Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

” مگر میرے ﷲ کا شکر ہے میں تم لوگوں کی طرح بے ضمیر اور بے حس نہیں ہوں. اور نہ ہی تمہارے باپ کی طرح نفس کا غلام ہوں. لیکن بہت جلدی جو درد ناک انجام تم لوگوں کا ہونے والا ہے تیار رہنا اُس کے لیے اور اپنے اُس (گالی) باپ کو بھی بتادینا.”
ارتضٰی نے بے دردی سے ماہ روش کو اپنے حصار سے آزاد کرتے دور کیا تھا. جس پر ماہ روش لڑکھڑاتے اندر داخل ہوتے جنرل یوسف کے قدموں میں جاگری تھی.
“میجر ارتضٰی…”
جنرل یوسف ماہ روش کو اُٹھاتے ارتضٰی کی طرف مڑتے شدت سے چلائے تھے. وہ ماہ روش کی حالت دیکھ اپنی جگہ ششدر سےرہ گئے تھے.
“میں نے آپ سے کہا تھا مجھے اِس لڑکی کو اپنی ٹیم میں نہیں رکھنا. جس کی رگوں میں ایک غدار کا خون دوڑتا ہے. وہ کیسے وفا دار ہوسکتی ہے. “
ارتضٰی اُن کا زرا بھی لحاظ رکھے غرایا تھا
اُس کی ہر بات برداشت کرتی ماہ روش اپنے کام اپنے جنون کے بارے میں اتنے بڑے الزام پر تڑپ اُٹھی تھی.
“سر آپ کو میرے پروفیشن پر اُنگلی اُٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے. “
ماہ روش بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتی مضبوط قدم اُٹھاتی بلکل اُس کے سامنے چند قدموں کے فاصلے پر جاکھڑی ہوئی تھی.
اس وقت وہ ارتضٰی کے پیار میں دیوانی ماہ روش نہیں بلکہ ایک آرمی آفیسر لگ رہی تھی جس کی بے داغ وردی پر کیچڑ اچھالا جا رہا تھا.
” حق ہے کیونکہ اِس وقت تم میری ٹیم کا حصہ ہو. تمہاری ایک ایک حرکت پر میری نظر ہے اگر کچھ لوگوں کی سپورٹ نہ ہوتی تو تم اِس وقت یہاں نہ کھڑی ہوتی.”
ارتضٰی نے دو قدم کا فاصلہ بھی طے کرتا اُس کے سامنے کھڑے ہوتے ایک طنزیہ نظر جنرل یوسف پر ڈالی تھی.
جنرل یوسف نے ایک بے بس نظر اُن دونوں پر ڈالی تھی.
وہ جانتے تھے یہ دونوں اِس وقت کتنی تکلیف میں ہیں. اُن کا دل چاہا تھا ابھی اُن دونوں کے درمیان موجود تمام غلط فہمیاں دور کر دیں.
مگر اِس وقت وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتے تھے.
جنرل یوسف نے مزید معاملہ بگڑتے دیکھ ماہ روش کو باہر جانے کا کہا تھا اور ارتضٰی کی طرف بڑھے تھے.
“میجر ارتضٰی آپ نے کیپٹن سوہا کی بات پر ماہ روش کے ساتھ اتنا بُرا سلوک کیا ہے. آپ بھول تو نہیں گئے سوہا کی اصلیت وہ ہماری نہیں دشمنوں کی ساتھی ہے. اُس کی من گھڑت بات میں آکر آپ نے ماہ روش کو اتنا غلط بول دیا. مجھے آپ سے ایسی امید نہیں تھی. “
جنرل یوسف نے ملامت کرتی نظروں سے غصے سے بپھرے ارتضٰی کو دیکھا.
کیپٹن سوہا ذی ایس کے کی بھیجی گئی جاسوس تھی جس کو وہ لوگ جانتے ہوئے بھی اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے خود کو بے خبر ظاہر کر رہے تھے. وہ سوہا کے تھرو بہت ساری غلط انفارمیشن دشمنوں تک پہنچا چکے تھے.
