سے بدگمان بلکل نہیں کرنا چاہتی تھی.
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے. مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے اگر آگے کوئی بھی بات ہوئی تو میں آپ سے ہی شیئر کروں گی. “
ریحاب نے نظریں چراتے کہا.
اُس کے جھوٹ پر ارحم نے افسوس سے اُس کی طرف دیکھا تھا. مگر ریحاب شاید اب بھی اُس پر بھروسہ نہیں کر پائی تھی.
ریحاب کی طبیعت کافی دیر بیٹھے رہنے کی وجہ سے مزید خراب ہورہی تھی. ارحم بھی بخار سے تپتے اُس کے وجود کی گرماہٹ برداشت کرسکتا تھا.
” ریحاب تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے چینج کر کے آرام کرلو. میں ابھی تھوڑی دیر تک آتا ہوں. “
ارحم ہولے سے اُس کا گال تھپتھپاتے روم سے نکل گیا تھا. اُس کا موڈ ریحاب کا اعتبار اب بھی نہ جیت پانے پر سخت آف ہوچکا تھا
ریحاب نے خاموش نظروں سے اُسے وہاں سے جاتے دیکھا تھا. اُس سے جھوٹ بولنے پر دل عجیب خالی خالی سا لگ رہا تھا.
ارحم کا آج کی رات اِس طرح دور ہو جانے پر جہاں اُسے خوش ہونا چاہئے تھا وہیں وہ اُس کے اِس طرح جانے پر اُداس ہوئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” کس کی اتنی جرأت کے میرے بیٹے پر حملہ کرے. فوراً پتا لگواؤ اِس حملے میں کس کا ہاتھ ہے. کون ہے یہ مائی کا لال جو مجھ سے ٹکر لینے کی کوشش کررہا ہے.
کون بے وقوف ہے یہ جو خود ہی اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے. پہلے میرے کلب پر حملہ کرکے آدمی گرفتار کیے , میرے حملوں کو ناکام بنا دیا, میرے اڈوں کو تباہ کردیا اور اب میرے بیٹے پر حملہ کر دیا.
ضرور یہ ایجنسی کے ہی لوگ ہیں ورنہ کسی اور میں اتنی ہمت کہاں . “
ذی ایس کے اپنے آدمیوں پر دہاڑتے غصے کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا. مسلسل ناکامیوں نے اُس کو کچھ حد تک پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا.
” جی سر خبر ملی ہے کہ ایک نئی ٹیم تیار ہوچکی ہے آپ کے خلاف. اور اِس دفعہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں یہ لوگ. “
ابھی سر جھکائے کھڑا اُس کا آدمی اتنا ہی بولا تھا جب ذوالفقار کا پڑنے والے ایک زور دار تھپڑ پر وہ دور جا گرا تھا.
” حرام خور تم اب بتا رہے ہو مجھے. ابھی بھی کیا ضرورت تھی بتانے کی جب وہ میرے قریب پہنچ جاتے تب بتانا تھا نا. صرف کھلانے پلانے کے لیے ہی تو رکھا ہوا ہے میں نے تم لوگوں کو. “
ذی ایس کا بس نہیں چل رہا تھا. اتنی اہم خبر اتنا لیٹ سنانے پر اُس کی گردن اُڑا دے.
وہ سب خاموشی سے سر جھکائے اُس کا چیخنا چلانا سن رہے تھے اور مزید کسی بھی بات کا جواب دے کر اپنے لیے مزید مشکل پیدا نہیں کر سکتے تھے.
” کہاں ہے وہ سوہا. پتا کرو اُس کا اُس نے ابھی تک مجھے کوئی خبر کیوں نہیں دی زندہ بھی ہے یا کہیں ہمارا کام کرنے سے پہلے ہی اُن لوگوں کے ہتھے تو نہیں چڑھ گئی.”
