Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

” ہاں بہت جلدی نکاح کی ڈیٹ فائنل ہونے والی ہے. اگر میں اتنی جلد بازی دکھاؤں گی تو ارحم کو شک ہوسکتا ہے اِس لیے تھوڑی خاموش ہوں. “
ریحاب نے بہت ہی سوچ سمجھ کر جواب دیا تھا.
” ہممہ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو. مگر مجھے جلد از جلد تم اُس کیپٹن کے گھر میں چاہئے ہو. “
ریحاب کی بات بھی اُسے ٹھیک لگی تھی. اِس لیے مزید وارن کرتے اُس نے فون بند کردیا تھا.
” اُف میرے خدا کہاں پھنس گئی میں. “
غفور کے فون بند ہونے پر ابھی ریحاب نے سکھ کا سانس بھی نہیں لیا تھا جب ارحم کی کال آنا سٹارٹ ہوچکی تھی.
” ہائے سویٹ ہارٹ کیسی ہو. “
ریحاب جو پہلے ہی تپی ہوئی تھی ارحم کے اِس بے ہودہ طرز تخاطب پر مزید جلی تھی.
” آپ واقعی آرمی کیپٹن ہی ہیں نا. کیا آپ کو وہاں یہی فضول لفظ سیکھائے جاتے ہیں. “
ریحاب کی بات پر سپیکر سے ارحم کا ایک جاندار قہقہ گونجا تھا.
” ہاہاہاہا اوہ ہو موڈ بہت آف لگ رہا ہے پیارے سے لوگوں کا. ویسے ابھی کس سے کال پر بات کررہی تھی. میں نے فون کیا مگر بزی تھا.”
ارحم نے جان بوجھ کر پوچھا.
” وہ میں فرینڈ سے بات کررہی تھی. “
ریحاب گڑبڑائی
” اوکے میں تو نارملی پوچھ رہا تھا اِس میں اتنا گھبرانے والی تو کوئی بات نہیں . “
ارحم نے اُسے مزید چھیڑا. جبکہ ریحاب کو اچانک اُس کی بدلتی ٹون پر پسینے چھوٹتے ہوئے محسوس ہوئے.
” نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں. “
ریحاب نے اب کی بار لہجے کو مضبوط بنایا.
” اوکے. ویسے میں نے یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا کہ اگلے ہفتے کو ہمارا نکاح ہے. اور ساتھ رخصتی بھی. پورے پانچ دنوں بعد تیار رہنا. مسسز ارحم آصف بنا کر ہی ملاقات ہوگی اب تم سے. ماما کا سختی سے آرڈر ہے. وہ شاید کل تک تمہیں ہاسٹل سے لینے آجائیں. اِس لیے سوچا سب سے پہلے میں ہی تمہیں یہ خوشخبری سناؤں.”
ارحم اُس کی غفور سے ہوئی بات سن چکا تھا. اِس لیے اُس کی مشکل آسان کرتے بولا.
” اوکے تو پھر اب پانچ دنوں بعد ہی بات ہوگی. کیپٹن صاحب ﷲ حافظ. “
ریحاب ارحم کی مزید کوئی بھی بات سنے بغیر فون بند کرچکی تھی.
نکاح کی ڈیٹ فائنل ہوجانے پر خوش ہونے کے بجائے اُسے ایک عجیب سی بے چینی نے آگھیرا تھا. اتنے پاکیزہ رشتے کی بنیاد وہ ایک جھوٹ پر رکھنے جارہی تھی. ارحم کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے خاندان کے جذبات سے کھیل رہی تھی. اِس وقت اُسے اپنا آپ سب سے زیادہ خود غرض لگا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” ماہ روش بیٹا جو راز آج میں آپ کو بتانے جارہا ہوں. اُس سے بہت کم لوگ واقف ہیں. آپ کو بھی صرف اِس لیے بتانے جارہا ہوں کیونکہ آپ اِس راز کا ایک بہت اہم حصہ ہو. “
جنرل یوسف کو بات شروع کرتا دیکھ ماہ روش پوری طرح سے اُن کی طرف متوجہ ہوئی.
