Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

ماہ روش جو ارتضٰی کے ڈرائنگ روم میں آنے پر دروازے کے پیچھے چھپی تھی. اچانک لائٹ بند ہونے پر چونکنے انداز میں اُس نے اردگرد دیکھا تھا. مگر اُسے وہاں ارتضٰی کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا.
ماہ روش کو یکدم خیال آیا تھا کہ ارتضٰی بھی کہیں اندر روم میں تو نہیں چلا گیا. آخر وہ لڑکی ہے کون جس کو ارتضٰی اتنی امپورٹنس دے رہا ہے. ماہ روش کے دماغ پر اِس وقت سخت قسم کا غصہ سوار ہوچکا تھا.
ایک طرف وہ ارتضٰی سے دور جانے کی باتیں کرتی تھی اور دوسری طرف ارتضٰی کو کچھ پل کے لیے بھی کسی اور لڑکی کے ساتھ برداشت نہیں کر پارہی تھی.
ماہ روش طیش کے عالم میں بنا سوچے سمجھے روم کی طرف بڑھی تھی. مگر آدھے راستے میں ہی اُسے رکنا پڑا تھا. کیونکہ ارتضٰی سکندر نے پیچھے سے ہاتھ اُس کے گرد لپیٹتے اپنے حصار میں لیا تھا.
ارتضٰی کے مضبوط ہاتھ کی گرفت اپنے پیٹ پر محسوس کرتے ماہ روش کی سانسیں تیز ہوئی تھیں.
” کون ہو تم اور یہاں کیا کررہی ہو. “
ارتضٰی نے ہلکا سا دباؤ ڈالتے ماہ روش کو اپنے قریب تر کیا تھا. ماہ روش کی کمر بلکل ارتضٰی کے سینے کے ساتھ لگ گئی تھی. اور اُس کا سر ارتضٰی کے کندھے سے ٹچ ہورہا تھا.
ارتضٰی کی گھمبیر سرگوشی ماہ روش کے غصے میں مزید اضافہ کرگئی تھی.
کیونکہ ماہ روش کو لگا تھا ارتضٰی اُسے پہچان چکا ہے اِس لیے اُسے اِس طرح اپنے قریب کیا ہے. مگر یہ سوچ کہ ارتضٰی کسی انجان لڑکی کو بھی اِس طرح اپنے قریب کرسکتا ہے. ماہ روش کو اُس لمحے مزید بھڑکا گئی تھی. یہ سوچ ہی ماہ روش کے لیے جان لیوا تھی کہ کوئی لڑکی اِس طرح ارتضٰی کے قریب آئے.
ماہ روش نے ایک زور دار کہنی ارتضٰی کے سینے میں مارتے خود کو اُس سے آزاد کروایا تھا.
ارتضٰی ماہ روش کو جتنا تپا چکا تھا اُسے آگے سے ایسے ہی کسی ردعمل کی اُمید تھی. اُس نے جان بوجھ کر اپنی گرفت ڈھیلی چھوڑ دی تھی. مگر ماہ روش کو شک نہ ہو اِس لیے ہلکے پھلکے انداز میں اُس سے اپنا دفاع کررہا تھا. جو اِس وقت مکمل شعلہ جوالہ بنی ہوئی تھی.
ماہ روش نے آزاد ہوتے ہی پلٹ کر ارتضٰی پر دوبارہ حملہ کرنا چاہا تھا. جب ارتضٰی کی گرفت میں اُس کی دونوں کلائیاں آچکی تھیں. ارتضٰی کے چھونے کا انداز ماہ روش کو مزید تیش دلا رہا تھا.
کیونکہ اپنی گرفت میں لے کر ارتضٰی نے اُس کی کلائیوں سے ہاتھ اُوپر لے جاتے اُس کے دودھیا بازوؤں کی نرماہٹوں کو محسوس کیا تھا. وجہ صرف اور صرف ماہ روش کے غصے کی حد دیکھنا تھا. کہ وہ اُس کے معاملے میں کتنی پوزیسو ہے.
اور ایسا ہی ہوا تھا ماہ روش کا ہر انداز اُسے اپنے لیے محبت کی شدت کا پتا دے رہا تھا.
ماہ روش اپنی کلائیاں ارتضی کی مضبوط گرفت سے چھوڑوانے میں ناکام تھی. مگر وہ مسلسل ٹانگوں سے ارتضٰی پر حملہ آور ہورہی تھی.
