Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

ارحم کو گئے کافی دیر ہوچکی تھی مگر ریحاب کی دھڑکنیں ابھی بھی معمول پر نہیں آرہی تھیں.
ارحم کے انداز سے لگ رہا تھا وہ اُسے معاف کر چکا ہے. مگر ریحاب ایک بار اُس سے بات کلیئر کرکے معافی مانگنا چاہتی تھی. لیکن ارحم کی آج کی شوخیاں دیکھ اُسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ اُس سے بات کیسے کرے.
ایک دفعہ تو گھبرا کر ریحاب کا دل چاہا تھا کہ سو جائے. مگر پھر ارحم کی پیار بھری دھمکی یاد آتے اُس کی دھڑکنے تیز ہوجاتی تھیں.
دو گھنٹے ہونے والے تھے جب ریحاب اپنی سوچوں سے گھبرا کر بیڈ کی طرف بڑھی تھی. اور خود کو اچھے سے کمبل سے کور کرتے سونے کی کوشش کرنے لگی تھی. مگر رات کے دو بج جانے کے باوجود نیند اُس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی.
جب اچانک اُسے ارحم کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا. ریحاب کی دھڑکنوں کی رفتار نے مزید سپیڈ پکڑی تھی. اگلے پانچ منٹ میں ارحم کمرے میں داخل ہوا تھا.
جب ریحاب پر نظر پڑتے ہی مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر بکھری تھی. وہ جانتا تھا اُسے آگے سے کوئی ایسا نظارہ ہی ملنے والا ہے.
واش روم سے چینج کرکے نکلتے ارحم ریحاب کی طرف بڑھا تھا. ریحاب نے کمبل کو سر سے پیر تک اوڑھ رکھا تھا. ارحم دو منٹ تو اُس کے پاس کھڑے جائزہ لیتا رہا کہ وہ واقعی سو گئی ہے یا صرف اُس سے بچنے کے لئے ایکٹنگ کی جارہی ہے.
ارحم کے بلکل پاس کھڑے ہونے کی وجہ سے ریحاب کو اپنی سانس رُکتی محسوس ہوئی تھی.
ارحم نے اچانک آگے ہوتے ریحاب کے اُوپر سے کمبل کھینچ کر دور اُچھال دیا تھا. ریحاب جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی. اِس اچانک حملے پر ہڑبڑا کر اُٹھی تھی.
” یہ کیا بدتمیزی ہے. “
ریحاب نے غصے سے ارحم کو گھورنا چاہا تھا. مگر اُس کی آنکھوں کی گستاخیوں پر گھبرا کر جلدی سے نگاہوں کا زاویہ بدلہ تھا.
” بدتمیزی یہ نہیں میڈم وہ تھی جو ابھی آپ کررہی تھیں. میں نے بولا تھا نا سونے کی کوشش مت کرنا ورنہ بہت بُرا ہوگا. “
ارحم نے دیکھا ریحاب نے کمبل میں کور کرنے سے پہلے خود کو دوپٹے میں اچھے سے کور کر رکھا تھا. ایک محظوظ کن مسکراہٹ ارحم نے ریحاب کی طرف اچھالی تھی.

جو آہستہ آہستہ بیڈ کے دوسرے طرف ہوتی وہاں سے کھسکنے کی کوشش کر رہی تھی. جب اُس کی فرار کی حرکت نوٹ کرتے ارحم نے ایک ہی جست میں اُس پر جھپٹتے اُسے اپنے قبضے میں کیا تھا.
ایک بار پھر ریحاب کی دونوں کلائیاں ارحم کی قید میں تھیں. جنہیں وہ نرمی سے پکڑ کر تکیے سے لگا چکا تھا.
” ناکام کوشش کیوں کر رہی ہو. مجھ سے فرار اب ناممکن ہے میری جان.”
ارحم نے جھک کر ریحاب کے ماتھے پر ہونٹ رکھے تھے.
