Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ماہ روش کی گن میں گولیاں ختم ہوچکی تھیں. لیکن ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر ماہ روش نے جلدی سے بھاگ کر آگے آتے ریحاب کو پیچھے کی طرف دھکیلا تھا.
جب سامنے والے کی بندوق سے نکلنے والی چاروں کی چاروں گولیاں ماہ روش کے وجود میں پیوست ہوئی تھیں.
اُس کو خون میں لت پت زمین پر گرتے دیکھ زیمل اُس شخص کو گولیوں سے چھلنی کرتی چلا کر ماہ روش کو پُکارتی اُس کی طرف بھاگی تھی.
دشمنوں سے مقابلہ کرتے ارحم نے نم آنکھوں سے ماہ روش کو گرتے دیکھا تھا. ماہ روش نے واقعی اُس سے کیا وعدہ پورا کردیا تھا. لیکن وہ ماہ روش کو بھی تو کسی صورت کھونا نہیں چاہتا تھا.
ہال کی طرف بھاگتے قدموں سے بڑھتے میجر ارتضٰی کو نجانے کیوں اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھیں. ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر اُس نے اندر قدم رکھا تھا. لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہوش سنبھالے زندگی میں پہلی بار اُس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا.
زیمل کی گود میں سر رکھے ٹوٹتی سانسوں کے ساتھ ماہ روش نے ہال کے دروازے پر ہی کھڑے ارتضٰی کی طرف تکلیف کے باوجود مسکراتی نظروں سے دیکھا تھا. اُس کی آنکھوں کے اندر کی اُداسی اور اذیت جیسے چیخ چیخ کر یہ کہہ رہی تھی کہ میجر ارتضٰی سکندر آج میں نے ثابت کر دیا میں غدار نہیں ہوں. آج تو یقین کرو گے نا میرا.
“ماہ روش آنکھیں کھولو پلیز.”
ماہ روش کو آنکھیں موندتے دیکھ زیمل روتے ہوئے بولی. لیکن ہمیشہ اُس کی ہر بات ماننے والی اُس کی جان سے عزیز دوست شاید اس دفعہ اُس سے بے وفائی کر گئی تھی.
ارتضٰی نفی میں سر ہلاتے دیوانوں کی طرح ماہ روش کی طرف بڑھا تھا. لیکن یہ منظر دیکھنے سے پہلے ہی ماہ روش غافل ہوچکی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

اُس نے جیسے ہی کلاس روم میں قدم رکھا اندر ایک دم خاموشی چھا گئی تھی.
مس اقرا کی دہشت ہی اِتنی تھی کہ وہاں کی سب سے بدتمیز مانی جانے والی کلاس بھی اُس سے بے حد ڈرتی تھی.
اٹینڈنس لگانے کے بعد اقرا کی نظر جیسے ہی سامنے پڑی. اُس کلاس کا فیمس سٹوڈنٹ شایان اپنے ساتھ بیٹھی صبا کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا.

مس اقرا نے سامنے پڑے ٹیبل سے بورڈ مارکر اُٹھا کر اُس کے سر پر دے مارا تھا. اور آج تک کبھی اُس کا نشانہ مِس ہوا تھا جو اب ہوتا. مارکر سیدھا جاکر شایان کے ماتھے پر لگا تھا.
جس پر شایان کے ساتھ صبا بھی فوراً ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی. سامنے دیکھنے پر مس اقرا اُنہیں خوشمگی نظروں سے گھورتی نظر آئیں.
“سٹینڈ اپ.”
شایان اور صبا فوراً اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے. ساری کلاس اب اُن کی طرف متوجہ ہوچکی تھی.
” ریلی سوری میم.”
صبا مصنوعی شرمندگی ظاہر کرتے ہولے سے منمنائی لیکن شایان کو تو جیسے پراوہ ہی نہیں تھی.
“گیٹ آؤٹ فرام مائی کلاس.”
اُن کی طرف غصے سے دیکھتے مس چلائی تھیں.
جس پر صبا کو اپنے ساتھ باہر آنے کا اشارہ کرتا شایان ڈھٹائی سے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.
“یار شایان یہ میم کو مسئلہ کیا ہے ہم دونوں سے. مجھے تو لگتا ہے وہ لائک کرتی ہیں تمہیں اور میرے ساتھ دیکھ کر جیلس ہوتی ہیں. شکل دیکھی ہے اپنی سڑی ہوئی کوئی ایک بار نظر ڈال کر دوبارہ دیکھنا بھی پسند نہ کرے. اور بڑی آئی مجھ سے مقابلہ کرنے.”
صبا اپنے کلاس سے نکالے جانے پر نخوت سے بولی. جب اُس کی بات سنتا ارحم دل ہی دل میں مسکرایا تھا. ماہ روش اور اُسے لائک کرے گی. اُسے بے ساختہ قہقہ لگانے پر دل کیا تھا.

