No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
زیمل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی ارحم اُس کے سامنے آجائے اور وہ اُس کا حشر بگاڑ دے.
” کیپٹن ارحم کو بعد میں دیکھیئے گا. پہلے اپنے اِس چھچھورے میجر سے تو نبٹ لیں. “
جاذل نے زیمل کی پیشانی پر انگلی رکھ کر اُس کے چہرے کو چھوتے ہونٹوں تک لایا تھا.جبکہ زیمل جاذل کی حرکت پر سٹپٹاتے رُخ موڑ گئی تھی.
” کیا ہوا کیپٹن زیمل کہاں گئی. آپ کی تھوڑی دیر پہلے والی بہادری. “
جاذل کو زیمل کا یہ گھبرایا شرمندہ شرمندہ سا رُوپ بہت اچھا لگ رہا تھا.
” ہاں تو میں اب بھی بھلا کہاں ڈر رہی ہوں. آپ اِس طرح مجھے بے بس نہیں کرسکتے. پلیز چھوڑیں مجھے.”
زیمل نے اپنی آواز اور لہجے کو حتی الامکان نارمل رکھتے اُسے باور کروانا چاہا تھا.
مگر جاذل کے اتنے قریب ہونے اور اُس کی سانسوں کی گرماہٹ اپنے چہرے پر محسوس کرتے زیمل بُری طرح نروس ہورہی تھی.
جاذل اُس کے لہجے کی کپکپاہٹ محسوس کرتے اپنا جاندار قہقہ نہیں روک پایا تھا.
جب اُس کو ہنستا دیکھ زیمل جلدی سے اُس کے بازو پیچھے جھٹک کر وہاں سے اُٹھ گئی تھی.
اِس سے پہلے کہ وہ وہاں سے نکل کر بھاگتی جاذل اُس کا بازو اپنی گرفت میں لیتے اُسے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا.
” کیپٹن زیمل میرے چنگل سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہے. اور یہ کڈنیپ کرکے ہاتھ پاؤں, منہ اور یہاں تک کہ آنکھیں باندھ کر کون محبت کا اظہار کرتا ہے. ظالم لڑکی.”
جاذل زیمل کے اردگرد دیوار پر ہاتھ رکھتے اُس کے اُوپر چھا رہا تھا. جاذل کی پر تپیش سانسیں زیمل کے قریب ترین ہونے کی وجہ سے اُس کی سانسوں سے اُلجھ کر اُسے پاگل کررہی تھیں.
” تو میں اور کیا کرتی. آپ کو جب بھی کچھ بولنے لگتی آپ اِس طرح دیکھتے ہیں کہ میں کچھ بول ہی نہیں پاتی تھی. “
زیمل نے جاذل کا چہرا بلکل قریب ہونے کی وجہ سے نظریں جھکائے ہلکی آواز میں کہا.
اُسے آج تک زندگی میں کوئی کام اتنا مشکل نہیں لگا تھا جتنا جاذل کی پرحدت نگاہوں میں دیکھ کر بات کرنا لگتا تھا. اِس وقت بھی اُسے اپنی جان نکلتی محسوس ہورہی تھی.
” اچھا اور بھلا کس طرح سے دیکھتا ہوں میں. وضاحت کریں گی پلیز. “
جاذل نے زیمل کے کانوں میں پہنے ٹاپس کو چھوا تھا. زیمل کو اپنا سارا خون کان پر سمٹتا محسوس ہوا تھا. کیونکہ جاذل آب جھک کر وہاں ہونٹ رکھ چکا تھا.
” پلیز مجھے جانے دیں. دیر ہوجائے گی ماما ویٹ کررہی ہوں گی اور پریشان بھی ہورہی ہوں گی. “
زیمل کو جاذل کا دیوانہ بناتا لمس اور اُس کی بولتی کچھ کہتی نظریں بُری طرح پزل کر رہی تھیں. اِس لیے وہ جلد سے جلد یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی.
” ڈونٹ وری اُن کو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں. کہ ایک بہت ضروری کام کے لیے نکلنا ہے ہم دونوں کو. “
جاذل کی بات پر زیمل نے آنکھیں پھاڑے اُس کی طرف دیکھا تھا. مطلب اب اُسے پوری رات یہیں رہنا تھا جاذل کے ساتھ.
جاذل کا دل بے اختیار اِن خوبصورت آنکھوں کو چومنے کا چاہا تھا. جو اُس کے منہ زور جذبات کو اچھا خاصہ بھڑکا گئی تھیں.
” آپ نے ماما سے جھوٹ کیوں بولا. اور مجھے بلکل بھی نہیں رہنا آپ کے ساتھ یہاں. “
زیمل کی بات پر جاذل ہولے سے مسکرایا تھا.
” جھوٹ بلکل بھی نہیں بولا. ضروری کام کرنے کے لیے ہی تو موجود ہیں ہم یہاں. “
زیمل اپنے ہی حال میں بُری طرح پھنس چکی تھی. اُس کا بس نہیں چل رہا تھا اپنی اتنی بڑی لاپرواہی اور بے وقوفی پر خود کو ہی تھپڑ لگا دے.
وہ جاذل ابراہیم کے معاملے میں اتنی لاپرواہی کیسے برت سکتی تھی.
” مجھے بہت سخت بھوک لگی ہے کیا آپ مجھے کھانے کے لیے کچھ بنا کر دے سکتی ہیں. “
آج اتنی مشکلوں سے تو زیمل اُس کے ہاتھ آئی تھی. تو وہ کیوں نہ اپنی فرمائشیں پوری کرواتا.
جاذل کی بات پر زیمل نے مشکوک انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا کہ کہیں یہ اُس کی کوئی چال تو نہیں دوبارہ بے وقوف بنانے کے لیے.
” اگر میں کھانا بنا دوں تو کیا اُس کے بعد جا سکتی ہوں واپس. “
جاذل کی نظریں اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے زیمل نے اُسے گھورتے پوچھا. کیونکہ جاذل کے بہکے بہکے انداز اُسے بہت خوف زدہ کیے ہوئے تھے.
ہر ایک کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہونے والی کیپٹن زیمل کی اِس وقت جاذل کے قبضے میں ساری ہوا نکل چکی تھی.
