No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ارحم لوگوں کے بیچ میں سے راستہ بناتا جلدی سے ہال نمبر 2 میں داخل ہوا.
ماہ روش بھی اُسی ہال میں موجود تھی. ماہ روش ارتضٰی کی آواز پر الرٹ ہوتی اردگرد کا گہرائی سے جائزہ لیتی چل رہی تھی جب ایک بچے کی آواز پر اُس طرف متوجہ ہوئی.
” ماما مجھے بلکل ویسی ہی گن چاہئے جیسی اُن انکل کے پاس تھی. آپ بابا سے بولیں گی نا مجھے لاکر دیں. “
وہ بچہ بار بار اپنی ماں سے ایک ہی ضد کررہا تھا. جس پر اُس کی ماں ڈانٹ کر چپ ہونے کا کہتی ہال کے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی. ماہ روش اُن کا چہرا نہیں دیکھ پائی تھی. مگر ایک احساس کے تحت وہ اُس
عورت کی طرف بڑھی.
” ایکسیوزمی میم. “
وہ عورت ماہ روش کی پکار پر بھی نہیں رکی اور سنی اَن سنی کرتی قدم مزید تیز کردیے تھے.
ماہ روش کو کسی کے پیچھے تیزی سے جاتے دیکھ ارحم بھی اُس کے پیچھے بڑھا.
عورت نے لفٹ میں قدم رکھتے جیسے ہی اُسے بند کرنا چاہا. ارحم اور ماہ روش ایک ساتھ اندر داخل ہوئے اور لفٹ کو بند کردیا. اُس عورت نے اُن دونوں کو دیکھ گھبراتے ہوئے اپنے بچے کو خود میں بھینچ لیا.
” آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں لگ رہی ہیں. پلیز اگر کوئی بھی پرابلم ہے تو ہمہیں بتا سکتی ہیں ہم آپ کی مدد کریں گے. “
ارحم کے بہت ہی نرمی سے بات کرنے کے باوجود بھی وہ عورت ویسے ہی سہمی رہی.
” مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے. اور آپ لوگ اِس طرح کرکے مجھے ہریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. “
وہ عورت لہجے کو سخت بناتے بولی مگر اُس کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ واضح تھی.
ماہ روش نے مزید ٹائم ضائع کرنے کے بجائے گھٹنے کے بل نیچے بیٹھتے اُس بچے کا پیار سے گال سہلایا.
” آپ کو گنز بہت پسند ہیں. “
ماہ روش کی بات پر بچوں کی آنکھوں میں چمک آئی تھی.
” جی آپی مجھے بہت پسند ہیں. میرے بابا نے مجھے بہت ساری گنز لے کر دی ہوئی ہیں. مگر اُن انکل کے پاس جو گن تھی ویسی میرے پاس نہیں ہے. “
بچہ اپنی معصومیت میں ہی بولی جارہا تھا. جب اُس عورت نے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنے ساتھ لگایا تھا.
” کیا ایسی گن تھی اُن انکل کے پاس. “
ارحم نے اُس بچے کا ہاتھ تھام کر اُس کی ماں سے آزاد کرواتے اپنی خفیہ پاکٹ سے گن نکالتے اُس کے سامنے کی. جسے دیکھ بچے نے جوش میں آتے زور و شور سے سر ہلایا جبکہ عورت کے چہرے پر اب ہوائیاں اُڑ رہی تھیں.اُسے تو اپنا آپ اِس وقت ایسا لگ رہا تھا. کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا.
” دیکھیں محترمہ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے. ہم سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا. آپ پلیز ہمارے ساتھ کوآپریٹ کریں اگر آپ نے کچھ ایسا ویسا دیکھا ہے تو بتا دیں. آپ تو اپنی جان بچا کر نکل جائیں گی مگر یہاں موجود اتنی ساری جانوں کو خطرہ ہوسکتا ہے. “
ارحم کے سمجھانے پر وہ عورت اُن دونوں کی طرف دیکھتی اب کچھ پرسکون ہوئی تھی.
” آپ آرمی کے لوگ ہیں. “
اُس نے تصدیق کرنی چاہی
” آپ بس یہ سمجھ لیں کہ ہم آپ کے محافظ ہیں. اور یہاں آپ کے بیچ آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے موجود ہیں. “
ماہ روش کی بات پر اُس نے اپنے اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیے تھے.