” وہ لڑکی کون تھی. “
ریحاب کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی. اُس کے بیویوں والے شکی انداز پر ارحم کا قہقہ برآمد ہوا تھا.
” کافی خوبصورت تھی نا وہ. لگتا ہے تمہیں بھی بہت اچھی لگی ہے. “
ارحم نے شرارتی انداز اپناتے اُسے مزید چڑایا تھا.
” اوکے بہت خوبصورت ہے نا تو جائیں اُسی کے پاس دوبارہ. یہاں واپس آنے کی کیا ضرورت تھی. “
ارحم کی بات ریحاب واقعی سیریس لے گئی تھی. اور اُس کی گرفت سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتی خفا لہجے میں بولی.
ارحم کو ریحاب کے خفا انداز پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا. مگر اُسی کی آنکھوں کی نمی نوٹ کرتے اُسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا.
” وہ میری ایک کولیگ ہے. اِس سے زیادہ کچھ نہیں. “
ارحم نے اُس کی فکر ختم کرنا چاہی تھی. ریحاب نے اُس کے سنجیدہ انداز پر بغور اُس کو جائزہ لیا تھا.
” اگر ایسا ہے تو آپ اُس کے ساتھ روم میں اتنا ٹائم کیا کررہے تھے. اور ساتھ میں کسی کو ڈسٹرب کرنے سے بھی منع کیا تھا. “
بات کرتے ریحاب کی گالوں پر آنسو بہہ نکلے تھے.
جب کے ریحاب کی اپنے لیے اتنی پوزیسونیس دیکھ ارحم کو خوشی ہوئی تھی مگر ریحاب کے آنسو اُسے بے چین کر گئے تھے.
” ایسا کچھ نہیں ہے جو تم سمجھ رہی ہو. ہم دونوں ایک بہت امپورٹنٹ مشن ڈسکس کررہے تھے. اِس لیے میں نے ملازمہ کو منع کیا تھا کہ کوئی بھی وہاں آکر ہمیں ڈسٹرب نہ کرے. اور کیا اگر ایسا کوئی چکر وکر ہوتا تو میں اُس لڑکی کو گھر لاتا کیا.”
ارحم کی بات سنتے ریحاب کی ٹینشن ختم ہوئی تھی. مگر شرارتی انداز میں کہی گئی ارحم کی آخری بات پر ریحاب نے اُسے گھورا تھا.
ارحم نے جھک کر اُس کی دونوں گالوں سے ایک ایک کرکے آنسو اپنے ہونٹوں سے چن لیے تھے. جبکہ ارحم کے پرشدت لمس پر ریحاب کا دل دھک سے رہ گیا تھا. ہاتھ بھی قید ہونے کی وجہ سے وہ کوئی موومنٹ نہیں کر پائی تھی.
اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو.
” ریحاب تمہارے دل میں جو بھی خدشات ہیں اُنہیں ختم کر دو. کیونکہ میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں. تم میری زندگی کی وہ پہلی لڑکی ہو جس نے میرے دل تک رسائی حاصل کی ہے. اور اب تم سے نکاح کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تم ہی میری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری لڑکی ہو.
تمہاری معصومیت اور باقی تمام لڑکیوں سے منفرد انداز نے مجھے تم سے شدید محبت کرنے پر مجبور کر دیا ہے. اور یہ سب دوسری ملاقات سے ہی شروع ہوچکا تھا مگر ریلائز بعد میں ہوا. میں نے تمہاری اِس شادی پر رضامندی کی وجہ جاننے کے باوجود سچے دل سے تمہیں اپنایا ہے. کیونکہ مجھے یقین تھا کہ میری محبت تمہیں مجھ پر محبت اور اعتبار کرنے پر مجبور کردے گی.
لیکن تمہارے مجھ پر اعتبار نہ کرنے نے مجھے بہت بُری طرح سے ہرٹ کیا. جس کا غصہ تم سے دور رہ کر نکالتا رہا میں. “
ریحاب جو ارحم کا اتنا خوبصورت اظہار دم سادھے سن رہی تھی. اُس کی آخری بات پر شرمندگی سے نظریں جھکا گئی تھی.
