Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

part 1

” ہاں تو اور کیا. سیدھے طریقے سے بات بھی نہیں کررہے. اور نہ ہی میری بات سن رہے ہیں. “
زیمل منہ پھلاتے بولی.
” اوکے تو بولیں کیا کہنا چاہتی ہیں آپ. “
جاذل یکدم گاڑی ایک سائیڈ پر روکتے رُخ زیمل کی طرف موڑتے مکمل طور پر اُس کی طرف متوجہ ہوا تھا.
جبکہ زیمل جاذل کے اِس طرح اچانک قریب آجانے پر پزل ہوتی دروازے کے ساتھ جا لگی تھی.
” وہ مجھے کہنا تھا کہ… “
زیمل کو زندگی میں کبھی کوئی کام اتنا مشکل نہیں لگا تھا جتنا اِس وقت جاذل کے سامنے اپنے جذبوں کا اظہار کرنا تھا.
” کہ.. “
جاذل نے سوالیہ نظروں سے زیمل کی طرف دیکھا تھا.
زیمل جاذل کی نگاہوں سے کنفیوز ہوتے خود میں سمٹی تھی.
جاذل اُس کے دلفریب رعنائیاں بکھیرتے وجود سے نظریں ہی نہیں ہٹا پارہا تھا. اور اُس کی گہری شوخ نگاہوں سے زیمل کے پسینے چھوٹ رہے تھے.
” کہ کچھ نہیں ہمیں دیر ہورہی نا. ارحم لوگ پہنچ بھی چکے ہوں گے. “
زیمل نے ٹشو سے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے رخ کھڑکی کی طرف موڑتے کہا.
اُس کا دل اِس قدر شدت سے دھڑک رہا تھا کہ ایک پل کے لیے تو اُسے محسوس ہوا تھا جیسے دل پسلیاں توڑ کر باہر ہی نہ نکل آئے.
جاذل کو زیمل کا یہ انداز بہت اچھا لگ رہا تھا.
کچھ کہنے کی کوشش کرتی کچھ گھبراتی سی زیمل کا یہ انداز جاذل کو مزید اُس کے قریب کررہا تھا. اُس کا دیوانہ کررہا تھا.
جاذل کا دل چاہا تھا کہ ایک ہاتھ کی دوری پر بیٹھی اِس پیاری لڑکی کو اپنے قریب کرکے اپنے دل کی ہر بات ہر جذبہ بیان کردے.
اُسے بتائے کہ نکاح کہ بعد سے وہ اُسے کتنا چاہنے لگا ہے. مگر اِس پل وقت کی کمی کے باعث وہ یہ باتیں فنکشن کے بعد کرنے پر چھوڑتا گاڑی سٹارٹ کرتے آگے بڑھ چکا تھا.
” کیپٹن زیمل آپ جو بات اتنے دنوں سے کہنے کی کوشش کررہی ہیں. میرے خیال میں اُسے رہنے ہی دیں کیونکہ میرے خیال میں یہ سب آپ کے بس کی بات تو بلکل بھی نہیں ہے. “
زیمل کو گاڑی سے اُترتے دیکھ جاذل اُسے چھیڑے بغیر نہ رہ سکا تھا.
” میجر جاذل آپ مجھے چیلنج کررہے ہیں کیا. اِس دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں ہے جو میں نہ کرسکوں.”
زیمل جاذل کے مذاق اڑاتے انداز پر چڑ بھی گئی تھی.
” جی چیلنج بھی سمجھ سکتی ہیں آپ اِسے. باقی کاموں کا تو پتا نہیں مگر اتنا پتا ہے کہ اپنے جذبات سمجھنے اور اُن کا اظہار کرنے میں تو آپ فیل ہوچکی ہیں.
اِس معاملے میں آپ سے اچھی تو پھر وہ سونیا ہی ہے. جو اپنی فیلنگز کا اظہار تو پوری ایمانداری سے کرتی ہے.”
جاذل دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ زیمل کے تن بدن میں آگ لگاتا گاڑی سے نکل گیا تھا.
” میجر جاذل لگتا ہے آپ مجھے ابھی تک ٹھیک سے سمجھے نہیں ہیں. اب میں آپ کو بتاؤں گی کہ کیپٹن زیمل آخر ہے کیا چیز. “
زیمل کو سونیا کا ذکر کسی صورت ہضم نہیں ہوا تھا. وہ غصے سے بل کھاتی اُس کے پیچھے بڑھ گئی تھی.
اُس کے لیے یہ پیار محبت کے جذبات بلکل نئے تھے. جس جاذل ابراہیم کے ساتھ وہ آج تک ہمیشہ لڑتی ہی آئی تھی. اب اُس کے سامنے محبت کا اظہار کرنا اُس کے لیے بہت مشکل ہورہا تھا.
اُوپر سے جاذل کی شوخ نظریں اُسے ویسے ہی پزل کر کے رکھ دیتی تھیں. جو اُسے سب کچھ بھلا دیتی تھیں. مگر اب زیمل نے سوچ لیا تھا کہ کیا کرنا ہے اُسے. اِس چھچھورے میجر کو اُسی کے طریقے سے ہینڈل کرنا تھا اب اُسے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارتضٰی کو شدت سے ماہ روش کا انتظار تھا. مہمانوں کے ساتھ کھڑے اُس کی نظریں بھٹک بھٹک کر بار بار انٹرنس کی طرف اُٹھتی تھیں. مگر انتظار تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.
” شادی بہت بہت مبارک ہو میجر ارتضٰی سکندر. “
ارتضٰی ابھی وہیں کھڑا تھا. جب اِس آواز پر جھٹکے سے سر اُٹھایا تھا.
جنرل یوسف چہرے پر مسکراہٹ سجائے اُس کے سامنے کھڑے تھے.
” بہت بہت شکریہ ورنہ اسے خراب کرنے کی آپ کی پوری کوشش تھی. “
ارتضٰی طنزیا انداز میں بولا تھا.
” خوشی کا موقع ہے. غصہ تھوک دو اور آؤ گلے ملو. یہاں میں ایک آفیسر کی حیثیت سے نہیں بلکہ تمہارے باپ کی حیثیت سے آیا ہوں. “
جنرل یوسف نے بات ہی ایسی کی تھی. کہ ارتضٰی مزید اپنی ناراضگی قائم نہیں رکھ پایا تھا.
ارتضٰی اُن سے بغل گیر ہوکر ہٹا ہی تھا. جب اُس نظر انٹرنس کی طرف اُٹھی تھی. اور ارتضٰی کو لگا تھا کہ جیسے دنیا کی ہر چیز تھم گئی ہو.
ماہ روش ریحاب اور نیہا کے درمیان چلتی آسمان سے اُتری کوئی پری ہی لگ رہی تھی.
سُرخ لہنگے میں سولہ سنگھار کیے وہ ارتضٰی کو سیدھا اپنے دل میں اُترتی محسوس ہوئی تھی.
ارتضٰی تو اُس کا دیوانہ تھا ہی مگر وہاں موجود سب لوگ ہی ماہ روش کے بے پناہ حُسن کو دیکھتے مبہوت ہوئے تھے.
