Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

زیمل تھوڑی دیر پہلے ہی آفس میں داخل ہوئی تھی. جب اُس کی نظر سامنے سے آتے میجر جاذل پر پڑی تھی.
“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے. “
زیمل ہاتھ کی اُنگلیاں مروڑتے تذبذب کا شکار تھی.
میجر جاذل کو ہر ملاقات میں سوچے سمجھے بغیر وہ کچھ بھی بول دیتی تھی . مگر اُنہی باتوں پر شرمندہ ہوکر معافی مانگنا دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا. وہ منہ پھٹ ضرور تھی مگر کسی کو اپنی باتوں سے ہرٹ کرنا اُس کا مقصد بلکل نہیں تھا. اُسے محسوس ہورہا تھا کل میجر جاذل کو وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی تھی.
“کیا ہوگیا بھئ آج کیپٹن زیمل کو بات کرنے سے پہلے اجازت کی ضرورت پڑ گئی.”
میجر جاذل نے ہاتھ سینے پر باندھتے طنز کیا تھا.
“دیکھئے میں اپنی کل والی بات پر شرمندہ ہوں اور اُسی وجہ سے معذرت کرنا چاہتی ہوں. اِس لیے آپ کو بھی چاہئے کہ شرافت سے میری بات سن لیں.”
اُس کے انداز پر زیمل بہت مشکل سے ضبط کرتے چبا چبا کر بولی.
“صرف کل والی بات پر. اور جو پہلی دو ملاقاتوں میں آپ نے مجھ پر الزام لگائے وہ. “
جاذل زیمل کی بات پر آبرو چڑہاتے قدم اُٹھاتے آگے بڑھا تھا.
“وہ تو بلکل ٹھیک کہا تھا میں نے آپ کو. آپ کی حرکتیں ہی ٹھرکیوں والی تھیں. “
اُس کی بات پر زیمل کی زبان ایک بار پھر پھسلی تھی. مگر اپنے الفاظ کی سنگینی محسوس کرتے اُس نے جاذل کی طرف دیکھا جو غصے سے اُس کی طرف بڑھا تھا.
زیمل اُس کے تیور دیکھ جلدی سے پیچھے ہٹی تھی مگر دیوار ہونے کی وجہ سے وہ صرف چند قدم ہی پیچھے ہوپائی تھی.
“آپ ہوش میں تو ہیں کیپٹن زیمل. میں نے آپ پر کب ٹھرک جھاڑا ہے. آپ اِس لفظ کا مطلب بھی جانتی ہیں. “
جاذل دیوار پر اُس کے اِردگرد ہاتھ رکھتے اُس پر جھکا تھا.
“دیکھیں پلیز میرا وہ مطلب نہیں تھا. “
زیمل بُری پھنسی تھی. معافی مانگنے کے بجائے وہ معاملہ مزید بگاڑ چکی تھی.
جبکہ جاذل اُس کی گھبراہٹ پر دل ہی دل میں محظوظ ہوا تھا.
“اب تو آپ کو بتانا ہی پڑے گا کہ ٹھرک پن ہوتا کیا ہے. تاکہ آئندہ آپ کو بولنے سے پہلے کچھ تو آئیڈیا ہو ہی سہی. “
جاذل کی نظریں زیمل سُرخ ہوتے چہرے پر تھیں. دونوں اِس وقت فل یونیفارم میں موجود تھے. جاذل نے زیمل کی آنکھ پر آئے بالوں کی لٹ کو اپنی اُنگلی پر لپیٹا تھا.
“مسٹر جاذل آپ حد سے بڑھ رہے ہیں. “
جاذل کی حرکت پر زیمل نے غصے اور گھبراہٹ سے لال ہوتے باز رکھنا چاہا تھا. اور ہاتھ بڑھا کر اُس کی گرفت سے اپنے بال چھڑانے چاہے تھے. مگر جاذل نے اُس کے ہاتھ کو گرفت میں لیتے اُس کے ہونٹوں پر رکھتے کچھ بھی بولنے سے باز رکھا تھا.
زیمل کوشش کے باوجود بھی اُس سے اپنا ہاتھ آزاد نہیں کروا پائی تھی. اور خونخوار نظروں سے اُسے گھورا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“بابا مجھے آپ سے ہر حال میں ملنا ہے. بہت ضروری بات کرنی ہے آپ سے. آپ کتنے دنوں سے مسلسل مجھے ٹال رہے ہیں. “
ماہ روش اپنے دھیان میں فون پر بات کرتی کوریڈور میں داخل ہوئی تھی. اُس کا رُخ جنرل یوسف کے آفس کی طرف تھا.