ریحاب نے کچھ بولنا چاہا تھا جب ارحم نے اُس کے ہونٹوں پر اُنگلی رکھ کر اُسے کچھ بھی کہنے سے روکا تھا.
” میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں ہے. میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ تم مجھ پر بھروسہ کرو آگے زندگی کے ہر موڑ پر میں ہر حال میں تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا. بولو کیا تم ایسا کرو گی. “
ارحم کی بات پر ریحاب نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تھا.
” اُس دن آپ کو نہ بتانے اور بلانے کا ریزن یہ نہیں تھا کہ مجھے آپ پر ٹرسٹ نہیں تھا. بلکہ میں آپ کو کھونے سے ڈر گئی تھی. “
ریحاب نظریں جھکائے اعتراف کرتی ارحم کے دل کے تار چھو گئی تھی.
جب وہ بہکتے اُس کے ہونٹوں پر جھکا تھا. مگر ریحاب نے جلدی سے چہرہ موڑتے خود کو اُس کے وار سے بچایا تھا.
” ہاہاہاہا تمہیں کیا لگتا ہے اِس طرح کرنے سے بچ جاؤ گی مجھ سے. “
ارحم نے اُس کی حرکت کو بہت انجوائے کیا تھا.
” دیکھیں پلیز ابھی تو ہماری دوستی ہوئی ہے. ابھی اتنی جلدی فری ہونے کی کوشش مت کریں مجھ سے. “
ریحاب نے ارحم کی گرفت ڈھیلی پڑتے دیکھ اُسے پیچھے کی طرف دھکیلا تھا. ارحم بیڈ پر آرام سے لیٹتے اُس کی پھرتیاں دیکھ رہا تھا. ریحاب جیسے ہی بیڈ سے اترنے لگی اُس کا دوپٹہ لیٹے لیٹے ہی ارحم اپنی گرفت میں لے چکا تھا.
” مجھے اتنی مہنگی دوستی بلکل نہیں کرنی. “
ریحاب کے ملتجی انداز پر ارحم نے نفی میں سر ہلاتے اُس کے دوپٹے کو ایک جھٹکا دیا تھا. جس کے نتیجہ میں اگلے ہی پل ریحاب ارحم کے سینے پر آگری تھی.
ارحم نے اُس کے گرد دونوں بازوؤں کا حصار باندھتے اپنے بے حد قریب کیا تھا.
اور دل کی خواہش پر لبیک کہتے اُس کے گلابی رس بھرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ریحاب کی تیز ہوتی سانسوں کو اپنے اندر اتارنے لگا تھا.
ریحاب نے ارحم کو شرٹ کو زور سے اپنے ہاتھوں میں جکڑا تھا. ارحم کا شدت بھرا لمس اُسے دنیا بھلا رہا تھا. اسی پوزیشن میں رہتے ارحم نے ریحاب کو اپنے نیچے لیتے اُس کا سر تکیے پر ٹکا دیا تھا.
کافی دیر بعد ریحاب کی حالت دیکھتے ارحم نے اُس کی سانسوں کو آزاد کیا تھا. جبکہ ریحاب سُرخ چہرے کے ساتھ گہرے گہرے سانس لیتی ارحم کی شوخ نظروں سے بچنے کے لیے اُسی کے سینے میں چہرا چھپا گئی تھی.
ارحم نے ریحاب کا سر اپنے بازو پر رکھتے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
وہ ریحاب کا گریز اچھے سے سمجھ رہا تھا. جو اپنے پیرنٹس کی رضامندی کے بغیر یہ رشتہ شروع نہیں کرنا چاہتی تھی. اِس لیے ارحم نے اُس کی خواہش کو ترجیح دیتے اپنے بے قابو جذبوں پر بند باندھ لیا تھا.
