No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ارتضٰی اُس نشان کو دیکھ کر جیسے بے خود ہوا تھا اور ہاتھ بڑھا کر اُسے چھونا چاہا تھا. جب ماہ روش کی آواز اُسے واپس ہوش کی دُنیا میں لے آئی تھی. اُس نے جلدی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا تھا.
“یہاں انٹر ہونے کے لیے ایسا ہی لباس مناسب تھا. “
ارتضٰی کو ماہ روش کا انداز کافی بدلہ بدلہ سا لگا تھا. جیسے وہ اُس سے دور ہونا چاہتی ہوں گریز برتنا چاہتی ہو.
“یہ لباس مناسب لگا تمہیں امیزنگ. “
ارتضٰی کے دیکھنے کے انداز اور جس حلیے میں ماہ روش اُس کے سامنے کھڑی تھی. اُس کا دل چاہ رہا تھا شرم سے ڈوب مرے.
ارتضٰی اُس کا سُرخ پڑتا چہرا دیکھ اُس کی اندرونی کیفیت کا اندازہ اچھے سے لگا سکتا تھا.
“سر مجھے اندر جانا ہے کیپٹن ارحم میرا ویٹ کررہے ہوگے. “
ماہ روش بُری طرح نروس ہورہی تھی. لیکن اِس حلیے میں واقعی اندر جانا بلکل مناسب نہیں تھا. مگر اتنا اہم کام چھوڑ کر وہ یہاں سے واپس بھی نہیں پلٹ سکتی تھی. ابھی اِسی کشمکش میں اُلجھی ہوئی تھی. جب ارتضٰی نے اپنا بلیک کوٹ اُتار کر اُس کی طرف بڑھایا تھا.
“اِسے پہن لو. اور آئندہ پہلے خود کو کمفرٹیبل کرنا پھر کسی مشن کے لیے نکلنا.”
ماہ روش نے جھجھکتے ہوئے اُس کا کوٹ پکڑتے پہنا تھا. جو باقی سب کچھ تو کور کرگیا تھا مگر آگے سے گلا ابھی بھی واضح ہو رہا تھا.
جسے دیکھ ارتضٰی کا پارہ مزید چڑھ گیا تھا.
ماہ روش نے فوراً رُخ موڑتے پنز لگا کر اُسے سیٹ کرنا چاہا تھا. مگر ارتضٰی کی وجہ سے پزل ہوتے اُس کے ہاتھ بُری طرح کپکپا رہے تھے اور پنز لگ ہی نہیں رہی تھیں.
ارتضٰی پہلے تو بہت مشکل سے ضبط کرکے کھڑے اُسے زور آزمائی کرتے دیکھتا رہا مگر جب بہت دیر بعد بھی وہ ویسے ہی رُخ پھیرے رہی تو ارتضٰی کی برداشت جواب دیتی محسوس ہوئی تھی. کیونکہ اُنہیں باہر بھی جانا تھا پہلے ہی بہت دیر ہوچکی تھی.
ارتضٰی نے اُسے کندھوں سے تھام کر واپس اُس کا رُخ اپنی طرف کرتے دیوار کے ساتھ لگایا اور اُس کے ہاتھ سے چھیننے کے انداز میں پن لیتے اُس پر جھکا تھا.
ماہ روش آنکھیں پھاڑے ششدر سی اُسے دیکھ رہی تھی. اُس کے دل کی دھڑکن شدت پکڑ چکی تھیں. اِس سنگدل کی ایک نظر اُسے مشکل میں ڈال دیتی تھی اور اِس وقت اُس کی قربت پر ماہ روش کو اپنی جان نکلتے محسوس ہو رہی تھی.
ارتضٰی کی گرم سانسیں وہ اپنے کندھے پر محسوس کررہی تھی. جو اُس کے کندھے سے گاؤن کو پن سے سیٹ کررہا تھا. مگر ارتضٰی نے اپنا ہاتھ ایک بار بھی اُس کے کندھے سے ٹچ نہیں ہونے دیا تھا. یہی بات تو ماہ روش کو ارتضٰی کا مزید دیوانہ کرتی تھی. جو ایک پختہ کردار رکھتا تھا اور اپنی حدود جانتا تھا.
ماہ روش کے ساتھ ساتھ ارتضٰی بھی اچھی خاصی آزمائش میں پڑ چکا تھا. جلدی جلدی اُس کی پن لگا کر وہ پیچھے ہٹا تھا.
