No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“ماہی کی بچی تم گھر واپس آچکی ہو اور تم نے ابھی تک مجھے بتایا ہی نہیں. “
زیمل ماہ روش کی بات سنتے ناراضگی سے بولی.
“ابھی بتا تو رہی ہوں. یار کچھ دن پہلے ہی واپس آئی ہوں. “
ماہ روش مسکرائی.
“اوکے تو پھر آج اور ابھی میرے گھر کے لیے نکلو. تم جانتی ہوں نا میں اور ماما نئے گھر شفٹ ہوئے ہیں. اور اتنے دن ہوگئے ملاقات بھی نہیں ہوئی تم سے. ایک ہفتہ تو اب میرے پاس ہی رہو گی تم. “
زیمل نے دھونس جماتے لہجے میں کہا.
“آؤں گی ضرور مگر کچھ دنوں تک تم گھر کے حالات سے واقف تو ہو نا. ابھی میں اتنا ٹائم باہر رہ کر آئی ہوں. اگر اب پھر تمہاری طرف آگی تو جانتی ہو نا ماما کو. اِس لیے کچھ دن ٹھہر کر ضرور آؤں گئی. “
ماہ روش نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی تھی.
“ٹھیک ہے مگر صرف کچھ دنوں تک. اِس سے زیادہ لیٹ ہوئی تو میں بات نہیں کروں گی تم سے. یار میں بہت بور ہو رہی ہوں یہاں. “
زیمل نے احسان کرتے کہا
“واہ یہ کیسے ہوگیا. زیمل میڈم بور کیسے ہوسکتی ہیں. وہاں اردگرد کوئی لوگ نہیں رہتے کیا. پہلے تو تم نے اپنے ہمسایوں کے ناک میں دم کرکے رکھا ہوتا تھا. “
ماہ روش نے ہنستے ہوئے اُسے چھیڑا
“ہمسائے تو ہیں ماہی مگر بہت بڑے لوگ ہیں. اِن لوگوں کی اپنی ہی اتنی مصروفیات ہیں. “
زیمل ابھی بات کرنے میں ہی مصروف تھی. جب اُس کی نظر نور پیلس کی طرف اُٹھی تھی. وہ ٹیرس پر کھڑی تھی جہاں سے نور پیلس کا ایک حصہ صاف نظر آتا تھا. نیچے والے حصے میں ایک بہت بڑا جم خانہ بنا ہوا تھا. جہاں ارتضٰی بلیک ٹراؤزر اور بلیک کلر کی بنیان پہنے اپنی ایکسر سائز میں بزی تھا.
“واؤ یار کیا مسلز ہیں بندے کے. “
ارتضٰی پر نظر پڑتے زیمل ستائشی انداز میں بولی.
“ہیں یہ اچانک تمہیں مسلز کہاں سے نظر آگئے ٹی وی دیکھ رہی ہوکیا. “
ماہ روش حیران ہوئی.
“نہیں ماہی میں ٹیرس ہر کھڑی ہوں ساتھ والے گھر کا میں کوئی بے حد ہینڈسم سا بندہ ایکسر سائز کرنے میں مصروف ہے اُسی کو دیکھ کر کہہ رہی ہوں.”
زیمل کو مضبوط مسلز والے مرد بہت پسند تھے اُس نے ماہ روش اور سلمہ بیگم کو پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ وہ شادی بھی کسی ایسے بندے سے ہی کرے گی.
“بد تمیز شرم کرو تمہاری تاڑنے والی عادت گئی نہیں ابھی تک. “
ماہ روش نے اُسے شرم دلانی چاہی تھی.
“ہاہاہا نہیں یار میں تو یہاں پہلے سے کھڑی تھی. ابھی اچانک اُس طرف نظر گئی ہے. اور بندہ اِگنور کیے جانے والا بلکل بھی نہیں ہے. “
زیمل کی ڈھٹائی پر ماہ روش مسکرائی
” کبھی نہیں سدھرو گی تم. اچھا یہ بتاؤ آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب.”