جبکہ ریحاب کو بنا کہے ارحم کے سمجھ جانے پر اپنے دل میں اُس کا مقام مزید اُونچا محسوس ہوا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاذل کا موڈ کل زیمل سے ملاقات کے بعد سخت آف تھا. اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا. کہ اُسے اچانک ہوا کیا تھا. وہ کیوں زیمل کی طرف اتنا اٹریکٹ ہورہا تھا. وہ اپنے رشتے کی اصلیت سے اچھے سے واقف تھا.
مگر پھر بھی دل نجانے کیوں بے ایمان ہورہا تھا. زیمل نے اُسے ٹھیک ہی تو کہاں تھا. اِس لیے جاذل نے سوچ لیا تھا کہ وہ اب ایسی کوئی بے اختیار حرکت نہیں کرے گا بلکہ سرے سے ہی زیمل کو اگنور کردے گا تاکہ دل اُس کے بارے میں کوئی بے ایمانی نہ کرسکے.
جاذل اپنی ہی سوچوں میں گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا. جب اچانک کوئی لڑکی ایک طرف سے بھاگ کر آتی بہت زور سے اُس سے ٹکرائی تھی جاذل فوراً اُسے سنبھالتا نہیں تو ضرور اُس نے زمین بوس ہوجانا تھا.
اُس لڑکی نے بھی سنبھلتے بڑی ادا سے جاذل کی شرٹ کو دونوں کندھوں سے جکڑا تھا.
جب جاذل اُسے سیدھا کھڑا کرتے فوراً پیچھے ہٹا تھا.
” تھینکیو سو مچ آپ نے مجھے گرنے سے بچا لیا. “
سونیا بڑی نزاکت سے مسکراتے بولی. وہ اندر ہی اندر اپنی شاندار ایکٹنگ پر مسکرائی تھی. اُسے جاذل پہلی نظر میں ہی بہت بھا گیا تھا. اور اُوپر سے اُس کا مغرور انداز سونیا کو مزید دیوانہ کرنے کے لیے کافی تھا.
” آئی تھنک انسان کو اتنا لاپرواہ نہیں ہونا چاہئیے کہ ہر وقت کسی نہ کسی مصیبت کو ہی اپنے گلے لگاتا رہے. “
جاذل نے اُس کے مسکراتے انداز کود دیکھتے ہلکا سا طنز کیا تھا. کیونکہ اُسے یہ لڑکی کافی عجیب سی لگی تھی.
” اگر بچانے والا آپ جیسا ہو تو میں دنیا جہان کی مصیبتوں کو اپنے گلے سے لگانے کے لیے تیار ہوں. “
سونیا نے جاذل کے سنجیدہ انداز کا کھلکھلاتے ہوئے جواب دیا تھا.
اُس کی بات پر جاذل نفی میں سر ہلاتے وہاں سے جانے لگا تھا. جب وہ دوبارہ اُس کے سامنے آئی تھی.
” اوہ ہو لگتا ہے آپ مائینڈ کرگئے میں تو صرف مذاق کر رہی تھی.”
سونیا ایک بار پھر کھلکھلائی تھی.
” لیکن میں نہ ہی اجنبیوں سے مذاق کرتا ہوں اور نہ ہی مجھے دوسروں سے یہ سب پسند ہے.”
جاذل اپنے مخصوص انداز میں بولا.
” اوکے سوری. مگر مجھے اُس دن کے لیے شکریہ ادا کرنا تھا. جیسے آپ نے غنڈوں سے میری جان اور عزت بچائی بہت احسان مند ہوں میں آپ کی.
ویسے کیا میں آپ کا نام پوچھ سکتی ہوں.”
سونیا نے انتہائی تہذیب سے بات کرتے اُسے سوال کیا تھا.
” جاذل ابراہیم. کیا اب میں جاسکتا ہوں. “
جاذل نے اُسے مختصر سا جواب دیتے اُسے آگے سے ہٹنے کا اشارہ کرتے پوچھا.
