No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
“نو. “
ماہ روش کو پتا تھا آگے سے ایسا ہی کوئی آرڈر ملنے والا ہے اُسے. جاذل تو اچھے سے واقف تھا ارتضٰی کی کام کے دوران کی سٹرکنس سے مگر باقی سب بھی اُس کا رعب و دبدبہ دیکھ کر کافی کچھ سمجھ چکے تھے.
“کیپٹن ماہ روش میں اپنے کام میں ایک منٹ کی تاخیر برداشت نہیں کرسکتا اور آپ پہلے ہی دن پورے پندرہ منٹ لیٹ ہیں. میرے خیال میں آپ کو ایک بار پھر سوچ لینا چاہئے.کیونکہ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا. “
ارتضٰی اپنی کرسی سے اُٹھتا دروازے پر اُس کے سامنے جا کھڑا ہوا.
لیکن ماہ روش کا غور سے جائزہ لیتے اُسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا.
وہ اُسے صدیوں کی بیمار لگی تھی. آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے واضح تھے. چہرے کا گلابی پن مانند پر چکا تھا. ہاتھ میں لگے انجیکشن پلگ سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ سیدھی ہاسپٹل سے یہاں آئی ہو. اُس کے نگاہیں بلکل جھکی ہونے کی وجہ سے ارتضٰی کو اُس کی اندرونی کیفیت کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہورہا تھا.
“آئم سوری سر آئندہ ایسا نہیں ہوگا. “
اُس کی تپش ذدہ نظروں کے ارتکاز سے گھبرا کر ماہ روش نے نظریں جھکائے ہی جواب دیا.
“اوکے کم اِن. “
ارتضٰی نے جیسے اُس کی حالت پر ترس کھاتے اُس کی جان بخشی کردی تھی. جس پر ماہ روش کو بہت زیادہ حیرت بھی ہوئی تھی. ارتضٰی واپس اپنی چیئر کی طرف بڑھ گیا تھا.
جہاں سب اُن دونوں کی طرف متوجہ تھے.
زیمل نے فکرمندی سے اپنے ساتھ بیٹھتی ماہ روش کی طرف دیکھا. پچھلے ایک ہفتے سے زیمل اُس کے ساتھ ہی تھی اور اُس پر گزرنے والی قیامت سے بھی باخبر ہوچکی تھی. ماہ روش ابھی مکمل طور پر صحت یاب نہ ہوئی تھی. اِس لیے زیمل نے اُسے سختی سے منع کیا تھا. ہاسپٹل سے ڈسچارج ہونے سے مگر ماہ روش نے ہمیشہ اپنی ڈیوٹی کے آگے کسی بات کی پرواہ نہیں کی تھی تو اب کیسے کرتی یہ اُس کا جنون تھا. جس سے نہ پہلے وہ کبھی گھبرائی تھی اور نہ ہی آگے گھبرانا تھا.
ارتضٰی کے مخاطب کرنے پر سب اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے.
“اِس ملک کے حالات سے تو آپ سب لوگ واقف ہی ہیں. آج کل کے دور میں میڈیا بلکل آزاد ہے ہر طرح کی خبریں چند سیکنڈز میں کونے کونے تک پہنچ جاتی ہیں.
مگر اِس کام میں بھی مافیہ انوالو ہے ملک میں بہت سارے مظالم ایسے بھی ہورہے ہیں جسے بیان کرنے سے میڈیا بھی ڈرتا ہے. کیونکہ اُن کے پیچھے جس شخص کا ہاتھ ہے وہ انڈر ولڈ کا سب سے بڑا بیسٹ مانا جاتا ہے ذی ایس کے. وہ ایک ایسا نام نہاد مسلمان ہے جو صرف پاکستان ہی کا نہیں بلکہ بہت سارے مسلم ممالک کا دشمن ہے.
بہت سارے مسلم ممالک کی تباہی کے بعد اب اِس کی نظر پاکستان پر. جس پر وہ پچھلے دس سال سے کام شروع کر چکا ہے. اور بہت ہی تیزی سے یہاں اپنی جڑیں مضبوط بھی کر لی ہیں. پچھلے دس سال سے اِس ملک میں ہونے والی تباہیوں میں ستر فیصد اُس کی پھیلائی گئی ہیں.