وہ جانتی تھی آسیہ بیگم نے اُس سے جھوٹ نہیں بولا ہوگا. مگر پھر بھی اپنے دل کی تسلی کے لیے وہ ایک بار ذوالفقار صاحب سے ضرور پوچھنا چاہتی تھی. ساری سچائی جاننا چاہتی تھی. اُس کے دل کو کہیں نہ کہیں امید تھی کہ اُس کے بابا جیسے بھی تھے مگر کسی عورت کے ساتھ اتنا بُرا نہیں کرسکتے تھے.
اور اگر یہ سب سچ تھا تو وہ اُن سے پوچھنا چاہتی تھی اُس کی سگی ماں کون ہے کہاں ہے. جب سے اُسے اِس ادھورے سچ کا پتا چلا تھا وہ ایسے ہی سچائی جانے کے لیے بے چین تھی.
ماہ روش ذوالفقار صاحب سے گھر آنے کا وعدہ لیتے جیسے ہی پلٹی کچھ ہی فاصلے پر ارتضٰی کھڑا اُسے نفرت بھری نظروں سے گھور رہا تھا.
شاید وہ اُس کی باتیں سن چکا تھا. اور اُس کا اپنے باپ سے اتنی محبت سے بات کرنا ارتضٰی کو دہکتے کوئلوں پر دھکیل گیا تھا. دونوں لبوں کو مضبوطی سے ایک دوسرے میں پیوست کیے اُس کی کنپٹی کی رگ واضح ہورہی تھی.
ماہ روش نے ناسمجھی سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جس پر ارتضٰی نخوت سے سر جھٹکتا آگے بڑھا تھا. مگر چند قدم چل کر اُسے وہیں رُکنا پڑ گیا تھا.
اُس کے رُکنے پر ماہ روش نے بھی سامنے دیکھا مگر وہاں نظر آتے سین پر ماہ روش بھی ساکت ہوئی تھی.
جاذل اور زیمل ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے ہوئے تھے. ماہ روش نے ارتضٰی کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے دل ہی دل میں زیمل کو کوستے شرمندگی سے سر جھکایا لیا تھا.
جب ارتضٰی کے کھنکھارنے پر وہ دونوں اُن کی طرف متوجہ ہوتے ہڑبڑا کر سیدھے ہوئے تھے. کیونکہ وہ ارتضٰی کے آفس کے آگے ہی کھڑے تھے جس پر بے دھیانی میں دونوں نے ہی خیال نہیں کیا تھا.
زیمل پہلے ہی بُری طرح شرمندہ تھی اُوپر سے ماہ روش کے آنکھیں پھاڑ کر گھورنے پر مزید شرمندہ ہوتی جلدی سے وہاں سے نکل گئی تھی.
اُس کے ساتھ ماہ روش نے بھی منظر سے ہٹنا ہی مناسب سمجھا تھا.
جبکہ ارتضٰی نے نفی میں سر ہلا کر جاذل کو شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی. جس پر اُس نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا ئے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“یہ کیا چل رہا تھا باہر. “
ماہ روش زیمل کے پیچھے سٹاف روم میں داخل ہوتے بولی.
“ماہی تم مجھ پر شک کر رہی ہو. “
زیمل نے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگایا تھا.
“میں نے جو پوچھا ہے پہلے اُس کا جواب دو. “
ماہ روش اُسے ایک کے بعد پانی کا دوسرا گلاس چڑاہتے اُس کے ہاتھ سے گلاس چھینتے ہوئے بولی.
ارحم اُن دونوں کو دیکھ کر مسکراتے واپس موبائل میں مصروف ہوچکا تھا.
“ماہی کیا ہوگیا ہے یار. شکی بیویوں کی طرح کیوں بی ہیو کررہی ہو. اور باہر ایسا کچھ نہیں ہورہا تھا جو تم سمجھ رہی ہو. وہ میجر جاذل ایک نمبر کا چھیچھورا انسان ہے اور میرا دماغ خراب ہوگیا تھا. جو اُس سے بات کرنے چلی گئی تھی. پتا نہیں سر ارتضٰی میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے. “
زیمل کو جاذل پر اچھی خاصی تپ چڑھی ہوئی تھی جو دوسری بار اُسے ارتضٰی کے سامنے شرمندہ کروا چکا تھا.
“وہی سوچ رہے ہوں گے جو اِس وقت میں سوچ رہی ہوں.”
ماہ روش ابھی بھی مطمئن نہیں ہوئی تھی.
“یار ایسا کیا ہوگیا باہر جو تم لوگ ایسے پنجے جھاڑ کر ایک دوسرے کے پیچھے پڑ گئی ہو. “
ارحم نے ویسے ہی موبائل میں مصروف اُن سے پوچھا تھا. جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتی ارحم کی طرف متوجہ ہوئیں.
کچھ دنوں سے وہ نوٹ کررہی تھیں ارحم کچھ زیادہ ہی موبائل پر مصروف رہنے لگ گیا تھا.