ماہ روش بلڈ ریڈ کلر کے بیش قیمت بھاری لہنگے میں سر کے بالوں سے لے کر پاؤں تک سجی چہرے پر ہلکی نرم مسکراہٹ سجائے وہ پورے ماحول پر چھائی لگ رہی تھی. اُس نے آج اپنا پور پور ارتضٰی سکندر کے لیے سجایا تھا.
ماہ روش گولڈ کی ہیوی جیولری پہنے ہوئی تھی. اور آج بھی ارتضٰی کی فرمائش پر اُسے ناک میں بہت ہی خوبصورت نازک سی نتھ پہنائی گئی تھی. جو اُس کے حسین رُوپ کو مزید چار چاند لگا رہی تھی.
ارتضٰی کو اپنا آپ ماہ روش کے دو آتشہ حُسن میں پگھلتا محسوس ہوا تھا.
جب اُس کے سحر میں جکڑے ارتضٰی سرشار سا اُس کی طرف بڑھا تھا. اُس کے قریب پہنچتے ارتضٰی نے اپنی مضبوط چوڑی ہتھیلی ماہ روش کے سامنے پھیلایا تھی.
ارتضٰی کو سامنے دیکھ ماہ روش کی دھڑکنوں کا شور بڑھا تھا.
ارتضٰی بلیک تھری پیس میں موجود اپنی رعب دار ڈیشنگ پرسنیلٹی کے ساتھ ماہ روش کو ایک بار پھر اپنا اسیر بنا گیا تھا.
ماہ روش نے ارتضٰی کی لوح دیتی شوخ نظروں سے گھبراتے اُس کے ہاتھ میں اپنا نازک ہاتھ دے دیا تھا.
” ماشاءﷲ کتنے پیارے لگ رہے ہمارے بچے. ﷲ اِن کو ہمیشہ خوش رکھے. اب مزید کوئی دکھ درد اِن کے قریب بھی نہ بھٹک پائے. بہت مصیبتیں اور غم برداشت کیے ہیں انہوں نے. لیکن یا رب اِن کی آنے والی زندگی خوشیوں سے بھر دینا.”
اُن دونوں کو ایک ساتھ سٹیج کی طرف بڑھتا دیکھ ناہید بیگم کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے تھے. آج اُن کا ارتضٰی خوش تھا. اُسے اُس کا سکون اُس کی ماہ روش مل چکی تھی.
” آمین ثم آمین بھابھی. انشاءﷲ اب ایسا ہی ہوگا.”
زینب ناہید بیگم کا ہاتھ دباتے محبت سے بولیں. کتنی خواہش تھی نا اُن کی اپنی ماہ روش اپنی گڑیا کو دلہن کے رُوپ میں دیکھنے کی جو آج پوری ہوچکی تھی. وہ نجانے کتنی بار اُن دونوں کی نظر اُتار چکی تھیں.
ایک ساتھ بیٹھے وہ اتنے پیارے لگ رہے تھے کہ اُن کی جوڑی سے کسی کی نظریں ہٹ ہی نہیں رہی تھیں.
ارتضٰی ماہ روش کے بلکل ساتھ بیٹھا ہوا تھا. جبکہ اُس کا بازو صوفے کی ٹیک کے اُوپر رکھا تھا.
ماہ روش کی کمر سے ارتضٰی کا بازو ٹچ ہورہا تھا. اور ماہ روش کی دھڑکنوں کا شور ارتضٰی کے اتنے قریب ہونے اور اُوپر سے کمر پر اُس کا لمس محسوس کرتے اتنا بڑھ چکا تھا کہ اُسے کچھ اور سنائی ہی نہیں دے رہا تھا.
ماہ روش کو دیکھ ارتضٰی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنی اِس نازک سی گڑیا کو پوری دنیا سے چھپا کر اپنے دل میں چھپا لے.
ارتضٰی ماہ روش کو ایک دو بار مخاطب کرچکا تھا. مگر وہ چہرے پر مصنوعی ناراضگی سجائے ارتضٰی سے کوئی بات بھی کرنے کو تیار نہیں تھی.
” ڈونٹ وری جاناں آج تمہاری ہر ناراضگی ہر شکوہ اتنی محبت سے دور کروں گا. کہ تم دوبارہ کبھی مجھ سے ناراض ہونے کے بارے میں سوچو گی بھی نہیں. “
ارتضٰی کی گھمبیر سرگوشی پر ماہ روش کو اپنی ہتھیلیاں پانی سے بھیگتی محسوس ہوئی تھیں. آنے والے لمحوں کا سوچتے ماہ روش کی حالت غیر ہونے لگی تھی. کیونکہ ارتضٰی کی شوخیاں تو ابھی سے عروج پر تھیں.
آخر کار وہ ٹائم آہی گیا تھا جس کے لیے ارتضٰی بے قراری سے انتظار کر رہا تھا.
مگر ماہ روش کی سانسیں اُس وقت اٹکی تھیں. جب اُسے ارتضٰی کے ساتھ اکیلا گاڑی میں بیٹھایا گیا تھا.
” ماما آپ لوگ بھی آئیں نا میرے ساتھ. “
ماہ روش اپنا لہنگا سیٹ کرتی زینب کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولی کیونکہ ارتضٰی بھی پاس ہی کھڑا تھا. محتاط انداز میں کی گئی کپکپاتی سرگوشی ارتضٰی کی سماعتوں تک پہنچ چکی تھی. جسے سنتے اک محظوظ کن مسکراہٹ ارتضٰی کے ہونٹوں پر بکھر گئی تھی.
” میری جان ارتضٰی آپ کے ساتھ ہے. آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے. “
زینب بیگم اُسے محبت سے سمجھاتیں اُس سے مل کو پیچھے ہٹ گئی تھیں.
اب ماہ روش اُنہیں کیا بتاتی کہ ارتضٰی سکندر ہی تو اُس کی گھبراہٹ کی وجہ تھا. جس کی بے رُخی برداشت کرنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں تھا. اور اب اُس کا یہ بے باک اور شوخ انداز بھی اُس کی جان نکالے ہوئے تھا.
کچھ گھنٹے پہلے ارتضٰی کے اپنے متعلق جذبات سن کر اور اُس کی محبت کی شدت دیکھ ماہ روش اپنی پچھلی زندگی کی تمام تلخیاں بھول چکی تھی.
یہ خیال ہی بہت اچھوتا اور دلفریب تھا کہ وہ دشمنِ جاں صرف اور صرف اُس کا ہے.
بیلا یا کوئی بھی اور لڑکی نہ کبھی اُن کے درمیان تھی. اور نہ ہی دوبارہ کبھی آسکے گی.
ناہید بیگم نے بیلا والی غلط فہمی بھی اُسے کلیئر کردی تھی. کہ ارتضٰی نے اُس کے ساتھ شادی پر رضامندی صرف گھروالوں کی خوشی کی خاطر دی تھی. ورنہ اُس کا کبھی بیلا میں کوئی انٹرسٹ نہیں رہا تھا.
اور ماہ روش کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا تھا. اُس کے بعد تو ارتضٰی نے صاف انکار کر دیا تھا شادی سے جس پر بیلا نا اُمید ہوتے اُس کے بے ہوشی کے دوران ہی واپس لوٹ گئی تھی.