” امید تو مجھے بھی آپ سے اِس بات کی نہیں تھی جو آپ نے کیا.اتنی بڑی بات چھپا کر. اور میں نہیں مگر شاید آپ بھول رہے ہیں کہ میں میجر ارتضٰی ہوں. آپ کی بہت کوششوں کے باوجود بھی میں معلوم کرچکا ہوں کہ اُس دن آفس میں گارڈز کو بے ہوش کرکے اندر داخل ہونے والی سوہا نہیں ماہ روش تھی. آپ نے جھوٹ بول کر اُسے مجھ سے بچانے کی کوشش کی. “
ارتضٰی بہت کوشش کے باوجود بھی اپنے لہجے پر قابو نہیں رکھ پارہا تھا. جب اُس کی بات پر جنرل یوسف نگاہیں چرا گئے تھے.
“ماہ روش کا اِس طرح چوری چھپے وہاں داخل ہونا پھر اُس ذوالفقار کا اُس سے ملنا. کیا معنی نکلتا ہے اِن باتوں کا. “
ذوالفقار کا ذکر کرتے ارتضٰی کی آنکھیں خون رنگ ہوئی تھیں. اُسے زیادہ آگ اِسی بات پر لگی ہوئی تھی. کہ ماہ روش اپنے باپ کے ساتھ کیوں تھی. اگر وہ واقعی ایک ایماندار آفیسر تھی تو کیوں نہیں چھوڑ رہی تھی اپنے باپ کو.
اُسے ماہ روش پر غصہ میٹنگ میں نہ آنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اُس کا ذوالفقار کے ساتھ ہونے پر تھا.
اُس کی ریسرچ کے مطابق تو ماہ روش اپنے گھر میں اکیلی رہ رہی تھی اور ذوالفقار بہت عرصے سے اُس سے ملا بھی نہیں تھا. یہ سب جان کر ارتضٰی ماہ روش کے ساتھ کچھ بہتر رویہ اختیار کر رہا تھا. مگر اب اُس کا اپنے باپ کے قریب ہونا ارتضٰی کی نفرت کو دوبارہ جگا گیا تھا.
ارتضٰی جنرل یوسف سے مزید کوئی بھی بات کیے وہاں سے نکل آیا تھا. اِس وقت وہ نہیں چاہتا تھا جس موڈ میں اِس وقت وہ ہے اُن سے کوئی مس بی ہیو کر بیٹھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” وہ دیکھیں ماما چاچو آگے. اب تو ہم ہوم ورک بعد میں ہی کریں گے. “
طلحہ اور ہادی ارتضٰی کو اندر داخل ہوتا دیکھ اپنی بکس وہیں پھینکتے بھاگ کر اُس کی طرف بڑھے تھے.
“چاچو کے شہزادے کیا کر رہے تھے. “
ارتضٰی اُنہیں اپنے چوڑے شانوں میں بھینچتا بازوؤں میں اُٹھاتے محبت سے بولا.
رات کا ٹائم تھا اِس لیے ڈرائنگ روم میں اِس وقت تقریباً سب لوگ ہی موجود تھے سوائے ناہید بیگم کے.
ارتضٰی اُن دونوں کو گود میں لیے زینب بیگم کے ساتھ جا بیٹھا. جو محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھیں. اور دل ہی دل میں اُس کی نظر اُتاری تھی.
ارتضٰی فل یونیفارم میں تھکا تھکا سا بہت وجیہہ لگ رہا تھا. بال کشادہ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے. سلیوز کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے اُس کے بالوں سے بھرے سفید مضبوط بازوں کی دلکشی نمایاں ہورہی تھی.
“چاچو ماما ہمیں ڈانٹ رہی تھیں اور کھیلنے بھی نہیں دیا. “
وہ دونوں نیہا کی گھوری پر ارتضٰی کے سینے میں منہ چھپاتے منمنائے.
“بھابھی آپ نے اتنا بڑا ظلم کیوں کیا اتنے معصوم بچوں پر. “
ارتضٰی کی بات پر جس طرح معصومیت سے اُن دونوں نے شکل بنائی تھی. ارتضٰی سمیت سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
” جی بلکل معصومیت میں تو یہ پورے کے پورے تم پر گئے ہیں.”
ارباز کی بات پر ارتضٰی سر خم کرتے مسکرایا.
اپنوں کے درمیان آکر کچھ دیر پہلے والی کیفیت سے اب باہر آچکا تھا.
” پھوپھو ماما نظر نہیں آرہی کہاں ہیں وہ. “
ارتضٰی ناہید کو وہاں نہ پاکر ذینب سے بولا.
