No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“جنرل یوسف بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے ہمارے جوانوں نے. واقعی جیسی آپ نے اُن دونوں کی تعریف کی تھی وہ اُس سے بھی بڑھ کر ثابت ہوئے.”
چیف صاحب کی آواز سے بھی اُن کی خوشی جھلک رہی تھی. اُن کا برسوں کا خواب پورا جو ہوا تھا.
“بلکل سر انڈین آرمی آفیسر اِس سب کو اپنی غفلت سمجھتے ایک دوسرے سے ہی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے. اُن کی نام نہاد سیکیورٹی کو میرے میجرز اپنے پیروں تلے روند کر آگئے ہیں.”
جنرل یوسف فخریہ انداز میں بولے.
“ویلڈن جنرل مجھے پوری اُمید ہے آپ لوگ آگے بھی ایسے ہی ملک کو سُرخرو کریں گے.
اور ہاں میرے دیے ہوئے نیکسٹ مشن پر کام کب سٹارٹ کررہے آپ. اب کی بار بنائی گئی ٹیم بھی ایک بار پھر اپنے مشن کے انتہائی قریب پہنچ کر ناکام ہوچکی ہے. مگر اب میں مزید اپنے جوان نہیں کھونا چاہتا. میں چاہتا ہوں یہ مشن میجر ارتضٰی سکندر کو سونپا جائے. میں ملک میں پھیلتی مزید تباہی نہیں دیکھ سکتا.”
چیف کی بات پر جنرل یوسف ایک پل کے لیے خاموش ہوئے تھے.
“اوکے سر جیسا آپ کا آرڈر. میں کچھ دنوں تک آپ کو اِس بارے میں آگاہ کرتا ہوں.”
میجر ارتضٰی سکندر اور میجر جاذل ابراہیم پورے دو سال بعد پاکستان واپس لوٹے تھے. جنرل یوسف کچھ دنوں تک تو اُنہیں ڈسٹرب کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے. اتنا بڑا مشن سونپنے سے پہلے وہ چاہتے تھے وہ کچھ ٹائم پُرسکون ہوکر اپنی فیملی کے ساتھ گزار سکیں.
اگر اُن دونوں سے ڈسکس کرتے تو اُنہوں نے ایک دن بھی آرام کیے بغیر مشن کے لیے تیار ہوجانا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نور پیلس سے ملنے والی ہدایت پر گارڈ اُسے اپنی رہنمائی میں اندر کی طرف لے گیا تھا.
سٹائلش سی بلیک ٹائلز سے بنی روش پر چلتے وہ اندر کی طرف بڑی تھی. روش کے دونوں طرف بڑا سا لان تھا. جو مختلف قسم کے پھولوں سے سجا بہت دلکش منظر پیش کررہا تھا.
“ضرور بال پھینک کر اندر بھاگ گئے ہوں گے.”
خالی لان کی طرف دیکھ کر زیمل نے سوچا تھا.
گارڈ اُسے ڈرائنگ روم میں بیٹھا کر باہر نکل گیا تھا. یہ گھر باہر سے جتنا خوبصورت دکھتا تھا اندر اُسے بھی کہیں گنا زیادہ دلکش تھا. گھر کو دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کافی بڑی فیملی رہتی ہے یہاں.
ڈرائنگ روم کی دیواریں بیش قیمت پینٹنگز سے سجی ہوئی تھیں. جدید سٹائلز کے صوفوں کے اردگرد موجود ٹیبلز پر مختلف قسم کے نفیس ڈیکوریشن پیسز رکھے گئے تھے. ڈرائنگ روم کی ہر چیز میں بلیک رنگ نمایاں تھا.
زیمل کو وہاں بیٹھے دس منٹ ہوچکے تھے. وہ ڈرائنگ روم کا بھی اچھی طرح معائنہ کر چکی تھی. لیکن اُسے وہاں گارڈ کے علاوہ کوئی اور ذی روح دیکھائی نہیں دیا تھا.
وہ اُکتا کر اُٹھنے ہی والی تھی جب ڈرائنگ روم کی انٹرنس سے اُسے دو گریس فل سی خاتون اندر آتی دیکھائی دی تھیں.
“معاف کیجئے گا بچے آپ کو اتنا انتظار کرنا پڑا.”