“ﷲ کا شکر ہے اب کافی بہتر ہیں. وہ بھی تمہیں بہت یاد کر رہی ہیں. مجھ سے زیادہ تو تم اُن کی لاڈلی ہو. “
زیمل نے مصنوعی خفگی سے کہا.
“آنٹی کو میرا سلام دینا. میں جلد ہی چکر لگاتی ہوں. تب تک کے لیے دیکھو تم اپنے اُس ہینڈسم بندے کو. “
ماہ روش شرارتی انداز میں بولی
“ہاں تو اور کیا ابھی بھی اُسے ہی دیکھ رہی ہوں. “
زیمل اُس کے انداز پر مسکراتے ایک بار پھر اُس سے آنے کی یقین دہانی کرواتی فون رکھ چکی تھی.
زیمل اور ماہ روش کی دوستی بہت گہری تھی. وہ بچپن سے سکول کالج یہاں تک کے آرمی ٹریننگ میں بھی ساتھ رہی تھیں. زیمل ارتضٰی والے واقعہ کے علاوہ ماہ روش کی زندگی کے ہر پہلو سے واقف تھی.
زیمل اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی. پانچ سال پہلے ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں اُس کے والد کی ڈیتھ ہوچکی تھی. سلمہ بیگم ہارٹ پیشنٹ تھیں اتنے بڑے صدمے پر اُن کی حالت مزید بگڑ گئی تھی. زیمل پہلے ہی غم سے نڈھال تھی. اِس مشکل وقت میں ماہ روش نے اُس کا بھرپور ساتھ دیا تھا. سلمہ بیگم کو ماہ روش پہلے ہی بہت پیاری تھی. مگر اِس سب کے بعد تو مزید اُن کے قریب ہوگئی تھی.
زیمل بھی ماہ روش کی طرح ایک سیکریٹ ایجنٹ تھی. کیونکہ اُس کے پاپا کی خواہش تھی کہ اُن کی بیٹی آرمی جوائن کرے جس کا احترام کرتے زیمل نے اِس فیلڈ کو ترجیح دی تھی.
وہ اِن دنوں چھٹیوں پر تھی. نئے گھر میں شفٹ ہونے کی وجہ سے اردگرد کسی سے کوئی جان پہچان بھی نہیں تھی. اِس لیے کافی بور ہورہی تھی. کیونکہ اُسے بولنے کی بہت عادت تھی. اتنا ٹائم چپ رہنا بہت مشکل تھا. اُس کے لئے.
اُس دن نور پیلس سے آنے کے بعد نہ زیمل دوبارہ وہاں گئی تھی اور نہ ہی اُن میں سے کوئی یہاں آیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“گڈ مارننگ ایوری ون.”
سب لوگ ڈائننگ ہال میں بیٹھے ناشتہ کررہے تھے. جب ارتضٰی نے اندر داخل ہوتے با آواز بلند سب کو مخاطب کیا تھا. جس کا جواب سب نے مسکرا کر دیا تھا.
ارتضٰی کی شروع سے عادت تھی. صبح نماز کے بعد وہ جاگنگ اور ایکسر سائز ضرور کرتا تھا. اُسی وجہ سے اُس نے گھر میں ہی ایک جم خانہ بنوایا تھا. ابھی بھی وہ وہیں سے فارغ ہوکر آرہا تھا.
“کیا ہوا بھئ کیا بات ہورہی تھی. جو مجھے دیکھ کر سب چپ ہوگئے. “
ارتضٰی نے سب کے ایکدم خاموش ہوجانے پر حیرت سے پوچھا.
“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں. “
ناہید بیگم جلدی سے بولیں.
“دادو آپ بتائیں نا چاچو کو. کہ ہم اِن کی دلہن لانے کی بات کررہے تھے. “
طلحہ کو سب کا اِس طرح ارتضٰی سے بات چھپانا بلکل پسند نہیں آیا تھا.
طلحہ کی بات پر سب نے گھبرا کر ارتضٰی کی طرف دیکھا.
