No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
” تمہارا باپ یہاں کیا کررہا ہے. یہ جانتے ہوئے کہ میری فیملی یہاں موجود ہے. تم نے ہی بلایا ہوگا اِسے. “
ارتضٰی کی لمس میں پہلے والی نرمی اب مفقود تھی. ماہ روش جو پہلے ہی اُس کی اتنی قربت پر بے حال تھی اب ارتضٰی کی اُنگلیاں اپنی کمر میں کُھبتی محسوس ہورہی تھیں. ذوالفقار کے وہاں سے ہٹتے ہی ارتضٰی نے ایک جھٹکے سے اُسے خود سے دور کیا تھا.
ماہ روش اُس کے پھنکارتے لہجے پر حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی.
اتنی بد قسمت کیوں تھی وہ. اِس شخص کی صرف نفرت ہی ہمیشہ اُس کے نصیب میں کیوں آتی تھی.
ارتضٰی ذوالفقار کے یہاں آنے کی وجہ ماہ روش کو ہی سمجھ رہا تھا. آج کچھ پل کے لیے اُس نے خود پر چڑھایا نفرت کا خول اُتار کر ماہ روش کی طرف بڑھنا چاہا تھا. مگر ذوالفقار کو یہاں دیکھ وہ پھر واپس اپنے خول میں آگیا تھا.
” میں نہیں جانتی وہ یہاں کیوں آئے ہیں. “
مقابل کی نگاہوں میں شدید نفرت دیکھ ماہ روش کی آنکھیں نم ہوئی تھیں. لیکن وہ ہر رشتے کو اچھے سے نبھانے والا اُس کے معاملے میں شاید بہت ہی بے پرواہ تھا.
ارتضٰی ماہ روش کی آنکھوں میں موجود اپنے لیے تڑپ واضح دیکھ سکتا تھا. لیکن اِس وقت سنگدلی کی انتہاؤں کو چھوتا وہ بے رُخی سے اُس کے پاس سے ہٹ گیا تھا. اِس بات سے انجان کے وہ بہت جلد ہی اپنی اِس سنگدلی پر کتنا تڑپنے والا تھا. مگر تب پچھتاوے کے سوا اُس کے پاس اور کچھ نہیں بچنا تھا.
ماہ روش آنسو بہاتی وہی جم گئی تھی. اور خود سے دور جاتے میجر ارتضٰی سکندر کے چوڑے شانوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے وہ بس یہی سوچی جارہی تھی کہ کیا کبھی وہ اِس بے رحم انسان کو اپنی وفاداری کا یقین دلا پائے گی. کبھی اُس کی نفرت بھری سرد نگاہوں میں اپنے لیے محبت بھرے جذبات دیکھ پائے گی. یا باقی بہت سی چیزوں کی طرح اِس سے بھی محروم رہنے والی تھی.
محبت اتنی ظالم کیوں تھی. جو انسان کو بے بس کرکے رکھ دیتی تھی.
زیمل کا خیال آتے ہی آنسو پونچھتے ماہ روش جلدی سے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاتی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زیمل اور ریحاب کو انٹرنس سے داخل ہوتا دیکھ جاذل اور ارحم مبہوت رہ گئے تھے.
جاذل کی نگاہیں اپنی ہرنی کے دلکشی بکھیرتے وجود پر تھیں. دل کی دھڑکنوں کا ساز جیسے بدل رہا تھا. وہ اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا. پر جو بھی تھا یہ احساس اُسے بہت مزا دے رہا تھا. کیونکہ فلحال وہ محبت جیسے خوبصورت جذبے سے انجان تھا.
دوسری طرف ارحم بھی ریحاب کا یہ رُوپ دیکھ کر دھنگ رہ گیا تھا.
ریحاب کے دو آتشہ حُسن نے ارحم سے اُس کے رہے سہے حواس بھی چھین لیے تھے. وہ بےخود سا کھڑا ریحاب کو اپنے قریب آتے دیکھ رہا تھا.
وہ دور سے ہی ریحاب کی اُداسی اور پریشانی نوٹ کرسکتا تھا. صائمہ بیگم سے اُسے پتا چلا تھا کہ ریحاب کی طبیعت بھی خراب ہے. اِس لیے ارحم کو اُس کی بہت فکر ہورہی تھی.
ریحاب کے سٹیج کے قریب پہنچتے ہی ارحم آگے بڑھا تھا اور انتہائی نرمی سے اُس کا ہاتھ تھامتے اُوپر چڑھنے میں مدد دی تھی.
” ریحاب تم ٹھیک ہو. اگر ایزی فیل نہیں کررہی تو ہم گھر چلتے ہیں. “
ارحم ریحاب کا ذرد پڑتا چہرا دیکھ فکرمندی سے بولا.