جب اچانک ارتضٰی نے ہاتھ بڑھاتے ماہ روش کا نقاب ہٹانا چاہا تھا. اِس سے پہلے کے ارتضٰی ایسا کرتا ماہ روش نے ایک جھٹکے سے اپنی کلائیاں آزاد کرواتے ارتضٰی کو ایک زور دار دھکا مارتے پیچھے موجود دیوار کے ساتھ لگایا تھا. اور اپنا خنجر نکال کر ارتضٰی کی گردن پر رکھا تھا.
مگر ارتضٰی کے چہرے پر بے ساختہ آنے والی مسکراہٹ دیکھ ماہ روش حیران ہوئی تھی.
ارتضٰی گہری بےباک نظروں سے ماہ روش کا جائزہ لے رہا تھا. ماہ روش ارتضٰی کے سینے پر دونوں بازو ٹکائے تقریباً آدھی اُس کے اُوپر ہی گری ہوئی تھی. اُس کا ایک ہاتھ ارتضٰی کی گردن پر خنجر دبائے ہوئے تھا. جبکہ دوسرے ہاتھ سے اُس نے ارتضٰی کا کالر جکڑ ہوا تھا.
اِس وقت ارتضٰی کو اپنی معصوم سی بیوی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا. جس کی حالت اپنے شوہر کو کسی اور لڑکی کے قریب جاتے دیکھ اتنی غیر ہوچکی تھی. کہ وہ کتنے گھنٹوں سے اُس کے پیچھے ہلکان ہورہی تھی.
اور ابھی بھی اپنی خوبصورت گہری آنکھوں میں نمی لیے اُسے دیکھ رہی تھی.
جسے کسی صورت بھی ارتضٰی گالوں پر بہنے نہیں دینا چاہتا تھا. اِس لیے ماہ روش کے نقاب میں مقید چہرے کو اپنے دونوں میں لیتے اُس کی آنکھوں میں جھانکا تھا.
” میجر ارتضٰی سکندر صرف اور صرف کیپٹن ماہ روش ارتضٰی کا ہے. جو خواب میں بھی کسی اور لڑکی کے قریب جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا.
اُس کے دل کی دھڑکنوں میں ہمیشہ ایک ہی لڑکی کا نام رہا ہے. اور ہمیشہ اُسی کا ہی رہے گا. جو اُس کا سکون ہے. جو اُس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے. جس کے بنا رہنا کا اب وہ تصور بھی نہیں کرسکتا.
اُس سے ملنے سے پہلے ارتضٰی سکندر زندہ تو تھا. مگر جینا اُس کی ماہ روش کی موجودگی نے سکھایا ہے اُسے. “
ارتضٰی نے بنا اپنی گردن پر رکھے خنجر کی پرواہ کیے جھک کر ماہ روش کی نقاب کے اُوپر سے دونوں آنکھوں کو عقیدت سے چوم لیا تھا.
ماہ روش دم سادھے ارتضٰی کی بات سن رہی تھی. ارتضٰی سکندر کا معتبر کرتا انداز اُسے آسمان کی بلندیوں پر لے گیا تھا.
ارتضٰی کے جھکنے کی وجہ سے اُس کی گردن پر رکھا خنجر جلد کے اندر اُتر گیا تھا. اور اُس کی گردن کو زخمی کرتا خون آلود کر گیا تھا.
” اوہ نو. آئم ریئلی سوری.”
ارتضٰی کا خون دیکھ ماہ روش اپنی ساری ناراضگی اور غصہ بھولتی خنجر دور پھینکتی بے چینی سے ارتضٰی کے مزید قریب ہوئی تھی.
” آئم ریلی سوری میں نے جان بوجھ کر یہ سب نہیں کیا. آپ کو اِس طرح جھکنا نہیں چاہئے تھا. “
خون ارتضٰی کا نکل رہا تھا مگر تکلیف میں ماہ روش لگ رہی تھی. ماہ روش نے اپنی پاکٹ سے ٹشو نکالتے ارتضٰی کی گردن پر رکھا تھا. مگر ارتضٰی کی ہائٹ زیادہ ہونے وجہ سے ماہ روش ٹھیک سے اُس کا زخم صاف نہیں کرپارہی تھی.
بنا ارتضٰی کی پرشوق گہری نظروں کی طرف دھیان دیے ماہ روش ارتضٰی کے دونوں پاؤں پر اپنے پاؤں رکھتے اُونچا ہوکر اُس کی گردن کا زخم صاف کرنے لگی تھی.
جب کہ اُس کے اِس طرح مسئلے کا حل کرنے پر ارتضٰی اپنا بے ساختہ قہقہ نہیں روک پایا تھا.
جبکہ ماہ روش اُس کی ہنسی پر مبہوت ہی تو رہ گئی تھی. ہمیشہ وہ اُس کے سامنے چہرے پر سنجیدگی اور بے گانگی کا ماسک چڑھائے ہی رہا تھا. ماہ روش کو اپنا دل ارتضٰی کے اِن خوبصورت گڑھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا.