اُوپر سے وہ جنتا بہادر بننے کی کوشش کر رہی تھی. اندر سے اُتنا ہی دھڑکنوں کا شور جاری تھا.
” یار یہ آپ کے ہونٹ اتنے لال کیسے ہیں خون تو نہیں پیتی لوگوں کا. “
جاذل کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی. وہ بڑے ہی بے باک انداز میں زیمل کے لہو چھلکاتے سُرخ رس بھرے ہونٹوں کو دیکھتے بولا.
اور ساتھ ہی انگوٹھا بڑھاتے اُن کو چھوتے دبایا تھا.
جبکہ اُس کی بات اور حرکت پر زیمل کا دماغ گھوما تھا.
” میجر جاذل آپ واقعی بہت ہی چھچھورے انسان ہیں. آپ کو شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے. “
زیمل شرم سے لال ہوتی بولی. اُسے پہلے کہاں عادت تھی ایسے انداز کی.
اُس کی بے قابو ہوتی سانسیں اور دھڑکنوں کا بڑھتا شور اُس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر رہے تھے.
” اِس میں شرم کی کونسی بات ہے. میں تو اِن کو ٹیسٹ کرکے کنفرم کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں. کہ یہ اصل ہی ہیں نا. “
جاذل بنا کوئی لحاظ کیے ماہ روش کے ہونٹوں پر جھکا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی زیمل نیچے کو کھکسکتی اُس کی قید سے نکلی تھی. اور فوراً دروازے کی طرف دوڑ لگا دی تھی.
جبکہ جاذل اُس کے فرار کے انداز اور اُس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھ اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا.
“آپ کو کیا لگتا ہے کیپٹن زیمل اِس طرح کرکے مجھ سے بچ پائیں گی. “
جاذل نے اُسے گھورتے پوچھا.
مگر آگے کا سوچنے کے بجائے زیمل اِس وقت بچ جانے کا شکر منا رہی تھی.
” میجر جاذل میں کچن میں جارہی ہوں. آپ خاموشی سے یہاں بیٹھے رہیں. اگر باہر آنے کی کوشش کی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا. “
زیمل جاذل کو وارن کرتی کچن کی طرف بڑھ گئی.
جاذل بھی اُس کے پیچھے جانے ہی والا تھا. جب سونیا کا جگمگاتا نمبر اُس کے قدم وہیں روک گیا.
زیمل اتنی ہیوی میکسی پہنے جس میں اُس کے لیے چلنا دوبھر تھا جاذل کے لیے جلدی جلدی کھانا بنانے میں مصروف تھی.زیمل چولہے کے پاس کھڑی تھی. جب اپنی کمر پر کسی کے مضبوط ہاتھوں کا پرحدت لمس محسوس کرتے اُس کے دل کی دھڑکنیں بگڑی تھیں.
جاذل کے ہاتھ اُس کی کمر سے سرکتے اُسکے پیٹ پر جاکر رکے تھے. اور وہاں گرفت مضبوط کرتے جاذل نے اُسے اپنے قریب کیا تھا.
” میجر جاذل چھوڑیں مجھے یہ کیا کررہے ہیں آپ. “
جاذل زیمل کے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائے اُسے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے چکا تھا.
جب کہ اپنے پیٹ پر جاذل کے رینگتے ہاتھوں کا لمس زیمل کی جان اٹکائے ہوئے تھا. اُسے اپنی سانسیں تھمتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں. مگر جتنا وہ جاذل کو پہلے تنگ کر چکی تھی. اب وہ سہنا بھی تھا.
” یار تمہارے محبت کے اظہار کے بدلے تھوڑا سا پیار تو بنتا ہے نا. “
جاذل کے ہونٹوں نے زیمل کے کانوں کو چھوا تھا. اور اُس کے کانوں سے ٹاپس نکال کر کارنر پر رکھتےاُن کے بوجھ سے ہوئے اُس کے سُرخ کانوں کو ہلکا سا سہلانے لگا تھا.
جاذل کا نرم گرم لمس زیمل کو راحت بخش رہا تھا. مگر ساتھ ہی دل کی دھڑکنوں کی رفتار میں ہر پل اضافہ ہورہا تھا.
جاذل کی شوخ مستیوں کے بیچ زیمل نے بہت مشکل سے کھانا بنا کر اُس کے سامنے ڈائننگ ٹیبل پر رکھا.
” اوکے اب تو میں جاسکتی ہوں نا میں نے کھانا بنا دیا ہے. “
زیمل نے اتنی نرمی سے زندگی میں پہلی بار بات کی تھی. کیونکہ وہ کچن میں آنے سے پہلے دروازے کا لاک چیک کرچکی تھی جو جاذل کی مرضی کے بغیر نہیں کھلنا تھا.
اور اگر مزید وہ اِس طرح جاذل کی جان لیوا قربت میں رہتی تو ضرور آج فوت ہوجانا تھا. جاذل ابراہیم کی زرا سی بے رُخی برداشت کرنا بھی اُس کے بس سے باہر تھا. اور اب اُس کی بے انتہا محبت بھی اُس کے حواس معطل کر رہا تھا.
” کیا مطلب میں نے ایسا کب کہا. “
زیمل نے اُس کے لاپرواہ انداز پر اور مزے لے لے کر کھانے پر غصیلی نظروں سے اُسے گھورا اور وہاں سے واک آوٹ کرنے ہی لگی تھی. جب جاذل نے اُسے روک لیا تھا.
اور اُس کا بازو پکڑ کر اُسے اپنی گود میں گرا لیا تھا. وہ زیمل کو پوری طرح زچ کیے ہوئے تھا.
” اوکے یہاں سے باہر جانا ہے نا. تو اپنے اِن پیارے پیارے ہاتھوں سے مجھے کھانا کھلا دیں. پھر شاید میں اِس بارے میں سوچ سکتا ہوں. “
جاذل نے اُس کے ہاتھ کو چومتے ایک نئی فرمائش کی تھی. مطلب آج جاذل ابراہیم نے قسم کھا رکھی تھی کہ زیمل کی ایک نہیں چلنے دینی.