پراٹھے کا لقمہ لیتے ارتضٰی کے ہاتھ وہیں تھمے تھے. آنکھوں کے سامنے ایک معصوم صورت آسمائی تھی. جس کو فوراً اُس نےنفرت سے دماغ سے جھٹکا تھا.
“طلحہ ہادی بیٹا جاؤ زرا اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر دیکھو. آپ کے لئے ایک سرپرائز رکھا ہے وہاں. “
ارتضٰی کی بات پر سب کچھ بھولتے وہ دونوں اپنے کمرے کی طرف بھاگے تھے.
“آپ سب کو میں کتنی بار کہہ چکا ہوں اِس ٹاپک پر کوئی بات نہ کی جائے. بچوں کے سامنے بار بار ایک ہی بات چھیڑنے کا کیا مقصد بنتا ہے. “
ارتضٰی اپنے لہجے کو بہت حد تک دھیمے رکھتے بولا.
“ارتضٰی میری جان بات تو… “
“بھائی پلیز مجھے اِس بارے میں مزید کوئی بات نہیں کرنی. “
ارباز کی بات کاٹتے ارتضٰی کرسی گھسیٹ کر وہاں سے اُٹھ گیا تھا.
اُس کے پیچھے زینب بیگم بھی اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کرتیں وہاں سے نکل گئی تھیں. باقی سب لوگ بھی ناشتے سے ہاتھ کھینچ چکے تھے. تھوڑی دیر پہلے والا خوشگوار ماحول اب اُداسی میں بدل چکا تھا.
“پتا نہیں اِس گھر میں خوشیاں کب لوٹیں گی. یا ﷲ اُس شخص کو کبھی سکون نصیب نہ ہو جس نے ہمارے ہنستے بستے گھر کو برباد کردیا ہے. “
ناہید بیگم نے روتے ہوئے دل سے بد دعا دی تھی.
“آپا صبر کریں. ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اِس گھر میں پہلے کی طرح خوشیاں لوٹیں گی. آپ اگر اِس طرح ہمت ہاریں گی تو زینب کو کون سنبھالے گا.”
نفیسہ بیگم نے ناہید بیگم کا ہاتھ تھام کر اُنہیں حوصلہ دیا تھا. جب زینب بیگم کا خیال آتے ہی وہ جلدی سے اپنی کرسی سے اُٹھی تھیں.
“زینب.”
ناہید بیگم نے زینب بیگم کے کمرے میں داخل ہوتے اُنہیں پکارا جو ہاتھ میں ایک تصویر تھامے بُری طرح رو رہی تھیں.
” بھابھی میرے ایک غلط فیصلے نے میرے جان سے عزیز بھتیجے کو اُس کی خوشیوں سے دور کردیا. میں اتنی خود غرض کیسے ہوسکتی تھی.
میں بہت بُری ہوں بہت منحوس ہوں پہلے اپنے جان چھڑکنے والے بھائی کو کھا گئی اور اب ارتضٰی کی خوشیاں. آپ کو نفرت محسوس نہیں ہوتی مجھ سے. “
زینب کا بس نہیں چل رہا تھا خود کو ہی ختم کر دیں.
“زینب میری جان کیسی باتیں کر رہی ہو. اُس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں تھا. یہ سب قسمت کا لکھا تھا جسے کوئی نہیں ٹال سکتا. ارتضٰی بلاوجہ کی ضد پکڑ کر بیٹھا ہے. پر ایک دن وہ بھی مان جائے گا. تمہیں اِس طرح خود کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. وہ فیصلہ اکیلا تمہارا نہیں تھا. ہم سب بھی شریک تھے اُس میں اور بھلا کون جانتا تھا کہ یہ سب ہوجائے گا. “
ناہید بیگم اُنہیں اپنے ساتھ لگاتے بولیں. زینب اُن کی صرف نند نہیں بلکے بہنوں سے بڑھ کر تھیں. اُنہیں تکلیف میں دیکھ اُن کا دل بہت دُکھتا تھا.