ارتضٰی نے ہاتھ بڑھاتے ماہ روش کا نقاب گرا دیا تھا. ماہ روش نے فوراً ہوش میں آتے ارتضٰی کی شوخ نظروں سے گھبرا کر پیچھے ہونا چاہا تھا. مگر ارتضٰی نے دونوں ہاتھوں سے اُس کی کمر کو جکڑے ہلکا سا اُوپر اُٹھاتے اُس کا چہرہ اپنے چہرے کے بہت قریب جھکا لیا تھا.
اُس نے ماہ روش کو بلکل گڑیا کی طرح اُٹھا رکھا تھا. ماہ روش کے پیر اچھے خاصے اُوپر اُٹھے ہوئے تھے. ماہ روش اپنے دل کی بدلتی کیفیت پر اچھی خاصی جذبز ہوئی تھی. وہ یہاں کس مقصد کے لیے آئی تھی.
مگر اِس ساحر نے اُسے اپنے سحر میں جکڑ کر کہیں کا نہیں چھوڑا تھا. ماہ روش نے مزاحمت کرنی چاہیے تھی. مگر ارتضٰی کی گرفت میں وہ صرف پھڑپھڑا کررہ گئی تھی.
” سر پلیز چھوڑیں مجھے. “
ماہ روش نے گرنے کے ڈر سے ارتضٰی کے کالر کو پکڑ لیا تھا.
آج تک جہاں پہنچنے کی جرأت بھی کوئی نہیں کر پایا تھا. اُس کی یہ حسین زندگی بات بے بات اُسے جکڑ لیتی تھی. اگر ایسی حرکت کوئی اور کرتا تو کب سے دنیا چھوڑ چکا ہوتا مگر ماہ روش کو تو وہ اپنی زندگی کا مالک بنا چکا تھا. اُسے تو ہر بات کا حق حاصل تھا.
” اوکے چھوڑ دوں گا مگر ابھی جو میرے ساتھ کیا ہے. اِس کا بدلہ لے کر. اور میرا پیچھا کیوں کر رہی تھی. “
ماہ روش کا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا. اُس نازک جان سے ارتضٰی سکندر کی اتنی قربت برداشت کرنا جان لیوا تھا.
” میں نے آپ کو جان بوجھ کر نہیں مارا. اور آپ جیسے ہم سب ٹیم ممبرز کے ہر کام پر نظر رکھتے ہیں. ویسے ہی مجھے آپ پر شک ہوا تو میں نے بھی آپ کا پیچھا کرنا مناسب سمجھا. اب پلیز مجھے چھوڑیں. “
ارتضٰی کا چہرہ ماہ روش کی گردن سے ٹچ ہورہا تھا. ماہ روش کو لگ رہا تھا شرم کے مارے اُس نے یہیں بےہوش ہوجانا ہے.
جبھی ارتضٰی کو اُس پر رحم آیا تھا. ارتضٰی نے اپنے دہکتے لبوں سے ماہ روش کی ٹھوڑی کو چھوتے اُسے نیچے اُتار دیا تھا.
” ایک منٹ مجھے ایک سچ جاننا ہے کہ جس شک کی بنا پر میرا پیچھا کیا ہے. وہ شک ایک آفیسر کا تھا یا ایک بیوی کا. “
ماہ روش جو جلدی سے وہاں سے نکلنے کے چکروں میں تھی. ارتضٰی نے اُس کو بازو سے پکڑ کر روکتے پوچھا.
ماہ روش کو سمجھ نہیں آرہا تھا. کہ کیا جواب دے اُس کی بات کا.
” ایک آفیسر کا. “
ماہ روش نے نظریں چراتے جھوٹ بولا تھا.
” تو کیا وہ شک دور ہوگیا. “
ارتضٰی کی بات پر ماہ روش نے انتہائی معصومیت سے سر جھکائے نفی میں سر ہلایا تھا. کیونکہ ارتضٰی کا اِس طرح کسی لڑکی کو اپنے فلیٹ میں لانا ماہ روش سے کسی صورت ہضم نہیں ہورہا تھا.
جس پر ارتضٰی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” ملنا چاہتی ہو اُس لڑکی سے. “
ارتضٰی نے محبت پاش نظروں سے ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
چند لمحوں بعد الوینہ اُن دونوں کے سامنے تھی.
” مس الوینہ اِن سے ملیں. یہ میری پیاری سی اکلوتی وائف ہیں. “
ارتضٰی نے بہت ہی محبت سے ماہ روش کے کندھے پر ہاتھ پھیلاتے الوینہ سے اُس کا تعارف اپنی بیوی کے طور پر کروایا تھا.
