Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28 Part 2

ماہ روش شاک کے عالم میں ارتضٰی کو دیکھ رہی تھی. جس کا چہرا اس وقت ہر احساس سے عاری تھا. ماہ روش اپنی بے وقوفی اور جلد بازی پر جی بھر کر پچھتا رہی تھی. اُس نے سر جھکا کر اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کی تھی. اور وہاں سے پلٹنے ہی لگی تھی جب ارتضٰی کی آواز اُس کے قدم وہیں جکڑ گئی تھی.
” ویلڈن ماہ روش ذوالفقار ویری امپریسو. بہت اچھی کوشش تھی مگر افسوس. تمہاری ساری محنت بےکار گئی. “
ارتضٰی سیٹ سے اُٹھتا ماہ روش کی طرف بڑھا تھا. جو اُس کی بات پر ناسمجھی سے اُسے دیکھ رہی تھی.
” کیا ہوا ماہ روش ذوالفقار اتنی حیرت کس بات کی ہے. اب ہر کھیل میں جیت تم باپ بیٹی کی تو نہیں ہوسکتی نا.
تمہیں کیا لگا مجھے جنرل یوسف سمجھنے کا ناٹک کرکے تم. اپنے جھوٹے جذبات کا اظہار کرو گی اور میں یقین کر لوں گا. “
ارتضٰی کی بے اعتباری پر ماہ روش نے تڑپ کر اُس کی طرف دیکھا تھا. جو اُس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا اور اُس کو نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا.
” سر آپ غلط سمجھ رہے ہیں. میں سچ بول رہی تھی. اور میرے جذبے جھوٹے نہیں ہے.”
ماہ روش اپنی محبت کو جھوٹا کہے جانا برداشت نہیں کرپائی تھی. اور سامنے کھڑے بے درد انسان کو یقین دلانے کی ایک کوشش کرتے نجانے کتنے ہی آنسو اُس کے رُخسار پر بکھرے تھے.
مگر ارتضٰی سکندر اِس وقت خود اذیت کے آخری مراحل میں تھا. جہاں اُس کے سامنے کھڑی لڑکی ماہ روش نہیں بلکہ ذوالفقار کی بیٹی تھی جو اُس کے ملک اور خاندان کی بربادی کی وجہ تھا.
” تم تھکتی نہیں ہو اِس طرح معصومیت کا ناٹک کرکے. تم جیسے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں. دوہرے چہرے لے کر گھوم رہی ہو تم. ایک چہرے پر بچارے اور ایماندار ہونے کا نقاب چڑھا رکھا ہے جبکہ دوسرا چہرہ شاطر اور غدار کا ہے جو کہ تمہارا اصلی چہرہ بے. تم نے بہت بےوقوف بنا لیا اِس طرح کرکے مگر اب اور نہیں. “
ارتضٰی نے آج بغیر کوئی لحاظ کئے ماہ روش کے دل کو مزید لہولہان کیا تھا.
ماہ روش خاموش کھڑی اُس کی نفرت کی انتہا دیکھ رہی تھی. مگر ارتضٰی سکندر اِس وقت کسی طرح بھی اُس پر رحم کرنے کے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا.
” سر آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے. اگر آپ کو مجھ سے اتنی ہی نفرت ہے تو میں اب آپ کے سامنے کبھی نہیں آؤں گی. مگر پلیز آپ میری محبت اور میری ایمانداری کو اِس طرح نہیں جھٹلا سکتے. میں بہت جلد آپ کو یہ ثابت کردوں گی کہ میں غدار نہیں ہوں.
ہاں صرف ایک قصور ہے میرا. کہ میں ذوالفقار صمد خان کی بیٹی ہوں. جس حقیقت کو میں چاہنے کے باوجود تبدیل نہیں کرسکتی.”
اُس نے صرف ماہ روش کے جذبات کو ہی نہیں بلکہ اُس کے پروفیشن پر بھی الزام لگایا تھا. ماہ روش کے پاس اب مزید ارتضٰی کو کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا. وہ آج مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی.
ماہ روش ایک حسرت بھری نظر سامنے کھڑے شاندار انسان پر ڈال کر آگے بڑھی تھی. جو اُس کا ہوتے ہوئے بھی اُس کا نہیں تھا.