” آج سے تیس سال پہلے میں نے اور میرے جگری دوست سکندر نے آرمی کے تھرو آئی ایس آئی جوائن کی. ہمارے حوصلے بہت بلند تھے. پاکستان پر میلی نظر ڈالنے والے کو دوبارہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑتے تھے.
مجھ سے بھی کئی گنا زیادہ سکندر پاگل تھا وطن کے پیار میں بلکل اپنے بیٹے ارتضٰی سکندر کی طرح . اُس کو ہمیشہ مشکل سے مشکل مشن دیا جاتا کیونکہ اُوپر بیٹھے لوگ جانتے تھے سکندر اُنہیں کبھی مایوس نہیں کریں گا.
سکندر نے اپنی فیملی میں کسی کو بھی اپنے ایک ایجنٹ ہونے کا نہیں بتایا تھا. سب ارتضٰی کی طرح اُسے بھی ایک آرمی آفیسر ہی سمجھتے تھے. سکندر کی اپنی فیملی میں جان بستی تھی. خاص کر زینب اور ارتضٰی اُن کو بے حد عزیز تھے. زینب اُن کو سگی بیٹیوں سے بڑھ کر تھی.
سکندر کی زندگی ہر طرح سے خوشحال اور پرسکون تھی جب اچانک پاکستان کے حالات خراب ہونے لگے تھے. دہشت گردی, ڈرگز کا استعمال اور اغوا عام ہوچکے تھے. جب تحقیق سے پتا چلا تھا کہ یہ تباہی اسلام اور مسلمان دشمن ذی ایس کے کی پھیلائی گئی ہے. جو بہت سے اسلامی ممالک تباہ کرنے کے بعد اب پاکستان لوٹ چکا ہے.
اِس تباہی اور بربادی کو روکنے کے لیے ہمیشہ کی طرح ذی ایس کے سے مقابلہ کرنے کا مشکل ترین مشن میجر سکندر کو سونپا گیا. جس کو ہمیشہ کی طرح سکندر نے پورے جوش و جذبے کے ساتھ قبول کیا. مگر وہ اُس وقت یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ مشن اُس کی زندگی کا آخری مشن ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کے خاندان کی بربادی کا باعث بھی بنے گا.
سکندر نے اِس مشن کی تکمیل کے لیے خود کو بھلائے دن رات ایک کردیے. یہاں تک کے ایک ہی شہر میں ہوتے مہینوں اپنے گھر والوں سے بات تک نہ کر پاتا. اُس کی اِسی محنت اور لگن کی وجہ سے وہ ذی ایس کے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا. مگر اُس کی بدقسمتی تھی کہ ایجنسی کی طرف سے اُسے اسسٹ کرنے کے لیے جو کیپٹن دیا گیا تھا وہ ذی ایس کے کا ایک جاسوس نکلا. وہ سکندر کے ذی ایس کے کے خلاف اکٹھے کیے گئے ثبوت تو ختم نہیں کرسکا لیکن ذی ایس کے کو ساری اطلاع دے دی. جس کے بعد سکندر کو ثبوت ضائع کر دینے اور پیچھے ہٹ جانے کے لیے دھمکیاں ملنے لگیں. سکندر کے ایمان کو خریدنے کی بھی بہت کوشش کی گئی. لیکن وہ سکندر کو اُس کے پختہ اور اٹل ارادوں سے پیچھے نہ ہٹا سکیں.
جب ذی ایس کے نے دیکھا کہ سکندر اب اُس کے خاتمے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے تو اُس نے اپنی گھٹیا چال چلتے. سکندر کی سب سے بڑی کمزوری اُس کی لاڈلی بہن زینب کو اُس کی یونیورسٹی سے اُٹھوا لیا.
