Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“واؤ امیزنگ مس ریحاب مجھے یاد کر رہی ہیں. یہ معجزہ کیسے ہوگیا. “
ارحم ریحاب کی بات پر مسکرایا تھا. جس نے اُس کے بار بار پوچھنے پر تنگ آتے بول دیا تھا. کہ وہ اُسے بہت زیادہ مس کررہی ہے.
” آپ میرا مذاق اُڑا رہے ہیں. اب کیا میں آپ کو مس بھی نہیں کرسکتی. “
اُس کے پُر مزاح لہجے پر ریحاب نے منہ پُھلایا.
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں. میری بھلا اتنی مجال کہاں. ویسے مس تو میں بھی آپ کو بہت کررہا ہوں. ایک ملاقات ہو ہی نہ جائے. آپ سے ایک بہت ضروری بات بھی کرنی ہے. “
ارحم کی بات پر ریحاب گھبرا کر سیدھی ہوئی تھی.
“نہیں ابھی کیسے مل سکتے. میرا ہاسٹل کا گیٹ بند ہوچکا اب مجھے باہر جانے کی پرمشن نہیں ہے. “
ریحاب کو آج زندگی میں پہلی بار ہاسٹل کے رولز بہت اچھے لگے تھے.
“آپ باہر نہیں آسکتی مگر میں تو اندر آسکتا ہوں نا. میرا بہت دل کررہا ہے آپ سے ملنے کو. “
ارحم اُسے مزید تنگ کرتے بولا.
“آپ کیسے آسکتے میرا مطلب اِس ٹائم ہاسٹل میں کسی کو انٹر ہونے کی اجازت نہیں. “
ریحاب نے اُسے بتانے سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی.
“اُس کی آپ فکر مت کریں. بس فوراً گراؤنڈ میں لیفٹ سائیڈ پر بنے جھولے کے پاس پہنچ جائیں میں تھوڑی دیر تک وہیں آپ کو ملتا ہوں اوکے بائے. “
ارحم اُس کی بات سنے بغیر عجلت میں فون رکھ چکا تھا. جبکہ ریحاب کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا.
واقعی یہ فوجی لوگ اُلٹی کھوپڑی کے ہوتے ہیں
مذاق میں کی گئی بات کو سیریس ہی لے گیا ہے. پر لگتا ہے ابھی تک ہاسٹل کی دیواروں کو ٹھیک سے جائزہ نہیں لیا. اب ہاتھ پاؤں تڑوائے گا نا تب ہی مزا آئے گا.
ریحاب بڑبڑاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی تھی.
ریحاب کو انتظار کرتے پندرہ منٹ گزر چکے تھے مگر ابھی تک ارحم کا کوئی اتا پتا نہیں تھا. ریحاب ریلیکس سی ہوکر جھولے پر جا بیٹھی تھی. وہ جانتی تھی ارحم ہاسٹل کی اتنی ٹائٹ سیکیورٹی میں اندر قدم رکھ ہی نہیں سکتا. مگر شاید وہ ابھی اچھے سے ارحم کو جانتی نہیں تھی جو اتنے مشکل مشن کرچکا تھا کہ ہاسٹل کی یہ دیوار پار کرنا اُس کے لیے عام بات تھی.
ارحم نے جیسے ہی اندر جمپ کیا اُس کی نظر سیدھی کچھ فاصلے پر موجود جھولے پر بیٹھی ریحاب پر پڑی. جو چاند کو گھورتے نجانے کونسے شکوے کرنے میں مصروف تھی.
گراؤنڈ کا یہ حصہ قدرے تاریک تھا.
ڈھیلے ڈھالے بلیک ٹراؤزر اور ریڈ ٹی شرٹ پہنے بلیک کلر کی شال کو کندھوں کے گرد لپیٹے بالوں کو جوڑے کی شکل میں اونچا کرکے کیچڑ میں مقید کررکھا تھا.