“چھوڑو نا ڈارلنگ کیوں اپنا موڈ خراب کررہی ہو. ویسے بھی اُس مس اقرا کی بورنگ کلاس میں بیٹھ کر کرنا بھی کیا تھا. اچھا ہوا خود ہی نکال دیا.”
ارحم نے پیار سے کہتے صبا کا موڈ بحال کرنا چاہا تھا.
“ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن دیکھو نا تمہیں کتنے زور سے مارا ہے. یہ جگہ سوج چکی ہے.”
صبا اُس کی پیشانی پر ہاتھ پھیڑتے ہوئے بولی. وہ ایسے ہی بےباک تھی کبھی بھی کہیں بھی اُس کے قریب آجاتی تھی.
“چھوڑو اِس سب کو. اِس بات کا بھی مزہ چکھا دیں گے اُسے. لیکن آج تو تم نے مجھے اپنے خاص دوست سے ملوانا تھا نا.”
ارحم نے اُس کے قریب آنے پر بنا اندر کی بے زاری ظاہر کیے نرمی سے اُسے خود سے دور کیا تھا.
“ہاں ملوانا ہے لیکن یہاں پر نہیں کہیں اور.”
صبا مسکرا کر اُس کا ہاتھ پکڑتی پارکنگ کی طرف بڑھ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماہ روش جیسے ہی کلاسز لے کر سٹاف روم میں آکر بیٹھی. کلائی میں پہنے بریسلٹ میں اُسے وائبریشن محسوس ہوئی تھی.
ہاتھ میں پکڑی فائلز ٹیبل پر رکھتے وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی.
“ہاں بولو ارحم کوئی معلومات ملی وہاں سے.”

ماہ روش پانی کا نل کھولتے بولی تاکہ اُس کی آواز باہر نہ جاسکے.

” بہت اہم خبر ملی ہے. سٹوڈنٹس کو غائب کروانے میں صرف صبا اور اُس کے ساتھی ہی نہیں بلکہ کالج کی ایڈ منسٹریشن میں سے کوئی بہت اعلٰی عہدے کا شخص شامل ہے.”

“اِس کا مطلب ہمارا شک ٹھیک نکلا. اب ہمیں کسی بھی طرح جلد از جلد اُس شخص تک پہنچنا ہوگا. کیا صبا جانتی ہے اُس کے بارے میں”
ماہ روش پُرسوچ انداز میں بولی.
“نہیں یہی تو اصل مسئلہ ہے کہ وہ کچھ نہیں جاتی. اگر جانتی ہوتی تو اب تک میں اُس سے اُگلوا چکا ہوتا. اُس کا ساتھی سعود سب جانتا ہے. لیکن وہ صبا سے کئی گنا شاطر ہے اِتنی آسانی سے نہیں اُگلے گا کچھ بھی.”
ماہ روش کو لیب انچارج سر باسط اور وائس پرنسپل سر اکمل کی حرکتیں پہلے دن سے ہی کافی مشکوک لگی تھیں. اُس نے اُن کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی. کچھ دنوں سے اُس نے نوٹ کیا تھا سر اکمل کتنی بار سیکنڈ ائیر کی سٹوڈنٹ لائبہ کو اپنے آفس بلا چکے تھے. جس کے بعد سے وہ کافی ڈری سہمی رہنے لگی تھی. اور نہ ہی زیادہ کسی سے بات کرتی تھی.
کافی عرصے سے لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں سے سٹوڈنس غائب ہورہے تھے. جن کے بارے میں آج تک اُن اداروں کی سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ شہر کی پولیس بھی کچھ پتا نہ چلا سکی تھی.
وہ گروہ اتنی صفائی سے کام کررہا تھا کہ اِتنے سٹوڈنس غائب ہونے کے باوجود اُن کے خلاف کوئی ایک ثبوت بھی نہ مل سکا تھا. اغوا ہونے والوں میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی تھی.
لاپتہ سٹوڈنس کے والدین رو پیٹ کر مدد کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے تھے. پولیس بھی ہار نہ مانتے اپنی کوششوں میں لگی ہوئی تھی. لیکن کوئی سرا ہاتھ نی آتے دیکھ سیکریٹ ایجنسی سے مدد مانگی گئی تھی.