ماہ روش ایک قدم ہی آگے بڑھی تھی. جب اُس کا سر زور سے چکرایا تھا. اِس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوتی پاس کھڑے ارتضٰی نے اُس کو بازو کے حصار میں لیتے گرنے سے بچایا تھا.
ماہ روش جلدی سے سر کو تھامتی ارتضٰی سے دور ہوئی تھی. جب وہ اُسے اتنی ہی نفرت کرتا تھا. تو یہ کیئر کیسی. ماہ روش اب مزید دل کے اِس فریب میں نہیں آنا چاہتی تھی جو پہلے ہی اُس کی بربادی کا سبب بن چکا تھا.
ماہ روش کا اِس طرح بازو جھٹک کر پیچھے ہونا ارتضٰی کو مزید غصہ دلا گیا تھا. خود وہ چاہے اُسے کتنا بھی دھتکارتا لیکن اُس کا اِس طرح خود سے دور ہونا وہ بلکل برداشت نہیں کرسکتا تھا. وہ اب عادی ہوچکا تھا ماہ روش کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت اور تڑپ دیکھنے کا. اور اُس کے اپنے لیے جذبات کی سچائی سے بھی واقف تھا. مگر ابھی غصے اور ذی ایس کے کی حرکتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدگمانی نے ارتضٰی کی ماہ روش کے لیے محبت کو کہیں اندر ہی دبا دیا تھا. اور وہ اُس سے مزید تلخ ہوگیا تھا.
اچانک نجانے کس احساس کے زیرِ اثر ارتضٰی نے باہر کی طرف جاتی ماہ روش کو بازو سے تھامتے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچتے اپنے بے حد قریب کیا تھا.
ارتضٰی کی اِس حرکت پر ماہ روش کا دل اُچھل کر حلق میں آگیا تھا.
ارتضٰی نے اپنا چہرا ماہ روش کے چہرے کے بےحد قریب کیا تھا. ماہ روش اُس کے مضبوط حصار میں ہل بھی نہیں پارہی تھی.
” مجھے اپنی محبت اور ایمانداری کا یقین دلانے کے لیے کیا کرسکتی ہو تم. “
ارتضٰی کی گرم سانسیں ماہ روش کے چہرے کو چھو رہی تھیں. ماہ روش کو اپنا وہم لگا تھا یا جو بھی بھی مگر اُسے ارتضٰی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نظر آئی تھی.
” اپنی جان دے سکتی ہوں. “
ماہ روش اُس کی مقناطیسی قربت کے زیرِ اثر ارتضٰی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پورے یقین سے کہا تھا. مسلسل رونے کی وجہ سے ماہ روش کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھی. جنہیں وہ بمشکل کھولے کھڑی تھی.
اچانک ارتضٰی کو نجانے کیا ہوا تھا کہ جھک کر باری باری اُس کی دونوں آنکھوں پر اپنے ہونٹوں کا مرہم رکھ دیا تھا. اِس مہربان لمس پر ماہ روش کا دل زور سے دھڑکا تھا.
ارتضٰی اِس لڑکی کی قربت میں خود کو پگھلتا محسوس کررہا تھا. اُس ہمیشہ ماہ روش کی قربت میں سکون محسوس ہوتا تھا. وہ نجانے کتنی ہی دیر ایک دوسرے میں کھوئے رہتے جب موبائل کی آواز نے ارتضٰی کو جھنجھوڑ دیا تھا.
” کاش کہ تم ذوالفقار کی بیٹی نہ ہوتی اور میں تمہاری باتوں پر یقین کرپاتا. “
ارتضٰی اُن لمحوں کے حصار سے نکلتا اپنے مخصوص انداز میں اُسے باور کروا گیا تھا.
ماہ روش جو ارتضٰی کی سحرذدہ خوشبو کے حصار میں تھی اُس کی بات پر دل کی خوشگمانی وہیں ختم ہوئی تھی. اور اپنے آپ پر غصہ آیا تھا. وہ ہمیشہ اِس شخص کے سامنے اتنی بے بس کیوں ہوجاتی تھی. مگر اُس نے سوچ لیا تھا. اب کچھ بھی ہوجائے وہ اپنا دل ارتضٰی سکندر کی طرح پتھر کرے گی. اُس کو دل سے نکال تو نہیں سکتی تھی مگر دل پر پہرے تو بیٹھا سکتی تھی. اب وہ مزید عزت نفس کھونا نہیں چاہتی تھی.