” میں اپنے ہزبینڈ کی کال اٹینڈ کرنے ہال کے پیچھے بنی بالکونی میں گئی جہاں دو لوگ ہاتھ میں گن پکڑے کسی آدمی کو دبوچے کھڑے تھے. اور ڈرا دھمکا کر اُسے زبردستی کسی بات پر مجبور کررہے تھے. مگر وہ اُن کے آگے ہاتھ جوڑے کچھ بھی ماننے سے انکاری تھا.
یہ سب بولتے اُس عورت کے چہرے پر گھبراہٹ تھی اور اُس کا جسم کانپ رہا تھا.
وہ دونوں اُس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ سے اچھی طرح اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ سچ بول رہی ہے.
” تھینکیو سو مچ. آپ نے یہ سب بتا کر ہماری بہت زیادہ مدد کی. آپ نیچے پہنچیں ہمارے اہلکار آپ کو بحفاظت نکال دیں گے یہاں سے.”
ارحم اور ماہ روش اُس عورت سے کچھ کچھ اُن لوگوں کا حلیہ سمجھتے اُسے ہدایت دیتے ففتھ فلور کے آتے ہی لفٹ سے باہر نکل آئے تھے.
وہ جیسے ہی بالکونی کی طرف گئے وہاں کوئی نہیں تھا وہ جگہ بلکل خالی تھی. وہ لوگ ابھی واپس پلٹنے ہی لگے تھے کہ اُنہیں ایک سائیڈ سے غوں غوں کی آوازیں آنے لگیں.
ارحم اور ماہ روش آواز کے تعاقب میں وہاں رکھے ڈرمز کو ہٹانے لگے جب تین چار ڈرمز ہٹاتے ہی آگے ایک آدمی کو پوری طرح سے رسیوں میں جکڑ کر وہاں باندھا گیا تھا. اُس کے منہ پر بھی پٹی باندھی ہوئی تھی.
اُنہیں دیکھ اُس نے زور زور سے آوازیں نکالتے اور سر ہلاتے اپنا منہ کھولنے کا اشارہ کیا تھا.
” بچا لو مجھے خدا کا واسطہ ہے بچا لو میں مرنا نہیں چاہتا. میں اپنے خاندان کا واحد سہارا ہوں یہ لوگ زبردستی مجھے یہاں لے کر آئیں ہیں. “
ارحم کے اُس کے منہ سے پٹی ہٹاتے ہی ہچکیوں کے درمیان وہ فریاد کرتا گرگرایا تھا.
” دیکھو کچھ نہیں ہوگا تمہیں. آرام سے ہمیں ساری بات بتاؤ. “
ارحم نے دلاسہ دیتے اُس کو رسیوں سے آزاد کرنا چاہا تھا مگر اُس نے چلاتے ارحم کو ایسا کرنے سے روکا تھا.
” وہ لوگ میرے اُوپر بم باندھ چکے ہیں. اور اُس کو ایسے اٹیچ کیا ہے کہ اگر یہ رسیاں کھولی گئیں تو بم بھی پھٹ جائے گا. “
اُس کی بات سنتے ہی ارحم نے فوراً بم ڈسپوزل سکواڈ کو کال ملائی تھی.
اگلے چند منٹوں میں اُس آدمی کو اُن کے حوالے کرتے وہ دونوں جلدی سے باہر کی طرف بڑھے تھے. کیونکہ اُس شخص کے مطابق اُس کے ساتھ اِن دو آدمیوں کے علاوہ دو عورتیں اور دو آدمی اور بھی یہاں انٹر ہوئے تھے.
جاذل اور زیمل باقی چار لوگوں کو تو ختم کرہی چکے تھے. اب صرف دو لوگ ہی رہ گئے تھے جو اِن سب کے لیڈر تھے اور زیادہ خطرہ بھی اُنہیں سے تھا.
ارحم نے ارتضٰی اور باقی سب کو بھی یہ انفارمیشن دے کر الرٹ کردیا تھا.
ارتضٰی پہلے ہی بہت ہوشیاری اور احتیاط کے ساتھ فورتھ پورشن میں لگا بم ڈسپوز کروا چکا تھا. سوہا فل ٹائم ارتضٰی کے ساتھ ہی تھی. اور ارتضٰی اور اُس کی ٹیم کو مسلسل کامیاب ہوتا دیکھ اب اندر ہی اندر غصے سے بل کھارہی تھی.