” اپنے کمرے میں ہیں. میری جان مجھے بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو تم جاؤ جاکر ریسٹ کرلو. اپنی صحت کی تو زرا بھی پرواہ نہیں ہے تمہیں. “
زینب بیگم اُس کی آنکھوں میں موجود سُرخ ڈوروں کو دیکھتے فکرمندی سے بولیں جو نجانے کتنی ہی راتوں سے نیند پوری نہ ہونے کی چغلی کھا رہی تھیں.
” اوکے باس جو حکم آپ کا. “
ارتضٰی مسکرا کر ان کا ہاتھ چومتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا تھا.
” چلے جاؤ یہاں سے مجھے کوئی بات نہیں کرنی تم سے.”
ارتضٰی کو اپنے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ ناہید بیگم منہ دوسری طرف پھیڑتے غصے سے بولیں.
اُس دن ہوٹل والے واقعے کے بعد ارتضٰی سے اُنہوں نے کوئی بات نہیں کی تھی. اور ارتضٰی بھی کیس میں بہت زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے گھر نہیں آپایا تھا.
وہ ناہید بیگم کی ناراضگی کی وجہ ذہن میں لاتے ٹھنڈی سانس بھرتا اُن کی طرف بڑھا تھا.
” ماما آپ ابھی تک ناراض ہیں مجھ سے. “
ناہید بیگم صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں جب ارتضٰی اُن کے قدموں میں بیٹھتے دونوں ہاتھ اُن کی گود میں رکھتے بولا
“ارتضٰی کون تھی وہ لڑکی جس کے ساتھ تم اتنے برے طریقے سے پیش آئے. “
ناہید بیگم نے اُس کی طرف کھوجتی نظروں سے دیکھا. ارتضٰی میں اُن کی جان بستی تھی اور اب اُس کے کام کی وجہ سے وہ اور زیادہ اُس کے لیے پریشان رہتی تھیں. ارتضٰی شروع سے ہی سخت مزاج کا تھا. غصہ تو ہر وقت اُس کے ناک پر سوار رہتا ہے. مگر بچپن میں پیش آنے والے حادثے اور اِس جاب نے اُسے مزید ایگریسو بنا دیا تھا.
اب تو گھر میں بھی سب لوگ اُس کے مزاج کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے تھے. ارتضٰی اپنے ایگریشن پر قابو پانے کی بہت کوشش کررہا تھا. مگر یہ ایگریشن اُس وقت تک ختم نہیں ہونا تھا. جب تک اپنے خاندان کے بربادی کے ذمہ داروں کو انجام تک نہ پہنچا دیتا.
ناہید بیگم جانتی تھیں کہ اُن کا بیٹا غصے کا جتنا بھی تیز ہے مگر بلاوجہ کسی کو ہرٹ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا. لیکن اُس دن ماہ روش کے ساتھ اُس کا برتاؤ دیکھ ناہید بیگم کو بہت زیادہ فکرمند کر گیا تھا.
” ماما چھوڑیں نا اُسے وہ لڑکی اتنی اہم نہیں کہ اُسے ڈسکس کیا جائے. “
ارتضٰی اپنے دل کی آواز دباتے نخوت سے بولا.
” مگر مجھے جاننا ہے کون ہے وہ. جس کو تکلیف دے کر میرا بیٹا خود اذیت محسوس کر رہا تھا. “
ناہید بیگم کی بات پر ارتضٰی نے حیرت سے اُن کی طرف دیکھا.
” ماما کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ میں کیوں بھلا کسی کی وجہ سے اذیت میں رہوں گا. “
ارتضٰی کے مضبوط لہجے پر ناہید بیگم مسکرائی تھیں اور اُس کا چہرا ہاتھ سے اُوپر کرتے بولیں.
” ماں ہوں تمہاری خود سمیت پوری دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہو مگر مجھے نہیں. میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے. کیسی تڑپ تھی تم دونوں کی نگاہوں میں ایک دوسرے کے لیے. کیوں اذیت دے رہے ہو خود کو. میرا دل پھٹتا ہے تمہیں اِس طرح دیکھ کر. کیوں مرنے والوں کے ساتھ اپنی خوشیاں بھی دفن کردی ہیں. پلیز خود کے لیے جینا سیکھو. اُس لڑکی کی آنکھوں میں بھی میں نے تمہارے لیے بے پناہ چاہت دیکھی ہے. اگر اُس سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو معاف کردو اُسے. “
ناہید بیگم کی بات پر ارتضٰی کے ڈھیلے پڑے نقوش پھر سے تن گئے تھے.