” آپ کو ﷲ نے اپنے ہاتھ دیے ہیں. اِس لیے خود کھائیں میں ایسا بلکل نہیں کروں گی. “
زیمل اُس کی فرمائش پر سرے سے انکاری ہوئی تھی. اور ایک بار پھر اُس کے اتنے قریب اُس کی گود میں آجانے سے وہ شرم سے دوھری ہوئی تھی.
جاذل تو بار بار اُسے ایسے اپنی گود میں بیٹھا رہا تھا جیسے وہ واقعی کوئی چھوٹی سی گڑیا ہو.
” اوکے ایز یو وش. اگر آپ نہیں جانا چاہتیں تو یہ زیادہ اچھی بات ہے. میں تو ایک موقع دے رہا تھا. “
جاذل نے کندھے اُچکاتے کھانا کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا. جب اُس سے پہلے ہی زیمل نے نوالہ بنا کر جاذل کی طرف بڑھایا تھا.
جب اُس کی طرف شرارتی نظروں سے دیکھتے جاذل نے نوالے سمیت اُس کی اُنگلیاں بھی اپنے منہ میں لے لیں تھیں.
جس پر زیمل کی ایک زور دار چیخ برآمد ہوئی تھی.
” جنگلی انسان. “
زیمل کی بڑبڑاہٹ پر جاذل مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا.
” ابھی تو بتانا باقی ہے. آپ کو کے کتنا جنگلی ہوں میں.”
جاذل نے جس انداز میں اُس کی طرف دیکھتے یہ بات کہی تھی. زیمل کا دل چاہا تھا. واپس پٹی لے کر اُس کی آنکھوں اور ہونٹوں کو باندھ دے. جو آج بلکل ہی شرارت پر آمادہ تھیں.
” واؤ سو یمی اِس سے زیادہ اچھا کھانا میں نے پہلے کبھی نہیں کھایا. “
جاذل کی بات پر زیمل صرف اُسے گھور ہی پائی تھی. کیونکہ جاذل کی بڑھتی گستاخیاں اُس کے حواس صلب کررہی تھیں. ایک تو وہ اُس کی گود میں تھی. اُوپر سے اتنی قریب.
جاذل نے بڑے ہی مزے میں زیمل کو اچھا خاصہ تپاتے کھانا ختم کیا تھا.
” اوکے اب میں چلوں. “
زیمل کے پوچھنے پر جاذل کے ہونٹوں پر محظوظ کن مسکراہٹ بکھر گئی.
” کیوں.”
آب کی بار زیمل اچھی خاصی چڑی تھی.
” آپ سے بڑا چیٹر کوئی نہیں ہوسکتا. آپ مسلسل جھوٹ بول کر مجھ سے اپنی باتیں منوائی جارہے ہیں. “
زیمل نے اُس کے اُوپر سے اٹھنا چاہا تھا جب جاذل اُسے دونوں بانہوں میں اُٹھاتے وہاں سے کھڑا ہوتا بیڈ روم کی طرف بڑھا تھا.
” مگر میں نے تو ایک بار بھی نہیں کہا کہ میں جانے دوں گا. میں نے کہا تھا میں سوچوں گا مگر اِس بات پر کافی غور کرنے کے باوجود میں کوئی فیصلہ نہیں کرپایا.”
جاذل بات ایسے کررہا تھا جیسے زیمل کی نہیں بلکہ کشمیر کی آزادی کے بارے میں غور و فکر کرتا رہا ہو.
” دیکھیں میجر جاذل آپ ٹھیک نہیں کر رہے. “
زیمل نے اُسے وارن کرنا چاہا تھا.
” سویٹ ہارٹ پیار کرنے کی کوشش ہی تو کررہا ہوں. آپ نے ہی تو موقع دیا ہے. ویسے کہاں اتنی آسانی سے ہاتھ آنا تھا. اور یہاں اغوا کرکے تو آپ ہی مجھے لائی ہیں. ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہائی جیک میں نے آپ کو کرلیا ہے. “
جاذل بیڈ روم میں داخل ہوتے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے بولا
جبکہ جاذل کے تیور زیمل کو بلکل بوکھلائے ہوئے تھے.
” میں اِس اتنے بھاری لباس میں بہت تھک گئی ہوں. مجھے چینج کرکے ریلیکس ہونا ہے.”
زیمل نے اپنا آخری ہربہ آزمایا تھا.
” وہ سامنے وارڈروب موجود ہے آپ کو جو ڈریس بھی پہننا ہے پہن سکتی ہیں. “
جاذل نے زیمل کو نیچے اُتارتے سامنے بنی وارڈروب کی طرف اشارہ کیا تھا.
” یہ تو سارے آپ کے کپڑے ہیں. “
زیمل نے اُسے کھولتے منہ بنا کر کہا.
” آف کورس میری کبرڈ ہے تو میرے کپڑے ہی ہوں گے. اور اِس وقت تو آپ یہی شیئر کر سکتی ہیں. “
جاذل کی طرف دیکھ کر کچھ سوچتے زیمل نے ایک ڈھیلی ڈھالی سی وائٹ شرٹ اور بلیک ٹراؤزر سلیکٹ کرتے قدم واش روم کی طرف بڑھا دیے تھے. کیونکہ جاذل کے تو اُسے یہاں سے بھیجنے کے تیور بلکل نہیں لگ رہے تھے. اور مزید یہ بھاری میکسی پہننا اُس کے بس کی بات بلکل نہیں تھی.
اِس لیے ناچار اُسے جاذل کے کپڑے سلیٹ کرنے ہی پڑے تھے.
جاذل بڑے ہی پرسکون انداز میں صوفے پر بیٹھا اُس کے واپس آنے کا منتظر تھا.
جاذل کو زیمل دن بدن اپنے دل کے قریب سے قریب تر ہوتی محسوس ہورہی تھی. اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اُسے بھی کبھی کسی لڑکی سے پیار ہوگا.
کوئی اُس کے لیے کبھی اتنا امپورٹنٹ بھی ہوگا. اور وہ بھی زیمل جیسی شوخ و چنچل زندگی کو جینے والی اُوپر سے سخت مگر اندر سے بلکل نرم اور سچے دل کی مالک پیاری سی لڑکی.
