No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ماضی
“اسلام و علیکم! سر آپ نے مجھے بلایا. “
کیپٹن ماہ روش جنرل یوسف کو سلوٹ پیش کرتی اندر داخل ہوئی تھی. مگر اُس نے دائیں جانب چیئر پر بیٹھے وجود کو نہیں دیکھا تھا.
“یس کیپٹن آپ کو یہاں ایک بہت ضروری مشن کے لیے بلایا گیا ہے. اور آپ کے پچھلے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین ہے کہ اِس مشن کو بھی آپ پوری محنت اور لگن سے سرانجام دیں گی. “
جنرل یوسف کی بات پر ماہ روش نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
“انشاءﷲ سر ایسا ہی ہوگا. “
“میجر ارتضٰی یہ ہیں کیپٹن ماہ روش ہماری بہت ہی برویو آفیسر.”
جنرل یوسف کے اچانک میجر ارتضٰی کو مخاطب کرنے پر ماہ روش نے چونک کر دائیں جانب دیکھا. جو پرسکون انداز میں بیٹھا اُس کا معائنہ کرنے میں مصروف تھا.
“اور کیپٹن ماہ روش یہ ہیں میجر ارتضٰی سکندر آپ تو جانتی ہی ہوں گی. ہماری ایجنسی کا ٹائیگر مسٹر ہنڈرنڈ پرسنٹ. اِس مشن میں آپ نے اِنہیں کے انڈر کام کرنا ہوگا. آئی ہوپ کافی کچھ سیکھنے کو ملے گا آپ کو اِن سے.”
جنرل یوسف کے تعارف پر ماہ روش نے پورے جوش سے سر ہلایا تھا. اُسے کافی خوشی ہوئی تھی کیونکہ میجر ارتضٰی کے ساتھ بہت سے لوگ مشن کرنے کے خواہش مند تھے. اور سب میں سے اُسے چنا گیا تھا.
“آئم سوری سر مگر کیا آپ شیور ہیں کہ یہ میرے ساتھ اِس مشن پر کام کر پائیں گی. “
میجر ارتضٰی نے ڈھیلے ڈھالے مہروں شرٹ ٹراؤزر میں سر کو اچھے سے حجاب سے کور کیے سامنے کھڑی اِس بےحد حسین اور نازک دوشیزہ پر چوٹ کی تھی. جس کے چہرے کی معصومیت اور بھولپن اُسے مزید پرکشش بنا رہا تھا.
اُس نے بہت ساری فی میلز کے ساتھ کام کیا تھا اور اُنکی صلاحیتوں کو سراہا بھی تھا. ماہ روش بےشک بظاہر ہر طرح سے پرفیکٹ تھی مگر اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے ارتضٰی کو بلکل مِس فٹ لگی تھی.
ماہ روش نے کافی لوگوں سے اُس کے اُکھڑ مزاج اور مغرور پن کے بارے میں سنا تھا مگر آج دیکھ کر سب کی باتوں پر یقین ہوگیا تھا.
“ظاہر پر مت جائیں میجر صاحب. میری یہ کیپٹن بہت ساروں کو اپنی بہادری سے چاروں شانے چت کرچکی ہیں. اور آپ بھی زرا دھیان سے رہیئے گا. اُن کو عام آفیسر سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے. آپ کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ ٹیلینٹڈ ہیں. بظاہر وہ جیسی دکھتی ہیں حقیقت میں اُس کے بلکل آپوزٹ ہیں. “
ماہ روش کو وہاں سے بھیجنے کے بعد اُنہوں نے تفصیلی انداز میں ارتضٰی کو آگاہ کیا تھا. مگر ماہ روش کی اتنی تعریف بھی ارتضٰی کو کچھ خاص امپریس نہیں کر پائی تھی.
کیپٹن ماہ روش کا بے انتہا حُسن اور اُسے دیکھ کر جو نزاکت کا احساس ہوتا تھا. وہ ارتضٰی کو اِس فیلڈ کے لحاظ سے بلکل بھی مناسب نہیں لگا تھا.