ارتضٰی کے تعارف پر جہاں ماہ روش کا دل دھڑکا تھا وہیں الوینہ نے رشک بھری نظروں سے ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
الوینہ کو اُن دونوں کا کپل ایک دوسرے کے ساتھ بلکل پرفیکٹ لگا تھا. ایسے لگ رہا تھا جیسے اُوپر والے نے اُن دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ہی بنایا ہو.
” ماشاءﷲ سر آپ کی وائف بہت پیاری اور کیوٹ ہیں. “
الوینہ کو ماہ روش بہت پسند آئی تھی.
” جی بلکل اِن سے زیادہ پیاری چیز اِس دنیا میں بنی ہی نہیں ہے. “
ارتضٰی کی بات اور انداز پر ماہ روش کانوں تک لال ہوئی تھی. جو کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی بول دیتا تھا.
ارتضٰی اچانک کال آجائے پر دس منٹ تک آنے کا کہتا وہاں سے نکل گیا تھا.
” آپ یہاں کیسے مطلب آپ اِن کو کیسے جانتی ہیں.”
ماہ روش ارتضٰی کے جاتے ہی فوراً اپنے مین مدعے پر آئی تھی.
جس پر الوینہ نے اُسے ارتضٰی سے ملنے سے پہلے اور بعد کی تمام کہانی سنا دی تھی.
اُس کی پوری بات سنتے ماہ روش کے دل میں ارتضٰی کا مقام مزید بڑھ گیا تھا.
اُسے ایک دم اپنی قسمت پر رشک آیا تھا کہ اُس کے نصیب میں ارتضٰی جیسا مضبوط اور باکردار مرد تھا. اُس دن کلب میں بھی ارتضٰی الوینہ کی مدد کرنے گیا تھا. اُس کے پیچھے نہ کے کسی غلط ارادے سے.
ماہ روش تو پہلے ہی اُس کی دیوانی تھی. اب تو دل پہلے سے زیادہ اُس شخص کا طلبگار ہوگیا تھا.
ماہ روش ابھی الوینہ سے ابھی مزید کوئی بات کرتی جب ارتضٰی واپس اندر آگیا تھا.
” چلیں.”
ارتضٰی نے ماہ روش سے پوچھتے سوالیہ انداز میں دیکھا تھا.
” نہیں میں خود چلی جاؤں گی. میری گاڑی باہر ہی کھڑی ہے. “
ماہ روش الوینہ کو خدا حافظ کرتی ارتضٰی کو ٹکا سا جواب دیتی وہاں سے نکل گئی تھی.
ارتضٰی کو الوینہ کے سامنے ماہ روش کا انداز اچھا خاصہ غصہ دلا گیا تھا.
وہ بھلا کہاں عادی تھا ایسے لہجوں اور الفاظ کا. اتنے دنوں سے اپنے مزاج کو ایک طرف رکھتے وہ نجانے کیسے ماہ روش کا سخت لہجہ برداشت کررہا تھا. مگر اب وہ چاہنے کے باوجود خود پر کنٹرول نہیں کر پایا تھا.
الوینہ کو ہدایت دیتا وہ ماہ روش کے پیچھے نکل گیا تھا.
” ماہ روش یہ کیا بدتمیزی تھی. “
ماہ روش جو گاڑی کا دروازہ ان لاک کر رہی تھی. ارتضٰی کی دھاڑ پر اُس کے ہاتھ وہی پر ہی جم گئے تھے.
ارتضٰی ماہ روش کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑتے گاڑی کی بیک سے ٹکاتے دونوں ہاتھ اُس کے اردگرد ہاتھ رکھتے اُس پر جھکا تھا.
” میں نے کوئی بدتمیزی نہیں.”
ماہ روش ارتضٰی کے پہلے والے غصیلے لہجے پر اندر ہی اندر سہمتی ہولے سے منمنائی .
” تو میرے ساتھ آنے سے انکار کیوں کیا.”
ارتضٰی کا غصہ ہنوز تھا.
” کیونکہ میں آپ کے ساتھ جانا ہی نہیں چاہتی. “
ماہ روش نے اپنی ساری ہمت جمع کرتے اُسے جواب دیا.
” اور کیوں نہیں آنا چاہتی تم. “
ارتضٰی نے سپاٹ لہجے سوال کیا.
” کیونکہ مجھے آپ کے ساتھ جانا پسند نہیں. اور نہ ہی میں آپکی پابند ہوں. “
ماہ روش کی بات پر ارتضٰی نے حیرت سے اُس کی آنکھوں میں جھانکا تھا. اُسے یقین نہیں آیا تھا ماہ روش ایسی بات بھی کرے گی.