یہ خبر سکندر کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی. مگر ذی ایس کے اتنی گھناؤنی حرکت کے باوجود بھی سکندر کے قدم ڈگمگا نہ سکا. ذی ایس کے کا ارادہ صرف سکندر کو دھمکانہ تھا. لیکن زینب کا بے پناہ حسن اُس کی نیت خراب کرگیا تھا. سکندر نے اپنی سر توڑ کوششوں سے زینب کو ذی ایس کے کی قید سے جلد ہی رہاں کروا لیا تھا. مگر اپنی بہن کو داغدار ہونے سے نہ بچا پایا تھا.
ذی ایس کے اپنے پکڑے جانے کے خوف سے ملک سے ہی فرار ہوگیا تھا.
زینب کی اُجڑی حالت دیکھ اور اپنی اکلوتی لاڈلی بہن کی حفاظت نہ کرنے کے احساس نے سکندر کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا. لیکن اِس کے باوجود اپنی بہن کو ٹوٹنے بکھرنے نہیں دیا تھا.
گھر والے چاہتے تھے کہ زینب کی کوک میں پلنے والا ناجائز بچہ ختم کردیا جائے مگر سکندر اتنے بڑے گناہ کے حق میں نہیں تھا. پھر جب زینب کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو زینب اُس ننھے سے معصوم وجود کو دیکھتے سکندر کے گلے لگ کر بہت روئی تھی. جو بھی ہوا تھا لیکن زینب نے اُسے اپنی کوک سے جنم دیا تھا اُسے دیکھ کر ممتا کا احساس جاگا تھا. وہ بلکل اُس کا عکس تھی بلکہ زینب سے بھی کہیں زیادہ حسین تھی. اُس کے ساتھ ہوئے ظلم میں اِس معصوم کا تو کوئی قصور نہیں تھا. تو اُسے کیوں وہ سزا دیتیں. سکندر نے بہت محبت سے زینب کی بیٹی کو گود میں لیتے اُس کا نام ماہ روش رکھا تھا.”
جنرل یوسف کی باتیں سنتے اپنے نام پر ماہ روش نے جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا اور بھیگی آنکھوں میں حیرت لیے اُن کی طرف دیکھا.
ماہ روش کی سوچ پڑھنے کے باوجود اُنہوں نے اپنی بات جاری رکھی.
” اِس سب واقعے نے زینب کو چپ سی لگا دی تھی. وہ اپنی بیٹی کو گود میں اُٹھائے یا تو روتی رہتی یا خاموشی سے اُسے تکتے یہی سوچتی رہتی کہ اُس کا مستقبل کیا ہوگا. معاشرہ اُسے کبھی قبول نہیں کرے گا. یہ بات اُنہیں مزید بے چین کر رہی تھی. زینب سب گھر والوں کے بے حد اسرار کے باوجود شادی کے لیے ہامی نہ بھر سکی. وہ کوشش کے باوجود خود کو اِس رشتے کے لیے تیار نہ کر پارہی تھی. اپنی بہن کا دکھ سکندر کو اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا.
زینب کی پریشانی اور فکر کو دیکھتے سکندر نےمناسب وقت دیکھتے اپنے دس سال کے بیٹے ارتضٰی سے زینب کی چھ سالہ بیٹی کا نکاح کردیا تھا. جس میں سب گھر والوں کی رضامندی شامل تھی.
اُن کی یہ چھوٹی سی گڑیا گھر بھر کی بہت لاڈلی تھی. ہر ایک کی جان بستی تھی اُس میں. وہاں سب نے اُسے دل سے قبول کیا تھا. خاص کر ارتضٰی کی تو لاڈلی تھی وہ ارتضٰی کم عمری کے باوجود بہت سمجھدار تھا. جسے دیکھتے سکندر نے ارتضٰی کو ہر بات بتا دی تھی. تاکہ آگے چل کر اُن کے بچوں کی زندگی میں کوئی پرابلم نہ ہو. لیکن ارتضٰی نے بھی ساری سچائی کو کھلے دل سے قبول کیا تھا.