باہر والوں کو بے حد شاندار نظر آنے والا نور پیلس اندر سے بہت سارے غم اور دکھوں میں ڈوبا ہوا تھا.
نور پیلس میں سکندر اور بلال صاحب اپنی فیملیز اور ایک لاڈلی بہن زینب کے ساتھ رہتے تھے.
سکندر صاحب اور ناہید بیگم کے دو بیٹے تھے. بڑا ارباز اور ارباز سے پورے دس سال چھوٹا ارتضٰی. جسے شادی کے اتنے سال بعد ﷲ تعالیٰ نے بہت منتوں مرادوں کے بعد اُنہیں نوازا تھا. اِس لیے گھر بھر کا لاڈلا تھا وہ خاص کر زینب بیگم کا.
بلال سکندر صاحب سے پانچ سال چھوٹے تھے.جن کی شادی اپنی کزن نفیسہ سے ہوئی تھی. اُن کی بھی دو اولادیں تھیں. بڑی منیزہ اور اُس سے چھوٹا نعمان.
بلال کے بعد زینب تھیں جو ابھی تعلیم حاصل کر رہی تھیں. والدین کے انتقال کے بعد سب سے چھوٹی اور اکلوتی ہونے کی وجہ سے وہ بھائی اور بھابھیوں کی بہت لاڈلی تھیں. زینب کو اُوپر والے نے بے پناہ حُسن سے نوازا تھا. سکول کالج ہر جگہ اُسے بہت سراہا جاتا تھا. مگر وہ نہیں جانتی تھیں یہ حُسن اُن کی زندگی کی بربادی کا باعث بن جائے گا.
اُن کی زندگی میں ایک ایسا طوفان آیا تھا جو اُن کا سب کچھ بہا کر لے گیا تھا. اپنی لاڈلی بہن کا اتنا بڑا دکھ برداشت نہ کرتے سکندر صاحب ایک حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھے تھے. ہنستا بستا نور پیلس اجڑ کر رہ گیا تھا.
وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل گیا تھا. سب بچے بڑے ہوچکے تھے. کافی کچھ نارمل ہوچکا تھا. مگر کچھ زخم ایسے تھے جو ابھی بھی تازہ تھے. جن کا بھرنا بہت مشکل تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماضی
لائٹ جانے کی وجہ سے ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا. باہر اب تیز ہوا کے ساتھ بارش کا شور بھی شامل ہوچکا تھا. مگر کمرے میں بلکل خاموشی چھائی ہوئی تھی.
ماہ روش کو تکیے پر سر رکھے کافی دیر گزر چکی تھی.مگر نیند آنےکا نام ہی نہیں لے رہی تھی. تبھی اُسے اپنے چہرے پر نمی کا احساس ہوا تھا.
ابھی وہ اِس پر غور وفکر کر ہی رہی تھی کہ لگاتار تین چار قطرے چھت سے دوبارہ ٹپکے تھے.
“اوہ نو یہ تو بارش کی وجہ سے چھت ٹپک رہا ہے. “
وہ فوراً بڑبڑاتے ہوئے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی.
“اینی پرابلم. “
کمرے میں ارتضٰی کی آواز گونجی تھی.
“سر اِس جگہ سے پانی ٹپک رہا ہے. “
ماہ روش کی بات پر ارتضٰی ٹارچ آن کرتا اپنی جگہ سے اُٹھا تھا.
چارپائی کے ساتھ بھی پانی گرنے کی وجہ سے فرش گیلا ہوچکا تھا.
“آپ وہاں میری چارپائی پر سو جائیں.”
ارتضٰی نے اُس کی طرف بڑھتے اپنی چارپائی کی طرف اشارہ کیا تھا.
“مگر سر آپ کہاں سوئیں گے. “
ماہ روش کو اِس طرح اُسے بے آرام کرکے بلکل اچھا نہیں لگا تھا.
