Aaye Ishq Teri Khatir By Farwa Khalid Readelle50116
Last updated: 26 July 2025
Aaye Ishq Teri Khatir
By Farwa Khalid
اُس نے جیسے ہی کلاس روم میں قدم رکھا اندر ایک دم خاموشی چھا گئی تھی.
مس اقرا کی دہشت ہی اِتنی تھی کہ وہاں کی سب سے بدتمیز مانی جانے والی کلاس بھی اُس سے بے حد ڈرتی تھی.
اٹینڈنس لگانے کے بعد اقرا کی نظر جیسے ہی سامنے پڑی. اُس کلاس کا فیمس سٹوڈنٹ شایان اپنے ساتھ بیٹھی صبا کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا.
مس اقرا نے سامنے پڑے ٹیبل سے بورڈ مارکر اُٹھا کر اُس کے سر پر دے مارا تھا. اور آج تک کبھی اُس کا نشانہ مِس ہوا تھا جو اب ہوتا. مارکر سیدھا جاکر شایان کے ماتھے پر لگا تھا.
جس پر شایان کے ساتھ صبا بھی فوراً ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی. سامنے دیکھنے پر مس اقرا اُنہیں خوشمگی نظروں سے گھورتی نظر آئیں.
“سٹینڈ اپ.”
شایان اور صبا فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے. ساری کلاس اب اُن کی طرف متوجہ ہوچکی تھی.
” ریلی سوری میم.”
صبا مصنوعی شرمندگی ظاہر کرتے ہولے سے منمنائی لیکن شایان کو تو جیسے پراوہ ہی نہیں تھی.
“گیٹ آؤٹ فرام مائی کلاس.”
اُن کی طرف غصے سے دیکھتے مس چلائی تھیں.
جس پر صبا کو اپنے ساتھ باہر آنے کا اشارہ کرتا شایان ڈھٹائی سے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
“یار شایان یہ میم کو مسئلہ کیا ہے ہم دونوں سے. مجھے تو لگتا ہے وہ لائک کرتی ہیں تمہیں اور میرے ساتھ دیکھ کر جیلس ہوتی ہیں. شکل دیکھی ہے اپنی سڑی ہوئی کوئی ایک بار نظر ڈال کر دوبارہ دیکھنا بھی پسند نہ کرے. اور بڑی آئی مجھ سے مقابلہ کرنے.”
صبا اپنے کلاس سے نکالے جانے پر نخوت سے بولی. جب اُس کی بات سنتا ارحم دل ہی دل میں مسکرایا تھا. ماہ روش اور اُسے لائک کرے گی. اُسے بے ساختہ قہقہ لگانے پر دل کیا تھا.
“چھوڑو نا ڈارلنگ کیوں اپنا موڈ خراب کررہی ہو. ویسے بھی اُس مس اقرا کی بورنگ کلاس میں بیٹھ کر کرنا بھی کیا تھا. اچھا ہوا خود ہی نکال دیا.”
ارحم نے پیار سے کہتے صبا کا موڈ بحال کرنا چاہا تھا.
“ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن دیکھو نا تمہیں کتنے زور سے مارا ہے. یہ جگہ سوج چکی ہے.”
صبا اُس کی پیشانی پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولی. وہ ایسے ہی بےباک تھی کبھی بھی کہیں بھی اُس کے قریب آجاتی تھی.
“چھوڑو اِس سب کو. اِس بات کا بھی مزہ چکھا دیں گے اُسے. لیکن آج تو تم نے مجھے اپنے خاص دوست سے ملوانا تھا نا.”
ارحم نے اُس کے قریب آنے پر بنا اندر کی بے زاری ظاہر کیے نرمی سے اُسے خود سے دور کیا تھا.
“ہاں ملوانا ہے لیکن یہاں پر نہیں کہیں اور.”
صبا مسکرا کر اُس کا ہاتھ پکڑتی پارکنگ کی طرف بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