وہ خود کو بہت مضبوط اعصاب کا انسان تھا. مگر اِس لڑکی کے قریب آتے ہی دل اُس کی طرف ہمکنے لگتا تھا. اُس کو پانے کی خواہش کرتا تھا. ایک عجیب سی کشش محسوس ہوتی تھی جو اُسے اِس کی طرف کھینچتی تھی.
ارتضٰی نے محسوس کیا تھا ماہ روش کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا. ارتضٰی اُس سے دور ہوتا فوراً کمرے سے نکل گیا تھا. اُس کو جاتا دیکھ ماہ روش اپنے دل پر ہاتھ رکھتی آنکھیں موند کر دیوار سے سر ٹکاتے خود کو نارمل کرنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“بے شرم بے ضمیر لوگ کیسے مسلمان ہیں یہ. ماں باپ سمجھتے ہیں پال پوس کر بڑا کردیا اب ذمہ داری ختم اور یہ لوگ معاشرے کا ناسور بن کر رہ جاتے ہیں. ﷲ ہدایت دے اِنہیں بھی اور اِن کے ماں باپ کو بھی. “
زیمل نے اردگرد پھیلی فحاشی اور بے حیائی دیکھ جھڑجھڑی سی لی تھی. جہاں لڑکیاں لڑکے نشے میں دھت جھومتے ایک دوسرے میں گم تھے.
جاذل نے نظروں کا زاویہ بدلتے زیمل کی طرف دیکھا جو سُرخ چہرا لیے غصے سے اُس کے بلکل قریب کھڑی تھی.
مہرون کلر کی ٹاپ اور کھلے پائنچوں والی جینز پہنے وہ دراز قد ہونے کے باوجود بھی جاذل کے کندھے تک آرہی تھی.
اردگرد کے ماحول کی وجہ سے اُس کے چہرے پر پھیلی سُرخی دیکھ جاذل کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری تھی.
“ڈونٹ وری بس تھوڑی ہی دیر ہے اِن کو انجوائے کرنے دیں. “
جاذل کے پر مزاح انداز پر زیمل نے اُسے غصے سے گھورا. جو اب کسی اور طرف دیکھنے میں مصروف تھا.
زیمل نے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا مگر سامنے کامنظر دیکھ زیمل کا دماغ گھوم گیا تھا.
جاذل سامنے کھڑی ویٹر کی سکرٹ کو گھور رہا تھا.
“جب محافظ ہی ایسے ہوں تو لٹیروں سے کیسا گلا. آپ کو شرم نہیں آتی کسی لڑکی کو اِس طرح گھورتے ہوئے. وہ بچاری یہاں کس مجبوری کی وجہ سے نوکری کررہی ہوگی.”
زیمل اُس لڑکی کی طرف دیکھتی اب کی بار جاذل کا دماغ گھوما گئی تھی.
جاذل نے اُس کے دونوں کندھوں پر دباؤ ڈالتے اپنے نزدیک کیا تھا. زیمل جاذل کے تیور دیکھتی جذبذ سی ہوئی تھی.
“محترمہ کبھی تو کچھ سوچ کر بول لیا کریں. ہر وقت مجھ پر الزام تراشی ہی کرتی رہتی ہیں. میں اُس بچاری لڑکی کی سکرٹ کو نہیں گھور رہا بلکہ سکرٹ کی پاکٹ میں موجود ڈرگز کے پیکٹ کو گھور رہا تھا. جو وہ آپ کی ہاتھ میں موجود ڈرنک کے ساتھ ساتھ باقی سب کی ڈرنکس میں بھی ملا چکی ہے. مجھ پر نظر رکھنے کے بجائے جس کام کے لیے یہاں آئی ہیں اُس پر کنسنٹریٹ کریں گی تو زیادہ بہتر ہوگا. “
جاذل کو بہت کم ہی غصہ آتا تھا مگر اِس وقت اپنے پروفیشن پر کی گئی بات اُسے اچھا خاصہ تپا گئی تھی.
جاذل کی بات پر زیمل نے غور کیا تو وہ ویٹر اُسے بھی بہت مشکوک لگی تھی.
مگر جس طرح وہ ایکٹ کررہی تھی اُس کا نظروں میں آنا اتنا آسان نہیں تھا. زیمل خود کو لتاڑنے کے ساتھ ساتھ جاذل کی ذہانت سے اچھی خاصی ایمپریس بھی ہوئی.