ذی ایس کے اپنے بیٹے کی حالت دیکھ اِس وقت انگاروں پر لُوٹ رہا تھا.
سوہا اُس کے ایک بہت ہی خاص دوست کی بیٹی تھی. جو اِن گھناؤنے کاموں میں اُس کا ساتھی تھا. سوہا کی ذہانت کو دیکھتے ذی ایس کے نے اُسے اپنا جاسوس بنا کر وہاں بھیجا تھا تا کہ ایجنسی والوں کی تمام خبریں اُس تک پہنچ سکیں. لیکن ابھی تک سوہا اُس کے کسی کام نہیں آسکی تھی.
اُس نے بلکل اسی طرح سکندر کو بھی اپنے جاسوس سے ٹریپ کروا کر ساری انفارمیشن ضائع کروا دی تھی لیکن وہ نہیں جانتا تھا اِس بار اُس کا جس سے پالا پڑا تھا. وہ کسی معاملے میں بھی کمزور پڑنے والا نہیں تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” نور پیلس والے خود تو سرپرائز دیتے نہیں ہیں اور اگر کوئی اور بندہ دینا چاہے تو اُس کا بھی خراب کر کے رکھ دیتے ہیں. “
ارتضٰی نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا سامنے ہی بیلا میڈم ہمیشہ کی طرح نان سٹاپ بولنے میں مصروف تھیں. گھر والے سب ہی وہاں موجود اُس کے گلے شکوے سننے میں مصروف تھے.
” یار اب بھلا ہمیں کیا پتا تھا کہ تم آج ہی سرپرائز دینے پہچنے والی ہو. تھوڑا بہت ہنٹ تو دینا ہی چاہئے تھا نا. “
منیزہ کی بات پر بیلا نے اُسے تیز نظروں سے گھورا تھا.
” اگر پہلے بتا دیتی تو سرپرائز کیسا.”
بیلا نے منہ پھلا کر کہا تھا جب اچانک اُس کی نظر دروازے سے اندر داخل ہوتے ارتضٰی پر پڑی تھی.
” خالہ جان آپ جانتی ہیں آپ کے اِن ہونہار لاڈلے سپوت نے تو میرا فون ہی کاٹ دیا تھا. “
بیلا کے نروٹھے انداز پر ارتضٰی نفی میں سر ہلاتے مسکراتے آگے بڑھا تھا.
” ماما یہ چڑیل اچانک کہاں سے ٹپک پڑی. “
ارتضٰی کے مذاق اُڑانے پر بیلا نے اُسے ایک گھوری سے نوازا. مگر ارتضٰی کی مسکراہٹ دیکھ وہ ساری ناراضگی بھولتی اُس کی طرف بڑھی تھی. اتنے دور سے وہ صرف اِسی شخص کا دیدار کرنے ہی تو آئی تھی.
وہ وہاں بیٹھے بڑوں کی پرواہ کیے بغیر ارتضٰی کے گلے جا لگی تھی. ارتضٰی کے لیے بھی اُس کا یہ انداز معمول کے مطابق ہی تھا.
بیلا ارتضٰی کی سگی خالہ کی اکلوتی بیٹی تھی. وہ لوگ شروع سی ہی امریکہ میں مقیم تھے. اکثر و بیشتر وہ لوگ پاکستان آتے رہتے تھے. بیلا دل وجان سے ارتضٰی سکندر پر فدا تھی. جس کے متعلق ارتضٰی اچھے سے جانتا تھا لیکن کبھی اُس کی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی.
گھر والے بھی یہی چاہتے تھے کہ ارتضٰی اور بیلا کی شادی ہوجائے مگر ارتضٰی کے مرضی کے خلاف کوئی جا نہیں سکتا تھا. اِس لیے اپنی بات دل میں ہی دبائے سب خاموش تھے. لیکن بیلا اِس بار پورا ارادہ کرکے آئی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ارتضٰی کو منا کر ہی رہے گی.