رف سے حلیے میں بھی وہ ارحم کے دل کی دنیا ہلا گئی تھی.
ارحم کچھ دیر کھڑا اُس کے حسین مکھڑے کو دیکھتا رہا پھر قدم اُٹھاتا اُس کے پاس جھولے پر آبیٹھا.
ریحاب اپنے خیالوں میں اتنی گم تھی کہ اچانک ارحم کے ساتھ بیٹھنے پر ڈر کے مارے اُس کی چیخ نکل گئی تھی جسے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر ارحم دبا گیا تھا.
ریحاب حیرت سے آنکھیں پھاڑے اپنے بلکل ساتھ جُڑ کر بیٹھے ارحم کو دیکھ رہی تھی. جھولے پر وہ دو لوگ آرام سے بیٹھ جاتی تھیں مگر ارحم کے چوڑے وجود کی وجہ سے ریحاب بلکل پیچھے پھنس چکی تھی.
اُوپر سے جس طرح ارحم اُس کے منہ پر ہاتھ رکھے جھکا ہوا تھا. اِس بات پر ریحاب کی مزید جان نکلی جارہی تھی.
ریحاب کی موٹی موٹی آنکھیں خوف سے مزید بڑی ہوکر ارحم کو بہکنے پر مجبور کررہی تھیں. مگر اپنے جذبات پر قابو پاتے وہ اُس کے ہونٹوں سے ہاتھ اُٹھاتے سیدھا ہوا تھا.
“دیکھ لیں آپ یاد کر رہی تھی اور میں آپ سے ملنے پہنچ گیا. “
ارحم خود کو نارمل کرتا ریحاب کی طرف دیکھتا بشاشت سے بولا. جو اُس کے اتنے قریب ہونے کی وجہ سے لال ٹماٹر ہوچکی تھی.
اُس کی بات کا بمشکل مسکرا کر جواب دیتے ریحاب نے وہاں سے اُٹھنا چاہا تھا مگر ارحم نے اُس کا بازو پکڑ کر دوبارہ واپس بیٹھا دیا تھا.
“مجھ سے شادی کریں گی. “
ارحم نظریں اُس کے چاندنی چھلکاتے چہرے پر گاڑھے بولا.
جب کہ ریحاب نے اچانک ملنے والے اِس نئے جھٹکے پر حیرت سے منہ کھولے اُسے دیکھا.
اُس کی اِس انوکھی ادا پر ارحم کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل گئی تھی.
وہ اِس طرح منہ کھولے اُسے بہت کیوٹ لگی تھی. ارحم نے ریحاب کی ٹھوڑی سے پکڑ کر اُس کا منہ بند کیا تھا. جس پر ریحاب فوراً ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی.
“کیا ہوا آپ کو میری بات پسند نہیں آئی. “
ارحم نے اُس کی خاموشی پر سوالیہ انداز میں اُسے دیکھا.
“نہیں ایسی بات نہیں مگر شادی اِس طرح کیسے. ابھی نہ آپ میرے گھر والوں کے بارے میں کچھ جانتے ہیں نہ میں. “
ریحاب سے اُس کی نظروں سے پزل ہوتے کچھ بولا ہی نہیں گیا تھا.
“اُس بات کی فکر مت کریں آپ. میں آپ کی فیملی کے بارے میں سب جانتا ہوں. اور جہاں تک میری فیملی کی بات ہے تو بہت جلد آپ کو اُن سے ملوا دوں گا. میری فیملی ویسے بھی کوئی لمبی چوڑی نہیں ہے. ایک ڈیشنگ سے بابا ہیں اور ایک سویٹ سی ماما اور میں اُن کو آپ کے بارے میں سب بتا چکا ہوں. وہ تو بے صبری سے آپ سے ملنے کا انتظار کر رہی ہیں. کیا اب بھی آپ کو اعتراض ہے. “
ارحم نے گہری نظروں سے ریحاب کے چہرے کے اُتاڑ چڑھاؤ کا جائزہ لیتے بولا.