زیمل کے بارے میں سوچتے جاذل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی تھی. وہ ابھی اُسی کی سوچوں میں گم بیٹھا تھا جب واش روم کا دروازہ کھولتے زیمل باہر نکلی تھی.
جاذل جیسے ہی پلٹا اپنے کپڑوں میں اُس کا نکھرا نکھرا سا رُوپ دیکھ وہ مبہوت ہوا تھا.
مگر زیمل جاذل کے کپڑے پہننے اور اب اس کی نظروں سے بہت زیادہ گھبرا رہی تھی. اِس لیے اُس نے اپنا بھاری کامدار ڈوپٹہ اپنے شانوں پر پھیلا رکھا تھا.
” زیمل. “
زیمل کی طرف قدم بڑھاتے جاذل نے گھمیر آواز میں اُس کو پکارا تھا.
جاذل کی پکار پر زیمل کا دل پوری شدت سے دھڑکتے اُسے بے حال کر گیا تھا.
جاذل نے زیمل کے مقابل آتے دونوں کندھوں سے تھام کر اُس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر رُخ اپنی جانب موڑا تھا.
” زیمل سچ کہوں تو پہلی ملاقات میں ہی یہ دل تمہارا اسیر ہوچکا تھا. تمہاری ہر ادا ہر انداز باقی تمام لڑکیوں سے منفرد اور جدا ہے.
ہر قسم کی بناوٹ سے پاک تمہارا یہ پیارا سا دل مجھے اپنا دیوانہ بنا چکا ہے. جب ہمارے درمیان یہ نکاح کا ایگریمنٹ ہوا تو میں اپنے جذبات کا اتنا خاص ادراک نہیں کر پایا تھا. مگر اُس کے کچھ عرصے بعد ہی میرے دلی جذبات مجھ پر ایسے عیاں ہوئے کہ اب مجھے لگتا ہے.میں مر سکتا ہوں مگر اِس نکاح کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا. “
جاذل کی بات سنتے زیمل کا دل زور سے دھڑکا تھا.
وہ خود بھی تو یہی چاہتی تھی. کہ اب کبھی بھی اُس کا نام جاذل کے نام سے جدا نہ ہو. یہ شخص اپنی تمام تر کج ادائیوں کے ساتھ اُس کے دل پر قابض ہوچکا تھا.
” میں بھی ایک بار پھر کھلی آنکھوں کے ساتھ تمہارا اظہار سننا چاہتا ہوں. تمہارے چہرے پر اپنی محبت کے رنگ بکھرے دیکھنا چاہتا ہوں.
کیا تم میری یہ خواہش پوری کرو گی. “
جاذل زیمل کی اُٹھتی گرتی لرزتی پلکوں کا رقص دیکھتے مبہوت ہوا تھا.
اِس وقت زیمل دشمن کو پچھاڑ کر رکھ دینے والی کیپٹن زیمل نہیں بلکہ چھوئی موئی سی حیا سے کپکپاتی میجر جاذل کی محبت لگ رہی تھی. جو اُس کی شوخ نظریں تک برداشت نہ کرپاتے بے حال ہورہی تھی.
” میں زیادہ اِس پیار محبت کے بارے میں کچھ نہیں جانتی. ہاں بس اتنا جانتی ہوں کہ میں آپ کے قریب کسی دوسری لڑکی کا وجود برداشت نہیں کرسکتی. آپ کی تھوڑی سی بھی اگنورینس یا مجھ پر توجہ نہ دینا میرے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے.
آپ میری زندگی کے وہ پہلے اور آخری مرد ہیں جسے دیکھ یہ دل دھڑکا ہے.
میں بس اتنا جانتی ہوں کہ آپ کے بغیر اب میرے لیے زندگی گزارنا ناممکن ہے. اور مجھ جیسی پاگل لڑکی کو اتنی محبت سے ہینڈل کرنا اور بنا کسی غصے اور ناراضگی کہ بن کہے میری ہر کوتاہیوں کو معاف کرنا صرف جاذل ابراہیم کے بس کی بات ہی ہے.
مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ جو میں آپ کے لیے فیل کرتی ہوں. وہ محبت نہیں بلکہ اُس سے بھی بڑھ کر کوئی جذبہ ہے.
اور بس یہی دعا ہے کہ یہ جان لیوا مشن جلدی سے ختم ہوجائے. کیونکہ وہ سونیا مجھے آپ کے قریب ایک پل کے لیے بھی برداشت نہیں. “
نظریں جھکائے ہاتھوں کو مسلتے وہ جاذل کا دل بے اختیار کر گئی تھی. اُس کے اتنے خوبصورت اظہار پر جاذل کو اپنے تن بدن میں سرشاری سی اُترتی محسوس ہوئی تھی. اور آخر میں جس طرح اُس نے سونیا کا ذکر کیا تھا جاذل کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا.
جاذل کو یہ جان کر بے پناہ خوشی ہوئی تھی کہ صرف وہی نہیں زیمل بھی اُسے دیوانگی کی حد تک چاہتی تھی.
زیمل کی سانسیں اتنی سی بات کرتے بھی اِس قدر پھول چکی تھیں کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ بہت بڑا قلعہ فتح کرکے آئی ہو. اور اُس کے مطابق جاذل ابراہیم کے سامنے اظہار محبت کرنا بھی کسی مارکے سے کم نہیں تھا.
جاذل نے اپنی قربت پر زیمل کے ہولے ہولے لرزتے وجود کو بازو پھیلا کر اپنے حصار میں لیا تھا.
زیمل کا اپنی فیلنگز کا اتنا خوبصورت اظہار جاذل کو اندر تک سرشار کر گیا تھا.
” تھینک یو سو مچ. اتنے خوبصورت اظہار اور مجھے کڈنیپ کروانے کے لیے. اور ویسے بھی اگر تم ایسا نہ کرتی تو آج میرا پلان تھا. ایسا کرنے کا. “
جاذل کی بات پر زیمل نے چہرہ اُوپر کرتے اُسے گھورا تھا. جب جاذل کی نظر زیمل کی گردن پر موجود نیکلیس کے نشان پر پڑی تھی.