کیونکہ ارتضٰی کی ماہ روش کے لیے دیوانگی دیکھ وہ سمجھ گئی تھی کہ میجر ارتضٰی سکندر کی زندگی میں ماہ روش کے سوا کسی لڑکی کی کوئی گنجائش نہیں تھی.
ساری حقیقت سنتے ماہ روش کے دل میں موجود آخری پھانس بھی نکل گئی تھی. وہ اب بلکل ہلکی پھلکی ہوکر یہ خوشیوں بھرے لمحے انجوائے کر سکتی تھی.
مگر اپنے اتنے دن بے وقوف بنائے جانے پر اُس نے سب سے اپنی ناراضگی کا اظہار ضرور کیا تھا. جس کے جواب میں سب سارا الزام ارتضٰی پر ڈالتے اِس سب سے بری الذمہ ہوئے تھے. اور اِس سارے کام کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ارتضٰی سکندر کو بناتے اُنہوں نے ماہ روش کو ارتضٰی سے ناراض ہونے اور لڑائی کرنے کو کہا تھا.
جبکہ ماہ روش جو واقعی ارتضٰی سے ناراض رہنے اور لڑائی کرنے کا پورا پلان بنائے بیٹھی تھی. اِس وقت اُس کے جان لیوا انداز پر وہ سب کچھ بھولے اپنی سانسوں کو شمار کرنے میں مصروف تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” زیمل پہلے مجھے شک تھا. مگر اب یقین ہوگیا ہے کہ تمہارے دماغ کے سکرو ناصرف ڈھیلے ہیں بلکہ اچھے خاصے ہلے بھی ہوئے ہیں. تم جانتی بھی ہو کہ تم کیا کرنے کو کہہ رہی ہو. “
ارحم زیمل کی بات سنتا ہتھے سے اکھڑا تھا.
” ارحم تم مجھے انکار کررہے ہو. مجھے کم از کم تم سے یہ اُمید نہیں تھی. آج تک کبھی تمہیں کسی بات سے انکار نہیں کیا. اور اب جب مجھے ضرورت پڑی ہے تو تم اِس طرح صاف انکار کررہے ہو.
اگر تمہاری جگہ ماہ روش ہوتی تو کبھی انکار نہ کرتی. بلکہ اب تک تو میری مدد کرنے کے لیے تیار بھی ہوچکی ہوتی. “
زیمل نے ارحم کو مسلسل انکاری دیکھ ایموشنل بلیک میل کرنا چاہا تھا. کیونکہ اِس وقت صرف ارحم ہی اُس کی مدد کرسکتا تھا.
” جیسے میں تو جانتا ہی نہیں ہوں نا ماہ روش کو. وہ تو اب تک اچھا خاصہ سنا کر فون بھی بند کرچکی ہوتی. ایک میں ہی ہوں جو تمہارے ساتھ سر کھپارہا ہوں. “
ارحم کا لہجہ ہنوز تھا.
” پر یار اتنا غلط بھی کیا ہے اِس میں. “
زیمل کو اگر اِس وقت ارحم سے اتنا ضروری کام نہ ہوتا تو وہ اب تک ناراض ہوکر فون بند بھی کرچکی ہوتی.
” کیپٹن زیمل آپ مجھے میجر جاذل کو کڈنیپ کرنے کا کہہ رہی ہیں. اِس میں صحیح بات کا ہے. “
ارحم زچ ہوتے بولا.
” تو کونسا سچ مچ کا کڈنیپ کرنا ہے. کچھ دیر کے لیے ہی تو کرنا ہے نا. پلیز ہیلپ کر دو. میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی. “
زیمل اب منتوں پر اُتر آئی تھی جب آخر کار کچھ سوچتے ارحم نے اُسے ہاں میں جواب دیتے فون بند کردیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” مائی لولی وائف گھر میں ایک بہت زبردست سرپرائز منتظر ہے تمہارے لیے. میں ابھی کچھ دیر تک آتا ہوں. مگر میرے واپس آنے پر چینج نہیں کرنا مجھے ابھی اِس حسین رُوپ میں جی بھر کر دیکھنا ہے تمہیں. اور اپنے سرپرائز کے ری ٹرن میں اپنی مرضی اور پسند کا گفٹ بھی وصول کرنا ہے. “
ارحم گاڑی گھر کے سامنے روکتے بولا. اور جھک کر محبت پاش نظروں سے اُس کے حسین سراپے کو آنکھوں میں بساتے اُس کی پیشانی کو چوم لیا تھا.
جب کہ اُس کی سرپرائز والی بات سن کر ریحاب جو ایکسائیٹڈ ہوئی تھی. مگر اُس کی اگلی معنی خیز بات اور انداز نے اُسے خود میں سمٹنے پر مجبور کردیا تھا.
” جی نہیں میں بہت زیادہ تھک چکی ہوں. اور مجھے نیند بھی بہت آئی ہے. اِس لیے میں آپ کا انتظار بلکل نہیں کروں گی.”
ریحاب نے اُسے چھیڑنے کے لیے لاپرواہ انداز میں کہتے گاڑی سے اترنا چاہا تھا.
مگر ارحم نے اُس کی کلائی پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا.
ریحاب اچانک اِس حملے پر گھبرا گئی تھی. ارحم کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے ریحاب کی سانسیں منتشر ہوئی تھیں.
” تو تم میرا انتظار نہیں کرو گی. “
ارحم نے ریحاب کے نرم گال پر اُنگلی پھیرے پوچھا. ریحاب کا مزاحمت کرتا دوسرا ہاتھ بھی ارحم کی گرفت میں آچکا تھا.
ارحم کے انداز پر گھبرانے کے باوجود ریحاب نے شرارتاً نفی میں سر ہلایا تھا.
” ایک بار پھر سوچ لو. “
ارحم نے اب کی بار ریحاب کے گداز ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے ہلکے سے مسلا تھا.
مگر اب بھی دل کی تیز ہوتی دھڑکنوں کے باوجود ریحاب نے ارحم کے حصار سے نکلنے کی ناکام کوشش کرتے نفی میں سر ہلایا تھا.
” لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں. “
ارحم کا انداز وارننگ دیتا ہوا تھا. کیونکہ اب اُس کا ہاتھ ریحاب جوڑے کی پن تک پہنچ چکا تھا.
اِس سے پہلے کہ ریحاب دوبارہ نفی میں سر ہلاتی ارحم یکدم اُس کے ہونٹوں پر جھکا تھا.
” ارحم پلیز میں انتظار کروں گی. “
ریحاب گردن پر ارحم کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے. اور اُس کو ہونٹوں پر جھکتا دیکھ جلدی سے بولی تھی. کیونکہ اب کی بار اُسے اپنی مستی مہنگی پڑنے والی تھی.
اُس کے گھبرا کر بولنے پر ارحم کا جاندار قہقہ گاڑی میں گونجا تھا.
” یہ ہوئی نا بات. “
ارحم ریحاب کا لال ہوتا چہرہ دیکھ اپنی مسکراہٹ نہ روک پایا تھا.
جب ریحاب مصنوعی غصے سے اُسے گھورتی گاڑی سے نکل گئی تھی.
ریحاب نے جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا سامنے براجمان شخصیت کو دیکھ وہ اپنی جگہ پر جم سی گئی تھی.