وہ دونوں زیمل سے بہت ہی پیار سے ملی تھیں جیسے اُن کی برسوں پرانی جان پہچان ہو. زیمل کو اُن کا انداز کافی اچھا لگا تھا. سلام دعا کے بعد وہ اُس کے سامنے بیٹھتے بولیں.
زیمل کی نگاہ پیچ کلر کے ڈیسنٹ سے کپڑوں میں ملبوس زینب بیگم پر ٹک کر رہ گئی تھی. اُسے فیل ہوا تھا جیسے پہلے اُس نے اِنہیں کہیں دیکھا ہو. مگر کہا ذہن پر زور دینے کے بعد بھی اُسے یاد نہیں آیا تھا.
“نہیں آنٹی اٹس اوکے. وہ دراصل مجھے آپ سے اِس بارے میں بات کرنی تھی.”
اُن کی بات کے جواب میں زیمل نے ہاتھ میں پکڑی بال کی طرف اشارہ کیا تھا. اُن کے اتنے ملنسار رویے پر اُس نے اپنا لہجہ دھیمہ ہی رکھا تھا.
اُس کی بات پر دونوں نے ناسمجھی سے زیمل کی طرف دیکھا تھا.
“ہمیں ایک ویک ہوا ہے آپ کے برابر والے گھر میں شفٹ ہوئے. اور پچھلے چھ دنوں سے ایسی ہی ایک بال آکر میرے سر یا کمر کو سلامی ضرور دے جاتی ہے. اِسی بارے میں آپ سے بات کرنی تھی.”
تفصیل سے بتاتے زیمل نے اُن کی طرف دیکھا تھا. اُس کی بات پر دونوں کے چہروں پر دھیمی سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
“سمجھ گئے آپ کی بات ابھی بلاواتی ہوں اُن دونوں کو.”
“یہ رکھ کر زرا ہادی اور طلحہ کو نیچے بھیجیں.”
زینب بیگم کی بات پر ٹیبل پر لوازمات سجاتی ملازمہ سر ہلا کر باہر نکل گئی تھی.
“آج ہی گارڈ کے تھرو ہمیں آپ لوگوں کے شفٹ ہونے کا پتا چلا. ورنہ آپ لوگوں سے ملنے ضرور آتے.آج کل کچھ مصروفیت چل رہی میرا بیٹا پورے دو سال بعد پاکستان واپس آرہا. اِس لیے جیسے ہی ٹائم ملا ہم آپ کے گھر چکر لگائیں گی. “
اپنے بیٹے کا ذکر کرتے ناہید بیگم کی آنکھوں کی چمک نمایاں تھی.
“او اچھا کہا رہتے وہ.”
اُن کی اتنی تفصیل بتانے پر زیمل کو مروتاً پوچھنا پڑا تھا.
“میرا بیٹا آرمی میں ہے. ایک ٹریننگ کے سلسلے میں دو سال سے امریکا گیا ہوا ہے. کل ہی پاکستان لوٹے گا. اُسی کے آنے کی تیاری میں مصروف ہیں ہم سب.”
ناہید بیگم کی بات پر سر ہلاتے اُس نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے دو دس سال کے لڑکوں کو دیکھا جو ایک ہی جیسی شکل وجسامت سے ٹوئنز معلوم ہوتے تھے.
“یہ رہے آپ کے مجرم جو سزا دینی ہے آپ دے سکتی ہیں اِنہیں.”
زینب بیگم اُن دونوں کو خوشمگی نظروں سے گھورتے زیمل سے بولیں. وہ دونوں پہلے ہی ملازمہ سے اپنے بلاوے کی وجہ اگلوا چکے تھے. اِس لیے اب چہرے پر دنیا جہاں کی مسکینیت سجائے کھڑے تھے.
“وی آر ریلی سوری آپی نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا.”
ہادی منہ لٹکاتے ہولے سے بڑبڑایا
زیمل کو اُن دونوں کی صورت دیکھ ویسے ہی بہت پیار آیا تھا ڈانٹتی کیا خاک. صحت مند سے گول گول فیس والے وہ بہت ہی کیوٹ تھے.
“اٹس اوکے. مگر نیکسٹ ٹائم معافی نہیں ملے گی.”
زیمل کے نرمی سے کہنے پر وہ دونوں اُس کا شکریہ ادا کرتے شرارتی انداز میں زینب اور ناہید بیگم کی طرف دیکھتے وہاں سے نکل گئے تھے.
“ماشاءﷲ آپ کے بچے بہت کیوٹ ہیں.”