” ماما جھوٹی ہے دھوکے باز ہے وہ لڑکی. ناٹک کررہی ہے صرف. نہیں ہے اُسے مجھ سے محبت اور نہ مجھے اُس سے. صرف اور صرف نفرت ہے مجھے اُس سے بے تحاشا نفرت. “
ارتضٰی نے اُن کے پاس سے اُٹھ کر رُخ پھیر لیا تھا.
” ارتضٰی کون ہے وہ لڑکی. “
ارتضٰی کے اتنے شدید رد عمل پر ناہید بیگم نے کسی بات کے زیرِ اثر پوچھا تھا. اور شدت سے دعا کی تھی کہ جیسا وہ سوچ رہی ہیں ویسا بلکل نہ ہو. مگر شاید یہ وقت قبولیت کا نہیں تھا.
” ذوالفقار کی بیٹی ہے وہ ماہ روش ذوالفقار .”
ارتضٰی کی بات پر ناہید بیگم نے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں. اُن کے بیٹے کے ساتھ ہی ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا تھا. وہ سمجھ گئی تھیں کہ ارتضٰی نے اُس لڑکی کے لیے اپنی محبت پر نفرت کی چادر کیوں اوڑھ لی تھی.
” ماہ روش. “
ناہید بیگم زیرِ لب بڑ بڑائی تھیں. مگر آواز پھر بھی ارتضٰی کے کانوں تک پہنچ گئی تھی.
“جی ہاں وہی لڑکی جس نے ہم سے ہماری معصوم گڑیا کے ساتھ ساتھ اُس کا نام تک چھین لیا. “
ارتضٰی اذیت کے زیرِ اثر بولا.
” مگر ارتضٰی وہ ایک حادثہ تھا. اُس میں اِس بچی کا کوئی قصور نہیں تھا. ہماری گڑیا اتنی ہی زندگی لکھوا کر لائی تھی. “
ناہید بیگم نے بہت مشکل سے خود پر قابو پاتے ماہ روش کی سائیڈ لیتے ارتضٰی کی نفرت ختم کرنی چاہی تھی.
” حادثہ؟ ماما وہ حادثہ نہیں تھا ایک سوچی سمجھی سازش تھی. جس کی ذمہ دار صرف اور صرف وہ لڑکی ہے. اور آپ پلیز اُس کی سائیڈ لے کر میرے دل میں موجود اُس کے لیے نفرت ختم نہیں کرسکتیں. یہ نفرت اُس کے ساتھ ہی ختم ہوگی. “
ارتضٰی اپنی بات مکمل کرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا. ناہید بیگم کا اپنے لخت جگر کی تکلیف پر دل پھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا.
وقت کے ساتھ ساتھ جس کی اذیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

الوینہ لرزتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ بہت مشکل سے تیز تیز قدم اُٹھاتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی. جلدی سے کمرے کے قریب پہنچ کر اندر داخل ہوتے اُس نے دروازہ لاک کردیا تھا.
اور وہی کھڑے ہوکر دروازے کے ساتھ سر ٹکاتے گہرے گہرے سانس لینے لگ گئی تھی.
وہ جو کام ابھی کرکے آرہی تھی اِس کے بارے میں پہلے وہ سوچنا بھی گناہ سمجھتی تھی. وہ ذی ایس کے کے خلاف بغاوت کرنے جارہی تھی. شاید زندگی میں ایسا کرنے کی ہمت بھی کبھی نہ کر پاتی اگر اُس کی ملاقات اُس فرشتہ صفت شیر دل انسان سے نہ ہوئی ہوتی. جس سے ملنے کے بعد جیسے اُس کی زندگی ہی بدل گئی تھی.
ارتضٰی کا خیال آتے ہی ایک دلکش مسکان الوینہ کے ہونٹوں پر بکھر گئی تھی. اور اُس کے ساتھ گزارے چند لمحوں میں کھو سی گئی تھی.
الوینہ چودہ سال کی تھی جب وہ اِن ظالموں کے ہاتھ لگی تھی. جہاں اُس کو بُری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا. اور غلط کاموں پر مجبور کیا جاتا.