مگر اگلے ہی لمحے آنکھوں میں نمی بھرے وہ آصف صاحب کے ساتھ صوفے پر بیٹھے اپنے بابا کی طرف بڑھی تھی. وہ بھی اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے بانہیں پھیلائے اُس کی طرف بڑھے تھے. اُن کے آنکھوں میں ندامت واضح تھی.
” بابا میں نے آپ کو بہت مس کیا. آپ نے اتنی دیر کیوں کردی واپس آنے میں. کیا آپ کو زرا خیال نہیں آیا میرا اور انیس کا. اتنے سالوں میں ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا آپ نے. کیا آپ کو کبھی ہم دونوں کی یاد نہیں آئی. “
ریحاب اُن کے سینے سے لگی اپنا ہر گلہ ہر شکوہ کہتی چلی گئی تھی. جبکہ وہ نادم سے اُس کو اپنے سینے میں بھینچ گئے تھے. آصف صاحب اُن دونوں باپ بیٹی کو ٹائم دینے کے خیال سے وہاں سے اُٹھ گئے تھے.
کافی دیر بعد ریحاب جب اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرچکی تو اُن سے دور ہوئی تھی.
جو بھی تھا اُس کے بابا نے اُس کے ساتھ زندگی بھر جتنا بھی غلط کیا تھا. مگر وہ اُس کے لیے اب بھی بہت قابلے احترام تھے. وہ اُن کو اِس طرح شرمندہ اور معافی مانگتے نہیں دیکھ سکتی تھی. اِس لیے اپنا ظرف بڑا کرتے وہ اُن کے یہاں تک آجانے پر ہی خوش ہوتی اُنہیں اُن کی کوتاہیوں پر معاف کرچکا تھی.
اُن کی زبانی یہ جان کر کہ ارحم صرف اُس کی خوشی کی خاطر اُنہیں یہاں لایا تھا. ریحاب اپنی قسمت پر نازاں ہوئی تھی. ارحم اُس کی آنکھوں کی اُداسی برداشت نہیں کر پایا تھا.
ریحاب کو اب شدت سے ارحم کا انتظار تھا. جو اِس دنیا میں سب سے زیادہ اُس کا اپنا تھا. اُس کے بن کہے اُس کی ہر بات سمجھنے والا. ابے پناہ محبت اور چاہے جانے کا احساس کیا ہوتا ہے یہ اُسی شاندار انسان نے ہی تو بتایا تھا.
اُس کی زندگی کی ہر کمی تو وہ پہلے ہی اپنی بے پناہ محبت سے دور کرچکا تھا. اور آج اُس کی اُداسی کی آخری وجہ بھی دور کرگیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

زیمل جو کب سے گاڑی میں بیٹھی ارحم کے میسج کا انتظار کر رہی تھی. میسج کی ٹیون بجتے ہی فوراً گاڑی سٹارٹ کرتی آگے بڑھا دی تھی.
” یہ پکڑو فلیٹ کی کی اب اگر میجر جاذل نے اِس فضول حرکت پر تمہارا سر پھاڑا تو مجھے فون کرنے کی کوشش مت کرنا.”
ارحم زیمل کو فلیٹ کی کیز دیتے انجام سے آگاہ کرتے بولا.
” اب ڈراؤ تو مت.”
زیمل اُس کی بات پر اُسے گھورتے ہوئے بولی.
” تو اور کیا. بے چارے میجر جاذل نے بھی کیا قسمت پائی ہے. اُن کی اپنی بیوی نے اُنہیں کڈنیپ کروایا ہے. وہ بھی کہاں اُنہیں کے فلیٹ میں.
بہت اعلیٰ کیا کہنے آپ کے کیپٹن زیمل. اوکے اب میں چلتا ہوں. “
ارحم اُس کا مذاق بناتے اُسے گڈ لک کہتا وہاں سے نکل گیا تھا.
زیمل نے جھجھکتے اندر قدم رکھا تھا.
جاذل کو کرسی پر رسیوں سے باندھا گیا تھا. اُس کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف لے جاکر باندھے گئے تھے. جبکہ ہونٹوں پر بلیک کلر کی پٹی بندھی ہوئی تھی.
اور بے ہوش ہونے کی وجہ سے اُس کا سر ایک جانب لڑھکا ہوا تھا. کمرے میں سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا.
جب آہستہ آہستہ ہوش میں آتے جاذل نے آنکھیں کھولی تھیں. اندھیرے کی وجہ سے وہ کچھ خاص دیکھ نہیں پایا تھا. اُسے اپنے سامنے کوئی کھڑا نظر آیا تھا.
مقابل نے اُس کی پریشانی کو دیکھتے جیسے ہی ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ جاذل ساکت ہوا تھا.
” تم تم نے مجھے کڈنیپ کیا. اور یہ سب کیا ہے. “
جاذل نے منہ پر بندھی پٹی کو منہ جھٹک کر نیچے کرتے بمشکل پوچھا.
جاذل کی آنکھوں میں موجود حیرت اور بے یقینی دیکھ وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی.
” بلکل ایسا ہی ہے تو پھر کیسا لگا میرا سرپرائز میجر جاذل ابراہیم.”
زیمل نے سینے پر ہاتھ باندھے اُس سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوتے ہوئے مزے سے پوچھا.
” یہ بچکانہ حرکت کرنے کی وجہ. “
جاذل نے سپاٹ تاثرات سے اُس کی طرف دیکھا.
” بچکانہ نہیں میجر جاذل. اِسے چیلنج پورا کرنا کہتے ہیں. “
زیمل جاذل کے ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے شیر ہوتے بولی.
” چیلنج مجھے کڈنیپ کرنا نہیں تھا. “
جاذل زیمل کے تیور پر غور کرتے بولا. جو اُسے رسیوں میں باندھوا کر بڑی دلیر بنی اُس کو تنگ کررہی تھی.
” یہ چیلنج میں نہیں تھا مگر اب میں چیلنج پورا کروں گی نا. “
زیمل کچھ فاصلے پر رکھی کرسی گھسیٹ کر جاذل سےاچھا خاصہ دور رکھتے بیٹھ گئی تھی.
جبکہ جاذل تحمل سے بیٹھا اُس کی تمام حرکات نوٹ کررہا تھا. اُس نے ایک بار بھی ہاتھ چھڑانے کی یا مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی.
” اگر آپ سیٹ ہوگئی ہیں تو میرے ساتھ یہ اب کرنے کی وجہ بیان کریں گی. “
جاذل کے طنز پر زیمل نے اُسے ایک گھوری سے نوازا تھا.
” نہیں ابھی ایک کام رہتا ہے. “
زیمل نے اپنی کلائی پر بندھی پٹی کھول کر جاذل کی آنکھوں پر باندھ دی تھی. جو سب سے زیادہ فساد کی جڑ تھیں. اور اُسے ہر بار کنفیوز کردیتی تھیں.
” واٹ نان سینس زیمل یہ کیا کررہی ہیں آپ. “
جاذل اُس اِس حرکت پر اچھا خاصہ تپا تھا. مگر وہ زیمل ہی کیا جس پر اثر ہو.