“ہماری چھوڑو تم کس کے ساتھ بزی ہو. “
ماہ روش اُس کے پیچھے سے جاکر موبائل چھینتے بولی.
“ماہ روش یہ کیا حرکت ہے میرا موبائل واپس کرو. “
ارحم فوراً اُٹھتے ماہ روش کی طرف لپکا تھا
“ماہی جلدی دیکھو یہ آس پاس سے بےگانہ ہوکر کس سے بات کر رہے ہمارے کیپٹن ارحم. “
زیمل نے ہنستے ہوئے درمیان میں آتے اُسے وہیں روک دیا تھا.
“واؤ یہ ڈی پی والی لڑکی تو بہت کیوٹ ہے. ریحاب نام تو اُس سے بھی زیادہ پیارا ہے. “
ماہ روش جلدی جلدی موبائل کنگھالتے بولی.
“ماہ روش یہ بہت غلط ہے موبائل واپس کرو مجھے. “
ارحم زیمل کو سائیڈ پر کرتا ماہ روش کی طرف آیا تھا. ماہ روش سر نفی میں ہلاتے پیچھے کی طرف بھاگی تھی اور اندر داخل ہوتے ارتضٰی کو نہ دیکھتے اُس کے چوڑے سینے سے جاٹکرائی تھی. اُس کے سینے سے شرٹ دبوچ کر خود کو گرنے سے بچایا تھا کیونکہ ارتضٰی نے اُسے تھامنے کی کوشش بلکل نہیں کی تھی.
ارتضٰی کو وہاں دیکھ زیمل اور ارحم فوراً ہاتھ پیچھے باندھتے سر جھکا گئے تھے. جبکہ ماہ روش فوراً ارتضٰی سے دور ہوئی تھی.
“کیپٹن ماہ روش اگر آپ نے دل کھول کر اچھے سے انجوائے کر لیا ہوتو تھوڑا سا ٹائم کیس پر بھی لگا لیں. اِس طرح کا نان سیریس بی ہیوئیر میں بلکل برداشت نہیں کروں گا. “
ماہ روش پر اُسے پہلے ہی شدید غصہ آیا ہوا تھا اور ابھی ارحم کے ساتھ اُسے کھلکھلاتا دیکھ مزید بڑھ گیا تھا.
“کیپٹن ارحم ابھی اور اِسی وقت میرے آفس میں آئیں آپ. “
ارتضٰی کے سرد انداز پر ارحم کو بھی اپنی شامت آتی نظر آئی تھی.
ارتضٰی کے جانے کے بعد اُن دونوں نے ماہ روش کا اُترا ہوا چہرا دیکھا. کچھ دیر پہلے جو شرارت سے چمک رہا تھا اِس وقت مرجھا چکا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“یس سر آپ نے بلایا مجھے. “
چند ہی منٹ بعد ارحم ارتضٰی کے آفس میں اُس کے سامنے موجود تھا.
جب ارتضٰی نے کچھ لمحے اُسے جانچتی نظروں سے دیکھتے دراز سے ایک لفافہ اور فائل اُٹھا کر ٹیبل پر ارحم کے سامنے رکھی تھیں. اور آنکھوں کے اشارے سے ارحم کو اُنہیں کھولنے کا کہا تھا.
ارحم نے جیسے ہی لفافہ کھولا اُس میں ارحم کی ریحاب کے ساتھ بنائی گئی بہت ساری تصویریں تھیں. ریحاب کے ساتھ کھڑے , غنڈوں کو مارتے اور ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے.
اور ساتھ پڑی فائل میں ریحاب کی ساری ڈیٹیلز تھیں.
“میں اِس سب کے بارے میں کچھ نہیں پوچھنا چاہتا. کیونکہ مجھے ایک ایک بات کے بارے میں علم ہے. صرف اتنا بتائیں کیا آپ اِس لڑکی کہ ساتھ سیریس ہیں یا یہ صرف اپنے مقصد کی خاطر کر رہے ہیں. اگر ایسا ہے تو کوئی اور راستہ اختیار کرلیں. کیونکہ آپ اچھے سے جانتے ہیں اپنے مقصد کے لیے کسی کے جذبات سے کھیلنا ہم لوگوں کا شیوہ بلکل نہیں ہے. “
ارحم نے فوراً ارتضٰی کی طرف دیکھا مگر اُس کا بے تاثر چہرا دیکھ سر جھکا گیا تھا.
“سر ایسا نہیں ہے. “
ارحم کو سمجھ ہی نہیں آیا تھا کیا کہے.
“آپ کو آگے چل کر اِس لڑکی سے نکاح بھی کرنا پڑسکتا ہے.؟”
ارتضٰی نے کھوجتی نظریں اُس پر گاڑھی تھیں. جب ارحم نے ارتضٰی کو بخشنے کے موڈ میں نہ دیکھ گہری سانس ہوا میں خارج کی تھی.