باقی تمام ممالک کی طرح پاکستان فورسز کے تمام ادارے پولیس , آرمی, ائیر فورس, نیوی اور یہاں تک کے تمام خفیہ ایجنسیز بھی اُس کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے میں اب تک ناکام رہی ہیں.
جس سے اِس بات کا تو اچھے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اُس تک پہنچنا کتنا مشکل ہے. مگر آئی ایس آئی نے دنیا کی تمام خفیہ ایجنسیز کو پیچھے چھوڑ کر اپنا جو نام اور مقام بنایا ہے اب اُسے ایک بار پھر ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے.
اِس لیے ادارے کے سربراہ نے آپ سب کی قابلیت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے اِس نہایت اہم مشن کے لیے چنا ہے. “
ارتضٰی پروفیشنل انداز میں اُن سب کو اپنے مشن کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا.
“ذی ایس کے کا ایک مسلمان ہوتے ہوئے مسلم ممالک سے ہی اتنی نفرت کا کیا ریزن ہوسکتا ہے. “
ارتضٰی کے خاموش ہونے پر جاذل نے وہ سوال اُٹھایا جو وہاں سب کے دماغ میں چل رہا تھا.
“بیس سال پہلے ذی ایس کے پاکستان کا ایک عام شہری تھا. اپنے خاندان کے ساتھ بہت ہی خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا.
اُس کے تین بھائی اور ایک بہن تھی جن میں اُسکی جان بستی تھی. وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا. اُس کے والد مولوی اور ایک بہت ہی نیک شخصیت تھے. جب ایک دن مسجد میں ہونے والے کچھ فتنہ پسند لوگوں کے تنازعہ پر انہوں نے مسجد جیسی پاک جگہ پر ایسا کرنے سے منع کیا اور سختی سے وہاں سے نکل جانے کو کہا. جس کے جواب میں مولوی صاحب کو دھمکاتے وہ وہاں سے تو نکل گئے مگر اپنی بے عزتی کا انتقام لینے کیلئے رات کی تاریکی میں اُن کے گھر داخل ہوکر ذی ایس کے کی آنکھوں کے سامنے اُس کے باپ بھائیوں کو بے دردی سے مارنے کے ساتھ ساتھ اُس کی بہن کی عزت چھینتے اُسے بھی موت کے گھاٹ اتار گئے. ذی ایس کے اُس سب میں معجزانہ طور پر بچ گیا مگر اُس کے دل میں انسانوں اور خاص کر مسلمانوں کی ایسی نفرت پیدا ہوئی جس نے اُسے انسان سے درندہ بنا دیا.
اپنا بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ اور نجانے کتنے لوگوں کے گھر برباد کرنے کے باوجود بھی اُس کی اندر کی آگ آج تک نہ ختم ہوسکی. اِس لیے جیسے اُس کا گھر تباہ ہوا وہ پاکستان کے ہر گھر کو ایسے ہی تباہ کرنا چاہتا ہے. جس میں پاکستان کے کچھ ملک فروش بھی اُس کو بھرپور سپورٹ کرتے ہر کام میں اُس کے معاون ہیں. اِس کام میں وہ اپنی ایک بیٹی اور دونوں بیٹوں کو بھی شامل کرچکا ہے.”
ارتضٰی نے بات کرتے ایک تنفر بھری گہری سرد نگاہ ماہ روش پر بھی ڈالی تھی. اُس کی طرف ہی دیکھتی ماہ روش نے نظریں ملنے پر فوراً نگاہیں چرائی تھیں.
“اُس نے اپنے گینگ میں کافی تعداد میں فی میلز کو بھی شامل کر رکھا ہے. جو کہ پراپر ٹرینڈ ہیں. اُن سے وہ لوگ ہر طرح کا کام لیتے ہیں.
ذی ایس کے کی طاقت کا سب سے بڑا ریزن یہ ہے کہ اُسے امریکہ بھارت اور اسرائیل کی کچھ نام نہاد ایجنسز سپورٹ کررہی ہیں.