” میجر جاذل خاموش ہوکر بیٹھیں ورنہ میں نے آپ کے منہ کو بھی ایسے ہی باندھ دینا ہے. بھولیں مت آپ مکمل طور پر میرے رحم و کرم پر ہیں. “
زیمل نے جاذل کو بے بس کرکے بہادر بنتے کہا.
” میجر جاذل ابراہیم آپ نہیں جانتے کہ میں کیسی جذبات سے عاری لڑکی تھی. جس کو یہ پیار محبت سب فضول اور ٹائم ویسٹنگ سے زیادہ کچھ نہیں لگتا تھا.
شادی تو میرے لیے ایک زبردستی مسلط کرنے والا بندھن ہی تھا.
مگر پھر ایک اُلٹے دماغ کے میجر نے آکر بہت ہی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ مجھے ایسے اپنی باتوں میں الجھایا کہ شادی کے نام پر چڑنے والی زیمل آرام سے شادی پر مان گئی. اور بس یہیں تک نہیں رہا. اُس چھچھورے میجر نے اپنی حرکتوں سے نے میرے معصوم سے دل کو ایسا اپنے حال میں پھنسایا کہ پیار محبت کی باتوں پر ہنسنے والی خود ہی اِن کا بُری طرح شکار ہوگئی. “
زیمل کی انوکھی اور دلچسپ کہانی سنتے جاذل کے چہرے پر ایک زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
آنکھوں پر پٹی بندھے ہونے کی وجہ سے وہ زیمل کے ایکسپریشنز تو نہیں دیکھ پایا تھا. مگر اُس کے منفرد انداز میں کیا گیا اظہار اُسے مزا دے گیا تھا.
” یہ کیسا اظہار ہوا. کیپٹن زیمل محبت کا بھلا ایسا اظہار کون کرتا ہے. اور اب تو یہ پٹی ہٹا دیں میری آنکھوں سے. “
جاذل جان بوجھ کر اُسے چھیڑتے ہوئے بولا.
” یہ میرا سٹائل ہے. اور یہ پٹی آپ خود کھول لیجئے گا میں تو جارہی ہوں. “
زیمل جلدی سے کرسی سے اُٹھتے باہر کی طرف بڑھی تھی. مگر اُس سے پہلے ہی جاذل نے رسیوں سے ہاتھ چھڑاتے زیمل کی کلائی اپنی گرفت میں لیتے اُسے ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنی گود میں گرایا تھا.
” اتنی جلدی بھی کس بات کی ہے ڈارلنگ. “
جاذل زیمل کے گرد اپنی بانہوں کا حصار باندھتے بولا.
جبکہ جاذل کے کھلے ہاتھ اور آنکھوں سے ہٹی پٹی دیکھ زیمل کا اُوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارتضٰی نے گاڑی ایک بہت ہی خوبصورت سے فارم ہاؤس کے سامنے جاکر روکی تھی. جب اُس کے پہلے ہی ہارن بجانے پر بڑا سا گیٹ کھلتا چلا گیا تھا.
ماہ روش جو باہر سے ہی وہاں کی خوبصورتی کا اندازہ لگا رہی تھی. جیسے ہی گاڑی اندر داخل ہوئی اردگرد وسیع اعراضی پر پھیلا لان جس پر رات کے اندھیرے میں بھی دور دور تک پھیلے جگمگاتے دیے اور وہاں لگے پھول پودوں پر لگی مختلف رنگوں کی برقی قمقمے ایک الگ ہی نظارہ پیش کررہی تھیں.
پورا فارم ہاؤس مختلف سٹائل کی دلکش لائٹنگز سے سجا ہوا تھا. اتنا خوبصورت منظر ماہ روش کے موڈ کو بلکل فریش کرگیا تھا.

جاری ہے

part 2

ماہ روش ابھی اِس خوبصورت ماحول کے زیر اثر تھی. جب ارتضٰی نے اُس کی سائیڈ کا دروازہ کھولتے اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا. ماہ روش کا خود اور مطمئین انداز ارتضٰی کے دل سے بہت سارا بوجھ سرکا گیا تھا.
ماہ روش ارتضٰی کی جذبے لُٹاتی آنکھوں میں دیکھتے فوراً نظریں جھکا گئی تھی. اور کچھ ہچکچاتے اپنا جیولری اور مہندی سے سجا ناذک ہاتھ اُس کے مضبوط ہاتھ پر رکھ دیا تھا.
اندر کو جاتی پوری روش پر پھولوں کی چادر بچھائی گئی تھی. ارتضٰی کا ہاتھ تھامے اُس کے ساتھ قدم اُٹھا کر اندر کی طرف بڑھتے ماہ روش کا دل چاہا تھا یہ حسین پل کبھی ختم نہ ہوں. آج اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوگئی تھی. اُس نے آج میجر ارتضٰی سکندر کو پالیا تھا ہمیشہ کے لیے.
ماہ روش نے کن اکھیوں سے اپنے ساتھ چلتے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا. جو اُس کی نظریں اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہلکے سے مسکرایا تھا.
اور جھک کر اُسے اپنی بانہوں میں اُٹھاتے اُس کی دونوں آنکھوں کو چوم لیا تھا.
” مجھے چھپ چھپ کر دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں. مجھے سر عام دیکھنے اور پیار کرنے کا حق صرف اور صرف تمہارے پاس ہے. “
بڑے سے گھیرے دار لہنگے میں ارتضٰی کی بانہوں میں وہ کوئی نازک سی گڑیا لگ رہی تھی. اِس وقت اُسے دیکھ کر نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ ایک بہت ہی بہادر اور خطرناک آفیسر ہے. کیونکہ اِس وقت عروسی جوڑے میں اپنا پور پور سجائے وہ ارتضٰی سکندر کی سہاگن لگ رہی
تھی. جو اپنے تن من دھن سے صرف میجر ارتضٰی سکندر پر فدا تھی.
اُسے اُس شخص سے محبت نہیں عشق تھا. جبھی تو اُس کی اتنی بے رُخی کے باوجود بھی وہ اُس سے بدگمان نہیں ہوپائی تھی. بلکہ اپنے عشق اور محبت پر یقین رکھتے آج اُسے پا لیا تھا.
” مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی. پلیز مجھے نیچے اُتاریں. “
ماہ روش ارتضٰی کی شوخ حرکتوں اور نظروں سے پزل ہوتے بمشکل اپنی ناراضگی کا اظہار کر پائی تھی.
فارم ہاؤس اندر سے اِس قدر خوبصورت تھا کہ ماہ روش باہر کا منظر تو بھول ہی گئی تھی.
” تو میں کونسا بات کرنا چاہتا ہوں.آج تو میں صرف اور صرف پیار کرنے کے موڈ میں ہوں.”
ارتضٰی اُسے ویسے ہی بانہوں میں اُٹھائے بیڈ روم میں داخل ہوا تھا. ارتضٰی کے اندر قدم رکھتے ہی اُن دونوں پر پھولوں کی ہلکی ہلکی برسات شروع ہوچکی تھی.
بیڈ روم کی سجاوٹ تو دیکھنے لائک تھی. مدھم سی روشنی ایک رومانوی سا ماحول پیش کررہی تھی. پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو دل و دماغ پر ایک سحر سا طاری کررہی تھی.