ارتضٰی کا کچھ دیر پہلے کا خوشگوار موڈ بُری طرح آف ہوچکا تھا.
” اوکے. تم جا سکتی ہو. “
ارتضٰی ایک دم پیچھے ہٹ گیا تھا. جبکہ ماہ روش کو ارتضٰی کے اِس طرح دور ہوجانے پر اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوا تھا.
اگر ارتضٰی نے اُسے ہرٹ کیا تھا تو کم وہ بھی نہیں کررہی تھی. جس طرح اُس نے ارتضٰی پر شک کرتے اُس کا پیچھا کیا تھا. اور جیسے اُس سے بی ہیو کررہی تھی. وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اُسے ارتضٰی کتنی رعایت دے رہا ہے ورنہ ارتضٰی جتنا مزاج کا سخت اور اصولوں کا پکا تھا. اگر ماہ روش کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا.
ارتضٰی سینے پر ہاتھ باندھے فاصلے پر کھڑے بے تاثر نظروں سے ماہ روش کو دیکھ رہا تھا. جو ہاتھوں کی انگلیاں مڑورتی ابھی وہیں کھڑی تھی. اور ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی.
کچھ پل اُسی طرح کھڑے وہ دو قدم ارتضٰی کے قریب ہوئی تھی.
” آئم سوری. “
ماہ روش کو لگا تھا اُس نے ارتضٰی کو ہرٹ کیا ہے. وہ بہت ہی نرم دل کی مالک تھی. خود ہر بات برداشت کر لیتی تھی. مگر خود کی وجہ سے کسی اور کو ہرٹ کرنا برداشت نہیں کرپاتی تھی. اور یہ تو پھر ارتضٰی سکندر تھا. اُسے ناراض کیسے کر سکتی تھی.
” سوری فار واٹ.”
ارتضٰی نے نقاب میں مقید اُس کے صبیحہ چہرے کی طرف دیکھا تھا.
ارتضٰی کی بات کے جواب میں ماہ روش کچھ نہیں بولی تھی. مگر ایک آنسو ٹوٹ کر اُس کی آنکھ سے گرا تھا. اور یہیں پر ارتضٰی کی بس ہوئی تھی.
” پاگل اِس میں رونے کی کیا بات ہے. “
ارتضٰی نے ماہ روش کی کمر میں بازو حمائل کرتے اُسے قریب کیا تھا.
جب ماہ روش اُس کے سینے پر سر ٹکاتے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہوچکی تھی.
” ماہ میری جان کیا ہوا ہے. میں ناراض نہیں ہوا مذاق کررہا تھا تم سے. “
ارتضٰی نے اُس کے گرد اپنے دونوں بازو پھیلاتے اپنے سینے میں بھینچا تھا. ارتضٰی نے ماہ روش کو رونے دیا تھا تاکہ رو کر وہ اپنے دل کی تمام بھڑاس نکال سکے.
کافی دیر آنسو بہانے کے بعد ماہ روش نے ارتضٰی کے سینے سے سر اُٹھایا تھا. ارتضٰی کی شرٹ ماہ روش کے آنسو کی وجہ سے سینے سے بلکل بھیگ چکی تھی.
” آپ بہت بُرے بہت ظالم ہیں. مجھے آپ سے بلکل بات نہیں کرنی. “
ماہ روش ارتضٰی کے مضبوط بازوؤں کے حصار میں سُرخ بھیگی آنکھیں لیے کھڑی شکوہ کرتی ارتضٰی کو کوئی چھوٹی سی بچی لگی تھی.
” اگر اپنی ہر غلطی ہر ظلم کی تلافی کر دوں کیا تب بھی بات نہیں کرو گی.”
ارتضٰی نے ہلکا سا ماہ روش کی پیشانی چومی تھی. ماہ روش کے معاملے میں اُس کا دل اب بلکل نرم ہوچکا تھا. وہ اب شاید کبھی اُس پر غصہ نہ کر پاتا.
ارتضٰی کے لمس پر سُرخ ہوتے ماہ روش نے نفی میں سر ہلایا تھا.
” جاناں اتنا پیار دوں گا کہ مجھ سے بات کیے بغیر تمہارا بھی گزارا ناممکن ہوگا. “
ارتضٰی کی سرگوشی پر ماہ روش کا دل زور سے دھڑکا تھا. وہ اُسے کیا بتاتی کہ اُس کے بغیر اُس کا گزارا اب بھی ممکن نہیں تھا.