” نو پلیز صرف ایک آخری سوال. آپ نے اُس دن جس طرح اُن غنڈوں کی ہڈی پسلی ایک کی ویسے کوئی عام انسان تو بلکل نہیں کرسکتا.
آپ کیا کرتے ہیں کیا آپ فورسز کا حصہ ہیں. “
سونیا کی بات پر جاذل نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا تھا. جس طرح وہ جاذل کو جج کر رہی ہے اُسے بھی وہ کوئی عام لڑکی نہیں لگی تھی.
” نہیں مجھے فورسز والوں سے نفرت ہے. میں ایک بہت عام اور چھوٹا سا بزنس مین ہوں. اور یہ فائٹنگ کی وجہ میرا بلیک بیلٹ ہونا ہے. “
جاذل نے تفصیل بتاتے کہا. جب اُس کے فورسز سے منسلک نہ ہونے کا سن کر سونیا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی. وہ بھی تو نفرت کرتی تھی فورسز والوں سے.
” اور میرا نام سونیا خان ہے. “
سونیا نے جاذل کی طرف ہاتھ بڑھاتے اپنا تعارف کروایا تھا. جسے جاذل نے ناچاہتے ہوئے بھی تھام لیا تھا. اُسے کانفیڈنٹ لڑکیاں پسند تھیں. مگر اتنی بے باک بلکل نہیں
” نائس ٹو میٹ یو مس سونیا. پر ابھی مجھے بہت ارجنٹ کام ہے. سو پلیز گڈ بائے. “
جاذل اب کے سنجیدہ انداز میں اُسے جواب دیتا وہاں سے نکل آیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارتضٰی نے گھروالوں کو شادی کی تیاری کے لیے دو ہفتوں کا ٹائم دیا تھا. کیونکہ اُسے اِس بات پر بھروسہ تھا. کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتے ذی ایس کے کو بہت بڑا دھچکا دے گا. اُس کو ارتضٰی آسمان سے اُٹھا کر زمین پر پٹخنے والا تھا.
اور تب تک ماہ روش کی طبیعت بھی کافی حد تک بہتر ہوجانی تھی. ارتضٰی کے لیے اب بہت مشکل تھا ماہ روش سے دور رہنا مگر ذی ایس کے کو اُس کے گناہوں کی سزا دینے کے لیے اُسے کچھ ٹائم ماہ روش سے دور رہنے کی قربانی دینی پڑی تھی.
وہ جب بھی ماہ روش کے بارے میں سوچتا تھا. اُس کا رُوٹھا رُوٹھا سا چہرہ سامنے آجاتا تھا. ماہ روش اب بھی اُس کے پہلے والے رویے کے زیرِ اثر تھی اور اُس کے رُعب کی وجہ سے کھل کر اُس سے لڑ نہیں سکی تھی. مگر وہ اب اپنے اور ماہ روش کے درمیان موجود ہر دیوار کو گرانا چاہتا تھا.
ماہ روش کو اُس کی اصل حیثیت دے کر اُس کو اپنی زندگی میں اُس کے مقام سے آگاہ کرنا چاہتا تھا.
وہ ماہ روش کی آنکھوں میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ اُس کے حوالے سے کتنی اِن سیکیور تھی. اور ہونا بھی چاہیے تھا آج تک ارتضٰی نے اُسے اعتبار بخشا ہی کہا تھا.
ارتضٰی نے اُسے ہمیشہ ہر لمحے بےعزت کیا تھا. جس پر وہ زندگی بھر بھی پچھتاتا تو کم تھا. مگر اب وہ اُسے سب کے سامنے معتبر کرے گا کہ وہ پچھلی ساری باتیں بھول جائے.
اُسے اُس کی اپنی زندگی میں اہمیت سے کبھی روشناس کروایا ہی نہیں تھا. وہ اُسے اب بتانا چاہتا تھا کہ اِس دنیا میں اگر اُس کے جینے کے لیے سب سے ضروری وہ ہی تھی.