اگر جنرل یوسف اُسے ماہ روش کے بارے میں پہلے بتا دیتے تو ایک بار وہ اِس لڑکی کو ٹیسٹ ضرور کرتا کیونکہ وہ اپنے مشن کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا. مگر اب وقت کی کمی کہ باعث ایسا کرنا مشکل تھا. ب
“لیٹس سی سر آپ کی کیپٹن مجھے بھی آپ جتنا ایمپریس کر پاتی ہیں یا نہیں. اب اگلی ملاقات آپ سے مشن کی کامیابی کے بعد ہی ہوگی. “
میجر ارتضٰی کی سوچ پر جنرل یوسف زیرِ لب مسکرائے تھے. چاہے میجر ارتضٰی جتنی بھی کامیابیوں کی منزل طے کر لیتا. تھا تو اُنہیں کا شاگرد وہ اُس کی رگ رگ سے واقف تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“کیپٹن ماہ روش ابھی اور اِسی وقت میرے آفس میں پہنچیں آپ. “
ماہ روش کو سوئے ابھی بمشکل دو گھنٹے بھی نہ گزرے تھے. کہ میجر ارتضٰی کی اِس وقت کال اور دیےگئے آرڈر پر وہ کمبل ہٹاتی فوراً بستر سے اُٹھی تھی. گھڑی رات کے ساڑھے بارہ بجا رہے تھے.
“اوکے سر میں بس پندرہ منٹ میں پہنچ رہی ہوں. “
ماہ روش کا جواب سن کر بغیر مزید کچھ بولے ارتضٰی نے کال کاٹ دی تھی.
ماہ روش موبائل بیڈ پر پھینکتی واش روم کی طرف بھاگی تھی. آج ہی تو جنرل یوسف نے اُسے مشن کے بارے میں بتایا تھا. میجر ارتضٰی سے مل کر اُسے اتنا تو معلوم ہوگیا تھا کہ اُس کے ساتھ کام کرنا بہت ٹف ہوگا.
اور اُوپر سے اُس کی اپنے بارے میں رائے جان کر وہ اُسے مزید کوئی بھی شکایت کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی.
اور ساتھ ہی اُس کھڑوس کو یہ بھی واضح کر دینا چاہتی تھی. کہ لڑکیاں کسی بھی فیلڈ میں لڑکوں سے کم نہیں تھیں.
جلدی جلدی چینج کرکے حجاب اوڑھتی وہ کمرے سے نکلتی دادو کے کمرے میں داخل ہوئی تھی. اُنہیں ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھتے اُن کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنا مخصوص پیغام چھوڑتی باہر نکل آئی تھی.
ماہ روش میجر ارتضٰی کے آفس میں داخل ہوتے دروازے پر رکی مگر پورا آفس خالی پڑا نظر آیا.
ابھی وہ کسی سے پوچھنے کے لیے واپس پلٹنے ہی والی تھی جب موبائل سکرین پر میجر ارتضٰی کا نام جگمگاتا دیکھ فوراً کال ریسیو کی تھی.
“کیپٹن ماہ روش آفس کے اندر داخل ہوں. اور رائٹ سائیڈ پر ٹیبل پر دیکھیں. وہاں بلیک کلر کی فائل پڑی ہے. اُسے اچھے سے ریڈ کریں. کیس کے بارے میں ایک ایک ڈیٹیل موجود ہے اُس میں. صبح سات بجے تک کا ٹائم ہے آپ کے پاس. سات بجے ملاقات ہوتی ہے آپ سے. ہیو آ گڈ ٹائم .”
سپاٹ انداز میں ساری بات کہتے اُسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر میجر ارتضٰی نے کال بند کردی تھی.
ماہ روش گھڑی کی طرف دیکھتے گہرا سانس لیتی صوفے پر جابیٹھی.
اُسے لگا تھا کیس کے سلسلے میں کہیں جانا ہوگا جس کی وجہ سے اِس طرح ارجنٹ اُسے بلایا گیا تھا. مگر صرف اِس فائل کو ریڈ کرنے کے لیے اُس کی اتنی دوڑیں لگوائی تھیں اُس کھڑوس بندے نے.
جس کو وہ جنرل یوسف کی ہدایت پر پہلے ہی مکمل طور پر ریڈ کرکے کیس کو اچھے سے سمجھ چکی تھی.
مگر کیا کر سکتی تھی یہ آرڈر تھا جو کہ ہر حال میں ماننا تھا اُسے. فائل کھول کر ماہ روش اُسے دوبارہ سے ریڈ کرنے لگ گئی تھی.