” نہیں میں ٹھیک ہوں. اِس طرح مہمانوں کے بیچ اُٹھ کر جانا اچھا نہیں لگے گا. اور اب میں پہلے سے کافی بہتر فیل کررہی ہوں. “
ریحاب ارحم کو اُٹھتا دیکھ جلدی سے بولی. کیونکہ اُسے ایسے فنکشن چھوڑ کر جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا.
” بیوٹی فل. کیپٹن زیمل اتنے ہتھیاروں سے لیس مجھے مارنے کا ارادہ تو نہیں ہے آج. “
جاذل زیمل کو ہاتھ پکڑ کر اپنے پہلو میں بیٹھاتے بولا.
” آپ کا تو پتا نہیں میجر صاحب مگر سب خواتین نے مل کر جو اتنا وزن مجھ پر لاد دیا ہے. یہ فنکشن ختم ہونے سے پہلے میں نے ضرور اُوپر پہنچ جانا ہے. “
زیمل جاذل کی تعریف کو یکسر نظر انداز کرتی بولی. جب اُس کی کوفت ذدہ سی جھنجھلائی ہوئی آواز پر جاذل کا قہقہ بلند ہوا تھا.
” میجر جاذل زیادہ دانت نکالنے کی ضرورت نہیں ہے. اگر آپ کو یہ سب برداشت کرنا پڑتا پھر میں پوچھتی آپ سے. “
زیمل کو اُس کا ہنسنا مزید تپا گیا تھا. جب اُسے ایسے دانت پیستے دیکھ سلمہ بیگم نے ماہ روش کو اُس کی طرف بھیجا تھا.
” زیمل تم دلہن ہو کچھ تو دلہناپے کا خیال کرو. سٹیج ہر بیٹھ کر بھی تمہاری لڑائیاں ختم نہیں ہو رہیں. سلمہ آنٹی خفا ہورہی ہیں. “
ماہ روش زیمل کے قریب جھکتے آہستہ آواز میں بولی.
” یار ماہی ایک تو مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی یہ واقعی میں میری سگی ماں ہیں کیا. “
زیمل دور کھڑی سلمہ بیگم کی گھوریا نوٹ کرتی روہانسی آواز میں بولی.
” ہاہا بدتمیز. “
ماہ روش کے ساتھ ساتھ اُس کی بات سنتے جاذل نے بھی قہقہ لگایا تھا.
جب اُسی لمحے ارتضٰی کے ساتھ کھڑی زینب کی نگاہ ماہ روش پر پڑی تھی.
” ارتضٰی یہ سٹیج پر زیمل کے ساتھ جو لڑکی بیٹھی ہے یہ کون ہے. “
زینب نے نگاہیں ماہ روش کے چہرے پر ٹکائے ارتضٰی سے پوچھا تھا. جب ارتضٰی کے ساتھ ساتھ وہاں موجود ناہید بیگم اور باقی سب نے بھی ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
ارتضٰی اچانک اُن کے پوچھنے پر کچھ بول ہی نہ پایا تھا. اُسے اِس بات کا تو زرا بھی آئیڈیا نہیں تھا کہ زینب ایسے ماہ روش کے بارے میں پوچھیں گی. اور ذوالفقار جیسے گھٹیا انسان کا نام تو وہ اُن کے سامنے لینا بھی نہیں چاہتا تھا.
” واؤ کتنی بیوٹیفل اور اٹریکٹیو ہے یہ لڑکی. “
نیہا نے بھی ستائشی نگاہوں سے ماہ روش کی طرف دیکھا تھا. اپنے تمام فیملی ممبرز کی نگاہوں میں ماہ روش کے لیے پسندیدگی دیکھ ارتضٰی کی کشادہ پیشانی پر موجود سلوٹوں میں مزید اضافہ ہوا تھا.
” ارتضٰی بیٹا آپ نہیں جانتے کیا اِس کو. “
زینب نے ایک بار پھر سوال کیا تھا. اُن کو نجانے کیوں اپنا دل اِس معصوم صورت لڑکی کی طرف ہمکتا محسوس ہورہا تھا.
ارتضٰی نے ایک نظر اپنی طرف سنجیدہ نظروں سے دیکھتیں ناہید بیگم کی طرف دیکھا تھا جو ماہ روش کی اصلیت سے واقف تھیں.
” پھوپھو جان کولیگ ہے میری. میرے ساتھ کام کررہی ہے. “
ارتضٰی نے ماہ روش کے کھلکھلاتے حسین چہرے سے نگاہیں چرائی تھیں. آج تو اُس کے لئے سب کچھ ایک امتحان ہی بنا ہوا تھا.
” کیا تم مجھے اِس لڑکی سے ملوا سکتے ہو. “
زینب بیگم کو سمجھ نہیں آرہا تھا ایسی کونسی کشش تھی اِس لڑکی میں جو اُنہیں اُس سے ملنے بات کرنے کے لیے بے چین کر رہی تھی.