ارتضٰی مزید کتنے ہی لمحے اُنہیں سوچوں میں کھویا رہا جب اچانک میٹنگ کا خیال آتے ہی وہ فوراً اپنی سیٹ سے اُٹھا تھا.
اُس نے ارحم, زیمل اور جاذل کو اپنے اگلے لائحہ عمل کے بارے میں آگاہ کرنا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارحم اور زیمل میٹنگ روم میں بیٹھے اپنی ہی کسی امپورٹنٹ بات کو ڈسکس کرتے ہنس رہے تھے. جب جاذل اندر داخل ہوتے زیمل کے ساتھ والی چیئر پر آبیٹھا تھا. اُس نے کافی لیے دیے انداز میں سلام کیا تھا. جو زیمل نے کافی فیل کیا تھا.
زیمل نے موبائل پر مصروف میجر جاذل کو کن اکھیوں سے دیکھا تھا. مگر وہ اِس وقت اُسے مکمل طور پر اگنور کررہا تھا.
” سر نے کچھ بتایا کہ اچانک میٹنگ کیوں بلوائی ہے. “
زیمل نے بات کا آغاز کرتے اُسے مخاطب کرنا چاہا تھا.
” نو. “
جاذل نے بنا اُس کی طرف دیکھے سپاٹ سے انداز میں جواب دیا تھا.
زیمل کو اُس کا انداز کچھ زیادہ ہی روڈ لگا تھا.
جس کی وجہ سے زیمل کو بھی اب جاذل پر غصہ آنے لگا تھا. اُس نے ایسی بھی کوئی غلط بات نہیں کی تھی. کہ جس پر جاذل اتنا اوور ری ایکٹ کررہا تھا.
زیمل جاذل کو گھورتی دل ہی دل میں اُس کے رویے پر کرہنے لگی تھی. اُس نے ہمیشہ اپنے ساتھ جاذل کا نرم رویہ ہی دیکھا تھا. اور کچھ دنوں سے تو اُس کی مکمل توجہ بھی پائی تھی. مگر اب اچانک جاذل کا یوں اجنبی ہوجانا اُسے کسی صورت ہضم نہیں ہورہا تھا.
” السلام وعلیکم! ایوری ون. “
ارتضٰی نے اندر داخل ہوتے اُن سب کو سلام کرتے اپنی طرف متوجہ کیا تھا.
” آپ سب کو یہاں بلانے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ اب ہم مشن کے دوسرے اور سب سے اہم حصے میں قدم رکھنے والے ہیں. جس میں ذی ایس کے کو ایسا جھٹکا دینا ہے. جو اُسے بُری طرح ہلاکر رکھ دے اور جس سے وہ کبھی سنبھل نہ پائے.”
ارتضٰی کی بات پر سب لوگ ہمہ تن گوشہ تھے. اور جو کچھ ذی ایس کے اِس ملک کے ساتھ کرچکا تھا. وہ لوگ پوری طرح اُس کو ختم کرنے کے لیے تیار تھے.
” سوہا ہمارے لیے کام کرنے کے لیے بلکل تیار ہے. اور بہت جلد وہ اُن کو ہماری ٹیم کی غلط انفارمیشن بھی پہنچا دے گی.
جس کے بعد شروع ہوگا ہمارا کام. ہمارا مین ٹارگٹ ہے ذی ایس کے کے بیٹے برہان اور اُس کی بیٹی جو پچھلے چار سالوں سے اِس کام میں ملوث ہے. اور اب ہمارا ٹارگٹ بھی یہی دو ہی ہیں. “
ارتضٰی کی آنکھوں میں نفرت اور انتقام صاف دیکھا جاسکتا تھا.
” ذوالفقار کو ختم کرنے سے پہلے ہمیں اُسے اندر سے کمزور اور کھوکھلا کرنا ہوگا. اور اُس کی اولاد ہی اُس کی سب سے بڑی کمزوری ہے. اگر وہ ہی نہیں رہے گی. تو ذوالفقار کا ٹوٹنا کنفرم ہے.