“ڈانٹ وری میں یہاں مینج کر لوں گا. آپ ریلیکس ہوکر سو جائیں. “
ارتضٰی اپنے محسوس سرد انداز میں بولا.
“اُف اِس شخص کا خیال رکھنے کا انداز بھی کتنا عجیب ہے. اگلا بندہ ٹھیک طرح سے اُسے محسوس بھی نہیں کرسکتے. “
ماہ روش اپنے ہی دھیان میں آگے بڑھی تھی جب گیلے فرش پر پیر رکھتے ہی اُس کا پیر آگے کی طرف پھسل گیا تھا. اِس سے پہلےکے وہ نیچے گرتی اُس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر ارتضٰی کا بازو تھامہ تھا.
ارتضٰی نے بھی جلدی سے آگے ہوتے اُسے کمر سے تھام کر اپنے حصار میں لیتے گرنے سے بچایا تھا. یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ دونوں کچھ سمجھ ہی نہیں پائے تھے. ماہ روش نے ایک ہاتھ سے اُس کا بازو اور دوسرے ہاتھ سے اُس کے سینے سے شرٹ کو جکڑ ہوا تھا. جبکہ ارتضٰی کا ہاتھ اُس کی کمر کے گرد لِپٹا ہوا تھا.
ٹارچ کی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی. اور وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے تھے.
ارتضٰی کی بانہوں میں ماہ روش کو ایک انوکھا سا احساس محسوس ہورہا تھا. جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی.
اُس نے آج تک خود کو ہمیشہ اکیلا ہی محسوس کیا تھا. کیونکہ اُس کے بابا اور بھائی کو تو اُس کی پرواہ ہی نہیں تھی. اُس کی ہمیشہ سے ایک مشرقی لڑکی کی طرح یہ خواہش رہی تھی کہ کاش باقی لڑکیوں کی طرح اُسے بھی اپنے بابا سے ایک تحفظ کا احساس ہو. اُس کی زندگی میں بھی کوئی ایسا ہو جسے اُس کی عزت اور حفاظت کی فکر ہو. مگر اُس کے بابا اور بھائی نے کبھی اُس کی پرواہ کی ہی نہیں تھی. وہ خود ہی ہمیشہ ہر جگہ اپنے لیے لڑی تھی.
لیکن آج پہلی بار اُسے ارتضٰی کے مضبوط حصار میں ایک تحفظ کا احساس محسوس ہو رہا تھا. بے شک یہ تھوڑی دیر کے لیے ہی تھا. مگر اُس کو ایک انجانی خوشی دے گیا تھا.
اچانک اندھیرا, تنہائی اور ایک دوسرے کی قربت کا احساس کرتے دونوں یکدم ہوش میں آتے دور ہوئے تھے.
ارتضٰی کو اپنی بے اختیاری پر جی بھر کر غصہ آیا تھا. وہ جلدی سے رُخ موڑ چکا تھا.
ماہ روش بھی اپنی لاپرواہی پر خود کو ملامت کرتی ارتضٰی والی چارپائی کی طرف بڑھی تھی.
وہ نامحرم ہے میرے لئے. تو پھر ایک نامحرم کے قریب میں کیسے سکون محسوس کرسکتی ہو. یہ کیا ہورہا ہے مجھے دل کیوں اُس شخص کی طرف ہمک رہا ہے. جس سے ملے صرف چند دن ہوئے ہیں. ﷲ جی پلیز یہ مشن جلدی سے ختم ہوجائے ورنہ میں پاگل ہوجاؤں گی.
ماہ روش نے خود سے ہی الجھتے تکیہ سر پر رکھ کر سونے کی کوشش کی تھی. لیکن تکیے اور بستر سے اُٹھتی ارتضٰی کی مسحورکن خوشبو اُسے یہاں بھی سکون نہیں لینے دے رہی تھی.
تکیے سے سر ہٹا کر ماہ روش نے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا. جو شاید چارپائی کی جگہ چینج کرکے دوبارہ سو چکا تھا.