اِس سے پہلے کہ ارتضٰی اُنہیں کوئی جواب دیتا موبائل بجنے پر معذرت کرتا سائیڈ پر ہوا تھا.
” تمہارے پاس صرف دس منٹ ہیں کچھ بھی کرو کہ ذی ایس کے کو اِس ہوٹل سے باہر جانا پڑے. میں کسی صورت اُس کی موجودگی یہاں برداشت نہیں کرسکتا. اور اِس ہال میں تو وہ بھول کر بھی قدم نہ رکھ پائے. “
ارتضٰی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ذوالفقار کو ابھی کہ ابھی شوٹ کر دے. وہ اپنی فیملی پر اُس کا سایہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا.
نیہا کے کہنے پر ویٹر نے ماہ روش کو اُن کا پیغام دیا تھا. ماہ روش ویٹر کا زینب کی طرف اشارہ دیکھ شش و پنج میں مبتلا ہوئی تھی. اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا جائے یا نہیں اور اگر ارتضٰی نے اُسے اُن کے پاس کھڑا دیکھ لیا تو. ماہ روش نے عجیب سی کشمکش کا شکار ہوتے دل کے مجبور کرنے پر قدم اُن کی طرف بڑھا دیے تھے جہاں ارتضٰی کی فیملی کے تقریباً سب لوگ ہی موجود تھے. ماہ روش کے دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہورہی تھی.
” اسلام و علیکم. آنٹی آپ نے بلایا مجھے “
ماہ روش نے سب کی طرف دیکھتے سلام کیا تھا.اپنی ماں کو اُس کے رشتے سے پکارنے کا حق بھی نہیں رکھتی تھی وہ. اپنی ماں اور سب قریبی رشتوں سے ایسے اجنبیوں کی طرح ملنے پر آنکھوں میں نمی در آئی تھی جسے بہت مشکل سے پیچھے دھکیلا تھا.
” وعلیکم اسلام. جی بچے میں نے ہی آپ کو بلایا تھا “
زینب نے ماہ روش کا ہاتھ تھامتے غور سے اُس کے ایک ایک نقوش کو دیکھا تھا. اُن کے مہربان لمس پر ماہ روش کا دل چاہا تھا سب کچھ بھلائے اُن کے گلے لگ جائے اور اپنے اندر کے تمام غم بہا دے.
” ارتضٰی نے بتایا آپ اُن کی کولیگ ہیں. ہمیں تو یقین ہی نہیں آرہا. آپ جیسی نازک لڑکی پاک آرمی کا حصہ ہے. “
زینب کی بات پر ماہ روش ہولے سے مسکرائی تھی. اُسے ہمیشہ ہر جگہ یہی کمپلیمنٹ ملتا تھا.
وہ اپنی ماما کو بتانا چاہتی تھی کہ اُن کی بیٹی کتنی بہادر تھی. اتنی کم عمری میں کتنی کامیابیاں سمیٹ چکی تھی.
ماہ روش اُن کے پاس کھڑی پرسکون سا محسوس کرتی اُن کی باتوں کا جواب دے رہی تھی. جب ارتضٰی وہاں زینب کے ساتھ آکھڑا ہوا تھا. اُسے وہاں دیکھ ماہ روش کی دھڑکنے بے ترتیب ہوئی تھیں. اور خود کو اپنی متوقع ہونے والی بے عزتی کے لیے تیار کرنے لگی تھی.
مگر ارتضٰی کی خاموشی پر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی.
ماہ روش ارتضٰی کی موجودگی اور پرتپیش نگاہوں کی وجہ سے کسی کی بات کا سہی جواب بھی نہیں دے پارہی تھی.
” آپ لگتی تو نہیں مگر پھر بھی آپ میریڈ ہیں کیا. “
نیہا کو ماہ روش بہت پسند آئی تھی. وہ آج کل ویسے بھی اپنے بھائی کے لیے لڑکیاں دیکھ رہی تھی.
ماہ روش جو پہلے ہی ارتضٰی کی نظریں مسلسل خود پر محسوس کرکے پزل ہورہی تھی. نیہا کی سوال پر مزید سٹپٹا گئی تھی.
” جی نہیں.”
ماہ روش کے منہ سے صرف اتنے ہی الفاظ نکلے تھے.
ارباز اپنی بیوی کی پھرتیوں پر نفی میں سر ہلا کر رہ گیا تھا.
” اور کیا آپ کہیں انگیج ہیں. “
نیہا کے سوال ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہے تھے.
ماہ روش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا جواب دے. کیونکہ انگیج تو بہت چھوٹا لفظ تھا. وہ تو اپنا سب کچھ سامنے کھڑے سنگدل کے نام لکھوا چکی تھی. جس کا دل شاید پتھر کا تھا.