ارتضٰی نے جھک کر نقاب کے اُوپر سے ماہ روش کا گال چوما تھا.
” سر یہ آپ کیا کررہے ہیں. ہم پبلک پلیس پر ہیں. “
ارتضٰی کو بہکتے دیکھ ماہ روش کا پسینہ چھوٹا تھا. وہ جلدی سے اُس کی مضبوط بانہوں سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی تھی.
جب اُس کی غیر ہوتی حالت دیکھتے ارتضٰی نے اُس کا دوسرا گال بھی چومتے آزاد کردیا تھا.
ماہ روش جلدی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے وہاں سے نکل گئی تھی. جبکہ ارتضٰی اُس کی جلدبازیاں دیکھتا مسکرا دیا تھا.
صرف دو دن رہ گئے تھے. جس کے بعد وہ ماہ روش کو دیے ہر دکھ کی تلافی کرنے والا تھا. اُسے بتانے والا تھا کہ وہ پیاری سی لڑکی کس مقام کی مستحق تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” کیا ہوا میجر صاحب آپ کی سونیا ابھی تک تشریف نہیں لائیں. بہت شدت سے انتظار ہورہا ہے اُس کا. “
جاذل جو آفس میں اپنی سیٹ پر بیٹھا شدت سے دعا کررہا تھا کہ آج سونیا کسی صورت نہ آئے اُسے کوئی ضروری کام پر جائے. آج وہ کسی صورت سونیا کو جھیلنے کے موڈ میں نہیں تھا.
سونیا کی فضول حرکتوں نے پچھلے ایک ہفتے سے اُسے بُری طرح تپا کررکھا ہوا تھا. اور اُوپر سے بنا دیکھے وہ سب کے سامنے خاص کر زیمل کے سامنے ایسے ہی اس سے لپٹ جاتی تھی.
زیمل کو تو جو آگ لگتی تھی وہ الگ. جاذل خود بھی اُس کے بے باک انداز پر بےزاری اور اکتاہٹ کا شکار تھا.
زیمل کے طنزیا انداز پر جاذل نے اُسے گھورا تھا.
جاذل اور زیمل اِس وقت ایک ویل سیٹلڈ آفس میں موجود تھے. جو خاص طور پر اِس مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا.
اِس سے پہلے کے زیمل مزید اُسے تنگ کرتی انٹر کام پر ملنے والی اطلاع پر جاذل کے منع کے بدلتے زاویے دیکھ زیمل سمجھ گئی تھی کہ وہ مس چھمک چھلو تشریف لاچکی ہیں.
” میں جاؤں. “
زیمل نے جلدی سے فائل اُٹھاتے وہاں سے اُٹھنا چاہا تھا.
” خبردار آپ یہاں سے ہلی بھی سہی تو. چپ کرکے بیٹھی رہیں. “
جاذل کی بات پر زیمل کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی. وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی جاذل اُسے وہاں کیوں روک رہا ہے. اُس کے سامنے سونیا پھر کچھ حد میں رہتی تھی.
دروازہ کھلنے کی آواز پر زیمل نے فوراً اپنا سر فائلز پر جھکا لیا تھا.
سونیا زیمل کو یکسر نظرانداز کرتی سیدھی جاذل کی طرف بڑھی تھی. جس پر جاذل بھی والہانہ انداز میں اُس کا استقبال کرتا اپنی سیٹ سے کھڑا ہوا تھا.
زیمل نے کن اکھیوں سے اُن دونوں کی طرف دیکھا تھا. مگر جاذل کے سینے سے چمٹی سونیا کو دیکھ زیمل کا پارہ ہائی ہوا تھا. آج تو سونیا اُس کا لحاظ بھی بھول چکی تھی.
” کیا ہوا سونیا آج تم بہت سیڈ لگ رہی ہو اب ٹھیک ہے.”
جاذل نے نرمی سے سونیا کو پیچھے کرنا چاہا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی سونیا کی ریڈ لپسٹک جاذل کی وائٹ شرٹ داغ دار کرائی گئی تھی.
جاذل کے عین سینے پر لپ سٹک کا نشان زیمل کو کوئلوں کی بھٹی پر بیٹھا گیا تھا.
” جاذل میں بہت پریشان ہوں. ایک ہفتہ ہوچکا ہے مگر بھیا کا کچھ پتا نہیں چل پارہا.”
سونیا آنکھوں میں آنسو بھرے جاذل کے مزید قریب ہوتے بولی.
” اوہ یہ تو بہت بُری نیوز ہے مگر تم اِس طرح رو کر خود کو ہلکان مت کرو. تمہارا بھائی ضرور مل جائے گا. “
جاذل دل ہی دل میں خوش ہوتے چہرے پر ہمدردی کا تاثر لیے بولا.