ارتضٰی نے ماہ روش کو اندر لے جاتے بیڈ روم کے وسعت میں جاکر اُتار دیا تھا. جب ماہ روش اُس کی بات سن کر شرم سے دوھری ہوئی تھی.
ارتضٰی نے گہری نظروں سے اُس کے دلنشین سراپے کی طرف دیکھا.
گھنیری پلکیں ارتضٰی کی پرتپیش نظروں سے لرز رہی تھیں. لال لپسٹک سے سجے شنگرفی ہونٹ کپکپانے لگے تھے.
ارتضٰی نے ماہ روش کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
” ماہ روش تم جانتی ہو. اپنی پوری زندگی میں نہ میں نے کبھی کسی سے خوف کھایا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی بات میرے لیے ڈر کی وجہ بنی ہے.
مگر اُس دن تمہیں خون میں لت پت دیکھ. میری جان نکل گئی تھی. زندگی میں پہلی بار میرا دل خوفزدہ ہوا تھا. زندگی چھن جانے کا ڈر کیا ہوتا ہے. مجھے اُس دن پتا چلا تھا.
آج تک اپنی زندگی میں کیے کسی بھی عمل پر کبھی نہیں پچھتایا میں. نہ کبھی کسی بات پر ندامت محسوس ہوئی کیونکہ میرے نزدیک میں ہر معاملے میں پرفیکٹ تھا.
مگر میری پرفیکشن فیل ہوگئی کیونکہ تمہارے ساتھ جو سلوک میں نے رواں رکھا اُس پر اگر میں زندگی بھر بھی پچھتاؤں تو شاید تب بھی کم ہے. جس شخص سے تمہیں سب سے زیادہ عزت ملنی چاہی تھی. جسے سب سے زیادہ تمہیں مان اور وقار کا بخشنا چاہئے تھا. وہ ہی تمہیں سب سے زیادہ تکلیف اور دکھ دیتا رہا. بنا کسی قصور کے بات بے بات بےعزت کرتا رہا.
لیکن میری باتیں اگر تمہیں تکلیف پہنچاتی تھیں تو سکون میں میں بھی نہیں ہوتا تھا. تمہیں خود سے دور کرکے تمہیں دھتکار کر میں خود بھی بہت تڑپا ہوں. ایک پل چین نہیں پاسکا. کیونکہ میرے سکون میرے قرار کی وجہ تو تم تھی. میری بے پناہ محبت کی حقدار صرف تم ہو. تم وہ واحد ہستی ہو اِس دنیا میں جسے دیکھ کر ارتضٰی سکندر کے دل و جان میں سکون سرایت کرتا ہے.”
ماہ روش دم سادھے ارتضٰی کی طرف دیکھ رہی تھی. اُس کا ایک ایک لفظ ماہ روش کو اپنے دل میں اُترتا محسوس ہورہا تھا.
اُس کا دل چاہا تھا ارتضٰی سکندر ایسے ہی بولتا رہے اور وہ تاعمر اُسے سنتی رہی. ایسی ہی تو دیوانی تھی. وہ ارتضٰی سکندر کی.
“میں دل کی پوری سچائی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں. کہ ارتضٰی سکندر اپنی ماہ روش کے بغیر کچھ نہیں ہے. میں جانتا ہوں میں شاید دنیا کا سب سے بُرا اور ظالم انسان ہوں. جس نے اپنی ہی محبت کو اذیت میں رکھا.
میں جانتا ہوں جتنا بُرا میں تمہارے ساتھ کر چکا ہوں. مجھے معاف کرنا میرے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کرنا تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا.
اور نہ ہی میں تمہیں کسی بھی معاملے میں فورس کرو گا. کیونکہ تمہارے معاملے اب یہ دل موم سے بھی زیادہ نرم ہوچکا ہے. تم اِس دنیا کی وہ واحد ہستی ہو. جس کا میں زندگی بھر غلام بن کررہنے کو تیار ہوں.
تمہاری ہر بات سر آنکھوں پر لیکن اگر کبھی مجھے چھوڑنے یا مجھ سے دور جانے کی بات کی تو ارتضٰی سکندر کو واپس پہلے والے رُوپ میں آنے سے شاید کوئی نہ روک پائے.
قریب ہوتے ہوئے بھی تم سے دور رہنا میرے لیے بہت جان لیوا ثابت ہوگا. مگر میں اب اِسے آگے مزید کوئی کام بھی تمہاری مرضی کے بغیر نہیں کرنا چاہتا. کیونکہ اب میرے لیے خود سے بھی زیادہ تم اور تمہاری خوشی امپیورٹنٹ ہے. “
ارتضٰی اپنا شدت بھرا لمس اُس کے ماتھے پر چھوڑتا اُس کی کمر سے ہاتھ ہٹاتا پلٹا تھا.
اور بس یہیں تک تھی ماہ روش کی صبر کی انتہا. ارتضٰی سکندر آج بھی اُسے سمجھ نہیں پایا تھا. وہ تو اُس سے کبھی ناراض بھی نہیں ہوپائی تھی. اُس کا ہر ستم سر آنکھوں پر رکھے وہ ہمیشہ اُس کے پلٹنے کی منتظر رہی تھی.
کیونکہ اُس نے ارتضٰی کو جنون کی حد تک چاہا تھا. جس میں بنا کسی نفع نقصان کہ وہ صرف اپنے محبوب کی ایک نظر کرم کی منتظر رہی تھی. اور اُس کا کیا کہنا تھا کہ ارتضٰی سکندر کا ساتھ اُس کے لیے خوش کن نہیں تھا.
ماہ روش نے بنا ڈرے طیش میں آتے خود سے دور ہٹتے ارتضٰی سکندر کے کالر کو اپنے ہاتھ میں جکڑے اُس کا رُخ اپنی جانب موڑا تھا.
کیونکہ ارتضٰی کی بات سیدھا اُس کے دل پر جا کر لگی تھی.
” میجر ارتضٰی سکندر آپ واقعی بہت بُرے ہیں. آپ کو نہ کبھی پہلے میری فیلنگز کا خیال تھا نہ اب ہے. آپ جیسا سنگدل انسان میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا.
آپ یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ آپ کا ساتھ میرے لیے تکلیف کا باعث بن سکتا ہے. جس شخص کو میں نے اِس دنیا میں سب سے زیادہ چاہا ہے. ہر پل جس کی خواہش کی ہے. جس کی تڑپ میں میں اندر ہی اندر جل رہی تھی. اُس کا کہنا ہے کہ میں اُس کے ساتھ پر خوش نہیں ہوں. “
آج پہلی بار پورے ہوش و حواس میں ماہ روش نے خود ارتضٰی کو اپنے قریب کیا تھا. کیونکہ ہمیشہ اُس کی بات پورے تحمل اور صبر سے سننے اور سہنے والی آج یہ بات کسی طور برداشت نہیں کر پائی تھی.
ماہ روش اپنی ہی دھن میں بولتی ارتضٰی کی آنکھوں میں تیرتی شرارت اور پر شوق انداز نہیں دیکھ پائی تھی.