ابھی اُن کی زندگی پہلے کی طرح نارمل ہو ہی رہی تھی جب ذی ایس کے دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آگیا تھا.
ذی ایس کے نے پہلے سے دو شادیاں کر رکھی تھیں مگر اُس کے باوجود اُس کی نظر زینب پر تھی. لیکن زینب تک پہنچنا اب اُس کے لیے ناممکن تھا. جب اُسے اپنے آدمیوں سے پتا چلا کہ زینب کے پاس اُس کی ناجائز بیٹی ہے تو اُس کا گھٹیا دماغ اپنی پلاننگ شروع کرچکا تھا.
ذی ایس کے اچھے سے جانتا تھا سکندر اُس تک پہنچنے کی پوری پوری کوشش کررہا ہے. اُس نے سکندر کے پاس زینب سے نکاح کرنے کا پیغام بھجوایا تھا اور ساتھ یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر وہ لوگ نہ مانے تو وہ زینب کی بیٹی کو مار دے گا.
سکندر نے اُس کے پیغام پر غصے اور طیش میں آتے اُس کے کچھ بڑے بڑے اڈوں پر حملا کروا دیا تھا جس کے نتیجے میں ذی ایس کے کو اپنے اتنے لوگوں کے مرنے کے ساتھ اربوں کا نقصان بھی اُٹھانا پڑا تھا.
اپنے اتنے نقصان پر ذی ایس کے پاگل ہوگیا تھا. مگر چیخنے چلانے کے علاوہ کچھ نہیں کر پایا تھا.
جب اُنہی دنوں ذی ایس کے کے کسی دشمن نے اُس سے بدلہ لینے کے لیے اُس کی اور آسیہ بیگم کی بیٹی کو اغوا کروا لیا تھا.
ذی ایس کے اُسے سکندر کی سازش سمجھا تھا. اور انتقامی کارروائی کرتے اپنی ہی بیٹی ماہ روش کو سکول سے واپسی پر ڈرائیور کے ساتھ آتے اُس کی گاڑی کو بلاسٹ سے اُڑا دیا تھا.
ماہ روش کی ڈیتھ کی خبر سن کر زینب کی حالت اور پورے خاندان کو غم سے نڈھال دیکھ سکندر ہر حال میں ذی ایس کے کو ختم کرنے کے عزم سے گھر سے نکلا تھا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا. سینئرز نے سکندر کو سختی سے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اُٹھانے سے منع کیا تھا. اُن کا مقصد تمام ثبوتوں کے ساتھ ذی ایس کے کو گرفتار کرنا تھا.
سکندر جیسا مضبوط شخص جو ہمیشہ کامیاب ہوتا آیا تھا. اتنی بڑی ناکامی برداشت نہ کرسکا تھا. اور خود سے جنگ لڑتے اپنی گاڑی ٹرک سے مار بیٹھا تھا.
سکندر کے کہنے پر میں اپنے طور پر خفیہ تحقیق کر رہا تھا. جس سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کار بلاسٹ سے پہلے ہی ماہ روش کو کار سے نکال کر کوئی اور لڑکی کو بیٹھا دیا گیا تھا. اور ڈی این نے بھی یہ بات ثابت کردی گئی تھی. ذی ایس کے کے دشمنوں نے اُس کی بیٹی کو مار دیا تھا. جس کے بعد سکندر سے بدلہ لینے کے لیے اُس نے ماہ روش کو اپنی بیٹی کی حیثیت سے اپنے پاس رکھ لیا تھا.
میں یہ ساری سچائی سکندر کو بتائے بغیر کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتا تھا. جس کو ایکسیڈنٹ کے بعد بہت بُری حالت میں ہاسپٹل لایا گیا تھا. سکندر کو پورے ایک ہفتے بعد ہوش آیا تھا. مگر اُس کی حالت بہت خراب تھی. اُس نے آئی سی یو میں ملنے صرف مجھے ہی بلایا تھا.