کچھ دیر بعد جاذل کو وہ لڑکی کلب کے اندرونے حصے کی طرف جاتی نظر آئی.
“میں اُس ویٹر کی طرف جارہا ہوں. آئی تھنک وہ یہاں اپنا کام کمپلیٹ کرکے کسی سے ملنے جا رہی ہے. آپ یہاں پر ہی نظر رکھیں اور مجھ سے رابطے میں رہیں گا. “
جاذل زیمل کو ہدایت دیتا نارمل انداز میں چلتا اُس ویٹر کی طرف بڑھا تھا.
جاذل دبے پاؤں اُس کے پیچھے چل رہا تھا. وہ لڑکی کوریڈور کے آخری سرے پر بنی سیڑھیوں سے اُوپر کی طرف جاتی نظر آئی تھی. وہ تھوڑی دیر بعد پیچھے پلٹ کر بھی دیکھ لیتی تھی. جس سے جاذل کو اپنا شک یقین میں بدلتے نظر آیا تھا.
وہ اُوپر آکر دو کمرے چھوڑ کر تیسرے کمرے میں داخل ہوئی تھی.
جاذل نے دروازے کے قریب کھڑے ہوتے اندر کے حالات جاننے چاہئے تھے. اندر سے آتی آوازیں اُس کے شک پر یقین کی مہر ثبت کر گئی تھیں.
جاذل گن نکالتے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا. اچانک کسی کے نوارد ہونے پر اُس شخص کے اُوپر جھکی ویٹر فوراً سیدھی ہوئی تھی.
جاذل نے زرا بھی موقع دیے بغیر اُس شخص کو ایک زور دار مکہ مارتے پیچھے پھینکا تھا. ویٹر نے جاذل کو اپنے ساتھی کی طرف متوجہ دیکھ اپنی گن نکالتے اُس پر وار کرنا چاہا. لیکن جاذل کو بے خبر سمجھنے کی غلطی اُسے بہت مہنگی پڑی تھی.
جاذل اُس کے گولی چلانے سے پہلے ہی اُس کے ساتھی کو دبوچے سلنسر لگی گن سے اُس کے بازو پر فائر کر چکا تھا.
“میجر جاذل ایوری تھنگ اِز آل رائٹ. “
جاذل کو اپنے ائیر پیس سے زیمل کی آواز سنائی دی تھی.
“یس ایوری تھنگ اِز انڈر کنٹرول. “
جاذل کا جواب سن کر مطمئن ہوتے زیمل جیسے ہی آگے بڑھی جب عجلت میں سامنے سے آتے شخص سے بُری طرح ٹکرا گئی تھی.
“اوہ آئم سوری. “
زیمل کی بات کا سر کے اشارے سے جواب دیتے وہ کلب کے ایگزٹ کی طرف بڑھا تھا.
زیمل کی چھٹی حس کو کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا تھا. جس پر ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر وہ اُس کے پیچھے بھاگی تھی. وہ بھاگتے ہوئے کلب سے باہر نکل آئے تھے.
اُس شخص نے جیسے ہی زیمل کو اپنے پیچھے آتے نوٹ کیا اُس نے گن نکالتے زیمل پر فائر کیا تھا. اُس کا ارادے سے آگاہ ہوتے زیمل نے فوراً جھک کر خود کو بچایا تھا. وہ بھاگنے کے ساتھ ساتھ بار بار پلٹ کر فائر کر بھی رہا تھا.
جب کچھ آگے آنے کے بعد اُس شخص کے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر اُسے زیمل کہیں نظر نہیں آئی تھی. وہ حیران سا وہاں رُکتا چوکنا ہوکر اردگرد کا جائزہ لینے لگا تھا. جب پیچھے سے زیمل کے اُس کے سر پر زور دار وار کرنے پر وہ اپنے ہوش و حواس کھوتا نیچے جاگرا تھا.
زیمل اُسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے کلب کی طرف بڑھی تھی جہاں اب پولیس سائرن کی آوازیں آرہی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی اور ماہ روش کلب کے اندر موجود تھے. جہاں فل والیم میں میوزک آن تھا. سٹیج پر تین لڑکیاں بہت ہی نازیبا ڈریس پہن کر ناچتیں اپنی اداؤں سے وہاں کھڑے لوگوں کو پاگل کر رہی تھیں.