“نہیں ایسی بات نہیں ہے. “
ریحاب نے بے چینی سے اُنگلیاں چٹخائی تھیں.
“ڈونٹ وری بیوٹی فل گرل آپ آرام سکون سے سوچ کر جواب دیں کسی قسم کا کوئی پریشر نہیں ہے. “
وہ اچھے سے ریحاب کی کیفیت سمجھ رہا تھا. اِس لیے اُسے مزید تنگ کرنا ترک کرتے وہاں سے اُٹھنے کا فیصلہ کیا تھا.
اُس کی بات پر ریحاب نے ایک نظر ارحم کے وجیہہ چہرے پر ڈالی.
“گڈ نائٹ. “
اُس کے دیکھنے پر ارحم ہولے سے ہاتھ بڑھا کر اُس کے گال کی نرماہٹوں کو محسوس کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
جبکہ ریحاب ساکت سی کتنی ہی دیر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی تھی.
ارحم کی باتیں اور انداز اُس کا دل کسی اور ہی لے پر دھڑکا گئے تھے. وہ اِس وقت خود بھی اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر بوجھل دل کے ساتھ روم کی طرف بڑھ گئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“کیپٹن ماہ روش کیا ہورہا ہے یہاں. “
جنرل یوسف کے بولنے کے ساتھ ہی لائٹ بھی آن ہوچکی تھی.
اُنہوں نے چہرے پر سخت تاثرات سجائے اُسے گھورتے آگے بڑھ کر فائل اُٹھا لی تھی.
اور کھول کر ماہ روش کے سامنے کیا تھا. اُس میں چند غیر ضروری کاغذات کے علاوہ کچھ نہیں تھا.
جنرل یوسف کو پہلے ہی آئیڈیا ہوچکا تھا کہ ماہ روش یہاں تک پہنچنے والی ہے اِس لیے اُنہوں نے ساری انفارمیشن اِس لاکر سے نکال لی تھی.
“آئم ریلی سوری انکل میں جانتی ہوں یہ بہت ہی غلط حرکت کی میں نے لیکن میں جاننا چاہتی ہوں ایسا کیا ہے میرے پاسٹ میں کے جس کو بھی اُس کے بارے میں پتا چلتا ہے وہ مجھ سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے. پلیز انکل آپ سب جانتے ہیں نا دادو نے آپ کو سب بتایا ہوا تھا نا. میری مشکل دور کر دیں. ورنہ میں اِس بارے میں سوچ سوچ کر ہی پاگل ہوجاؤں گی. “
ماہ روش روتے ہوئے اُن کے قدموں میں بیٹھ چکی تھی.
ماہ روش کو اذیت میں دیکھ کر اُن کا دل بھی دُکھا تھا. اور نم آنکھیں لیے اُسے کندھوں سے پکڑ اپنے سامنے کھڑا کیا تھا.
“بیٹا کیا آپ اتنی ہمت رکھتی ہیں کہ سچائی سن پائیں گی. “
جنرل یوسف کی بات پر ماہ روش نے بھیگی آنکھیں اُٹھائی تھیں. اور زور و شور سے اثبات میں سر ہلایا تھا.
وہ کتنے ٹائم سے یہاں تک پہنچنے کی کوشش کررہی تھی. اور آج اتنے قریب پہنچ کر وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹنا چاہتی تھی.
“خالہ جان نے ہی مجھے منع کیا تھا آپ کو کچھ بھی بتانے سے. وہ آپ کو ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھیں.اور سچائی جاننے کہ بعد آپ کی جان کو خطرہ بھی ہوسکتا ہے. “
ماہ روش نے ناسمجھی سے اُن کی طرف دیکھا تھا. ایسا کیا تھا اُس کے پاسٹ میں. اور کس سے خطرہ ہوسکتا تھا اُسے.