” سر آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں. آپ نے جو کچھ بھی کیا اگر میں آپ کی جگہ ہوتی تو ایسا ہی کرتی. اپنے پورے خاندان اور ملک کی بربادی کے ذمہ دار درندہ صفت شخص کی بیٹی کو اپنے سامنے دیکھنا آپ کے لیے کتنی تکلیف کی بات ہوگی میں سمجھ سکتی ہوں.
اور بدگمان ہونا تو دور کی بات میں تو آج تک کبھی آپ سے ناراض بھی نہیں ہوپائی. کیونکہ آپ سے دور ہونا میرے لیے شاید ناممکن ہو.
آپ کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے میری دیوانگی میرے پاگل پن کو کیونکہ ماہ روش ارتضٰی سکندر کو آپ سے محبت نہیں عشق ہے. اور جس میں دن بدن اضافہ ہی ہورہا ہے. میں مر تو سکتی ہوں مگر ارتضٰی سکندر سے عشق کرنا نہیں چھوڑ سکتی. مگر آپ جیسا سنگدل اور کھڑوس انسان کبھی مجھے سمجھ ہی نہیں سکا.
دشمن کی چھوٹی سی چھوٹی حرکت پر نظر رکھنے والے میجر ارتضٰی سکندر. میرے دل کی بات کبھی سمجھ ہی نہیں پائے.
اُس دن اگر غصہ میں میں نے آپ سے کچھ بول دیا تو بجائے مجھ سے بات کلیئر کرنے کے آپ نے مجھ سے مزید دوری اختیار کرلی. آپ سے زیادہ بُرا اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے. آئی ہیٹ یو. آئی ہیٹ یو سو مچ. “
ماہ روش ارتضٰی کے گریبان کو جکڑے غصے میں اُسے اپنے دل کی ہر بات بتاتی چلی گئی تھی. اُس کے لیے اپنی تڑپ, اپنی چاہت اور سب سے بڑھ کر اپنی دیوانگی کی انتہاؤں کو چھوتا عشق.
ارتضٰی ماہ روش کے غصے میں کیے گئے اظہار پر اندر تک سرشار ہوا تھا. ماہ روش سے دور رہنا تو اُس کے لیے اب کسی صورت ممکن نہیں تھا. مگر دل کہیں نہ کہیں اُس کا اظہار سننا چاہتا تھا. ارتضٰی جانتا تھا ایسے تو آرام سے ماہ روش اُس کے سامنے کبھی اظہار نہیں کرے گی. اِس لیے ارتضٰی نے اپنا طریقہ آزمایا تھا. اور فوراً اُس میں کامیاب بھی ہوا تھا.
ماہ روش جو اپنی بات کہتے بنا ارتضٰی کی آنکھوں میں چھاتی خماری محسوس کرتی جیسے ہی غصے سے وہاں سے پلٹنے لگی تھی. ارتضٰی نے اُس کی دودھیا کلائی اپنی گرفت میں قید کر لی تھی.
” سر پلیز مجھے اب آپ سے مزید کوئی بات نہیں کرنی. آپ اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں. “
ماہ روش نے ارتضٰی سے اپنی کلائی چھڑوانی چاہی تھی.
” یار کوئی اتنا سوفٹ کیسے ہوسکتا ہے. تم کیا کھاتی ہو ایسا. مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہیں آج میں اِن کو کھا ہی نہ جاؤں. “
ارتضٰی ماہ روش کی ہاف سلیوز سے جھانکتی نرم و نازک سُرخ کلائیوں پر اپنے ہاتھ پھیڑ کر اُن کی نرماہٹیں محسوس کرتے بہکے ہوئے لہجے میں بولا.
جب کہ اُس کے لمس اور الفاظ پر ماہ روش کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سے محسوس ہوئی تھی.
” سر پلیز یہ کیا کررہے ہیں آپ. ابھی تو آپ دور رہنے کی بات کررہے تھے نا. “
ارتضٰی کے بدلتے تیور دیکھ ماہ روش کے اوسان خطا ہوئے تھے. اُسے احساس ہو گیا تھا کہ شاید جذبات میں وہ کچھ زیادہ ہی بول گئی ہے.
” مائی ڈئیر اِنوسینٹ وائف. میری بات کا مطلب سمجھ نہیں پائی کیا. اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں اتنی تڑپ اور تکلیف دہ مراحل سے گزرنے کے بعد بھی آج تم سے دستبردار رہ سکوں گا.
وہ سب صرف تمہارے اپنے بارے میں جذبات جاننے کے لیے بولا تھا. اور دیکھو میری باتوں کے جال میں پھنستے تم نے سب کہہ دیا. جو اتنے آرام سے شاید کبھی نہ کہتی.”
ارتضٰی کی بات پر ماہ روش کو اپنی بے وقوفی اور جلدبازی پر جی بھر کر افسوس ہوا تھا. مگر اب کیا ہوسکتا تھا اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا.
ارتضٰی سکندر کی شوخیاں اور بے باکیاں ماہ روش کے دل میں اودھم مچا رہی تھیں.
ارتضٰی نے ہاتھ بڑھاتے ماہ روش کے دوپٹے کو پنوں سے آزاد کردیا تھا. جو لڑھک کر اُس کے کندھوں سے ہوتے نیچے فرش پر جاگرا تھا.
ماہ روش کا پورا جسم ارتضٰی کی اِس طرح نزدیکی اور اپنے حلیے پر لرزنے لگا تھا.
” آپ بہت تیز ہیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی.”
ماہ روش نے جلدی سے وہاں سے فرار ہونا چاہا تھا. مگر اُس سے بھی پہلے ارتضٰی نے اُس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈالتے جھٹکے سے اپنے قریب ترین کرلیا تھے.
اُس کے بال جو جوڑے کی شکل میں لپٹے ہوئے تھے. ارتضٰی نے ہاتھ بڑھاتے اُن کو بھی آزادی بخش دی تھی. جو کسی آبشار کی طرح ماہ روش کی کمر پر بکھر گئے تھے.
ماہ روش کا ہوشربا حُسن ارتضٰی کے لیے اب ایمان شکن ثابت ہورہا تھا. اِس سے زیادہ وہ اپنے صبر کا امتحان نہیں لے پایا تھا.
ارتضٰی پوری بے تابی اور بے قراری کے ساتھ ماہ روش کے سُرخیاں چھلکاتے چہرے ہر جھکا تھا. اور اپنے والہانہ پیار کا ثبوت دیتا چلا گیا تھا. ارتضٰی کے ہونٹوں کا لمس ماہ روش کے چہرے کے ایک ایک نقوش پر اپنی بے
قراریوں کا نشان چھوڑتا اُس کو مزید دھکا گیا تھا. ماہ روش کو اپنا آپ ارتضٰی کے ٹھاٹھیں مارتے محبت کے سمندر میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا.
” سر می…… “
ماہ روش نے ہلکا سا کسمساتے کچھ کہنا چاہا تھا. جب ارتضٰی اُس کے ہونٹوں پر جھکتے اُس کے الفاظ اپنے اندر دبا گیا تھا.
ارتضٰی کی شدتوں پر ماہ روش نے بے حال ہوتے اُس کی شرٹ کو سختی سے اپنے ہاتھوں میں دبوچا تھا. کیونکہ ارتضٰی اپنی سانسیں اُس کی سانسوں میں اُنڈھیلتا اُسے آدھ موا کرگیا تھا.