اُس کا کام نوجوانوں کو منشیات کا عادی بنا کر دہشتگردی میں ملوث کرنا ہے. ملک کے تقریباً نوے ہزار کے قریب نوجوانوں کو وہ اِس طرح استعمال کرکے موت کے گھاٹ اتار چکا ہے. اور اِس تعداد میں کمی کے بجائے دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے.
اُس کے خلاف ثبوت ملنا تو دور کی بات ابھی تک پاکستان میں اُس کے ٹھکانے تک کا علم ٹھیک سے نہیں لگایا جاسکا.
اِس مشن میں اِس ادارے کے بارہ افراد اب تک اپنی جان قربان کر چکے ہیں. لیکن پھر بھی ناکام رہے. مگر مجھے پورا بھروسہ ہے یہ ٹیم اِس مشن کے لیے چنی جانے والی آخری ٹیم ہوگی. کیونکہ ہم مٹ جائیں گے لیکن اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پلتے اُس ناسور کو مٹا کر. “
ارتضٰی نے خوش اور جذبے کے ساتھ بات کرتے کہا. اُس کے ہر انداز سے ملک کی محبت واضح ہورہی تھی. اُس کے اتنے پُر یقین انداز پر وہ سب متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے.
“انشاءﷲ سر ایسا ہی ہوگا.”
سب نے بھرپور عزم و حوصلے کے ساتھ اُس کی تائید کی تھی.
“اور ایک آخری بات یہ ایک بہت ہی زیادہ آزمائشوں بھرا سفر ہونے والا ہے اِس مشن میں اگر آپ میں سے کسی کے بھی قدم ڈگمگائے تو کسی بھی قسم کی وضاحت کے بغیر میں اُس کا نام و نشان ہی اِس صفہ ہستی سے مٹا دوں گا. “
آخر میں ارتضٰی کے لہجے میں سختی اور آواز میں ہلکی سی غراہٹ نمایاں تھی.
سب کو اُن کی ڈیوٹیز سجھا کر ارتضٰی مزید کوئی بھی بات کیے بغیر وہاں سے نکل گیا تھا.
اُنہیں بھیس بدل کر پہلے کچھ خفیہ ٹھکانوں پر بنائے گئے کلبوں میں جانا تھا جہاں ذی ایس کے کے آدمیوں نے بے حیائی اور فحاشی عام کر رکھی تھی.
کیپٹن زیمل اور میجر جاذل , کیپٹن ارحم اور کیپٹن ماہ روش جبکہ میجر ارتضٰی کے ساتھ کیپٹن سوہا نے جانا تھا جس پر وہ پھولے نہیں سما رہی تھی.
ارتضٰی کے ساتھ جاذل بھی وہاں سے نکل گیا تھا.
“ماہی تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا اب. “
زیمل کو میٹنگ ختم ہوتے ہی فوراً ماہ روش کی فکر لاحق ہوئی تھی.
“آپ کو دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ آپ فورسز کا حصہ ہیں. مجھے تو لگ رہا تھا دروازے پر کھڑے کھڑے گر ہی نہ جائیں. اور لگتا ہے شاید سر کو بھی یہی لگا تھا اِس لیے اتنے آرام سے اندر آنے دیا. “
سوہا نے ماہ روش کی طرف دیکھتے ہنستے ہوئے اُس کا مذاق اُڑایا تھا.
پسند تو اُسے زیمل بھی نہیں آئی تھی مگر ماہ روش کا سوگوار سا حسن کچھ زیادہ ہی پرکشش تھا. اور اُوپر سے ارتضٰی کا اُسے دیکھنا سوہا کو ایک آنکھ نہیں بھایا تھا.
” کیپٹن سوہا شکر کریں آپ دشمنوں کی سائیڈ پر نہیں بلکہ ہماری ٹیم ممبر ہیں. ورنہ اِس حالت میں بھی کیپٹن ماہ روش کے ایک تھپڑ کے بعد آپ کا اُٹھنا بہت مشکل ہوجانا تھا.”