ماہ روش نے گردن کو سیدھا کرتے پیچھے صوفے کے ساتھ سر ٹکایا تھا. اُس ایسے بیٹھے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے. اب تو فائل میں لکھا ایک ایک لفظ اُسے حفظ ہوچکا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
فکس سات بجے میجر ارتضٰی نے آفس میں قدم رکھا تھا.
اندر داخل ہوتے سامنے کا منظر دیکھ اُس کی نظریں واپس پلٹنا بھول چکی تھیں.
ماہ روش صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے ہی سو چکی تھی. ایک ہاتھ سے فائل کو تھام رکھا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ صوفے سے نیچے لٹک رہا تھا.
بے بی پنک کلر کا سادہ سا پرنٹڈ سوٹ پہنےاُسی کے ہم رنگ ڈوپٹے سے حجاب کیے وہ سوتی ہوئی کوئی معصوم سی پری لگ رہی تھی. حجاب ڈھیلا ہوجانے کی وجہ سے کچھ بال ایک سائیڈ سے باہر نکل آئے تھے.
ارتضٰی کی نظروں کی تپش تھی یا کیا وہ ہولے سے کسمسائی تھی. جب ارتضٰی فوراً ہوش کی دنیا میں لوٹا تھا. اور اپنی کیفیت پر خود کو سرزنش کرتا اپنے ٹیبل کی طرف بڑھتے ہاتھ میں پکڑی فائلز زور سے ٹیبل پر پٹخیں.
ماہ روش اِس آواز پر فوراً ہڑبڑا کر اُٹھی اور سامنے کھڑے ارتضٰی کو دیکھ شرم سے پانی پانی ہوئی تھی.
“آئم سوری سر. “
اُس کو غصے سے گھورتا دیکھ ماہ روش اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ہولے سے منمنائی تھی.
پوری رات جاگنے کے بعد اب اِس کھڑوس کے آنے کے ٹائم ضرور آنکھ لگنی تھی. اب پتا نہیں کتنی باتیں سنائے گا.
ماہ روش خود کو کوس کر رہ گئی تھی.
“آئی ہوپ اچھے سے نیند پوری کر لی ہوگی آپ نے. ویسے ایک سیکریٹ ایجنٹ ہوکر اتنی گہری نیند ویری امپریسو. مجھے لگتا ہے آگے بھی آپ سے کافی کچھ ایسا سیکھنے کو ملنے والا ہے. “
گہرا طنز کرتے وہ اپنی سیٹ پر جا بیٹھا تھا.
اُس کی بات کا مطلب سمجھتے ماہ روش نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا تھا.
“ہمیں آج ہی اُن لوگوں سے ملنے کے لیے نکلنا ہے آپ کے پاس پورا ایک گھنٹا ہے. اپنی جو بھی تیاری کرنی ہے کرلیں. ہمیں وہاں زیادہ دن بھی لگ سکتے ہیں. “
مصروف سے انداز میں فائل پر جھکے اُس نے ماہ روش کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا تھا.
“رائٹ سر. “
ماہ روش اُسے سلوٹ مارتی وہاں سے نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
امرا کوٹ لاہور کا ایک بہت بڑا گاؤں تھا جہاں پچھلے کئی سالوں سے ایک ظالمانہ جاگیرداری نظام چلا آرہا تھا. جس کی آڑ میں بہت سارے گھناؤنے کام کیے جارہے تھے.
وہاں کے جاگیرداروں اور کچھ سیاسیوں کے ملوث ہونے کی وجہ سے پولیس کو اُس علاقے میں جانے کی جرأت نہیں تھی. اور نہ ہی اُن کے خلاف کوئی ایسے ثبوت تھے جن کی بنا پر اتنے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا جاتا.
چھوٹے پیمانے پر شروع کیا گیا یہ دھندا اب اِس حد تک پھیل چکا تھا کہ امرا کوٹ ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی علاقے اِس کی لپیٹ میں آچکے تھے. نجانے کتنے ہی گھر اجڑ چکے تھے.
وہاں انسانیت سوز سلوک کے ساتھ ساتھ انسانوں کی مویشیوں کی طرح خرید و فروخت کی جاتی تھی. لوگوں کی غربت سے فائدہ اُٹھایا جاتا تھا. امرا کوٹ میں وہاں کے رہائشیوں کے علاوہ کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی. اگر کبھی باہر کا کوئی شخص داخل ہوتا تو دوبارہ اُس کی خبر نہیں ملتی تھی. ظلم اور غنڈہ گردی کا بازار گرم تھا. میڈیا پر ایک دوبار اِس معاملے پر آواز اُٹھانے کی کوشش کی گئی تھی مگر اُنہیں بھی ڈرا دھمکا کر خاموش کروا دیا گیا تھا.