“لیکن اب تو میں اپنی حفاظت کرنا جانتی ہوں نا. میں پہلے کی طرح کمزور نہیں رہی. اب تو آپ مجھے سب بتاسکتے ہیں. “
ماہ روش آج ہر حال میں سچائی جاننا چاہتی تھی.
“اوکے میں وعدہ کرتا ہوں آپ کو ایک ایک بات بتاؤں گا مگر اُس کے لیے آپ کو تھوڑا سا انتظار اور کرنا ہوگا. جہاں اتنا انتظار کیا ہے سات دن اور کر لیں. پھر آپ کے ایک ایک سوال کا جواب دوں گی.
اور ایک بات اور اپنی ماں کی کہی کسی بات کا بھی ذکر اپنے باپ سے نہ کرنا. “
جنرل یوسف بات کرکے اُسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے وہاں سے نکل آئے تھے. جب ماہ روش بوجھل سانس ہوا میں خارج کرتی اُن کے پیچھے وہاں سے نکل آئی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ذی ایس کے اپنی پانچ گاڑیوں کے پروٹوکول کے ساتھ اپنے عالی شان بارہ منزلہ ذی ایس کے پلازے میں داخل ہوا تھا. جس میں ایک ایک قدم کی دوری پر گارڈز موجود تھے.
گاڑیوں کے رُکتے ہی گارڈز نے بھاگ کر قریب آتے دروازہ کھولا تھا.
ذی ایس کے مغرور سی اکڑی ہوئی گردن اُٹھائے گاڑی سے نکلتا بلڈنگ کے اندر داخل ہوا تھا. جہاں بلیک کلر کی وردی میں اسلحہ سے لیس سینکڑوں کی تعداد میں گارڈز چوکنے سے کھڑے تھے. جہاں جہاں سے وہ گزر رہا تھا وہاں کھڑے گارڈز اپنا سر جھکا دیتے تھے. جیسے اُس کی طرف دیکھنے سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوجانا تھا.
جیسے ہی اُس نے وسیع ہال میں قدم رکھا وہاں صوفے پر بیٹھے نفوس بھی فوراً احتراماً کھڑے ہوئے تھے.
ذی ایس کے شان سے چلتے بڑے سے صوفے پر جا بیٹھا تھا. اُس کو بیٹھتا دیکھ باقی سب بھی اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے تھے.
“بُرہان کیا خبر ہے یہاں کی. “
خان کے سنجیدہ انداز پر بُرہان تھوڑا گھبرایا تھا.
“بابا ہمارے دو کلب پر ریڈ کرکے اُنہوں نے چار افراد کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ وہ جگہ اپنے قبضے میں لے لی ہے اور حیرت کی بات کے سب سے بڑے کلب کو چھوڑ دیا گیا اور نہ ہی کسی مشکوک شخص کی کوئی حرکت دیکھی گئی وہاں . سیکیورٹی کافی ٹائٹ تھی شاید یہ ریزن بھی ہوسکتا. “
خان کے چہرے کا رنگ ایک دفعہ غصے کی وجہ سے متغیر ہوا تھا. مگر پھر اگلے ہی پل خود کو نارمل کرتے گویا ہوا.
“لگتا ہے میری کچھ دنوں کی خاموشی بہت گراں گزری ہے اُن پر. جو پھر سے اپنی تباہی اور بربادی کو دعوت دینے نکل پڑے ہیں.
مگر جانتے نہیں چند دنوں بہت جو میں کرنے والا ہوں وہ اُن کے ملک کی بنیادیں ہلا دے گا. اور جب ہر طرف چیخ و پکار ہوگی مجھے بڑا مزا آئے گا.”
خان کے بات کرنے کے ساتھ ہی ایک بے ہنگم قہقہ وہاں گونجا تھا جس میں اُس کا ساتھ وہاں موجود سب لوگوں نے دیا تھا.