اُسے اپنا کوئی بندہ یہاں نظر نہیں آرہا تھا. وہ کب سے اِردگرد نظریں دوڑا کر تھک گئی تھی.
وہ ابھی اِسی کوفت میں مبتلا تھی جب اچانک اُس کی نظر اپنے گینگ کے ایک بندے پر پڑی تھی. اور اُسے صحیح سلامت دیکھ سوہا کی آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی. اب کسی بھی طرح سوہا کو اُسے اپنی طرف متوجہ کرنا تھا. جو کہ اُسے کافی مشکل لگ رہا تھا کیونکہ اِس وقت وہ جس گیٹ اپ میں تھی. اُسے پہچان پانا تقریباً ناممکن ہی تھا.
ارتضٰی جو کافی چوکنا ہوکر اردگرد کے ماحول کے ساتھ ساتھ سوہا پر بھی نظر رکھے ہوئے تھا. اور جس موقعے کی تلاش میں تھا وہ سوہا کی نظروں کا تعاقب کرتے مل گیا تھا.
سوہا مسلسل ارتضٰی سے نظر بچا کر ادھر اُدھر ہوتی اُس شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے چکروں میں تھی. ارتضٰی کو اُسے یہاں لانے کے اپنے فیصلے پر اب خوشی ہورہی تھی.
سوہا کی مسلسل کوششوں سے اب وہ شخص بھی اُس کی طرف متوجہ ہوچکا تھا. اور بس اِسی سگنل کا انتظار تھا ارتضٰی کو.
” کیپٹن سوہا آپ اُوپر والے پورشن پر جائیں. کیپٹن ماہ روش کے پاس گو فاسٹ. “
سوہا کو کچھ بھی پوچھنے کا موقع دیے بغیر ارتضٰی نے اُسے آرڈر دیا تھا.
سوہا کا دماغ اتنی محنت کے بعد اتنا اچھا موقع ہاتھ سے جاتا دیکھ خراب ہوچکا تھا. مگر ارتضٰی کا آرڈر فالو نہ کرکے وہ اپنی زندگی عذاب نہیں بنانا چاہتی تھی. اِس لیے بہت مشکل سے سرہلاتی وہاں سے نکل گئی تھی.
اور ایک بے بس نظر اپنے ساتھی پر ڈالی جو اب اُس کے بلکل آپوزٹ ڈائیریکشن کی طرف بڑھ رہا تھا.
سوہا کو بھیج کر ارتضٰی جلدی سے اُس آدمی کی طرف بڑھا تھا. اور جیسے ہی وہ کوریڈور کی طرف بڑھا ارتضٰی نے اُسے پیچھے سے دبوچ کر اندر ایک کمرے کی طرف دھکیل دیا تھا. ارتضٰی نے اُس کے دونوں بازو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے. تاکہ اگر اُس کے پاس کوئی بھی بارودی مواد ہو تو وہ کوئی حرکت نہ کرپائے.
” چھوڑو مجھے. “
اُس نے ارتضٰی سے خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کی تھی. ارتضٰی نے بغیر ٹائم ضائع کیے سلنسر لگا پستول نکال کر اُس کی کنپٹی پر رکھا تھا.
” تمہارے اور کتنے ساتھی موجود ہیں اور کیا کرنے والے ہو یہاں. مجھ سے کسی قسم کی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا ورنہ اگلی سانس نہیں لے پاؤ گے تم.”
ارتضٰی کی بات سنتے اُس آدمی نے ڈرنے کے بجائے زور دار قہقہہ لگایا تھا.
” آفیسر تمہیں کیا لگتا ہے. اگر مجھے اپنی جان پیاری ہوتی تو میں یہاں موجود ہوتا. ہاہاہاہا….. یہ بات معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ ابھی تھوڑی دیر میں اِس بلڈنگ سمیت اِس میں موجود لوگوں کی راکھ بنے والی ہے. “
اُس کی بات سن کر ارتضٰی کا دباؤ اُس کی کنپٹی پر مزید بڑھ گیا تھا. غصے سے کھولتے دماغ کے ساتھ ارتضٰی کا دل چاہا تھا ابھی اِس کا بھیجہ اُڑا دے مگر یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے والا تھا.