“کیوٹ نہیں پورے شیطان ہیں. گھر کیا گھر سے باہر والے بھی پناہ مانگتے اِن سے. ارتضٰی کے بے جا لاڈ پیار نے بگاڑ دیا ہے دونوں کو. اچھے خاصے سدھر رہے تھے لیکن اُس کے آنے کا سن کر پھر سے اپنی پہلی والی جُون میں واپس آگئے ہیں.”
اُس کی بات پر زینب بیگم نے مسکراتے جواب دیا.
زیمل کو اُن سے مل کر بہت اچھا لگا تھا. اُن سے ملنے سے پہلے والا امیج اب اُس کے بلکل برعکس بن چکا تھا. کافی دیر باتوں کے بعد وہ اُنہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دیتی نکل آئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“آگئی تمہیں گھر کی یاد. کچھ دن مزید آوارہ گردی کر کے لوٹنا تھا. اتنی جلدی کیوں لوٹ آئی.”
اُس نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا. آسیہ بیگم کی چنگارتی آواز اُس کے کانوں میں پڑی تھی.
“ماما آپ جانتی ہیں میں اپنے سٹڈی ٹور پر گئی ہوئی تھی کوئی آوارہ گردی کرنے نہیں.”
ماہ روش ملازمہ کو سامان اوپر لے جانے کا اشارہ کرتی اُن کی طرف بڑھی تھی.
“جانتی ہوں سب میں مجھے سیکھانے کی ضرورت نہیں ہے. ایک تم اور دوسرا تمہارا وہ باپ ہے پیسا کمانے نے اُسے اتنا پاگل کردیا ہے کہ کسی اور بات کا کوئی ہوش نہیں. میری اور میرے بچوں کی پرواہ ہی نہیں ہے کسی کو.”
آسیہ بیگم جیسے ہر طرف سے جلی بیٹھی تھیں.
“بابا گھر نہیں آئے کیا.”
ماہ روش نے ہمیشہ کی طرح اُن کے سخت لہجے کے جواب میں نرمی سے پوچھا.
“آتا ہے کسی سے بھی بات کیے بغیر گھس جاتا ہے اپنے کمرے میں. پھر وہیں سے واپس نکل جاتا. جیسے ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں.”
آسیہ بیگم اُکتاہٹ ذدہ سی بولیں.
“فضہ اور ساحل نظر نہیں آرہے کہاں ہیں.”
ماہ روش اور کوئی بات نہ بن پاتے صرف اتنا ہی پوچھ پائی تھی. کیا کہتی وہ بچپن سے یہی تو سنتی آرہی تھی.
“اندر ہیں دونوں اور کہاں جانا میرے بچوں نے. میری کی ہوئی تربیت ہے اِس لیے عزت سے گھر پر رہنا جانتے ہیں. ﷲ کا شکر ہے تمہارے جیسی تربیت نہیں ہے اُن کی.
آسیہ بیگم کی بات پر ماہ روش نے تڑپ کر اُن کی طرف دیکھا تھا. اُسے وہ چاہئے جتنی بھی گالیاں کوسنے دے لیتیں لیکن اپنی دادو کے خلاف وہ ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی.
یہ اُنہی کی دی ہوئی تربیت تھی کہ آسیہ بیگم کی بچپن سے لے کر اب تک کے ناروا سلوک اور کی جانے والی بے عزتی کے بعد بھی وہ اُن کا پہلے کی طرح ہی احترام اور عزت کرتی تھی.
اُن سے مزید کوئی بھی بات کیے وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی. اتنی راتوں سے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اُس کی طبیعت کافی بوجھل ہورہی تھی.
سر اکمل کا بیان اُن کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا تھا. بروقت اُن کے بتائے گئے ایڈریس پر ریڈ کروانے سے بہت سارے بچوں کے ساتھ اُس گروہ کے بہت اہم کارکن پکڑے جاچکے تھے.
ارحم اور ماہ روش کا کام اُدھر تک ہی تھا. اُوپر سے ملنے والے آرڈر کے مطابق کیس کی ساری ڈیٹیلز پولیس کے حوالے کرتے وہ دونوں اپنے گھروں کو واپس آچکے تھے. اُنہیں دو ہفتوں کی چھٹی دی گئی تھی جس پر وہ کافی حیران بھی ہوئے تھے لیکن آفسران سے اِس متعلق کچھ بھی پوچھنے کا اُنہیں کوئی آرڈر نہیں تھا. مگر وہ اتنا جان گئے تھے کہ ضرور اِس کے بعد اُنہیں کوئی بڑا مشن ملنے والا ہے. اور یہی بات اُن کے لیے خوشی کا باعث تھی.