جنہوں نے مدد مانگنے سے پہلے ہی اپنے دو بہت اہم ایجنٹس کیپٹن ماہ روش اور کیپٹن ارحم کو وہاں بھیج دیا تھا. دو مہینے مختلف تعلیمی اداروں میں بھیس بدل کر وزٹ کرنے کے بعد اُنہیں کافی معلومات حاصل ہوچکی تھی. اُس گروہ کا مین سرغنہ اِسی گورنمنٹ یونیورسٹی میں موجود تھا. اور اِس ایک ادارے سے پچھلے سات مہینوں میں ساٹھ سے زائد سٹوڈنس غائب ہوچکے تھے. اِس میں شہر کی باقی یونیورسٹیز کی نسبت سٹوڈنس کی تعداد زیادہ تھی.
وہ دونوں پچھلے چھ مہینوں سے یہاں اپنے مشن پر کام کررہے تھے. ماہ روش ایک ٹیچر جبکہ ارحم ایک سٹوڈنٹ کی طرح وہاں موجود تھے. دونوں کے حلیے اپنی اصل شخصیت سے بہت مختلف تھے.
صبا اُس گروہ کا ایک بہت اہم فرد تھی ارحم بہت جلد اپنی چارمنگ پرسنیلٹی سے اُسے متاثر کرکے اُس کے کافی قریب آچکا تھا. ارحم نے اُس کے سامنے ایسا ظاہر کیا تھا کہ وہ ایک بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پیسا کمانا چاہتا ہے چاہے اُس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے.
صبا نے اُس کو اچھے سے جانچنے اور اپنی ٹیم میں اتنا ہنڈسم بندہ شامل کرنے کی خوشی میں اپنے ساتھی سے بات کرکے اُسے اپنی ایک حد تک معلومات دی تھی. اور ارحم کو بھی اپنے کام میں شامل کر لیا تھا.
“ارحم اُس گروہ کو پکڑنے کے لیے ہمارے پاس ایک ہفتے سے بھی کم کا ٹائم رہ گیا ہے. ہمیں اپنے نیکسٹ پلان پر فوراً عمل کرنا ہوگا.”
“ہممہ نیکسٹ پلان کی ساری تیاری ہوچکی ہے بس آج رات ہی عمل کرنا ہے اُس پر. انشاءﷲ کامیابی ہمارا مقدر بنے گی.”
“انشاءﷲ ایسا ہی ہوگا.”
ماہ روش بھی پورے یقین سے بولی.
“ویسے مس اقرا میں نے آپ کو صرف کلاس سے باہر نکالنے کو کہاں تھا. آپ نے مجھ بے چارے شریف انسان کا سر کس خوشی میں پھوڑا ہے.”
ارحم شرارتی انداز میں ماہ روش سے مخاطب تھا.
” مائی ڈیر سٹوڈنٹ شایان آپ جس طرح صبا کے کان میں گھسے ہوئے تھے. اگر اُس منظر کو کیپچر کرکے میں نے سر کو فارورڈ کر دی ہوتی تو وہ اچھے سے آپ کی شرافت نکالتے.”
ماہ روش نے بھی اُسی کے انداز میں جواب دیا تھا. جب اُس کی دھمکی سنتا ارحم ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا اُسے مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا.
ارحم سے بات کرکے فون رکھتے ماہ روش باہر آگئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