گردن کی جلد ایک جگہ سے بُری طرح سُرخ ہوچکی تھی. جاذل نے اُس کو نرمی سے چھونا چاہا تھا جب زیمل کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ محبت سے اُس پر اپنے ہونٹوں کا مرہم رکھ دیا تھا.
زیمل جاذل کے اِس بے اختیار عمل پر بوکھلا سی گئی تھی.
اِس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی جب جاذل کے موبائل پر ایک بار پھر سونیا کا نام جگمگایا تھا.
” یہ چڑیل اتنی رات کو آپ کو کال کرکے کیا کہتی ہے. آپ رات میں بھی اِس سے بات کرتے ہیں. “
سونیا کا نمبر دیکھ زیمل کا پارہ ہائی ہوچکا تھا.
” وہی باتیں جو تم ابھی نہیں کرنے دے رہی.”
جاذل کو بیویوں کی طرح حق جماتی وہ بہت اچھی لگی تھی. موبائل مسلسل بج رہا تھا. مگر دونوں ہی اِس وقت اُس طرف متوجہ ہونے کے موڈ میں نہیں تھے.
” آپ کو شرم نہیں آتی. ویسے ارتضٰی سر نے بھی سب لوگوں میں سے چن کر آپ کو یہ مشن دیا ہے. وہ بھی دوست ہیں نا آپ کے اچھے سے واقف ہوں گے آپ کی حرکتوں سے. “
جاذل کی بات زیمل کو آگ لگانے کے لیے کافی تھی.
” اوہ ہو میری جنگلی بلی مذاق کررہا ہوں. ایسا کچھ نہیں ہے. سٹارٹ میں ایک دو بار کرنے کی کوشش کی تھی اُس نے مگر میں نے اُسے یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ مجھے جلدی سونے کی عادت ہے. اور اِس طرح دیر تک جاگنا میرے لیے بہت مشکل ہے. “
زیمل کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی دیکھ جاذل نے فوراً لائن پر آتے سیدھی طرح بتا دیا تھا. ورنہ اُس کا دل ابھی مزید زیمل کو تپانے کا کررہا تھا.
” آپ سچ کہہ رہے ہیں نا. “
زیمل نے کچھ مشکوک ہوتے پوچھا. مگر جاذل کی آنکھوں کی سچائی اُس کی ہر بات کی گواہی دے رہی تھی.
” بلکل سچ میری جان. “
جاذل نے اُس کی پر نم آنکھوں پر نرمی سے ہونٹ رکھ دیے تھے. اُسے اِس بات کا بلکل اندازہ نہیں تھا کہ زیمل اُس کے لیے اتنی شدت پسند ہے.
زیمل نے جاذل کی جو شرٹ پہنی ہوئی تھی وہ سلیولیس تھی. مگر واش روم سے نکلنے سے پہلے وہ دوپٹے سے اپنے بازوؤں کو اچھی طرح ڈھانپ چکی تھی. مگر اب جاذل کی حرکتوں کی وجہ سے دوپٹہ آدھے سے زیادہ پھسل کر نیچے گر چکا تھا. اور جاذل کے کپڑوں میں زیمل کا دلکش نازک سراپا مزید نمایاں ہو رہا تھا.
” واؤ میرے کپڑے تو مجھ سے زیادہ آپ پر سوٹ کررہے ہیں. “
جاذل نے بغور اُس کا جائزہ لیتے معنی خیزی سے کہا تھا. اُس کی وائٹ شرٹ اِس قدر کھلی تھی کہ زیمل اُس میں بلکل چھپ سی گئی تھی. جبکہ اُس کے بلیک ٹراؤزر کی جگہ زیمل نے اپنی میکسی والا ٹراؤزر ہی پہن رکھا تھا. شرٹ کا گلہ کافی کھلا تھا. جسے زیمل بار بار اُوپر کرتی تھی. یا کبھی ڈوپٹے سے ڈھانپنے کی کوشش کر رہی تھی.
اُس کی مشکل کو دیکھتے جاذل نے وارڈروب کی طرف بڑھتے اپنی ایک جیکٹ نکال کر اُس کی طرف بڑھائی تھی.
” تھینکس.”
جیکٹ پہننے سے زیمل اچھی خاصی کور ہوچکی تھی. اور کافی کمفرٹیبل بھی.
” مجھے کہاں سونا ہے. “
جاذل کو بیڈ کی طرف بڑھتا دیکھ زیمل اپنی ایک اور مشکل کے خیال سے پریشان ہوئی تھی.
” یہاں میرے پاس.”
جاذل کے بیڈ پر اپنے قریب اشارہ کرنے پر زیمل کا رنگ ذرد ہوا تھا.
” نہیں میں یہاں صوفے پر ہی سو جاتی ہوں. مجھے وہاں نہیں سونا.”
زیمل جاذل کی گہری نظروں سے نگاہیں چراتی پلٹی تھی. اور جاکر صوفے پر بیٹھ گئی تھی.
” اوکے تو پھر میں بھی وہاں آپ کے ساتھ سو جاتا ہوں. کیونکہ مجھے تو آپ کے ساتھ سونا ہے. چاہے بیڈ پر یا پھر صوفے پر. مجھے کوئی ایشو نہیں ہے. “
جاذل بیڈ سے اُٹھتا اُس کی طرف بڑھا تھا.
جبکہ جاذل کی بات سنتی زیمل ہونک ہوئی تھی. اُس نے ایک نظر اپنی طرف بڑھتے جاذل اور ایک نظر صوفے کی طرف دیکھا تھا. جہاں جاذل کے اکیلے کا فٹ آنا بھی بہت مشکل تھا. دونوں کا یہاں پورا آنا ناممکن تھا.
” مگر یہاں صوفے پر ہم کیسے سو سکتے ہیں. آپ کوئی سیدھا کام نہیں کر سکتے. “
زیمل جاذل کے اپنے ساتھ بیٹھنے پر اُسے گھور بھی نہ سکی تھی.
” آپ کی چوائس ہے. صوفے پر سونا ورنہ میں تو بیڈ پر ہی کہہ رہا تھا. لیکن صوفے بھی بُرا آپشن نہیں ہے. ہم اِس پر اُوپر نیچے کمفرٹیبل ہوکر سو سکتے ہیں. “
جاذل کا سلوشن سن کر زیمل کی کانوں کی لوح تک تپ اُٹھی تھی.