اپنے حالات کے بارے میں سوچتی تھکے ہوئے انداز میں وہ بیڈ پر آلیٹی تھی.
شروع سے ہی ماہ روش کے ساتھ آسیہ بیگم کا رویہ بہت بُرا تھا. اُسے یاد تھا بچپن میں اُسکی معمولی سی غلطی پر وہ کیسے اُسے پیٹ کر رکھ دیتی تھیںں. وہ خود حیران تھی کہ سگی ماں ہوتے ہوئے اُنہوں نے اُس کے ساتھ سوتیلو سے بھی بُرا سلوک کیوں روا رکھا ہوا تھا. اُس کے بابا کو تو ویسے بھی اپنے بیوی بچوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی اُنہوں نے کبھی گھر کے حالات جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کبھی کبھار اپنے بچوں سے بھی برائے نام ہی بات کر لیتے تھے.
وہ ایسے ہی آسیہ بیگم کا سلوک برداشت کرتی رہتی جب دادو کے مہربان وجود نے اُسے اپنی محبت بھری بانہوں میں لیا تھا. دادو اپنے علیحدہ گھر میں رہتی تھیں. جہاں اُنہوں نے اُسے اپنے پاس رکھ لیا تھا.
اُنہوں نے ماہ روش کی پرورش بہت ہی اچھے سے کی تھی. ماہ روش اکثر اُن سے الگ رہنے کی وجہ پوچھتی لیکن وہ اُسے ٹال دیتیں.
ماہ روش کو شروع ہی سے آرمی جوائن کرنے کا بہت شوق تھا. اُس نے احمد انکل کو اکثر دادو سے ملنے آتے دیکھا تھا. وہ نہیں جانتی تھی یہ کون ہیں لیکن دادو اُنہیں اپنا بیٹا کہتی تھیں. احمد انکل اُس سے بہت ہی محبت اور شفقت سے ملتے. جب اُسے اُن کی باتوں سے پتا چلا کہ وہ آرمی میں ہیں تو اُس نے بھی آرمی جوائن کرنے کی ضد کی تھی.
اُس کے شوق اور ضد کو دیکھتے ہوئے دادو نے اُسے آرمی جوائن کرنے کی پرمشن دے دی تھی. لیکن کسی کو بھی اِس بارے میں بتانے سے منع کیا تھا. سپیشلی اپنے والدین کو ماہ روش ایک بار پھر بہت حیران ہوئی تھی.
ذہین اور بہادر تو وہ بچپن سےہی بہت تھی. اِس لیے ہر ٹیسٹ پاس کرتے احمد انکل کی ہدایت کو فالو کرتی وہ آرمی جوائن کر چکی تھی.
ایک سال کے اندر ہی اُس کی قابلیت دیکھتے اُسے باقی کچھ کیڈٹس کے ساتھ مزید مشکل ترین امتحان اور ٹریننگ کے بعد پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروس انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) میں بھیج دیا گیا تھا. احمد انکل نے اُسے ہر قدم پر سپورٹ کیا تھا.
دو سال پہلے دادو کی ڈیتھ کے بعد وہ واپس اپنے باپ کے گھر آگئی تھی. مگر اُس گھر کے حالات ابھی بھی بلکل ویسے ہی تھے. اور شاید کبھی بدل بھی نہیں سکتے
تھے.
وہ ملک و قوم کی خدمت کرتے اپنا ہر غم بھول چکی تھی. جب ایک مشن کے دوران اُس کا ٹکراؤ میجر ارتضٰی سکندر سے ہوا تھا. ماہ روش نے پہلے بھی اپنے سینئرز اور جونیئرز سے اُس کی وجاہت و بہادری کے بہت قصے سن رکھے تھے.
لیکن اُس کے ساتھ مشن میں وہ اپنا سب کچھ ہار چکی تھی. مشن تو کامیابی سے ختم ہوگیا تھا. لیکن اُس کا دل وہیں میجر ارتضٰی کے پاس رہ گیا تھا. اُس نے میجر ارتضٰی کی آنکھوں میں بھی اپنے لیے چاہت دیکھی تھی. اُس کی آنکھوں کے اقرار پر ہی ایمان لاتی وہ اُن دنوں زندگی میں پہلی بار اتنی خوش ہوئی تھی.