ارتضٰی فرصت سے ماہ روش کا جائزہ لے رہا تھا. بار بار بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑستی. ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑتی وہ کانفیڈنٹ سی لڑکی اُس کی گرم نگاہوں کی تپیش سے گھبراتی وہاں سے بھاگنے کے پر طول رہی تھی.
ارتضٰی کو نیہا کا اِس طرح ماہ روش سے انٹرویو لینا بلکل پسند نہیں آرہا تھا.
” بھابھی آپ جس مقصد کے لیے اتنی محنت کررہی ہیں ویسا نہیں ہوسکتا. اِن کا سٹیٹس بہت اُونچا ہے. آپ وہاں تک نہیں پہنچ پائیں گی. “
ارتضٰی کاٹ دار لہجے میں بات نیہا سے کررہا تھا مگر اُس کی سخت نگاہیں ماہ روش پر جمی ہوئی تھیں.
نیہا کے ساتھ ساتھ سب نے ارتضٰی کی طرف حیرت سے دیکھا کیونکہ ماہ روش کی طرف ارتضٰی جن نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ نارمل انداز بلکل نہیں تھا.
” کیوں مس ماہ روش ٹھیک کہا نا میں نے. “
ارتضٰی نے اپنی سرخ آنکھوں سے ماہ روش کی آنکھوں میں جھانکا.
نیہا ارتضٰی کے انداز پر اپنی جگہ شرمندہ سی ہوگئی تھی. ناہید بیگم کو ارتضٰی کا ماہ روش سے اِس طرح سب کے سامنے شروع ہوجانا بلکل پسند نہیں آیا تھا.
” ارتضٰی آپ ماہ روش کے باس صرف کام کے ٹائم پر ہو ابھی دھونس جمانے کی کوشش بلکل مت کریں. “
زینب ماہ روش کا ذرد پڑتا رنگ دیکھ کر بولیں.
ماہ روش اُن سے ایکسکیوز کرتی وہاں سے ہٹ گئی تھی. ارتضٰی وہاں سے مڑتے ماہ روش کی آنکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا. جس پر غصے سے اُس نے مٹھیاں بھینچی تھیں.
” ارتضٰی ہم نارملی بات کررہے تھے اُس بچی سے. “
ناہید بیگم نے ارتضٰی کو گھورا لیکن آگے پرواہ کسے تھی.
” آپ لوگوں کو کیا ضرورت ہے ہر ایرے غیرے سے بات کرنے کی. اور میں نے تو صرف بھابھی کی ہیلپ کی.”
ارتضٰی لاپرواہی سے کاندھے اُچکاتے بولا.
زینب کو ارتضٰی کا لہجہ بہت عجیب سا لگا تھا. وہ ارتضٰی کی رگ رگ سے واقف تھیں. اور جس طرح ارتضٰی ماہ روش کو دیکھ رہا تھا اُنہیں وہ نگاہیں کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کررہی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر کام ہوگیا ہے. ابھی دو منٹ پہلے ذی ایس کے ہڑبڑاہٹ میں ہوٹل سے باہر نکلا ہے. “
اپنے آدمی کی بات سنتے ہی ارتضٰی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی. جانے یا انجانے میں مگر ذی ایس کے اُس کی فیملی کے قریب آیا تھا جو کہ ارتضٰی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا تھا. اِس لیے اِس بات کا بدلہ ارتضٰی نے اُس کے بیٹے بُرہان پر حملہ کروا کر لیا تھا. اُسی کا سن کر ذوالفقار اتنی ہڑبڑاہٹ میں وہاں سے نکل گیا تھا.
” ویلڈن.”
ارتضٰی فون رکھتے جاذل کی طرف بڑھا مگر پر موجود کارنر پر کھڑی ماہ روش پر نظر پڑتے ہی اُس کا دماغ گھوم گیا تھا.
ماہ روش کے فراک کی زپ پیچھے سے کھلی ہوئی تھی. اور بال بھی آگے ہونے کی وجہ سے اُس کی گردن اور نیچے کا کچھ حصہ واضح ہورہا تھا. ماہ روش نیٹ کے دوپٹے سے اپنی بیک کو کور کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی.
اُس کی اتنی لاپرواہی پر ارتضٰی کی رگیں غصے سے تن چکی تھیں. ابھی تک کسی کی نظر ماہ روش پر نہیں پڑی تھی کیونکہ کوئی اُس طرف متوجہ نہیں تھا اور اچھا ہی تھا سب کے لیے ورنہ ارتضٰی جتنی طیش میں آچکا تھا. ماہ روش کی طرف نظر اُٹھانے والے کی خیر نہیں ہوتی.
ارتضٰی نے ماہ روش کے قریب پہنچتے کندھے سے تھام کر اُسے اپنی طرف گھمایا تھا.
جاری ہے