” میجر جاذل آپ جیسا بے شرم انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا. مجھے اِس کمرے میں آپ کے ساتھ رہنا ہی نہیں ہے. میں دوسرے کمرے میں جارہی ہوں. “
زیمل فوراً صوفے سے اُٹھی تھی. جب جاذل اُس کا بازو پکڑ کر ایک بار پھر اُس کو بانہوں میں بھرتے بیڈ کی طرف بڑھا تھا. زیمل نے اُس کے حصار سے نکلنے کے لیے اچھے خاصے ہاتھ پاؤں چلائے تھے. مگر ناکام ہی رہی تھی.
” کل سے ہمارے اِس مشن کا آخری اور سب سے اہم مرحلہ شروع ہونے جا رہا ہے. میں نہیں جانتا اِس دوران ہمیں ایک ساتھ ٹائم سپینڈ کرنے کا موقع ملے گا بھی یا نہیں تو میں چاہتا ہوں. آج کی پوری رات میں تمہارے ساتھ جاگ کر گزاروں.
میں اِن لمحوں کو حسین بنانا چاہتا ہوں. پتا نہیں یہ ہمیں دوبارہ نصیب ہوں بھی یا نہیں. اور ہاں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے. مجھے اپنی حدود پتا ہیں. ہمارا ابھی صرف نکاح ہوا ہے. رخصتی نہیں. اور اتنا تو تم مجھے جان ہی گئی ہوگی کہ میں اصولوں کا بہت پابند انسان ہوں. وقت آنے پر پورے استحقاق سے اپنا حق وصول کروں گا. مگر اب بہت زیادہ شرافت کی اُمید بھی مت رکھنا مجھ سے. “
جاذل اُس کو بیڈ پر لٹا کر اُس پر جھکتے مدھم سرگوشیوں سے اُسے ریلیکس کرگیا تھا.
مگر اُس کی آخری بات سنتے زیمل کی نارمل ہوتی سانسیں ایک بار پھر تیز ہوئی تھیں. جنہیں نوٹ کرتے بہت دلنشین مسکراہٹ جاذل کے ہونٹوں پر بکھر گئی تھی.
جاذل نے ایک شوخ سی گستاخی کرتے زیمل کو سمٹنے پر مجبور کردیا تھا. جس پر شرم سے دوھرا ہوتے جاذل کے بازو پر سر رکھے زیمل اُس کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی.
اُس کی اِس معصوم ادا پر نہال ہوتے جاذل اُسے اپنے مزید قریب کر گیا تھا.
ایک دوسرے سے باتیں کرتے شرارتوں اور مستیوں میں اُن دونوں کی زندگی کی سب سے حسین رات قطرہ قطرہ ڈھلتی اُنہیں ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئی تھی. محبت کے نام سے بھی دور بھاگنے والے اِس وقت بُری طرح اُس کے سحر میں پھنستے دنیا جہاں سے غافل ہوچکے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ریحاب کو ارحم کا انتظار کرتے چار گھنٹے سے اُوپر کا ٹائم ہوچکا تھا. مگر ابھی تک اُس کے آنے کے آثار نہیں لگ رہے تھے.
ریحاب کا دل اک عجیب سے احساس سے گھبرانے لگا تھا. اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے اب. کافی بار وہ ارحم کا نمبر ٹرائے کر چکی تھی. مگر آگے سے کوئی رسپانس نہیں مل رہا تھا. جو بات اُس کی پریشانی میں مزید اضافہ کر رہی تھی.
اِس وقت ماما پاپا کو بتا کر وہ ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی. مسلسل پریشانی سے ٹہل ٹہل کر اُس کے پیر شل ہوچکے تھے. لیکن دل کا بوجھل پن بڑھتا ہی جارہا تھا. ارحم نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تھا کہ جو ٹائم بتا کر جائے اُس سے لیٹ ہو یا پھر اِس طرح فون ہی بند کردے. ریحاب دل ہی دل میں نجانے کتنی دعائیں اور وظائف کر چکی تھی.
ریحاب نے ٹیبل پر پڑے موبائل کی طرف بڑھتے اُس کے دوستوں سے پوچھنے کا سوچا تھا.
مگر ماہ روش اور ارتضٰی کو ڈسٹرب کرنا اُسے آج بلکل مناسب نہیں لگا تھا. کچھ سوچ کر اُس نے زیمل کا نمبر ملایا تھا. مگر پھر کچھ سوچتے فون کاٹ دیا تھا. آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا. سب لوگ تھک کر سوئے ہوں گے ریحاب کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے.
وہ کپڑے چینج کرنے کی غرض سے واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی. جو ارحم کی فرمائش پر اُس نے اب تک چینج نہیں کئے تھے.
واپس روم میں آتے ریحاب جائے نماز بچھاتی اُس پر جا کھڑی ہوئی تھی. اور ارحم کے باخیرو عافیت واپس آجانے کی دعائیں کرتے. اُس نے پوری رات جائے نماز پر ہی بیٹھے گزار دی تھی. مگر شاید ارحم نے نہ لوٹ کر آنا تھا اور نہ ہی وہ آیا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
صبح چھ بجے کے قریب ارتضٰی کی آنکھ کھلی تھی. جب پہلی نظر ہی سینے سے لگ کر سوئی ماہ روش پر پڑی تھی. جسے دیکھتے ارتضٰی کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
سوتے میں بھی ماہ روش کے چہرے پر اِس قدر سکون اور اطمینان تھا کہ جیسے اُس کی زندگی بھر کی ساری تھکن اُتر گئی ہو. اُس کے معصوم پاکیزہ چہرے پر اب اذیت اور محرومی کے کوئی آثار موجود نہیں تھے. بلکہ ماہ روش کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا. جیسے پیارا سا دل رکھنے والی اُس کی نازک سی بیوی کوئی بہت ہی حسین خواب دیکھ رہی تھی. جس کی وجہ سے اُس کے گلابی پنکھڑی لبوں پر اک دلنشین سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی.