” بھول ہے تمہاری ہمارے ہوتے ہوئے. تم لوگ ہماری عوام کا ایک بال بھی بیکا نہیں کرسکتے. تمہارے پانچ آدمی پکڑے جاچکے ہیں. دو بم ڈسپوز کیے جاچکے ہیں. یہی ہے نا وہ پلاننگ جس سے اِس بلڈنگ کے پُرزے اُڑانے تھے تم نے. “
ارتضٰی نے بہت مشکل سے خود پر کنٹرول کرتے اُس کی طرف طنزیا مسکراہٹ اُچھالی. ارتضٰی کا ارادہ اُس سے مائینڈ گیم کھیلنے کا تھا. جس میں بہت جلد وہ کامیاب بھی ہوا تھا. کیونکہ ارتضٰی کی کچھ ہی باتیں سنتے اُس شخص کا اپنے کام کے متعلق جوش بڑھ چکا تھا.
” آفیسر صاحب اپنی اِن چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر زیادہ اُچھلنے کی ضرورت نہیں ہے. کیونکہ اتنی محنت کے باوجود بھی تم اور تمہاری ٹیم ابھی تک اُس تباہی کے قریب بھی نہیں پہنچ پائے جس میں اب صرف بیس منٹ رہ گئے ہیں. “
اُس کی بات پر ارتضٰی کی چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا. جسے دیکھ وہ شخص کھل کر مسکرایا تھا.
” جس پورشن پر کھڑے ہونا اِس میں بھاری مقدار میں چار جگہوں پر بارودی مواد نصب کیا گیا ہے اُن میں سے ایک بھی پھٹا تو اِس بلڈنگ سمیت اردگرد موجود بلڈنگز کے بھی پرخچے اُڑ جائیں گے. اور ہاں ایک بات اور اِس پورشن پر سموک گرنیٹ بھی لگائے گئے ہیں. جن کے پھٹنے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں. اور اُس کے بعد جو زہریلا دھواں اردگرد پھیلے گا تو تمہارے یہ معصوم لوگ تڑپ تڑپ کر مریں گے. “
اُس کی بات ختم ہوتے ہی ارتضٰی نے ٹریگر دباتے اُس کو جہنم واصل کیا اور عجلت میں باہر کی طرف بھاگا تھا.
ارتضٰی نے اپنی ٹیم کو ساری معلوم دے کر الرٹ کرتے بلڈنگ کی سیکیورٹی کو جلد از جلد لوگوں کو باہر نکالنے کا آرڈر دیا تھا.
بیس منٹ بہت کم تھے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اِس بلڈنگ سے نکالنے کے لیے. اِس لیے اُنہیں کوئی اور طریقہ بھی سوچنا تھا.
بم ڈسپوزل سکواڈ بھی وہاں پہنچ چکا تھا. مگر اُنہوں نے بم کو چھیڑنا خطرناک قرار دے دیا تھا. کیونکہ اِس بم کو ڈفیوز کرنا رسک والی بات تھی. اگر یہ پھٹ جاتا تو باقی نصب شدہ مواد نے بہت بڑی تباہی کا باعث بننا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحم نے ارتضٰی کو اطلاع دی تھی کہ دوسرے آدمی کو بھی مار گرایا ہے. مگر جو سب سے بڑی تلوار سر ہر لٹک رہی تھی اُن سب کو مل کر اُس سے مقابلہ کرنا تھا.
آرمی اور رینجرز اہلکار نیچے والے فلورز سے لوگوں کو جلدی جلدی باہر نکال رہے تھے. جب کہ ارتضٰی اور اُس کی ٹیم بلڈنگ کی چھت پر موجود تھی.
کیونکہ بلڈنگز کے قریب ہونے کی وجہ سے فاصلہ بہت کم تھا تو اُنہوں نے حالات کے پیش نظر ایک بلڈنگ کی چھت سے لکڑی کے بڑے بڑے پھٹے رکھ کر راستہ بنایا تھا.
جہاں سے اُوپر والے دونوں پورشنز پر موجود بچوں کو وہ لوگ اُٹھا کر دوسرے بلڈنگ پر پہنچا رہے تھے.