یورپ میں پرورش پانے کی وجہ سے بیلا کافی بے باک تھی. وہ کھلے عام سب کے سامنے ارتضٰی سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرچکی تھی. مگر ارتضٰی سکندر جیسے اکڑ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا.
ارتضٰی کے آنے کے بعد بیلا کسی اور کو لفٹ کروانے کے موڈ میں ہی نہیں تھی. وہ مزے سے ارتضٰی کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی. ارتضٰی کو بیلا کے ساتھ بیٹھا دیکھ زینب کے دل میں دبے اک درد نے سر اٹھایا تھا. کہ کاش اُن کی بیٹی زندہ ہوتی تو آج یہ حق یہ مقام اُس کا ہوتا.
اُن کی آنکھوں میں ضبط کرنے کی کوشش کے باوجود بھی ہلکی سی نمی دوڑ گئی تھی. جب اُسی لمحے ارتضٰی نے اُن کی طرف دیکھا تھا. اور زینب کا درد سمجھتے اُس کا اپنا دل بوجھل سا ہوا تھا. جب سے وہ ماہ روش کو ایسے چھوڑ کر آیا تھا. اُس کا دل عجیب بے چین سا تھا. وہ سمجھ نہیں پارہا تھا ایسا کیوں ہورہا ہے اُس کے ساتھ.
ماہ روش جب اُس کے لیے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی تو اُس کا دل ماہ روش کے حوالے سے اتنا اُداس کیوں ہورہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر بہت بُری خبر ہے.”
دلاور پریشانی کے عالم میں بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا.
” کیا مطلب کیا ہوا ہے. “
غفور سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھتا ہوا بولا.
” سر انیس غائب ہو گیا ہے. کل رات جیسے ہی ریحاب کی چپ نے کام کرنا بند کیا. میرے آدمیوں نے اُسی وقت انیس کو اُٹھانے اُس کے ہاسٹل کے اندر داخل ہوگئے تھے. مگر حیرت کی بات یہ کہ پورا ہاسٹل کنگھالنے کے باوجود وہ لڑکا نہیں ملا. اور ریحاب بھی اب اُس کیپٹن کی فل سیکیورٹی میں ہے. اُس تک پہنچنا بھی آسان نہیں ہے. “
دلاور کی بات پر غفور کا رنگ غصے سے متغیر ہوا تھا.
” اِس کا مطلب وہ کیپٹن ارحم پہلے سے ہی سب جانتا تھا. اور ہم اُسے نہیں بلکہ وہ ہمیں بے وقوف بنا رہا تھا. اگر وہ لڑکی بھی اُس کے ساتھ ملی ہوئی ہے تو میں اُس کا وہ حال کروں گا ساری زندگی یاد رکھے گی. “
غفور کا گھٹیا دماغ اپنا نیا پلان بنا چکا تھا.
” میں سمجھا نہیں اب ہم کیا کریں گے. “
دلاور کو غفور جی بات سن کر تھوڑا حوصلہ ملا تھا.
” بہت ہلکے میں لے گیا وہ جنرل کا بیٹا ہمیں مگر اب جو میں کرنے والا ہوں. وہ خود چل کر میرے پاس آئے گا. اپنی بیوی کی جان اور عزت کی بھیک مانگنے. اور جب میں اُس کے سامنے اُس کی بیوی کو ختم کروں گا اور اُسے عبرت ناک انجام تک پہنچاؤ گا تب پورا ہوگا میرا بدلا.”
غفور کی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی.
” لیکن ہم ریحاب تک پہنچیں گے کیسے. “
دلاور کے اندر ریحاب کے لیے ہوس ایک بار پھر سے جاگ اُٹھی تھی.
” وہ تم مجھ پر چھوڑ دو اور دیکھو اب میں کرتا کیا ہوں.”
غفور صوفے پر ٹیک لگا کر بیٹھتا کوئی نمبر ملانے میں مصروف ہوگیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