” اسی لیے تو تمہارے پاس آئی ہوں. تمہارے پاس آکر میں اپنی ہر پریشانی بھول جاتی ہوں. “
سونیا بنا زیمل کی پرواہ کیے جاذل کے قریب تر ہوتے اُس کے ہونٹوں کو چھونا چاہا تھا. اِس سے پہلے کے جاذل خود اُسے دور دھکیل ایک زور دار آواز پر سونیا دہلتے پیچھے ہٹی تھی.
جبکہ جاذل نے زیمل کا غصے اور شرم سے سرخ چہرا دیکھتے بہت مشکل سے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی.
زیمل نے اُن دونوں کو اتنا قریب دیکھ سامنے رکھا پیپر ویٹ زور سے لکڑی کے ٹیبل پر دے مارا تھا. جو زور دار آواز پیدا کرتے دور جاگرا تھا.
” آر یو کریزی یہ کیا کیا ہے تم نے. جاذل یہ کتنا عجیب سٹاف ہے تمہارا. “
سونیا نے بدمزہ سا ہوتے زیمل کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا.
” آئم سو سوری میم.”
زیمل جلدی سے معذرت کرتی وہاں سے نکل گئی تھی.
اور باہر آتے زور سے ساری فائلز اپنے کیبن میں آن پٹخی تھیں.
” بے حیا بے ہودہ لڑکی. زرا شرم نہیں ہے اِس میں میرے ہی سامنے میرے شوہر کو جپھیا ڈال رہی ہے. اور وہ محترم وہ تو آگے سے ڈبل مزے لے رہے ہیں. بس اور نہیں مناسب لگتا ہے یا نہیں مگر آج تو میں ارتضٰی سر کو اِس بندے کے کرتوت بتا کر ہی رہوں گی. “
زیمل غصے اور اشتعال میں وہاں چکر کاٹتے مسلسل بڑبڑائے جارہی تھی. وہ وہاں سے تو آگئی تھی مگر اُس کا دلوں دماغ ابھی بھی وہیں پر موجود تھا. زیمل مزید نجانے کب تک جلتی کڑہتی رہتی جب موبائل کی رنگ پر ماہ روش کا نمبر دیکھ جلدی سے کال ریسیو کی تھی.
” ماہی تمہاری وہ بہن ایک نمبر کی بے ہودہ عورت ہے. اُس سے بڑی چھچھوری میں نے آج تک نہیں دیکھی. جسے زرا شرم لحاظ نہیں میرے ہی سامنے میرے شوہر کے گلے پڑ رہی ہے. اُسے کس کر رہی ہے. اور میرے شوہر نامدار بھی اپنی ڈیوٹی کا اصل مقصد بھلائے انجوائے کرنے میں مگن ہے. تم جانتی ہو اگر میں نہ روکتی تو وہ دونوں کس کر دیتے.
اور اگر ایسا ہوجاتا. تو آئی سویئر اُس کے بعد جاذل ابراہیم کو میرے ہاتھوں قتل ہونے سے کوئی نہ بچا پاتا.”
زیمل بنا ماہ روش کو بولنے کا موقع دیے اپنی بھڑاس نکالتی گئی تھی. خاموش تو وہ تب ہوئی جب اُسے سپیکر پر ماہ روش کا قہقہ سنائی دیا تھا.
” ماہی تمہیں یہ سب فنی لگ رہا ہے.”
زیمل مزید تپی تھی.
” زیمل میں پہلے تو تم بریک پر پاؤں رکھو. پانی وانی پپو. اور ریلیکس ہوجاؤ. چلو شاباش. اور اُس کے بعد مجھے میری ایک بات کا جواب دو. “
ماہ روش کی بات پر عمل کرتے زیمل نے پانی کا ایک گھونٹ بھرا تھا.
” ہاں بولو اب.”
زیمل کا انداز ہنوذ تھا.
” تمہیں اتنا بُرا کیوں لگ رہا ہے. اگر وہ کِس کر بھی دیتے تو تمہیں کیا فرق پڑنا تھا. “
ماہ روش کی بات پر زیمل کا پارہ پھر سے چڑھا تھا.
” ماہی وہ میرا شوہر ہے نکاح ہوا ہے ہمارا. کیسے فرق نہیں پڑتا مجھے. “
زیمل چبا چبا کر بولی.
” رئیلی زیمل. مگر جہاں تک مجھے پتا ہے. اِس رشتے کی تو کوئی حقیقت نہیں. یہ تو ایک کاغذی رشتہ ہے نا. جو یہ مشن ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا. پھر ایسے رشتے کے لیے اتنی تڑپ اتنی بے چینی کیوں.