ارتضٰی اِس بلڈنگ کے سرے پر کھڑا تھا اور جاذل دوسری بلڈنگ کے اور بچوں کو جلدی جلدی وہاں سے نکال رہے تھے. جاذل سے آگے ارحم اور زیمل کھڑے ہوکر بچوں کو بلڈنگ کے سیف ایریا تک پہنچا رہے تھے. انہوں نے اطراف میں موجود تمام بلڈنگز میں سے سب سے بڑی بلڈنگ کا انتخاب کیا تھا. جس کا دوسرا حصہ اِس بلاسٹ سے محفوظ رہتا.
ماہ روش اور سوہا اندر سے بچوں کو باہر نکال رہی تھیں. بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ سوہا ماہ روش کا ساتھ دینے کے بجائے اُس کے لئے رکاوٹ کا باعث بن رہی تھی.
سوہا کی زیادہ کوشش یہی تھی کہ وہ ٹائم کو ضائع کروائے. تاکہ کچھ حد تک نقصان تو اِن کے حصے میں آنا ہی چاہئے.
سموک گرنیٹ پھٹنے کی وجہ سے دھواں ہر طرف پھیل رہا تھا. اور بہت سے بچے بے ہوش ہورہے تھے.
وہ لوگ دونوں پورشن سے تمام بچے نکال چکی تھیں. اب صرف بچے چھت پر ہی رہ گئے تھے. اور ٹائم بھی پانچ منٹ ہی بچا تھا. نیچے والا حصہ بھی تقریباً خالی ہوچکا تھا.
جب سوہا نے ماہ روش نے نظر بچا کر ایک بچے کو لئے اندر کی طرف بڑھی تھی اور بالکنی میں اُسے پھینک کر واپس آتے خود دوسرے بلڈنگ پر آگئی تھی. کیونکہ اب تمام بچے دوسری بلڈنگ پر پہنچ گئے تھے.
ارتضٰی , جاذل اور ارحم بچوں کو سیف سائیڈ پر لے آئے تھے. اور اُن تینوں کو بھی وہاں آنے کا بولا تھا. جب موقع دیکھتے سوہا پلٹی تھی. اور چیخ مار کر ماہ روش کو مخاطب کیا تھا.
” اوہ نو کیپٹن ماہ روش وہ دیکھیں ایک بچہ وہاں بے ہوش پڑا ہے. “
سوہا کی پکار پر ماہ روش نے بھی اُس طرف دیکھا تھا. اور ایک سیکنڈ بھی سوچے بغیر واپس اُس بلڈنگ کی طرف بھاگی تھی.
” ماہی کہاں جارہی ہو. پاگل ہوگئی ہوکیا. تین منٹ رہ گئے ہیں صرف. “
زیمل ماہ روش کو واپس دیکھ چلائی تھی.
” زیمل فوراً نیچے جاؤ اور سامنے والی بالکنی ہر پہنچو جلدی ہمارے پاس ٹائم بہت کم ہے. وہ بچہ مر جائے گا. “
ماہ روش زور سے چلاتی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی. اور ناچار زیمل کو بھی نیچے جانا پڑا تھا. کیونکہ اِس وقت دوستی سے زیادہ ڈیوٹی اہم تھی.
” ایم سوری کیپٹن ماہ روش مگر اپنے ملک کی خاطر اتنی قربانی تو دے ہی سکتی ہونا. تم لوگوں نے ملک کو بہت بڑے نقصان سے بچا لیا. بہت سے گھر اُجڑنے سے بچ گئے. اُس کا کچھ نہ کچھ ریٹرن تو بنتا ہے نا. اور میں جانتی ہوں ایجنسی والوں کے لئے اپنے ایک ایک آفیسر کی زندگی بہت قیمتی ہے. دھچکا تو اچھا خاصہ لگے گا.”
سوہا سیف ایریا کی طرف بڑھتی مسکرائی تھی. جب ارتضٰی بھاگ کر اُس کے پاس سے گزرتا ماہ روش کے پیچھے اُس بلڈنگ میں کود چکا تھا.
ارتضٰی نے زیمل کے چلانے کی آواز سن لی تھی. اور ماہ روش کو بلڈنگ کے اندر جاتے دیکھ ارتضٰی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اُس کے پیچھے بھاگا تھا. جسے وہ اپنی زندگی کا سب سے غیر اہم انسان کہتا تھا اِس وقت اُس کی جان خطرے میں دیکھ وہ اپنا نفع نقصان سب بھول چکا تھا.