ارتضٰی مزید کچھ بھی کہے بغیر اُسے خود سے دور کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاذل گاؤں کی طرف جارہا تھا. وہ ابھی شہر سے کچھ دور ہی پہنچا تھا. جب اُسے ایک طرف سے چلانے کی آواز آئی تھی. جو کہ یقیناً ایک لڑکی کی آواز تھی.
جاذل نے فوراً گاڑی روکتے سائیڈ پر لگائی تھی. اور گاڑی سے باہر نکل کر آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا تھا. جب ایک بار پھر اُسے چیخنے کی آواز آئی تھی. لیکن فوراً ہی وہ آواز جیسے کسی نے دبا دی تھی.
مگر تب تک جاذل آواز کا تعاقب کرتے قدم اُس طرف بڑھا چکا تھا. تھوڑا سا آگے جاکر اُسے جھاڑیوں میں ایک لڑکی اور تین آدمی نظر آئے تھے. جو لڑکی کو قابو کرنے کی کوشش کررہے تھے اور وہ مسلسل اُن کی کوشش ناکام بناتے خود کو چھڑوانے میں لگی ہوئی تھی.
تبھی اُن میں سے ایک آدمی نے کھینچ کر ایک زور دار تھپڑ اُس لڑکی کے منہ پر دے مارا تھا. اور بس وہی جاذل کی برداشت ختم ہوئی تھی. اپنے سامنے وہ کسی لڑکی کے ساتھ اِس طرح تشدد ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دشمن کی کوئی چال بھی ہوسکتی ہے.
جاذل آگے کی طرف بڑھا تھا. اور اُن میں سے دو آدمی کو گردن سے دبوچتے زور دار گھونسے دے مارے تھے. وہ لوگ اچانک کسی اجنبی کو دیکھ بوکھلا گئے تھے.
مگر جاذل اُنہیں سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اُن پر ٹوٹ پڑا تھا. وہ اکیلا ہی اُن تینوں پر بھاری تھا. وہ لڑکی حیرت سے آنکھیں پھاڑے اپنے لیے لڑتے اُس اجنبی کو دیکھ رہی تھی. جو اُس کو جانے بغیر اِس طرح اُس کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مشکل میں کود پڑا تھا.
اُسے یقین نہیں آرہا تھا اِس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود تھے کیونکہ جہاں تک اُس نے سنا تھا. یہاں کے لوگ تو اپنے خون کے رشتوں کو نہیں پوچھتے تھے. یہ تو پھر اُس کے لیے بلکل انجان شخص تھا.
جاذل نے کچھ ہی دیر میں اُن تینوں کا بھڑکس نکال دیا تھا. جب اُس کی نظر سامنے کھڑی لڑکی پر پڑی تھی.
جو اُسے کہیں سے بھی ڈری سہمی یا خوف ذدہ نہیں لگی تھی. بلکہ آنکھیں پھاڑے اُسے کا بھرپور نظروں سے معائنہ کرنے میں مصروف تھی.
” آپ ٹھیک ہیں. یہ کون لوگ تھے اور آپ کو یہاں کیوں لے کر آئے. “
جاذل خود ہی آگے بڑھتا اُس سے مخاطب ہوا تھا.
” میں نہیں جانتی کون لوگ ہیں یہ. میں تو یہاں سے گزر رہی تھی جب اِنہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا اور اسلحہ کے زور پر مجھے یہاں اُٹھا لائے. “
سونیا جاذل کی بات پر جلدی سے بولی.کیونکہ جس طرح جاذل نے اُن لوگوں کو مارا تھا اور اب جیسے جانچتی نظروں سے اُس کا جائزہ لے رہا تھا. سونیا کو وہ کوئی عام بندہ بلکل نہیں لگا تھا.
” آپ اِس جنگل سے پیدل گزر رہی تھیں کیا. “
جاذل اُس لڑکی کے حوالے سے مشکوک ہوا تھا.