کہیں تم اِس رشتے کے بارے میں سیریس تو نہیں ہوگئی. کہیں تمہیں میجر جاذل نے محبت تو نہیں ہوگئی. کیونکہ میرے خیال میں تو ایسا ہی کوئی حادثہ رونما ہوچکا ہے میری جان تمہارے ساتھ. اور اگر ایسا ہے تو میں بہت خوش ہوں. میجر جاذل نے اچھا لائف پارٹنر تمہارے لیے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا. “
زیمل ماہ روش کو اپنے رشتے کی حقیقت بتا چکی تھی. اور اتنے بڑے بیوقوفانہ فیصلے پر ماہ روش سے اچھی خاصی سن بھی چکی تھی. مگر آج زیمل کا انداز دیکھ ماہ روش بہت خوش ہوئی تھی. جاذل کی نگاہوں میں تو وہ پہلے ہی زیمل کے لیے پسندیدگی نوٹ کرچکی تھی. اُسے فکر تھی تو صرف زیمل کی مگر آج وہ بھی دور ہوگئی تھی. کیونکہ وہ زیمل کی رگ رگ سے واقف تھی. اور اچھے سے سمجھ گئی تھی کہ زیمل محبت کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی.
ماہ روش کی باتیں سنتے زیمل بلکل خاموش ہوگئی تھی. کیونکہ ماہ روش بہت ہی آرام سے اُسے آئینہ دیکھا گئی تھی.
واقعی جس طرح اُن دونوں نے رشتہ جوڑا تھا. اُسے تو کوئی حق نہیں بنتا تھا جاذل کو کچھ کہنے کا اُسے سے کسی بھی بات کا جواب مانگنے کا. اور سب سے بڑی بات جو زیمل کو محسوس ہوئی تھی کہ اُسے سونیا کا جاذل کے قریب ہونا کیوں اتنا بُرا لگ رہا تھا.
کیا ماہی ٹھیک کہہ رہی ہے. میں واقعی جاذل سے پیار کرنے لگ گئی ہوں. نہیں اگر ایسا ہے تو بہت غلط ہوا ہے. مجھے خود کو روکنا ہوگا.
ورنہ سب سے پہلے میرا مذاق اُس چھچھورے میجر نے ہی بنانا ہے. نہیں نہیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا.
مجھے کوئی فرق نہیں کرتا. وہ سونیا کہ ساتھ رہے یا کی اور کے ساتھ.آئی ڈونٹ کیئر.
زیمل نے اپنے دل کو بُری طرح ڈپتے چپ کروایا تھا.
زیمل نے ماہ روش کو بھی یہی دلیلیں دیتے چند ایک باتیں کرکے فون بند کردیا تھا. کیونکہ لاکھ کوششوں کے باوجود دل کا شور بڑھ رہا تھا. جس پر بنا کان دھرے. زیمل نے سامنے پڑی فائل کھل لی تھی.
” ہیلو مس زیمل کیسی ہیں آپ. “
کاظم کی آواز پر زیمل نے فائل سے سر اُٹھاتے اُس کی طرف دیکھا. وہ اِس وقت اُس کے کولیگ کے بھیس میں اُنہی کی ایجنسی کا بندہ تھا. اور پہلے بھی ایک دو ملاقاتوں میں زیمل سے اُس کی سلام دعا ہوچکی تھی.
” میں بلکل ٹھیک. آپ پلیز تشریف رکھیں نا. “
زیمل جو اِس وقت خراب موڈ کی وجہ سے اُسے ٹکا سا جواب دینے والی تھی. جاذل اور سونیا کو آفس سے نکلتے دیکھ زیمل ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے بولی.
جس پر کاظم خوشی سے بے قابو ہوتا فوراً کرسی پر براجمان ہوا تھا. ہمیشہ غصہ ناک پر دھڑے رکھنے والی زیمل کا یہ انداز اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا.
جبکہ جاذل کا میٹر اُن دونوں کو خوش گپیاں لگاتے دیک گھوم چکا تھا.
” کیا ہو رہا ہے یہاں. مسٹر کاظم اگر آپ اپنی سیٹ پر جاکر اپنا کام کریں گے تو زیادہ بہتر ہوگا. اور مس زیمل آپ آفس میں آکر میری بات سنیں. “
جاذل سونیا کو وہیں سے بائے کہتا زیمل کے کیبن کی طرف آتا سخت لہجے میں بولا. جس پر کاظم فوراً وہاں سے کھسک گیا تھا.
جاذل زیمل کو بھی آرڈر دیتا اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا تھا.

جاری ہے