ذی ایس کے کچھ دنوں کے لیے آؤٹ آف کنٹری گیا ہوا تھا. اِس لیے اپنے آدمیوں کی گرفتاری اور اپنے دو اتنے بڑے اڈوں کے بند ہوجانے پر ہونے والے نقصان کا سن کر وہ اندر ہی اندر بھڑک اُٹھا تھا. آج تک اُس نے ناکامی کا منہ نہیں دیکھا تھا باقی ملکوں کی طرح وہ پاکستان کی بھی اندر ہی اندر سے جڑیں کاٹنا شروع ہوچکا تھا. اپنے خلاف تیار کی ہوئی کتنی ہی ٹیموں کو ٹھکانے لگا چکا تھا.
اور اِس بار بھی پوری طرح اُن سب کا مقابلہ کرنے کو تیار تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ماہ روش عجلت میں مال کے اندر داخل ہوئی تھی. زیمل کا بڑتھ ڈے آرہا تھا اور گفٹ نہ ملنے پر زیمل نے اُسے کسی صورت نہیں بخشنا تھا. اِس لیے اپنی تمام ٹینشن پریشانیوں اور مصروفیات سے بہت مشکل سے ٹائم نکال کر وہ یہاں پہنچی تھی.
جلدی جلدی زیمل کے لیے ایک ڈریس پسند کرکے وہ پیمنٹ کے لیے کاؤنٹر کی طرف بڑھی تھی.
“ایکسکیوزمی میم.”
ماہ روش نے آواز پر جیسے ہی پلٹ کر دیکھا سامنے ہی ایک خوبرو سا شخص اُسے پرشوق نظروں سے دیکھتا نظر آیا.
“جی.”
ماہ روش نے سوالیہ انداز میں اُس کی طرف دیکھا.
“کیا آپ میری ایک ہیلپ کرسکتی ہیں.”
اُس کی بات پر ماہ روش نے اچھنبے سے پہلے اُسے اور پھر اُس کے پیچھے گن اُٹھائے کھڑے دو ہٹے کٹے آدمیوں کی طرف دیکھا.
“ہیلپ؟. میں کیا ہیلپ کرسکتی ہوں آپ کی. “
ماہ روش نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے عجلت میں کہا.
جب کے مقابل کو تو نگاہیں اُس کے حسین چہرے سے ہٹانا اِس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام لگا تھا.
مگر ماہ روش کے بدلتے تاثرات پر وہ فوراً سنبھلا تھا.
“مجھے اپنی سسٹر کے لیے کچھ شاپنگ کرنی ہے. اور آج سے پہلے میں نے کبھی لیڈیز شاپنگ نہیں کی کیا آپ میری ہیلپ کرسکتی ہیں. “
ماہ روش سے بات کرتے ہمایوں کے چہرے سے مسکراہٹ ایک پل کے لیے نہیں ہٹی تھی.
شاپنگ تو اُس نے اپنی سسٹر کے لیے ہی کرنی تھی. مگر وہ لیڈیز شاپنگ پہلے بھی کرچکا تھا. اور اچھا خاصہ ایکسپرٹ بھی تھا.
اُسے ماہ روش کی دلکشی نے بہت متاثر کیا تھا. اِس لیے وہ اُسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا.
“یہ جو اتنی ساری لیڈیز کھڑی ہیں یہاں اِن کو پے اِسی کام کے لیے ملتی ہے. آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک اچھے ڈریس دکھائیں گی. آئم سوری میں لیٹ ہورہی ہوں ورنہ آپ کی ہیلپ ضرور کرتی. “
ماہ روش سہولت سے انکار کرتی شاپ سے نکل آئی تھی. جبکہ ہمایوں اپنا سا منہ لئے حیران کھڑا رہ گیا تھا.
اُسے تو لگا تھا باقی لڑکیوں کی طرح یہ بھی اُس کے مخاطب کرنے پر پھولے نہ سمائے گی. اور فوراً سے پہلے اُس کی مدد کے لیے تیار ہوجائے گی.