جب کافی دیر تک ارتضٰی نے محسوس کیا تھا کہ ماہ روش کی سانسیں اٹک رہی ہیں تو اُس پر ترس کھاتے ارتضٰی نے اُس کے ہونٹوں کو آزادی بخشی تھی.
ماہ روش نے ارتضٰی کے سینے پر سر ٹکاتے اپنی اُکھڑتی سانسوں کو بحال کرنا چاہا تھا.
” بہت دکھ اور غم دیے ہیں نا میں نے تمہیں مگر اب اتنا پیار اتنی محبت دوں گا. کہ پچھلی ہر کوتاہی ہر حساب سود سمیت پورا کردوں گا. کہ تم اپنی قسمت پر رشک کرو گی. “
ارتضٰی نے جھک کر ماہ روش کے کان میں سرگوشی کی تھی. جسے سنتے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ماہ روش نے آسودگی سے اُس کے سینے پر سر ٹکا دیا تھا.
جب اُسے اپنی گردن پر ارتضٰی کا لمس محسوس ہوا تھا. اور اُس کی نارمل ہوتی سانسیں ایک بار پھر تیز ہوئی تھیں. ارتضٰی نے ماہ روش کی گردن کو بھاری نیکلس کے بوجھ سے آزاد کردیا تھا.
ماہ روش ارتضٰی کے سینے سے سر ہٹاتے پیچھے ہٹی تھی.
جب ارتضٰی نے اُس کی نتھ کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا.
” یار اِس نے بہت ڈسٹرب کیا ہے مجھے اب. “
ارتضٰی کی بات کا مطلب سمجھتے ماہ روش شرم سے دوھری ہوئی تھی.
” سر مجھے چینج کرنا ہے. “
ماہ روش ارتضٰی کی حرکتوں پر قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی. ارتضٰی کی بولتی نگاہیں اُسے خود میں سمٹنے پر مجبور کررہی تھیں.
” اُسی میں ہی تو ہیلپ کررہا ہوں. “
ارتضٰی نے اُس کے بالوں کو ہٹاتے اُس کی قمیض کی ڈوری کو اپنی گرفت میں لیا تھا.
ماہ روش کو لگ رہا تھا ارتضٰی کی بڑھتی گستاخیاں برداشت کرتے اگر وہ مزید کچھ دیر یہاں کھڑی رہی تو ضرور بے ہوش ہو کر گر جائے گی.
اُسے اِس بات کا تو بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ہمیشہ سخت مزاج اور روڈ سا رہنے والا وہ اکڑو کھڑوس میجر ارتضٰی سکندر اتنا رومینٹک بھی ہوسکتا ہے.
” سر پلیز مجھے آپ کی ایسی کوئی ہیلپ نہیں چاہیئے. “
ماہ روش سے بولنا مہال تھا.
” مگر مجھے تو کرنی ہے. “
ارتضٰی نے ماہ روش کی ڈوری کو ہلکا سا جھٹکا دیتے کھول دیا تھا.
ماہ روش نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی تھیں. شرم اور حیا سے وہ پوری طرح کانپ رہی تھی. اب تو اُس کے لیے اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا بھی محال ہورہا تھا.
جب ارتضٰی اُس کو ایک بار پھر اپنی مضبوط بانہوں میں اُٹھائے بیڈ کی طرف بڑھا تھا. ماہ روش کو نرمی سے بیڈ پر لٹاتے ارتضٰی اپنا کوٹ اُتار کر صوفے پر اُچھالتے تیز تیز سانسیں بھرتی ماہ روش پر جھکا تھا.
” کیا ہوا میری جان ابھی سے گھبرا گئی. ابھی تو میرے اتنے سالوں کی تڑپ , بے قراری اور دیوانگی سہنا باقی ہے. اور آج تمہارے اِس بے پناہ حُسن اور اِس دلکش پاگل کرتے رُوپ نے میرے رہے سہے اوسان بھی خطا کردیے ہیں. اب میرے لیے اِن بے قابو جذبوں پر قابو پانا ممکن نہیں رہا. میں آج تمہیں مکمل طور پر اپنے رنگ میں ڈھالنا چاہتا ہوں. “
ارتضٰی کی گرم سانسوں کی تپش اور اُس کی لوح دیتی آنکھوں میں موجود جذبوں کی آنچ ماہ روش کو مزید اُس کا اسیر بنا رہی تھی.
ارتضٰی کو اپنے گردن پر جھکتا دیکھ ماہ روش نے خود سپردگی کے عالم میں اُسے اپنا آپ سونپ دیا تھا. وہ اُس کا سب کچھ ارتضٰی سکندر کے لیے ہی تو تھا.
ارتضٰی جیسے انا رکھنے والے شخص نے جس طرح سب کے سامنے اُس کے آگے جھک کر معافی مانگی تھی. یہ بات ارتضٰی کو ماہ روش کے دل میں سب سے اونچی مسند پر بیٹھا گئی تھی.
اُس کا شوہر عام مردوں کی طرح نہیں تھا. اگر اُس نے کچھ غلط فہمیوں کی بنیاد پر اگر اُس کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا تھا. تو سب کے سامنے اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے اپنی زندگی میں سب سے اُونچا مقام بھی بخشا تھا.
ورنہ ایک ناجائز اور ایک ملک فروش گھٹیا شخص کے سائے میں پلنے والی لڑکی کو اپنانا اور اتنی عزت دینا آج کل کے دور میں آسان کام نہیں تھا.
لیکن ارتضٰی سکندر جیسا اٹل اور پختہ ارادے رکھنا والا شخص ہی اتنا اعلیٰ ظرف ہی ہوسکتا تھا.
ارتضٰی ماہ روش کی کالی گھنی سیاہ زلفوں میں چہرہ چھپائے اپنی محبت کی داستان سنا رہا تھا.
ارتضٰی سکندر نے ماہ روش کو اُس رات اپنی محبتوں, چاہتوں اور شدتوں کی بارش میں اتنا بھیگویا تھا کہ اُسے اپنے ہونے پر فخر محسوس ہونے لگا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” یہ یہ سب کیا. آپ کے ہاتھ تو بندھے ہوئے تھے. تو پھر آپ یہ……… اِس کا مطلب ارحم کے ساتھ مل کر آپ لوگوں نے مجھے بے وقوف بنایا.”
زیمل کے چہرے کا رنگ اُڑ چکا تھا. کیونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ جو کچھ کہہ اور کر چکی تھی. اُس کا انجام سوچتے زیمل کی جان ہوا ہوئی تھی.
” رئیلی کیپٹن زیمل ایک آفیسر ہوکر آپ اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کرسکتی ہیں. “
جاذل نے اُسے مزید چڑایا تھا. مگر اُس کی مسلسل کوششوں کے باوجود بھی اپنی گود سے اٹھنے نہیں دیا تھا.
” بے وقوفی نہیں. اُس بدتمیز کیپٹن ارحم پر بھروسہ کرنا ہی نہیں چاہیے تھا. میرا دوست ہوکر اُس نے میرے ساتھ ہی غداری کی. اُس کو تو میں چھوڑوں گی نہیں.”

جاری ہے