یہ بات سن کر کے ماہ روش زندہ ہے سکندر نے مجھے کسی کو بھی بتانے سے منع کردیا تھا. اور وعدہ لیا کہ میں یہ بات کسی کو بھی اور خاص کر ارتضٰی کو نہ بتاؤں اِس سے ماہ روش کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا تھا.
میں نہیں جانتا تھا کہ وہ بات میری اپنے عزیز دوست سے کی گئی آخری بات ہوگئی.
لیکن سکندر سمجھ چکا تھا کہ تھا کہ اب اُس کے پاس زیادہ سانسیں نہیں بچیں تو اُس نے ایک بیان ریکارڈ کروایا تھا جو کہ خاص ارتضٰی کے لیے تھا. میں اُس وقت سکندر کی دوراندیشی نہیں سمجھ پایا تھا مگر بعد میں ارتضٰی کے اِس فیلڈ میں قدم رکھنے اُسے جاننے کے بعد سمجھ گیا تھا کہ سکندر نے ایسا کیوں کیا. “
جنرل یوسف کا چہرہ بھی اپنے دوست کے غم کو دوہراتے تر ہوچکا تھا.
“ذی ایس کے مطلب میرے بابا ذوالفقار صمد خان. “
ماہ روش کے لب ہولے سے پھپھرائے تھے.
جنرل یوسف نے سر اٹھایا کر اُس کی طرف دیکھا تھا. حقیقت جان کر اُس کے چہرے پر زلزلے کے سے آثار تھے.
” ہاں مولوی صمد خان کا بیٹا. اِس مشن پر کام کرتے تم ذی ایس کے کی حقیقت سے تو واقف ہی ہو “
” لیکن اُن کے گھر والوں کی تو ڈیتھ ہوچکی ہیں تو دادو مطلب اُس کی ماں کیسے زندہ تھیں. “
ماہ روش ابھی بھی اُلجھی ہوئی تھی
” خالہ جان سگی ماں نہیں تھیں ذوالفقار کی بلکہ اُس کی سگی خالہ تھیں جنہوں نے اُسے اپنی بہن کی آخری نشانی سمجھ کر پاس رکھا سنبھالا لیکن یہ جاننے کے بعد کے وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہوچکا ہے وہ کوشش کے بعد بھی اُسے روک نہ پائیں.
سکندر نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں آپ کا ہر طرح سے خیال رکھوں اور خاص کر ذوالفقار کے شر سے بچاؤں اِسی وجہ سے میں نے خالہ جان سے ملا اور اُن کو ذوالفقار کے سکندر کے خاندان پر کیے سارے ظلم کے ساتھ ساتھ آپ کے بارے میں بھی بتایا. میرے کہنے پر ہی اُنہوں نے آپ کو اپنے پاس رکھا. کیونکہ ذوالفقار پر ہم کسی طرح بھروسہ نہیں کرسکتے تھے. “
جنرل یوسف کی بات پر ماہ روش کے دل کا درد مزید بڑھا تھا. کیسی قسمت پائی تھی اُس نے کہ اُسے اپنے باپ سے ہی خطرہ تھا.
” ارتضٰی کی مجھ سے اتنی نفرت کی کیا وجہ ہے انکل میرا تو اِس سب میں کوئی قصور نہیں ہے پھر وہ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں. اور سکندر انکل نے ارتضٰی کے لیے کیا بات ریکارڈ کی تھی. “
ماہ روش نے آخر کار وہ بات پوچھ ہی لی تھی جو کب سے اُس کو بے چین کررہی تھی.
اُسے اب سمجھ آرہا تھا ارتضٰی کے قریب آنے پر اُسے بُرا کیوں نہیں لگتا. وہ اُس کا محرم تھا اور شاید اِس رشتے کی کشش ہی تھی جو اُسے ارتضٰی کی جانب کھینچتی تھی اور اُس سے محبت کرنے پر مجبور کرتی تھی.