وہاں کے رہائشی میاں بیوی جو کہ کسی سلسلے میں لاہور آئے تھے.میجر ارتضٰی اور کیپٹن ماہ روش اُن کو اپنے قبضے میں لے کر اُن دونوں کے گیٹ اپ میں وہاں داخل ہوئے تھے.
اُنہیں ٹریننگ میں ہر چھوٹے بڑے حالات سے اچھے سے نبٹنا سکھایا جاتا تھا. اِس لیے کسی اور کا گیٹ اپ کرکے اُن کی طرح کا بی ہیو کرنا اُن کے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا. اُن دونوں میاں بیوی سے ارتضٰی اردگرد کے تمام لوگوں کے بارے میں پہلے ہی معلومات حاصل کر چکا تھا. ایک ہفتہ اُن دنوں کے ساتھ رہ کر وہ اچھے سے ہر چیز کے بارے میں آگاہ ہوچکے تھے.
ارتضٰی اور ماہ روش ہوشیاری سے اُس گاؤں میں داخل ہوچکے تھے. اُن لوگوں کا ایک چھوٹا سا دو کمروں کا گھر تھا. جس کی چار دیواری نہیں تھی.
“یہ بچارے کیسے ایسے گھروں میں رہ لیتے ہوں گے. “
ماہ روش گھر کا جائزہ لیتی ہولے سے بڑبڑائی تھی.
ارتضٰی نے ایک نظر بلکل دیہاتی عورتوں کے گیٹ اپ میں موجود ماہ روش کی طرف دیکھا. حجاب کی جگہ گھریلو لڑکیوں کی طرح بڑا سا دوپٹہ اوڑھے وہ بہت پروقار سی لگ رہی تھی.
“یہ گھر اِن غریب لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے. یہاں بہت سے ایسے لوگ بھی ہے جن کو عزت کی چھت بھی نصیب نہیں. “
ارتضٰی کے سپاٹ لہجے پر ماہ روش نے خاموش نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جو اُس کی ہلکی سی خود سے کی گئی بات کو کسی اور ہی طرف میں لے گیا تھا.
اُس کمرے میں دو چارپائیوں کو ملا کر بیڈ کی شکل میں جوڑے ایک پرنٹڈ چادر سے ڈھکا گیا تھا.
ارتضٰی سکون سے اُن پر لیٹے ایک ہاتھ سر کے نیچے فولڈ کیے آنکھیں مونڈے ہوا تھا. اپنے ایک پیر کو وہ مسلسل ہلا رہا تھا.
پیشانی پر سیاہ گھنے بال بکھرے ہوئے تھے. گہری براؤن آنکھوں کو پوری طرح سُرمے سے بھرا گیا تھا. مغرور کھڑی ناک, سُرخی مائل ہونٹ سختی سے ایک دوسرے میں پیوست کیے گئے تھے. جن کے اُوپر گیٹ اپ کی وجہ سے گھنی مونچھیں لگائی گئی تھیں. ماہ روش کو یہ خوبرو شخص حد سے زیادہ مغرور لگا تھا.
“پتا نہیں وہ کون خوش قسمت لوگ ہوتے ہوں گے جن سے یہ میجر صاحب اچھے سے بات کرتے ہوگے. ویسے یہ ہنستے ہوئے نجانے کیسے لگتے ہونگے. اِتنے دن میں اِس بندے کے ساتھ کیسے گزاروں گی. ایسے نہ ہو اِس جیسی سڑیل ہی بن کر نکلو.”
ماہ روش اُسی کمرے میں موجود اکلوتی کرسی پر بیٹھی. ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے ارتضٰی کی طرف دیکھتے بے خیالی میں اُسی کے بارے میں سوچی جا رہی تھی. ایک ہفتہ اُس کے ساتھ کام کرنے کے دوران ماہ روش نے ایک بار بھی اُس کو مسکراتے نہیں دیکھا تھا. وہ ہر وقت سنجیدہ انداز میں ہی رہتا تھا.