زیمل نے اُسی کے انداز میں ہنستے ہنستے اُس کو منہ توڑ جواب دیتے اچھا خاصہ بے عزت کیا تھا.
زیمل کے انداز پر جہاں ارحم اور ماہ روش اپنی ہنسی نہ روک پائے تھے وہیں سوہا پیر پٹختی اُٹھ گئی تھی.
“ویسے میجر ارتضٰی سکندر کچھ زیادہ اکڑو سے نہیں لگ رہے. مجھے تو لگ رہا تھا آنکھوں ہی آنکھوں میں نگل جائیں گے. “
ارحم نے پر مزاح انداز میں کہتے جھڑجھڑی سی لی تھی.
“شرم کرو سینئر ہیں وہ ہمارے. “
ارحم کی بات ماہ روش کو ایک آنکھ نہیں بھائی تھی. اِس لیے اُسے گھورتے ہوئے ٹوکا.
“ماہی تمہیں کیوں بُرا لگ رہا ہے اتنا. ویسے تم نے تو اُن کے ساتھ پہلے بھی ایک مشن کیا ہے نا. “
زیمل مشکوک ہوئی. جب ماہ روش نے اُس کے آگے ہاتھ جوڑتے جان بخشی کروائی تھی. کیونکہ اُسے اِس بات کی بھنک بھی پڑجاتی تو اُسے ماہ روش کی جان عذاب کر دینی تھی.
“میجر جاذل کافی سویٹ سے لگے مجھے. سنجیدہ اور سوبر.”
ارحم کے اگلے تبسرے پر زیمل نے کانوں کو ہاتھ لگایا.
“استغرﷲ ارحم کچھ تو خدا کا خوف کروں وہ بندہ کہاں سے تمہیں سوبر لگا.”
زیمل نے اُسے لتاڑا. ایک تو پہلے ہی اُس کو میجر کے رُوپ میں دیکھ کر وہ شاک تھی اُوپر سے ارحم کی بات اُسے مزید آگ لگا گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ریحاب کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی بلیک میلرز کی جانب سے ایک باکس وصول ہوا تھا. ابھی وہ اُسے کھول ہی رہی تھی جب فون بجا تھا.
“میرا تحفہ تو پہنچ ہی چکا ہوگا تم تک. اُس باکس کو کھولو اور اُس میں جو لاکٹ ہے اُسے پہن لو. اِس لاکٹ کو اپنی گردن سے جدا کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت. اِس میں ایک چپ لگی ہے جس میں تمہاری ہر بات ہم تک پہنچے گی. اِس لیے کوئی بھی ہوشیاری مت کرنا اور اگر اِسے گردن سے اُتارا تو ہمیں فوراً سگنل مل جائے گا پھر تم اپنی خیر منا لینا.”
اُس نے اچھا خاصہ ڈرانے دھمکانے کے بعد فون بند کردیا تھا. ریحاب جو ارحم کو آج سب کو کچھ بتانے کا ارادہ رکھتی تھی. اب اُس میں بھی ناکامی ہوتے دیکھ مزید پریشان ہوچکی تھی.
اُس کے دل میں خوف سر اُٹھا رہا تھا کہ اگر وہ اتنی باریکی سے اُس پر نظر رکھے ہوئے تھے تو وہ کچھ ایسا ویسا کر کے انیس کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی.
“ارحم کو تو وہ پہلے ہی ملنے کے لیے کال کرچکی تھی اپنا پرس اُٹھاتی ہاسٹل سے نکل آئی تھی.
“وہ دراصل مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا اُس دن جس طرح آپ نے خود کو خطرے میں ڈال کر مجھے بچایا وہ واقعی بہت قابلے تحسین تھا. “
ریحاب کی بات پر ارحم نے آنکھیں پھاڑے اُس کی طرف دیکھا.
وہ دونوں ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے. ریحاب ڈارک بلو سوٹ میں بالوں کو کھلا چھوڑ رکھا تھا. وہ کچھ گھبرائی گھبرائی سی ارحم کو اپنے طرف متوجہ ہونے پر مجبور کررہی تھی.