پہلے پہل تو وہ روتی چلاتی انکار کرتی مگر کب تک ایسا کرسکتی تھی. جب اُسے یقین ہوگیا کہ اب اُس کا اِس دلدل سے نکلنا ناممکن ہوگیا ہے تو اُس نے بھی بے حس بنتے خود کو اِن لوگوں کے مطابق ڈھال لیا. اُسے ایک کھیلونے کی طرح نجانے کتنے لوگوں کے آگے پیش کیا جاتا. جو اُس کی عزت سے کھیلتے رہے.
اب تو اُسے بارہ سال ہوچکے تھے اِس کام اور وہ اب ذی ایس کے کے گینگ کا ایک بہت اہم حصہ تھی. اُس کی اداؤں اور حُسن کی وجہ سے بہت زیادہ ڈیمانڈ تھی. جس کی وجہ سے اب وہ گینگ کے سب سے بڑے کلب میں بار ڈانسر جیسے کام کرتی تھیں. اور اُس پر لوگ پیسا بھی بہت پھینکتے تھے.
وہ معمول کی طرح اپنے رقص میں مصروف تھی جب اُس کی نظر بے اختیار ارتضٰی پر پڑی تھی. اتنے سالوں سے اِس کام میں ہونے کی وجہ سے وہ اپنے وجود پر اُٹھتی ہر طرح کی نظروں کو پہچانتی تھی.
اُسے وہاں موجود تمام مردوں کی نظروں میں اپنے لیے ہوس نظر آرہی تھی سوائے ارتضٰی سکندر کے. جو وہاں موجود تو تھا اور مصنوعی مسکان سجائے الوینہ کی طرف دیکھ بھی رہا تھا. مگر اُس کی آنکھوں میں ہوس نہیں بے زاری اور اُکتاہٹ تھی.
الوینہ کو وہ وہاں کھڑے تمام مردوں میں سب سے مختلف اور نمایاں لگا تھا. وہ اُس کی وجاہت اور رعب دار پرکشش شخصیت کی آثیر ہونے لگی تھی. جب اچانک دل میں اُٹھتی خواہش پر وہ سٹیج سے اُترتے ارتضٰی کی طرف بڑھی تھی. اور اُسے چھوتے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ دیا تھا.
لیکن جیسے ہی ارتضٰی نے اُس کے پیچھے قدم بڑھائے الوینہ اُسے بھی باقی عام مرد تصور کرتے خود پر ہنستی کمرے میں داخل ہوئی تھی.
ارتضٰی نے بھی کمرے میں داخل ہوکر دروازہ لاک کردیا تھا. الوینہ جن کپڑوں میں ملبوس تھی وہ اُس کے جسم کو چھپانے کے بجائے مزید واضح کررہے تھے. ارتضٰی خاموشی سے کھڑا کمرے کا جائزہ لے رہا تھا وہ جانتا تھا یہاں کوئی کیمرہ موجود نہیں ہوگا پر بھی دیکھ کر ایک بار تسلی کرلینا چاہتا تھا.
جب اچانک الوینہ نے اُس کے بے حد قریب ہوتے ارتضٰی کے گلے میں بانہیں ڈال دی تھیں. وہ جیسے ہی اپنا چہرا ارتضٰی کے چہرے کے پاس لائی ارتضٰی نے اُسے وہیں روک دیا تھا.
اور ہاتھ بڑھا کر الوینہ کے گریبان کے بٹنز بند کردیے تھے. جو اُس نے ارتضٰی کے قریب آنے سے پہلے کھولے تھے.
الوینہ نے آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی بھرے ارتضٰی کی طرف دیکھا تھا.
ایسا پہلے کب ہوا تھا اُس کے ساتھ. آج سے پہلے کب کسی نے اُسے ڈھانپنے کی کوشش کی تھی.
” حالات سے سمجھوتہ کرکے اپنے ضمیر کو مار کر خود کو گندگی اور دلدل کا حصہ بنا لینا کہاں کی عقل مندی ہے. “
ارتضٰی کی بات پر الوینہ نے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھا تھا. ارتضٰی کب سے اُسے خود سے دور ہٹا چکا تھا.
” کون ہیں آپ. “
ہولے سے اُس کے لب ہلے تھے.
” آپ کا اور اِس ملک کی بہن بیٹیوں کی عزت کا محافظ.”
ارتضٰی نے جواب دیا. جس پر الوینہ کو پہلی دفعہ کسی سے تحفظ محسوس ہوا تھا.
” میرے پاس کیوں آئے ہو کیا چاہتے ہو مجھ سے. “
الوینہ نے اُلجھن بھری نظروں سے اُس کی طرف دیکھا تھا.