” واہ امیزنگ اِس طرف تو میں نے دھیان ہی نہیں دیا ایک تیر سے دو شکار. ہم سب کو بے وقوف بنا کر بظاہر نفرت کا اظہار کرتے ہو میجر صاحب. اور اب اپنی کیپٹن کو خطرے میں دیکھ آرام سے موت کے کنویں میں کود گئے ہو. “
سوہا اب مزے سے ہاتھ باندھے کھڑی سامنے والی بلڈنگ سے دھواں نکلتے دیکھ رہی تھی. جہاں سے اب اُن دونوں کا بچ نکلنا ناممکن تھا.
دھواں ناک اور منہ کے راستے ماہ روش کے اندر گھس چکا تھا. اُس نے بہت مشکل سے بچے تک پہنچ کر ہاتھ میں پکڑی رسی سامنے والی بلڈنگ پر کھڑی زیمل کی طرف اُچھالی تھی. تاکہ یہاں سے ہی بچے کو زیمل تک پہنچا سکے کیونکہ دھویں کی وجہ سے اُسے اپنے حواس کھوتے محسوس ہورہے تھے.
ماہ روش کے پہلی دفعہ کے پھینکنے پر ہی رسی کا سرا زیمل کے ہاتھ میں چلا گیا تھا. ماہ روش نے بالکنی سے آگے شیڈ پر آتے رسی کی مدد سے بچے کو زیمل کے حوالے کیا تھا.
” ماہی پلیز جلدی سے نکلو وہاں سے. “
زیمل بچے کو سنبھال چکی تھی. مگر ماہ روش کو چکراتے دیکھ زور سے چلائی تھی.
” زیمل تم بچے کو لے کر نکلو یہاں سے پلیز. “
ماہ روش بالکونی سے اندر کی طرف بڑھتے کھانستے ہوئے بولی مگر دو قدم ہی چل کر وہ وہیں بے ہوش ہوکر گر گئی تھی. دھواں اُس کے اندر داخل ہوچکا تھا.
زیمل چھت پر آکر سامنے کی طرف دیکھا تھا مگر وہاں سے ماہ روش کے باہر آنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے.
اُس نے ٹائم دیکھا ڈیڑھ منٹ رہ گیا تھا. زیمل نے روتے ہوئے قدم اُس طرف بڑھا دیے تھے.
” کیپٹن زیمل ہوش کریں کہاں جارہی ہیں آپ.”
جاذل نے اُسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا. جان تو اُسکی اپنی بھی سولی پر اٹکی ہوئی تھی کیونکہ ارتضٰی بھی اندر ہی تھا. مگر اِس وقت اُن دونوں کے پیچھے جانا بے وقوفی ہی تھی.
” میجر جاذل ماہ روش اندر ہے ایک منٹ رہ گیا ہے. وہ….وہ نہیں میں اُسے کھونا نہیں چاہتی. مجھے جانے دیں پلیز. “
زیمل خود کو جاذل کے حصار سے آزاد کروانے کی کوشش کی تھی. وہ بُری طرح روتے ہچکیاں لے رہی تھی. ماہ روش اُسے بہت عزیز تھی. اور وہ پورے یقین سے کہہ سکتی تھی اگر اِس طرح وہ اندر ہوتی تو ماہ روش نے کچھ بھی کرکے اُس کے پیچھے پہنچ جانا تھا.
جاذل زیمل کا دکھ سمجھ سکتا تھا. کیونکہ وہ بھی ابھی اِسی تکلیف سے گزر رہا تھا. جاذل نے زیمل کی حالت دیکھتے اُس کے گرد بازو پھیلاکر سنبھالتے اپنے قریب کیا تھا. جب زیمل اُس کے سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی.
اُسی لمحے کانوں کو چیڑتی آواز آئی تھی. اور جھٹکا اتنے زور سے لگا تھا کہ وہ دونوں ایک بار اپنی جگہ سے ہل گئے تھے.
دونوں نے سر اُٹھا کر آگ اور شعلوں کی لپیٹ میں آئی بلڈنگ کو دیکھا تھا. جس میں ارتضٰی اور ماہ روش موجود تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