میری نیند خراب کرکے خود مزے سے سو رہے ہیں. اتنا کھڑوس بھی نہیں ہونا چاہیئے کسی کو.
ماہ روش نے دل ہی دل میں کڑہتے کروٹ لے کر سونے کی ناکام کوشش کی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سر ہم لوگ اُن کے خلاف بہت سارے ثبوت اور گواہ اکٹھے کر چکے ہیں. آپ فورسز اور میڈیا کو تیار رکھیں. کچھ دنوں تک آپ کو میری طرف سے سگنل مل جائے گا.”
ارتضٰی اُنہیں ہر بات سے آگاہ کررہا تھا. جب اپنی اتنی سیریس باتوں کے جواب میں اُن کی بات سنتا سر ہلا کر رہ گیا تھا.
“میجر آپ اپنی سنائیں. آپ ابھی تک اپنے مکمل ہوش و حواس میں ہی ہیں نا. “
“یس سر ﷲ کا بہت کرم ہے مجھ پر. میں اتنی جلدی بھٹکنے والوں میں سے نہیں ہوں. “
ارتضٰی نے ماہ روش کے حوالے سے اُن کی معنی خیز بات کا اُسی انداز جواب لوٹایا تھا.
مگر اگلے ہی پل کمرے میں داخل ہوتے اپنی ابھی کی کہی بات پر قائم رہنا اُس کے لیے کافی مشکل ہوگیا تھا.
ماہ روش اِس گاؤں کے روایتی لباس اورنج کلر کے لہنگے میں لمبے بالوں کی چوٹیا کرکے اُن میں پراندہ ڈالے ناصرہ کے پاس کھڑی تھی.
اُس کے نازک سراپے پر وہ لباس بہت زیادہ جچ رہا تھا. اور اُس کی رعنائیوں کو مزید اُجاگر کر رہا تھا. کیونکہ وہ بغیر ڈوپٹے کے کھڑی تھی.
ارتضٰی فوراً وہاں سے واپس پلٹا تھا. ہمیشہ وہ کمرے میں ناک کرکے ہی داخل ہوتا تھا مگر آج کال پر بات کرتے بے دھیانی میں ایسے ہی اندر داخل ہوگیا تھا. جس پر جی بھر کر پچھتاتے اُلٹے قدموں واپس لوٹا تھا.
اُس نے ہمیشہ ماہ روش کو حجاب میں ہی دیکھا تھا. جس میں اُس نے ویسے ہی ارتضٰی کو اچھا خاصہ ڈسٹرب کیا ہوا تھا مگر آج اِس روپ میں وہ مکمل طور پر اُس کے ہوش اُڑا چکی تھی.
موبائل کی آواز پر وہ فوراً ہوش کے دنیا میں لوٹا تھا جو ابھی تک کان سے ہی لگا ہوا تھا. جنرل یوسف کی کال بند ہوچکی تھی.
“سر کس مصیبت میں پھنسا دیا ہے آپ نے مجھے. “
ارتضٰی اُکتائے ہوئے لہجے میں بولا.
جب آہٹ پر اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا تھا.
“سر میں اُس شادی میں شرکت کرنے جارہی ہوں. آئی ہوپ کچھ اہم ثبوت ہاتھ آسکیں.”
ماہ روش نے اب دوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا. زیور کے نام پر اُس نے صرف ایک نتھ پہن رکھی تھی جو اُس کو بہت زیادہ سوٹ کررہی تھی.
“جائیں آپ مگر مکمل پوشیاری کے ساتھ. “
ارتضٰی کی بات پر ماہ روش اُس کے سرد انداز پر اُس کے سر کو گھورتی باہر نکل گئی تھی کیونکہ اُس نے ایک نظر دیکھ کر نگاہیں ایسے ہٹائی تھیں جیسے کوئی بہت ہی ناپسندیدہ چیز دیکھ لی ہو.
“کھڑوس کہیں کا. “
اُس کی کیفیت سے انجان ماہ روش نے دل میں اُسے اپنے پسندیدہ نام سے پکارا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