پہلی تمام ٹیمز نے ہمیشہ اُس کی طاقت کو اپنی طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی ہے. اور ذوالفقار ہمیشہ اپنے شاطر پن سے پیچھے سے وار کرتے اُن کو ناکام کیا ہے. اِس بار بھی وہ یہی کرنا چاہتا ہے. مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے. ہم ہمیشہ اُس سے دو قدم آگے ہی رہیں گے.
اب اُس کے عروج کا وقت ختم ہوچکا ہے. اُس کے مقدر میں صرف زوال ہی آئے گا. اور بربادی ہی بردباری ہوگی.”
ارتضٰی کی بات سنتے سب کے چہروں پر ایک عزم تھا. اُس درندے کو ختم کرنے کے لیے وہ ہر وقت تیار تھے.
” کیا وہ اتنی آسانی سے ہماری فیک آئی ڈینٹاٹیز پر یقین کر لیں گے. اور ماہ روش اگر اُنہیں زرا بھی ماہ روش پر شک ہوگیا تو. “
زیمل کو ماہ روش کی فکر ہوئی تھی.
ماہ روش کے نام پر ارتضٰی نے فوراً زیمل کی طرف دیکھا تھا.
” ماہ روش پر اب اُس گھٹیا شخص کا سایہ بھی نہیں پڑسکتا.”
ارتضٰی کے اٹل انداز پر زیمل سمیت ارحم کو بھی بہت خوشی ہوئی تھی.
” لیکن ہم ذوالفقار کی بیٹی کا تو نام تک نہیں جانتے پھر اُس پر حملہ کیسے کریں گے. مطلب اُس کی شناخت جب اتنی پوشیدہ رکھی گئی ہے تو ہم کیسے پہنچ پائیں گے. اُس تک. “
جاذل کی بات پر ارتضٰی نے ایک معنی خیز مسکراہٹ اُس کی طرف اچھالی تھی.
” آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں اُسے. بلکہ کافی قریب سے بھی اِس لیے آپ کو تو پریشان ہونے کی ضرورت بلکل نہیں ہے. “
ارتضٰی کی بات پر سب نے ہی حیرت سے اُسے دیکھا تھا. جن میں سب سے زیادہ حیران تو جاذل خود ہوا تھا.
جب ارتضٰی نے سامنے پڑے ریموٹ کو اُٹھاتے پروجیکٹر آن کیا تھا. مگر سکرین آن ہوتے ہی جو چیز اُن کے سامنے آئی تھی. اُس نے سب کو شاک کر دیا تھا. جاذل بچارہ حیران پریشان سا سکرین پر چلتی اپنی تصویروں کو دیکھ رہا تھا.
یہ تو وہ لڑکی سونیا تھی. جس سے دو دفعہ اُس کی اتفاقیہ ملاقات ہوئی تھی. مگر جس طرح کے پوز تصویر میں کیپچڑ کیے گئے تھے وہ اُسے سب کے سامنے شرمندہ کر گئے تھے.
جاذل نے خونخوار نظروں سے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا. جو مزے سے مسکرا رہا تھا. اُس نے جاذل کے سب سے مل کر اُس سے دھوکہ کرنے کی سزا کے طور پر کیا تھا یہ.
جنگل میں جاذل اور سونیا ایک دوسرے کے بہت ہی قریب کھڑے تھے. اور ایک تصویر میں سونیا نے اُس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا.
جاذل کو یاد آیا تھا کہ اچانک سونیا کا پاؤں پھسلا تھا اور گرنے سے بچنے کے لیے اُس نے جاذل کا بازو تھامہ تھا.
اور کل کی ملاقات میں لی گئی تصویریں تو جاذل کو سر جھکانے پر مجبور کر گئی تھیں.

جاری ہے.