“حُسن کے ساتھ ساتھ ادائیں بھی کمال کی ہیں. پہلی نظر میں ہی گھائل کر گئی ہے. آگے نجانے کیا کیا ستم ڈھائے گی. مگر نہیں جانتی اِس کا پالا ہمایوں خان سے پڑنے والا ہے. جس کی وجاہت کی دنیا دیوانی ہے. “
ہمایوں خان مسکراتا خود بھی باہر کی طرف نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“بابا کی جان کیسی ہے. “
ذوالفقار صاحب ماہ روش کو دیکھ کر سینے سے لگاتے محبت سے بولے.
ماہ روش نے اُن کے انداز پر ساری باتیں دماغ سے نکالتے سکون سے اُن کے سینے پر سر رکھا تھا.
“میں بلکل ٹھیک ہوں مگر آپ سے بہت ناراض ہوں. میں کتنے ٹائم سے آپ کو واپس آنے کا بول رہی تھی. مگر آپ کو میری پرواہ ہی نہیں. ماما بھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہیں. میں بلکل اکیلی ہوگئی ہوں بابا.”
ماہ روش کو سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ اچانک اُسے کیا ہوا تھا. کہ وہ ذوالفقار صاحب کے سینے پر سر رکھتے روتی چلی گئی تھی. اتنے دنوں سے جو غبار دل میں اکٹھا ہوا پڑا تھا کسی اپنے کا لمس محسوس کرتے ہی وہ بکھر گئی تھی.
ذوالفقار صاحب کو اُس کی حالت دیکھ پریشان سے ہوگئے تھے.
“میری گڑیا اِس میں رونے والی کیا بات ہے. اور تمہاری ماما ناراض ہے تھوڑی مگر تم فکر مت کرو تمہاری خاطر میں خود جاکر اُسے لے آؤ گا. بس اب مجھے میری بیٹی کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو نظر نہ آئیں.”
ذوالفقار صاحب پیار سے اُس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے بولے.
اُن کے ہر انداز سے اُس کے لیے بے پناہ محبت چھلک رہی تھی.
نہیں میرے بابا ایسا نہیں کر سکتے. وہ کتنی محبت کرتے نا ہم سب سے. ہاں اپنے بزنس میں بہت زیادہ بزی ہونے کی وجہ سے وہ ہمیں ٹائم نہیں دے پائے مگر صرف اِس ایک بات کو مد نظر رکھ کر بابا پر اتنا بڑا الزام لگانا بھی تو غلط ہےنا. ضرور ماما نے غصے میں مجھے ایسا بولا تھا. کیونکہ اگر یہ سچ ہوتا تو وہ بہت پہلے ہی بابا کو اور مجھے چھوڑ کر چکی جاتیں. ہاں ایسا ہی ہوگا. میرے بابا اتنا گھناؤنا کام نہیں کرسکتے.”
ماہ روش کو بھی ہر بیٹی کی طرح اپنے بابا دنیا کے سب سے اچھے انسان لگے تھے. اِس لیے ہر خیال کو دل سے جھٹکتے اُس نے خود کو تسلی دی تھی.
مگر یوسف انکل اُنہوں نے ایسا کیوں کہا کہ میں بابا کو کچھ نہ بتاؤں.
ماہ روش ایک بار پھر اُلجھی تھی.
اُنہوں نے یہ بھی تو کہا ہے کہ وہ مجھے ایک ہفتے تک سب بتائیں گے. اور شاید اُنہوں نے اِس لیے کہا ہو کہ میں بابا سے ایسا ویسا کوئی سوال پوچھ کر ہرٹ نہ کروں.
ذوالفقار صاحب سے ہلکی پھلکی باتوں کے دوران ماہ روش اپنے دل کو تسلیاں دینے میں مصروف تھی.
اتنے ٹائم بعد آج اُس کے بابا نے اُسے پہلے کی طرح پیار کیا تھا. وہ بہت خوش اور مطمئن تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاری ہے