“اگر آپ میرا اچھے سے معائنہ کرچکی ہیں. تو تھوڑا سا آرام کر لیں. کیونکہ رات کو ہی ہم نے اپنے مشن پر کام سٹارٹ کر دینا ہے. “
ماہ روش اُس کی آواز پر اپنے خیال سے چونکتے فوراً سیدھی ہوئی تھی. اور ایک نظر اُسے گھورتی روم سے نکل گئی تھی. جو بند آنکھوں سے بھی اُس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا.
“ماہ روش پاگل ہوگئی ہو کیا. وہ ہنسے, بات کرے یا نہ کرے تمہیں کیا پرابلم ہے. فضول کا اُلٹا سیدھا سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مشن کرنے آئی ہو اُسی پر فوکس کرو.”
ماہ روش خود کو سرزنش کرتی دوسرے کمرے میں پڑی چارپائی پر آبیٹھی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی شام کو فریش ہوکر اردگرد کی خبر لینے باہر نکل گیا تھا. دوسرے روم کا بند دروازہ دیکھ وہ سمجھ کیا تھا کہ ماہ روش ابھی سو رہی ہے.
اچھی طرح پوچھ گچھ کے بعد وہ مغرب کے بعد واپس لوٹا جب اُسے کچن سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا. وہ جلدی سے اُس طرف بڑھا تھا.
ماہ روش کچن میں بنے چھوٹے سے مٹی کے چولہے پر لکڑیوں سے آگ جلاتے دھویں سے بے حال ہوتی روٹیاں بنا رہی تھی. دھویں کی وجہ سے وہ سُرخ آنکھوں کے ساتھ کھانسنے میں مصروف تھی.
ارتضٰی نفی میں سر ہلاتے گہری سانس لیتا اندر داخل ہوا تھا.
“کیپٹن صاحبہ اُٹھیں یہاں سے. یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے. “
ارتضٰی نے اُسے وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کیا تھا. مگر اُسے اپنے کام میں مصروف ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ ارتضٰی نے ماتھے پر بل ڈالتے اُسے بازو سے تھام کر کھڑا کرتے باہر کی طرف بڑھا تھا. اپنی بات کو اِگنور کیا جانا تو اُسے کسی صورت برداشت نہیں تھا.
“سر آپ مجھے اندر کیوں لے آئے ہیں بس تھوڑی دیر میں کھانا تیار ہونے والا تھا.”
ماہ روش چہرا ڈوپٹے سے سہلاتی بولی
“محترمہ کھانا تو تیار ہوجاتا مگر آپ پھر جس کام کے لیے یہاں آئی ہیں اُس کے قابل نہ رہتیں. یہیں بیٹھیں آپ میں لے کر آتا ہوں کھانا. “
ارتضٰی نے خفگی سے اُس کے بلکل سُرخ ہوتے چہرے کی طرف دیکھا تھا.
“سر آپ رہنے دیں میں لے آتی ہوں. وہ دراصل… “
ماہ روش جھجکی تھی.
“کیا. “
“جس کریکٹر میں آپ ہیں. اُس شخص نے کبھی کچن میں پاؤں بھی نہیں رکھا. اُس کی بیوی نے مجھے بتایا تھا. وہ ہی نہیں یہاں کہ سارے مرد کچن میں جانا اپنی توہین سمجھتے ہیں اِس لیے آپ کو اِس طرح جاتے کسی نے دیکھا تو.. “
ماہ روش نے بڑی مشکل سے الفاظ ڈھونڈ کر اپنی بات مکمل کی تھی. مگر اُس کی بات کے جواب میں ارتضٰی خاموشی سے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا. ماہ روش کی حالت دیکھ وہ اُسے تو دوبارہ کسی صورت کچن میں نہیں بھیج سکتا تھا.
“کھڑوس کہیں کا. “
ماہ روش اُس کے اِس طرح بنا جواب دیے جانے پر منہ بنا کر بولی.
دونوں نے اکٹھے بیٹھ کر ہی کھانا کھایا تھا. ارتضٰی کی نظریں بار بار بھٹک کر ماہ روش کے سُرخ چہرے اور سوجی آنکھوں کی طرف اُٹھ رہی تھیں.
اِس لڑکی میں اُسے ایک عجیب سی کشش محسوس ہوتی تھی. ہمیشہ لڑکیوں سے الرجک رہنے والا وہ پتا نہیں کیسے ماہ روش کے بارے میں سوچنے لگ گیا تھا. جب بھی اِسے دیکھتا تھا دل کو ایک انوکھا سا احساس چھو جاتا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