ارتضٰی نے جھک کر اُن گلابی پنکھڑیوں پر اپنے لب رکھتے اُس کی مسکراہٹ کو اپنی سانسوں میں اُتارنا چاہا تھا.
جب نیند میں بھی ارتضٰی کی نظروں کی تپیش اور لمس پر ماہ روش نے ہلکا سا کسمساتے آنکھیں کھول دی تھیں. اُس کی آنکھوں نیند کی خماری سے سُرخ ڈوریں لیے ارتضٰی کو مبہوت کر گئی تھیں. ارتضٰی کو اپنے اتنے نزدیک دیکھ ماہ روش کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا.
” میری بے رنگ زندگی میں داخل ہوکر اُسے رنگوں اور خوشیوں سے بھرنے کا بہت بہت شکریہ. “
ارتضٰی نے جھک کر باری باری اُس کی دونوں آنکھیں چوم لی تھیں. ماہ روش ابھی اُس کی رات والی شدتوں پر ہی نہ سنبھلی تھی. جب اُس کے ایک بار پھر قریب آنے پر اُس کی حالت غیر ہوئی تھی.
ماہ روش نے ارتضٰی سے بچنے کے لیے اُسی کے سینے میں منہ چھپا لیا تھا.
ارتضٰی کے مسکرانے پر اُس کے رخساروں پر بننے والے ڈمپل ماہ روش کو اپنے سحر میں جکڑ رہے تھے. جب ہر سوچ کو دور جھٹکتے اپنے دل کی خواہش پر ماہ روش نے ارتضٰی کے گالوں کو اپنی نرم اُنگلیوں سے چھوا تھا.
اُس کی بے اختیار حرکت پر ارتضٰی کے گڑھے مزید گہرے ہوئے تھے.
جبکہ ارتضٰی کی پر شوق نظروں کی تپیش پر ہوش میں آتے ماہ روش نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا تھا. وہ پہلے ہی بیتی رات کے بارے میں سوچتے ارتضٰی سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی. اور اب ایک اور بے ساختہ حرکت کر گئی تھی.
اچانک ماہ روش کی نظر ارتضٰی کے مضبوط کسرتی بازوؤں پر پڑی تھی. ارتضٰی کو شرٹ لیس دیکھ ماہ روش کا دل بُری طرح دھڑکا تھا.اُس نے فوراً پیچھے سرکنا چاہا تھا. جس پر ارتضٰی نے اپنی شرٹ میں لپٹی ماہ روش کو شرٹ کے کالر سے پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا.
” اتنی جلدی بھی کیا ہے. پہلے میری شرٹ تو واپس کرتی جاؤ. “
ارتضٰی کی بے باک حرکت پر ماہ روش کی دھڑکنیں اتنی تیز ہوئی تھیں. جیسے اُس کا دل پسلیوں کی مضبوط دیوار توڑ کر باہر آجائے گا.
” سر پلیز…میں چینج کرکے آپ کو دے دیتی ہوں. “
ماہ روش ارتضٰی کے سنجیدہ چہرے مگر آنکھوں میں ناچتی شرارت اچھے سے سمجھ رہی تھی.
” مگر مجھے تو ابھی چاہئے یہیں پر. “
ارتضٰی نے ہلکا سا جھٹکا دیتے اُسے قریب کیا تھا.
ارتضٰی کی گرفت شرٹ کے کالر پر مضبوط تھی. اُس کے ہاتھ کے لمس پر ماہ روش کے پسینے چھوٹ چکے تھے.
جس کو دیکھتے ارتضٰی نے اُس کی مشکل آسان کرتے گرفت ختم کردی تھی. مگر اُس کو اپنے مزید قریب تر کرلیا تھا. ماہ روش کی قربت کا خمار اُترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. ارتضٰی کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایسے ہی ماہ روش کو اپنے سینے سے لگائے ساری زندگی گزار دے.
” تم نے رات کو میرے ایک سوال کا جواب ہی نہیں دیا. “
ارتضٰی ماہ روش کے چہرے پر بکھری بالوں کی لٹیں اپنی اُنگلی پر لپیٹتے بہت ہی سنجیدہ لہجے میں بولا تھا.
” کونسا سوال…. “
ارتضٰی کی شوخ جسارتوں پر ماہ روش سے کچھ بولا بھی نہیں جارہا تھا.
” یہی کہ تم کیا کھاتی ہو جو اتنی سافٹ ہو. تمہیں چھوتے ایسا لگتا ہے جیسے تم روئی کی بنی ہو.”
ارتضٰی کی بات سنجیدگی سے سنتی ماہ روش اُس کی شرارت پر اُسے گھور بھی نہیں پائی تھی. جو ماہ روش کے لال ٹماٹر چہرے کو دیکھ اپنا قہقہ نہیں روک پایا تھا.
” سر آپ بہت بُرے ہیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی. “
ماہ روش نے خفگی آمیز لہجے میں کہتے اُٹھنا چاہا تھا. مگر ارتضٰی نے اُسے ایسا نہیں کرنے دیا تھا.
” یار یہ کیا تم مجھے بار بار سر بولی جارہی ہو. میرا نام ارتضٰی سکندر ہے. تمہارا سر میں صرف ڈیوٹی کے ٹائم پر ہوں. ابھی صرف اور صرف تمہارا ارتضٰی سکندر ہوں. اور ابھی تمہارے اِن خوبصورت ہونٹوں سے اپنا نام سننا چاہتا ہوں. “
ارتضٰی نے اُس کے سُرخی مائل ہونٹوں پر اُنگلی پھیرتے اپنی فرمائش ظاہر کی تھی.
ارتضٰی کی بات پر ماہ روش نے اُلجھن بھرے انداز میں اُس کی طرف دیکھا تھا.
” مگر میں نے آپ کو ہمیشہ سر ہی کہا ہے. اب آپ کا نام کیسے لوں. اور مجھے آپ کو ایسے ہی پکارنا اچھا لگتا ہے. “
ماہ روش نے ارتضٰی کے سوالیہ انداز پر اپنی اُلجھن بیان کی تھی. جسے سنتے ارتضٰی ہولے سے مسکرایا تھا.