” نہیں میں نے بتایا نا آپ کو. یہ لوگ اسلحہ کے زور پر مجھے یہاں لائے ہیں. اور میری گاڑی تو بہت دور رہ گئی کہیں. “
سونیا تھوڑا سا گڑبڑائی تھی.
وہ اب اُسے کیا بتاتی کہ یہ اُس کے اپنے آدمی ہی تھے. اور اب اچانک نیت خراب ہونے پر اُسی پر حملہ کر بیٹھے تھے.
مگر جو بھی تھا. وہ اِس وقت جاذل کی بہت شکر گزار تھی. جس نے ٹھیک ٹائم پر آکر اُس کی عزت اور جان بچا لی تھی. کیونکہ بہت زیادہ ٹرینڈ ہونے کے باوجود بھی وہ اِن تین لوگوں کا مقابلہ بنا اسلحہ کے نہیں کرسکتی تھی.
اور دوسری بات سونیا کی نظریں بھٹک بھٹک کر جاذل کی طرف جارہی تھیں. جس کی بہادری نے اُسے بہت امپریس کیا تھا.
” بہت بہت شکریہ آپ کا. میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی. جو آپ نے آج مجھ پر کیا ہے. پلیز ایک فیور اور کر دیں کیا. “
سونیا کی بات پر جاذل نے سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا.
” کیا آپ مجھے لفٹ دے سکتے ہیں. میرے پاؤں میں بہت چوٹ لگی ہے. اِس حالت میں گاڑی ڈھونڈنا اور اُس تک پہنچنا میرے لیے بہت مشکل ہوگا. “
جاذل خود بھی اُسے یہی کہنے والا تھا. اُس کی بات پر سر ہلا کر ساتھ آنے کا اشارہ کرتے واپسی کی طرف چل پڑا تھا.
سونیا نے مسکراتی نظروں سے اُس کے چوڑے وجود کو دیکھا تھا. اِس شخص کا ایٹیٹوڈ اُسے بہت پسند آیا تھا. جو شاید پہلا ایسا شخص تھا جو سونیا کی خوبصورتی سے امپریس نہیں لگ رہا تھا.
جاذل سے لفٹ مانگنے کا مقصد اُس کے بارے میں جاننا تھا. ورنہ اُس کی ایک کال پر بہت سی گاڑیاں اُس کے لیے حاضر ہوجانی تھیں.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” سر ہمارا شک ٹھیک نکلا. ریحاب ابھی اپنے بھائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی. ارحم نے اُسے کچھ نہیں بتایا. وہ یہی سمجھ رہی ہے. کہ انیس کو غائب کرنے کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہے اور انیس ہمارے قبضے میں ہے. اب آگے کیا کرنا ہوگا ہمیں. کیونکہ اُس کیپٹن کے گھر سے اُس کی بیوی کو اُٹھانا ناممکن ہی ہے. “
دلاور فل جوش میں غفور سے مخاطب تھا.
غفور کے کہنے پر اُس نے ارحم کے گھر سے نکلتے ہی ریحاب کو فون کیا تھا. جب اُس کی ڈری سہمی آواز سن کر .سمجھ گیا تھا کہ وہ ابھی اُن کے خوف کے زیرِ اثر ہے اور کچھ نہیں جانتی.
” ہم کچھ نہیں کریں گے بلکہ اب سب کچھ وہ لڑکی کرے گی. پہلے وہ خود ہمارے پاس آئے گی اور پھر اپنے شوہر کو بھی لائے گی. کیپٹن ارحم کی ساری پلاننگ پر اُس کی اپنی بیوی پانی پھیر دے گی. “
غفور بہت خوش ہوا تھا.
” مگر وہ کیسے. “
دلاور تجسس سے بولا.
” انیس کی آواز جیسی جو آواز ریکارڈ کروائی تھی. وہ بھیجو اُس لڑکی کو. اور دھمکی دو ساتھ کے ابھی اور اِسی وقت ہماری بتائی گئی جگہ پر پہنچ جائے. اگر ٹائم پر نہ پہنچی یا کسی کو بتایا اِس بارے میں تو اپنے بھائی کی لاش دیکھنے کو بھی نہیں ملے گی اُسے. “
غفور کی بات پر دلاور مسکرایا تھا. وہ حُسن کی مورتی اب اُسے ملنے والی تھی. جس کا وہ کب سے منتظر تھا.