” آپ کو اور آپ جیسی تمام لڑکیوں کو اِن درندوں کے چنگل سے نکالنا چاہتا ہوں. جو میرے لیے آسان تب ہی ہوسکتا ہے. اگر آپ میرا ساتھ دیں تو. میں آپ کے تعاون کے بغیر بھی یہ سب کرسکتا ہوں مگر تب تک اور بھی نجانے کتنی معصوم لڑکیاں اِن بھیڑیوں کے ہاتھ لگ کر برباد ہوسکتی ہیں. جو میں ہر گز نہیں چاہتا. “
الوینہ کی نظریں ارتضٰی سکندر کے ایک ایک نقوش کا جائزہ لیتی جیسے بے خود ہوئی تھی.
“مگر آپ کو اتنا یقین کیسے ہے کہ میں آپ کی مدد کروں گی. اِس طرح دشمنوں میں گھرے اُن کے خلاف پلان بناتے آپ کی جان کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے. آپ کو ڈر نہیں لگتا.”
الوینہ کی بات پر پہلی بار ارتضٰی مسکرایا تھا.
اور الوینہ کو اُس کے گال پر بنتے گڑہوں میں اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا.
” میں اُس پاک ہستی کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا. زندگی دینے والا بھی وہی ہے اور چھیننے والا بھی. یہ انسانوں کی کھال میں چھپے جانور میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے.
میں آپ کے بارے میں ہر بات سے واقف ہوں. اور وعدہ کرتا ہوں. آپ میرا ساتھ دیں نہ دیں آپ کو اِن کے چنگل سے نکال کر آپ کے گھر والوں تک بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری میری ہے. “
اُس کے مضبوط لہجے اور روشن پیشانی سے اُس کے ارادوں کی پختگی صاف ظاہر ہورہی تھی.
ارتضٰی کی طرف ہی دیکھتے الوینہ نے بے ساختگی میں اثبات میں سر ہلا گئی تھی. ہر طرح کے خطرے کو پیچھے جھٹکتے اُس کے دل نے اِس شخص کے حق میں اُس سے بغاوت کردی تھی.
” آپ حکم کریں میں اپنی جان پر بھی کھیل کر آپ کی مدد ضرور کروں گی. “
الوینہ آج اتنے سالوں بعد دل سے مسکرائی تھی. اُسے ارتضٰی اِس وقت کسی فرشتےسے کم نہیں لگا تھا. اُسے یقین نہیں آرہا تھا. اِس دنیا میں ابھی بھی ایسے مرد موجود تھے جو عورت کی عزت چھیننا نہیں بلکہ عزت دینا جانتے تھے.
ارتضٰی اُسے اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا. اور نہ ہی الوینہ نے پوچھا تھا. وہ تو بس اُس کے سحر میں جکڑی اُس کی ہر بات دل و جان سے سن رہی تھی.
ارتضٰی نے اُسے اپنا نمبر دیا تھا اور مزید کچھ اہم باتوں سے آگاہ کرتے وہ دونوں وہاں سے نکل آئے تھے.
وہ دن تھا اور آج الوینہ اُس شاندار اور باکردار مرد کے سحر سے نکل ہی نہیں پائی تھی.
اچانک ہوش میں آتے الوینہ کو احساس ہوا تھا. اُسے جلد از جلد تھوڑی دیر پہلے سنی اپنے آدمیوں کی باتیں ارتضٰی کو بتانی چاہئیں. وقت بہت کم تھا.
ذی ایس کے کے آدمی ایک بہت بڑا پلان ڈسکس کررہے تھے. جس کے مطابق کل لاہور میں ہونے والے سکولز کے ایونٹ جس میں بارہ سکول شرکت کرنے والے تھے. جن میں تیس ہزار سٹوڈنٹس, دو ہزار ٹیچرز اور پانچ ہزار کے قریب باقی سکول کا عملہ شامل تھے. اُس ایونٹ میں خود کش حملہ کروانے کی تیاری مکمل ہوچکی تھی. الوینہ جلدی سے ارتضٰی کو اِس بارے میں آگاہ کرنا چاہتی تھی اُسے پورا یقین تھا ارتضٰی اپنے لوگوں کو اِس تباہی اور بربادی سے بچا لے گا.
الوینہ نے جلدی سے الماری میں چھپایا ارتضٰی کا نمبر نکالتے اُسے کال ملائی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاری ہے