“سر آئم ہنڈرنڈ پرسنٹ شیور. میں خود کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار کر چکا ہوں. اور اُس لڑکی کی عزت اور حفاظت کی ذمہ داری اب میری ہے. “
ارحم کے مضبوط لہجے پر ارتضٰی مطمئین ہوتے اُسے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا تھا.
ارحم کے نکلتے ہی جاذل اندر داخل ہوا تھا.
“میجر ارتضٰی آپ نے ہمیشہ غلط ٹائم پر انٹری مارنے کی قسم کھا رکھی ہے کیا. ہائے کاش میں بھی کبھی آپ کی ایسی ہی کوئی حرکت پکڑتا.”
جاذل کی بات پر ارتضٰی نے اُسے گھورا تھا.
“شرم تو نہیں آتی ایسی حرکتیں کرتے ہوئے. اچانک ہو کیا گیا ہے تمہیں. سب ٹھیک تو ہے نا. اگر دوبارہ کیپٹن زیمل کے اردگرد ایسی حرکتیں کرتے نظر آئے تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
ارتضٰی کے انداز پر جاذل نے قہقہ لگایا تھا.
“یار ایسی کوئی بات نہیں ہے. جو تم سمجھ رہے ہو. ویسے کیپٹن زیمل ہے بڑے مزے کی چیز. جب بھی سامنے آتی ہے اُسے تنگ کرنے پر بہت دل کرتا ہے. “
جاذل کو آج زیمل کا گھبرانا بہت مزا دے گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

چاروں اُور رات کی سیاہی پھیلی ہوئی تھی. وہ تیز تیز قدم اُٹھاتے آگے کی طرف بڑھ رہی تھی. بلیک کلر کی ہُڈ والی جیکٹ پہنے وہ رات کا ہی ایک حصہ لگ رہی تھی. جس نے اُس کے سر کے ساتھ ساتھ آدھے چہرے کو بھی کور کر رکھا تھا.
آفس کی مین بلڈنگ کے پاس پہنچتے اُس نے گہری نظروں سے سیکیورٹی کو جائزہ لیا تھا. مین انٹرنس پر دو سیکورٹی گارڈز بیٹھے نظر آئے. اُس نے وہیں کھڑے کھڑے اپنی بے ہوش کرنے والی ڈوؤب گن نکالی.
ڈوؤب گن کا رُخ گارڈز کی طرف کرتے پہلے ایک اور پھر دوسرے کی گردن پر ڈاٹ فائر کیا. جس اُن کی گردنیں وہیں لڑھک گئیں.
آگے بڑھنے سے پہلے وہ انٹرنس کی طرف رُخ کرکے لگائے گئے. سی سی ٹی وی کیمرہ کی طرف دیکھتے دائیں طرف مڑی جہاں ایک بلب لگا ہوا تھا.
اُس نے پہلے بلب کو ہولڈر سے نکالا اور پھر ہولڈر کی جگہ پر سکہ رکھ کر واپس بلب لگا دیا. اُس کے ایسے کرتے ہی فیوذ اُڑنے کی ایک زور دار آواز گونجی. اور ساتھ ہی لائٹ بند ہوگئی. وہ جانتی تھی جنریٹر سٹارٹ ہونے اور کیمروں کو دوبارہ آن ہونے میں پانچ منٹ لگ سکتے تھے. اِس لیے جلدی سے انٹرنس کی طرف بڑھتے اُس نے پہلے گارڈز کی گردنوں سے پنز نکالی اور پھر اُنہیں اِس طرح بیٹھایا جیسے دیکھنے والے کو لگے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سو گئے ہیں.
جلدی سے ڈپلیکیٹ کیز سے دروازہ کھولتے وہ اندر داخل ہوئی. اُسے یہ سب کرتے دو منٹ گزر چکے تھے.
جلدی جلدی لاکر روم کی طرف بڑھتے اُس کا بھی لاک اوپن کرتے وہ اندر داخل ہوئی اور ٹارچ آن کرتے اپنے مطلوبہ لاکر کی جانب بڑھی. اُسے اِس بات کی تسلی تھی. کہ لاکر روم میں کوئی کیمرہ نہیں تھا.
لاکر میں موجود فائل دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اُبھری تھی. فائل نکالتے وہ ابھی اُسے کھولنے ہی لگی تھی جب اپنے پیچھے کسی کی آہٹ محسوس کرتے وہ پلٹی تھی.
مگر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ گھبراہٹ اور پکڑے جانے کے خوف سے فائل اُس کے ہاتھ سے چھوٹتی زمین پر جا گری تھی.

جاری ہے