ماہ روش کو یقین نہیں آیا تھا کہ یہ پاکستان کی ہی کوئی جگہ تھی. جو ملک دین اسلام کے اصولوں کے مطابق آزاد زندگی گزارنے کے لیے بنایا گیا تھا وہاں کچھ اسلام دشمنوں نے اپنے نفس کی تسکین کے لیے ناپاک عزائم شروع کر رکھے تھے.
سٹیج پر رقص کرتی ایک لڑکی اُتر کر نیچے آئی تھی اور بہت سارے مردوں کے قریب سے گزرتے ارتضٰی کے قریب بھی آئی تھی. اُس نے جیسے ہی ارتضٰی کے سینے پر ہاتھ پھیلایا ماہ روش کا دل چاہا تھا. ہاتھ اُٹھا کر اِس بے حیا لڑکی کا گلا دبا دے مگر ارتضٰی کی طرح وہ بھی اپنے جذبات پر قابو پاتے خاموشی سے کھڑی رہی تھی. ماہ روش نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑے بہت مشکل سے کچھ بھی کرنے سے خود کو باز رکھا تھا.
لیکن اگلے ہی لمحے ارتضٰی کی طرف دیکھتے اُسے مزید آگ لگی کیونکہ وہ اُس لڑکی کی طرف سمائل پاس کررہا تھا. اِسی بات کا ہی تو انتظار تھا. اُس لڑکی کو وہ ارتضٰی کو آنکھوں سے کوئی اشارہ کرتی سائیڈ پر بنے رومز کی طرف بڑھ گئی تھی.
ارتضٰی بنا ماہ روش کی طرف دیکھتے اُس لڑکی کے پیچھے بڑھا تھا.
ماہ روش کو ارتضٰی کی مشن کے بارے میں کہی بات اب سمجھ آئی تھی. کہ یہ مشن پہلے والے مشنز سے بہت مختلف تھا. آزمائشوں سے بھرا ہوا اور پہلی آزمائش تو ماہ روش کے سامنے تھی.
ارتضٰی کو اُس لڑکی کے پیچھے گئے پانچ منٹ گزر چکے تھے. ماہ روش کی سانسیں اُسے کسی لڑکی کے ساتھ روم میں اکیلے ہونے کا سوچ کر اٹکی ہوئی تھیں.
اپنے بارے میں جان کر اُس نے یہی سوچا تھا کہ ارتضٰی کے بارے میں اپنے جذبات اپنے آپ سے بھی چھپا کر رکھے گی. اور زندگی میں کبھی بھی اُس کو حاصل کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لائے گی مگر اِس وقت پوری زندگی تو کیا پانچ منٹ بھی عذاب لگ رہے تھے.
ماہ روش کی جان ایسے ہی سولی پر اٹکے پورے 30منٹ گزر چکے تھے. جب اُسے ارتضٰی کے ساتھ وہ لڑکی روم سے باہر آتی دیکھائی دی تھی. دونوں کے چہروں پر موجود مسکراہٹ دیکھ ماہ روش کا دل خاک ہوا تھا.
ارتضٰی نے اُس کے پاس پہنچ کر باہر آنے کا اشارہ کیا تھا اور بنا کچھ کہے آگے نکل گیا تھا.
ماہ روش حیران سی اُس کے پیچھے چل پڑی تھی. اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا. کہ آخر یہ ہوکیا رہا ہے. پہلے ارحم کی جگہ ارتضٰی کا یہاں آنا پھر ارتضٰی کا اُس لڑکی کے ساتھ اتنی دیر کمرے میں بند رہنا اور اب بغیر ریڈ کروائے خاموشی سے نکل آنا.مگر پوچھتی بھی تو کس سے اِس کھڑوس نے بھلا کہاں اُسے کچھ بتانا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ریحاب پچھلے ایک ہفتے سے تقریباً روز ہی ارحم کو کال کررہی تھی. کرن لوگوں سے اچھی خاصی ٹریننگ لینے کے بعد اُسے اب کچھ حد تک ارحم کو پٹانے کا آئیڈیا ہوچکا تھا. جس میں اُسے تھوڑی کامیابی نظر آنے بھی لگ گئی تھی.
کیونکہ ارحم اُس کی ہر بات کا اچھے سے رسپانس دیتا تھا. اور دونوں کے درمیان کافی بے تکلفی ہوچکی تھی. مگر ساتھ ہی ریحاب کے لیے پریشانی کی بات یہ بھی تھی کہ ارحم کچھ زیادہ ہی فری ہورہا تھا. اور اُس کی کوئی کوئی بات تو ریحاب کو اچھا خاصہ غصہ دلا دیتی تھی.