” بیٹا آپ اچھے سے واقف ہو ارتضٰی کے غصے سے. وہ شروع سے ہی ایسا تھا. اور بہت شارپ مائینڈڈ ہونے کی وجہ سے اپنے خاندان سے پیش آنے والے تمام حالات سے واقف بھی تھا. جس نے اُسے مزید پتھر بنا دیا تھا.
سکندر ارتضٰی کی آئی ایس آئی جوائن کرنے کی خواہش سے واقف تھا اور جانتا تھا ارتضٰی کی اِس خواہش کے پیچھے مقصد ذی ایس کے کو اُس کے انجام تک پہنچانا تھا.
سکندر جانتا تھا ارتضٰی اِس فیلڈ میں آتے ہی اُن باتوں کا بھی پتا لگا لے گا جو اُس سے چھپائی گئی تھیں. اُن میں سب سے پہلی بات ارتضٰی کی گڑیا یعنی کہ ماہ روش کے زندہ ہونے کی تھی.
اور سکندر جانتا تھا اگر ارتضٰی کو پتا چل گیا کہ ماہ روش زندہ ہے تو وہ ایک پل بھی اُسے ذوالفقار کے پاس نہیں رہنے دے گا. اور اپنے پاس لے آئے گا. جو کہ ارتضٰی کے ساتھ ساتھ ماہ روش کے لیے بھی خطرناک تھا. ارتضٰی کو یہ سب کرنے سے روک سکتی تھی ایک چیز اور وہ تھی. سکندر کی ریکارڈنگ. ارتضٰی کے اِس فیلڈ میں آنے کے بعد مجھے جیسے ہی لگا وہ اپنی خفیہ تحقیق شروع کرنے لگا ہے میں نے اُسے سکندر کی ریکارڈنگ سنا دی جس میں وہ ارتضٰی کو اِس بات پر یقین دلا رہا تھا کہ اُن کی ماہ روش مر چکی ہے. اور ذوالفقار کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی قسم دی تھی. ارتضٰی جو اپنے باپ کو آئیڈیل مانتا تھا اُن کی زبانی سنی بات پر پورے دل سے یقین کرچکا تھا.
سکندر اپنے آخری وقت میں اپنے بیٹے سے غلط بیانی کرنے پر بہت تڑپا تھا. لیکن اپنے ملک اور خاندان کی سلامتی کی خاطر مجبور تھا. کیونکہ ارتضٰی کا جذبات میں اُٹھایا گیا ایک قدم بہت بڑی تباہی کا باعث بننا تھا. ارتضٰی اب یہی سمجھتا ہے کہ تم زینب کی بیٹی اور اُس کی بیوی کی قاتل ہو. اور اپنے باپ کے کہنے پر ماہ روش کا نام استعمال کرکے اور اپنے باپ کے نقشے قدم پر چل کر ایک بار پھر اُسے اور اُس کے خاندان کو تکلیف پہنچانا چاہتی ہو.
مگر بیٹا ارتضٰی تم سے نفرت نہیں کرتا. بہت پیار کرتا ہے لیکن ابھی سمجھ نہیں پا رہا.”
جنرل یوسف کی بات پر ماہ روش پھیکا سا مسکرائی تھی.
” انکل مجھے اپنی ماما سے ملنا ہے. اُنہیں دیکھنا ہے. پلیز کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں. “
ماہ روش نے آس بھرے لہجے میں اُن کی طرف دیکھا. جواب میں جنرل یوسف نے فائل اُس کی طرف بڑھائی تھی.
ماہ روش نے جیسے ہی اُسے کھولا سامنے ہی ایک بہت ہی خوبصورت اور گریس فل سی خاتون کی پک موجود تھی جو اُس کی سگی ماں تھی جو اُس کی طرح ہی اُس کے لمس کو ترس رہی تھی.
ماہ روش نے اُن کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے عقیدت سے اُن کی تصویر چوم لی تھی. جب فائل میں پڑے پیپرز کو کھولا جس پر لکھی تحریر اُس کا دل دھڑکا گئی تھی.
اُس کا اور ارتضٰی کا نکاح نامہ.

جاری ہے