“کیا ہوا آپ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں. “
دل میں چور ہونے کی وجہ سے ریحاب کو اُس کے اِس طرح دیکھنے سے گھبراہٹ ہوئی تھی.
“مجھے یقین نہیں آرہا آپ اتنے مہذب انداز میں بھی بات کرسکتی ہیں. “
ارحم نے اُس کی شکل دیکھتا زور سے قہقہ لگایا تھا.
ریحاب کا دل چاہا تھا اُس کے دو تین دانت تو ضرور توڑ ڈالے اِسے وہ پہلے ہی اتنی زہنی ٹینشن کا شکار تھی اُوپر سے اتنی مشکل ایکٹنگ کرنے پر وہ بجائے اچھے سے بات کرنے کے اُس کا مذاق اُڑا رہا تھا.
“اوکے اوکے آئم سوری آپ ناراض مت ہوں میں صرف مذاق کررہا تھا. “
ارحم نے فوراً معذرت خواہ انداز اپنایا تھا.
ریحاب کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ بات آگے کیسے بڑھائے. زیادہ دیر چپ رہنا بھی ٹھیک نہیں تھا.
“آپ کو کسی قسم کی کوئی دھمکی وصول تو نہیں ہوئی نا. سب نارمل ہے. “
ارحم اُسے جانچتی نظروں سے دیکھتے بولا.
ریحاب کا دل زور سے دھڑکا تھا
“نہیں تو ﷲ کا شکر ہے. میں تو بہت ڈری ہوئی تھی مگر کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا اُنہوں نے مجھ سے. اور جس طرح آپ نے اُن کی دُرگت بنائی تھی. مجھے نہیں لگتا دوبارہ اُن کی ہمت ہوگی. “
ریحاب نے اپنے لہجے کو بہت حد تک نارمل رکھا تھا.
“گڈ یہ تو بہت اچھی بات ہے مگر پھر بھی آپ کو اپنے اِردگرد کوئی بھی مشکوک انسان نظر آئے مجھے ضرور انفارم کیجئے گا. “
ارحم کی بات پر اثبات میں سر ہلاتے ریحاب نے دو ٹیبل چھوڑ کر بیٹھے شخص کو دیکھا جو مسلسل اُسے گھورے جارہا تھا. اور ہاتھ میں پکڑی نائف گھماتے اُس کا انداز کچھ وارن کرتا ہوا تھا.
“ویسے آپ اصل میں کرتے کیا ہیں پہلی ملاقات میں آپ نے کہا آپ پولیس آفیسر. اُس دن آپ نے خود کو غنڈہ کہا لیکن اُن غنڈوں کے سامنے آپ کا روپ دیکھ آپ تو مجھے اِس سے بھی کوئی بڑی چیز لگ رہے. “
اُس کے بارے میں جانتے ہوئے بھی ریحاب نے جان بوجھ کر لاعلمی کا اظہار کرتے پوچھا.
“ہاہاہاہا ایسا ہی سمجھ لیں کیونکہ میں ایک آرمی آفیسر ہوں. اور پاک فوج کے بارے میں تو آپ اچھے سے جانتی ہی ہوں گی. بڑے بڑے سورماؤں کو مار گرانے کا دم رکھتے ہیں. “
ارحم فخریہ لہجے میں بولا.
جبکہ دوسری طرف اُس کی بات سنتا غفور بل کھا کر رہ گیا تھا.
“واؤ زبردست مجھے تو آرمی آفیسر بہت پسند ہیں کیا آپ مجھ سے فرینڈشپ کریں گے. “
ریحاب جانتی تھی اُس کا انداز بہت ہی بھونڈا تھا مگر اُسے اِس سب کے بارے میں کوئی آئیڈیا نہیں تھا. لڑکے تو دور اُس نے آج تک کبھی کسی لڑکی کے سامنے بھی دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھایا تھا.
کرن لوگوں سے بھی دوستی اُن کی کوششوں کی وجہ سے ہوئی تھی. مگر آج اُس نے سوچ لیا تھا واپس جا کر اُن دونوں سے مکمل ٹریننگ لینی پڑے گی.