اِس وقت بھی وہ اُسی سے ہی بات کرنے میں مصروف تھی.
“آپ نے کبھی اپنی کسی گرل فرینڈ کا ذکر نہیں کیا. کتنی گرل فرینڈز ہیں آپ. میں جانتی ہوں آپ جیسے بندے کی بہت ساری گرل فرینڈز ہوں گی.”
ریحاب کی بات کو ارحم نے کافی انجوائے کیا تھا.
اُسے پہلی ملاقات میں ہی یہ کیوٹ سی لڑکی باقی لڑکیوں سے کافی مختلف لگی تھی. اور پھر ہر ملاقات میں اُس نے ریحاب کا الگ انداز دیکھا اُس کا ہر انداز ہی ارحم کو بہت انوکھا اور پیارا لگا تھا.
کالج لائف تک اُس کا سوشل سرکل بہت وسیع تھا جس میں لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی شامل تھیں. لیکن پھر بعد میں اپنی ٹف روٹین کی وجہ سے وہ اُس سب سے دور ہوچکا تھا.
لیکن اب ریحاب سے بات کرنا اُسے اچھا لگ رہا تھا. اُس کی معصومانہ باتیں وہ بہت انجوائے کرتا تھا.
“نہیں میری کوئی گرل نہیں ہے میں نے آپ کو بتایا تھا میں کتنا شریف انسان ہوں. مگر اب نیت خراب ہوتی محسوس ہورہی ہے. ارادہ بن رہا ہے کیونکہ ایک لڑکی نے دل کو بہت ڈسٹرب کر رکھا ہے.”
ارحم کی بات اور انداز پر ریحاب کا دل زور سے دھڑکا تھا.
“اچھا کون ہے وہ لڑکی. “
ریحاب نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ایسی چیپ باتیں بھی کبھی کسی سے کرنا پڑیں گی. مگر اُس کی لائف پہلے کب اُس کی سوچ کے مطابق چل رہی تھی جو اب ایسا ہوتا.
“جس سے اِس وقت میں بات کر رہا ہوں. “
ارحم نے ہونٹ بھینچ کر بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا تھا. کیونکہ آنکھوں کے پردے پر ریحاب کا پھولا ہوا چہرا لہرایا تھا.
“حج جی آپ کا کیا مطلب میں سمجھی نہیں. “
ریحاب دل ہی دل میں اُسے فلرٹی , چھیچھورا اور نجانے کن کن القابات سے نوازتی بظاہر شرمانے کی ایکٹنگ کرتے بولی.
“کوئی بات نہیں جلد ہی آپ کو سمجھ بھی آجائے گی. “
ارحم کی معنی خیز بات ریحاب کے سر سے ہی گزری تھی.
“ویسے آپ بہت کیوٹ اور بیوٹیفل ہو.”
ارحم کو اُسے تنگ کرنے میں بہت مزا آرہا تھا.
ایسے ہوتے ہیں شریف لوگ. کتنا بے شرم انسان ہے یہ میرے زرا فری ہونے پر لائنوں پر لائنیں ماری جارہا ہے. یہ بلیک میلرز نے بھی مجھے کس بندے کے پیچھے لگایا ہے. اِس چھیچھورے سے شادی کروں گی میں. کبھی نہیں یاﷲ جی پلیز میری مدد کریں. کیا کروں میں آگے کنواں پیچھے کھائی ہے.
ریحاب کا دل چاہا تھا فون سے نکل کر اُس کا منہ توڑ دے.
“کیا ہوا آپ کو میری بات بُری لگی. “
ارحم نے اُس کی خاموشی نوٹ کرتے پوچھا.
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں وہ مجھے اپنی ایک بہت امپورٹنٹ اسائنمنٹ تیار کرنی ہے تو میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں.”
ریحاب نے اُسے خدا حافظ کرتے فون رکھ دیا تھا.
یہ بلیک میلرز میری اِس شخص سے شادی کروا کر اُس سے نہیں بلکہ لگتا ہے مجھ سے کوئی بدلہ لینا چاہتے ہیں.
ریحاب بیڈ پر پھینکتی کمرے سے ہی نکل گئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری ہے