” تو مطلب جب ہمارے بچے ہوں گے تو تم اُن کے سامنے بھی ایسے ہی پکارو گی مجھے. “
ارتضٰی کی اگلی بات ماہ روش کو ایک بار پھر نظریں جھکانے پر مجبور کر گئی تھیں. ارتضٰی کی بے باکی پر ماہ روش نے ایک زور دار مکہ اُس کے سینے پر رسید کیا تھا. جس کے جواب میں ہنستے ارتضٰی نے اُس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں قید کرلیا تھا.
” ہاں تو بولو اب.”
ارتضٰی ابھی بھی اپنی ضد پر قائم تھا.
” ارتضٰی آپ بہت زیادہ بُرے اور کھڑوس ہیں. “
ماہ روش کو آخر کار اُس کی بات ماننی ہی پڑی تھی کیونکہ ارتضٰی نے اپنی شوخیوں سے اُس کی ناک میں دم کر رکھا تھا.
” اوہ اچھا تو کھڑوس ہوں میں. ابھی بتاتا ہوں میں تمہیں اپنا کھڑوس پن. ‘
ارتضٰی ماہ روش کے شرارتی لہجے پر مصنوعی غصہ چہرے پر سجائے اُسے ایک بار پھر اپنے شکنجے میں دبوچ چکا تھا. جبکہ ماہ روش اُس کے جھپٹنے کے انداز پر کھلکھلاتے اُس کے جذبات کو مزید بڑھا گئی تھی.
ابھی اُنہیں ایک دوسرے میں کھوئے کچھ ہی لمحے گزرے تھے. جب ارتضٰی کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تھی.
جس پر ارتضٰی بد مزہ سا ہوتا فون کی طرف متوجہ ہوا تھا. مگر وہاں جگمگاتے جنرل یوسف کا نمبر دیکھ ارتضٰی نے فوراً کال ریسیو کی تھی.
اتنی صبح اُن کی کال ارتضٰی کو کسی خطرے کا الارم دے گئی تھی.
” واٹ. اوہ نو ایسا کیسے ہوسکتا ہے. ذی ایس کے ہمارے اتنے خفیہ مقام تک بھلا کیسے پہنچ سکتا ہے. اوکے ہم ابھی پہنچ رہے ہیں. “
ارتضٰی کی پریشانی دیکھ ماہ روش بھی فکرمندی سے اُس کی طرف دیکھتی اُٹھ بیٹھی تھی.
” کیا ہوا سب خیریت ہے. “
ماہ روش کی بات پر نفی میں سر ہلاتے ارتضٰی فوراً بیڈ سے اُتر گیا تھا.
” ماہی جلدی سے ریڈی ہوجاؤ. ہمیں ابھی اور اِسی وقت آفس پہنچنا ہے. کل رات ذوالفقار ہمارے خفیہ مقام پر پہنچ کر اپنے بیٹے برہان کو بازیاب کروا چکا ہے. اطلاع ملنے پر ارحم بھی وہاں پہنچا تھا.
مگر ارحم کا کچھ پتا نہیں چل پا رہا. اُن لوگوں نے اُس جگہ کو بلکل جلا کر راکھ کر دیا ہے. اِس لیے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ارحم اُن کے قبضے میں ہے یا پھر. “
ارتضٰی ارحم کے متعلق کوئی غلط الفاظ استعمال نہیں کرپایا تھا.
اُس کے چہرے سے پریشانی صاف عیاں تھی. اُس کی پوری بات سنتے ماہ روش کا ہاتھ دل پر پڑا تھا. ارحم کی گمشدگی کا سنتے ماہ روش کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” اگر اُس گھٹیا شخص نے ارحم کو زرا بھی خراش پہنچائی تو میں اُسے چھوڑوں گا نہیں. “
ارتضٰی نے اشتعال کی کیفیت میں زور دار مکہ سامنے پڑے ٹیبل پر رسید کیا تھا.
وہ سب اِس وقت میٹنگ روم میں موجود تھے. جہاں جنرل یوسف نے اُنہیں رات کو گزر جانے والی قیامت کے بارے میں آگاہ کیا تھا.
اُن سب کا غصے اور صدمے سے بُرا حال تھا. برہان کے بازیاب ہونے سے بھی زیادہ ارحم کی گمشدگی اُن کے لیے پریشانی کا باعث تھی.
زیمل اور ماہ روش کی آنکھیں تو نجانے کتنی بار نم ہوچکی تھیں. ریحاب کی بھی نجانے کتنی کالز آچکی تھیں. اُس کو ابھی تک کچھ بتایا تو نہیں گیا تھا. مگر پھر بھی ریحاب کسی حد تک معاملے کی سنگینی سمجھ چکی تھی. اور اُس نے رو رو کر اپنی حالت خراب کر لی تھی.
صائمہ بیگم بھی بہت مشکل سے خود پر ضبط کیے ریحاب کو سنبھالے ہوئے تھیں. جس کی حالت زیادہ قابلے رحم تھی. کیونکہ اُس کے لیے اب زندگی کی وجہ ہی ارحم تھا. اُس کے بغیر جینے کا تصور اب ریحاب کے لیے ناممکن ہوچکا تھا.
” ارتضٰی یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا ہے. اگر تم اِسی طرح غصے میں بھڑکتے رہو گے تو اِس سے بھی زیادہ بڑی تباہی ہوسکتی ہے. آرام سے ٹھنڈے دماغ سے سوچو اگر ارحم اُس کے قبضے میں ہے بھی تو کیسے اُس کو بازیاب کروانا ہے. کیونکہ یہ جان کر کہ ارحم آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے. وہ ارحم کو مار دے گا. اور ہم کچھ نہیں کر پائیں گے. “
جنرل یوسف نے ارتضٰی کو سمجھانا چاہا تھا. جو شدید غم و غصے میں اِس وقت آپے سے باہر لگ رہا تھا.
اُس کے لیے اپنی ٹیم کا ہر فرد بہت قیمتی تھا. وہ اپنی جان تو دے سکتا تھا مگر اُن میں سے کسی کو بھی نقصان نہیں پہنچنے دے سکتا تھا.
جاری ہے