مگر وہ خوشی چند دنوں کی ہی تھی. نجانے اچانک ایس کیا ہوا تھا. جہاں اُسے میجر ارتضٰی کی آنکھوں میں اپنے لیے پیار نظر آیا تھا وہاں شدید نفرت دیکھائی دینے لگی تھی. جس کا ریزن بہت کوششوں کے بعد بھی وہ آج تک نہیں جان پائی تھی.
شدید تھکاوٹ کے زیرِ اثر ماہ روش نے تکیے پر سر رکھا تھا. مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی.
اُس سنگدل کا خیال آتے ہی کئی آنسو ٹوٹ کر تکیے میں جذب ہوئے تھے.
تین سال ہو گئے تھے اُسے دیکھے ماہ روش کو لگا تھا وقت کے ساتھ ساتھ اُس کا خیال دل سے نکل جائے گا مگر وہ تو دل کا ایک ایسا مرض بن کر رہ گیا تھا جس کا اُس کے پاس کوئی علاج نہیں تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نور مینشن میں آج ہر طرف خوشیاں اور رونقیں بکھری ہوئی تھیں. اور کیوں نہ ہوتیں آج پورے دو سال بعد اُن کا لاڈلا سپوت جو لوٹا تھا.
سب گھر والے ارتضٰی کو گھیرے بیٹھے تھے. خوشی ہر ایک کے چہرے سے جھلک رہی تھی.
“کتنے کمزور ہوگئے ہو. جانتی ہوں وہاں اپنا خیال بلکل بھی نہیں رکھتے ہوگے.”
ناہید بیگم نے فکرمندی سے اُس کی طرف دیکھا. جب اُن کی بات پر ارتضٰی سمیت باقی سب بھی مسکرائے تھے.
“ہاہاہا ماں یہ شیر کہاں سے کمزور لگا آپ کو. مجھے تو پہلے سے بھی زیادہ ہٹا کٹا لگ رہا ہے.”
ارتضٰی کے بجائے ارباز نے ہنستے ہوئے جواب دیا.
“اب آپ کے پاس ہی ہوں نا. اپنے ہاتھ کے مزے مزے کے کھانے کھلائیں گا.”
ناہید بیگم کے گرد بازو حمائل کرتے وہ محبت سے بولا.
“چاچو اب آپ نے کہیں نہیں جانا ورنہ ہم آپ سے بلکل بات نہیں کریں گے. آپ نہیں جانتے ہم نے آپ کوکتنا مس کیا اِس بار.”
اُس کی گود میں چڑھ کر بیٹھے ہادی نے دھمکی بھرے انداز میں اُس کی طرف دیکھا.
“اوکے سر جی آئندہ ایسی کوئی گستاخی نہیں ہوگی.”
ارتضٰی نے جھک کر دونوں کا بوسہ لیا تھا. جان بستی تھی دونوں میں اُس کی.
“بھابھی پھوپھو کہاں ہیں. ابھی تھوڑی دیر پہلے تو یہیں تھیں.”
زینب کو وہاں نہ پاکر ارتضٰی نے نیہا سے پوچھا.
“نماز پڑھنے گئیں ہیں شاید میں دیکھ کر آتی ہوں.”
“نہیں آپ رہنے دیں میں خود دیکھتا ہوں.”
نیہا کو منع کرتا وہ اپنی جگہ سے اُٹھا تھا. زینب بیگم کو وہ بلکل اپنی ماں کی جگہ پر رکھتا تھا. بلکہ ناہید بیگم سے بھی زیادہ اُن کے قریب تھا. وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں سب کے بیچ سے اُٹھ گئی ہیں.
اُس نے جیسے ہی اُن کے کمرے میں قدم رکھا وہ جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگتی نظر آئیں. اُن کو روتا دیکھ ارتضٰی کے دل سے جیسے اک ہوک سی نکلی تھی.
“میں واپس آچکا ہوں پھوپھو. اب کسی صورت آپ کے مجرم مجھ سے نہیں بچ سکتے. اُن کی زندگی میں اتنی مشکل کردوں گا کہ اپنی موت کی دعا مانگیں گے.”
ارتضٰی نفرت سے سوچتا وہاں سے ہٹ گیا تھا. اِس وقت وہ زینب بیگم کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