” اوکے سر آپ بے فکر ہوجائیں کچھ دیر میں ہی وہ لڑکی ہمارے قبضے میں ہوگی. اور پھر ہوگی جنرل آصف اور کیپٹن ارحم کی بربادی.”
دلاور کی بات پر غفور کا بےڈھنگا قہقہ گونجا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ریحاب گارڈز سے نظر بچا کر جلدی سے گھر سے نکل آئی تھی. صائمہ بیگم اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں. جبکہ ارحم اور آصف صاحب گھر پر موجود نہیں تھے. ریحاب کو جب سے بلیک میلرز نے انیس کو کڈنیپ کرنے کا بتایا تھا. اُس کی جان سولی پر اٹکی ہوئی تھی. اور اب انیس کی آواز سن کر وہ اُن کی دھمکی پر بنا سوچے سمجھے باہر نکل آئی تھی. وہ کسی صورت اپنے بھائی کو کھونا نہیں چاہتی تھی.
ریحاب نے خود کو بلیک چادر میں چھپا رکھا تھا. وہ تھوڑا سا ہی آگے آئی تھی جب ایک گاڑی اُس کے پاس آکر رکی تھی.
جب اندر بیٹھے شخص کے اشارہ ملنے پر ریحاب گاڑی میں جا بیٹھی تھی. اُس کا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا وہ سمجھ نہیں پارہی تھی. جو وہ کررہی تھی وہ ٹھیک ہے یا غلط مگر وہ کسی طرح بھی انیس پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتی تھی.
ریحاب کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی. اُسے کچھ پتا نہیں چل پارہا تھا کہ اُسے کہاں لے جایا جارہا ہے.
کافی دیر بعد گاڑی کہیں پر جاکر رکی تھی. اور کسی نے ہاتھ پکڑ کر ریحاب کو گاڑی سے باہر نکالا تھا.
جب کچھ دیر چلنے کے بعد ریحاب کا ہاتھ چھوڑتے اُس شخص نے ریحاب کی آنکھوں سے پٹی ہٹا دی تھی.
ریحاب نے پٹی ہٹتے ہی آنکھوں کو مسلتے اردگرد انیس کو تلاش کرنا چاہا تھا. مگر انیس اُن کے پاس ہوتا تو نظر آتا نا.
وہاں بیٹھے دلاور اور غفور نے ہوس بھری نظروں سے ریحاب کی طرف دیکھا تھا. اُن کا شکار اُن کے سامنے تھا. مگر ابھی چاہ کر بھی وہ اُسے ہاتھ نہیں لگا سکتے تھے. جب تک کیپٹن ارحم کو وہ اپنے بس میں نہ کرلیتے.
” کیا ہوا میڈم آپ اتنی حیران کیوں ہورہی ہیں. اوہ لگتا ہے آپ نے پہچانا نہیں ہمیں. بھئی ہم وہی تو ہیں جن سے اتنا ٹائم فون پر بات کرتی رہیں آپ. آپ کے پرانے ساتھی.”
اُن کی نظروں سے گھن محسوس کرتے ریحاب خود میں سمٹی تھی.
” میرا بھائی کہاں ہے. میں نے تم لوگوں کی بات مان لی ہے نا. اب خدا کے لیے میرے بھائی کو چھوڑ دو. اُس کا اِس سب میں کوئی قصور نہیں ہے. “
ریحاب اُن کے سامنے گڑگڑائی تھی. مگر اُن جیسے درندوں پر ایسی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہونا تھا.
” اتنی بھی کیا جلدی ہے. ابھی جس کام کے لیے آپ یہاں تشریف لائی ہیں. پہلے وہ تو کر لو. بھائی سے بھی ملاقات کروا دیں گے. “
غفور اُٹھ کر ریحاب کے قریب آیا تھا.
” کک کونسسا کام.. “
ریحاب اُن کے انداز اور باتوں سے خوفزدہ ہوئی تھی. اُس کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دی تھی.

جاری ہے