“شیور وائے ناٹ. “
اُس کا بڑھا ہوا نازک ہاتھ تھامتے ارحم مسکرایا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
گاڑی کلب کے سامنے رُکتے ہی ماہ روش اپنا ریڈ گاؤن سنبھالتے باہر نکل آئی تھی.
سیاہ بالوں کو خوبصورت سے جوڑے کی شکل میں سیٹ کیا گیا تھا. فل میک اپ نے اُس کے نقوش کی دلکشی میں مزید اضافہ کر دیا تھا. بالوں کی کٹی ہوئی چھوٹی چھوٹی لٹیں کان کے پیچھے اڑسنے کے باوجود بار بار نکل کر اُس کے چہرے پر آرہے تھے.
ریڈ کلر میں اُس کی دودھیا رنگت مزید دھک رہی تھی. اُس کا حُسن ایمان شکن ثابت ہورہا تھا. ماہ روش کے گاؤن کا گلا آگے پیچھے سے بہت گہرا تھا. جس کو اُس نے بیوٹیشن سے پنز کے ذریعے سیٹ کروایا تھا.
ارحم ابھی تک نہیں پہنچا تھا. کلب کے باہر مدھم سی ریڈ اور بلو کلر کی لائٹ آن تھی. ماہ روش کو باہر کھڑے ہوکر ارحم کا انتظار کرنا مناسب نہ لگا تھا وہ آگے بڑھی ہی تھی جب پاس رکھی بینچ سے گاؤن اُلجھا تھا. گاؤن تو ماہ روش نے نکال لیا تھا مگر جھٹکا لگنے سے اُس کی پنز کُھل گئی تھیں اور دونوں طرف سے اُس کا گہرا گلا واضح ہورہا تھا.
اُس کے پاس ڈوپٹے کے نام پر ایک چھوٹا سا مفلر تھا جو گلے کو کور کرنے کے لیے ناکافی تھا. آس پاس سے گزرتے مردوں کی ہوس بھری نظروں کو ماہ روش نے بہت مشکل سے برداشت کیا تھا ورنہ دل تو چاہا تھا. اِن کی آنکھیں نوچ لے.
خود پر قابو پاتی وہ کلب کے اندر قدم رکھ چکی تھی. جب کچھ قدم چلنے پر ہی کسی نے پیچھے سے اُس کے پیٹ پر ہاتھ لپیٹتے اپنی جانب کھینچا تھا.
ماہ روش اِس اچانک رونما ہونے والی صورتحال پر مشکوک نہ ہونے کی وجہ سے کسی قسم کا خاص ری ایکشن دیے بغیر نارمل انداز میں مزاحمت کرتے اُس کے ساتھ کھنچی چلی گئی تھی. مگر دل بُری طرح دھڑک رہا تھا.
مقابل نے اُسے ایک کمرے میں کھینچ کر دیوار سے لگاتے دروازہ لاک کیا تھا.
“اتنا بے ہودہ لباس پہننے کو کس نے کہا تمہیں. “
ارتضٰی اُس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دیوار سے لگاتے کان کے قریب جھکتا ہلکی آواز میں دھاڑا تھا. ماہ روش کے وجود پر پڑتی سب کی ہوس بھری نگاہیں ارتضٰی کے سینے میں آگ بھڑکا گئی تھیں.
ارتضٰی کی خوشبو محسوس کرکے ماہ روش نے مزاحمت ترک کر دی تھی اور حیران نظریں خود پر مکمل طور پر حاوی ارتضٰی سکندر کے چہرے پر ڈالی تھیں. جو اُس کےحلیے کو دیکھتے سلگتے ہوئے انداز میں غصے سے پاگل ہورہا تھا.
ماہ روش کی دھڑکنوں میں ایک ارتعاش برپا ہوچکا تھا.
پوری طرح اُس پر جھکے ہونے کی وجہ سے اُس کا چہرا ماہ روش کے بے انتہا قریب تھا. جب ارتضٰی کی نظر اُس کی پیشانی پر موجود نشان پر پڑی تھیں. جو اُسی کا دیا ہوا تھا.
جاری ہے
