No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“یہ سب لڑکیوں کو کیا ہوا ہے ایسے آنکھیں پھاڑے کیا دیکھ رہی ہیں. ایسا کون سا عجوبہ داخل ہوگیا کینٹین میں. “
ریحاب نے موبائل سے سر اُٹھا کر جوس کا گلاس قریب کرتے اردگرد نگاہ دوڑائی.
” زرا پیچھے دیکھو تمہیں خود سمجھ آجائے گا. “
کرن بھی انٹرنس پر نظریں جمائے بولی.
“کیا مطلب ایسا کیا ہے میرے پیچھے. “
ریحاب نے ناسمجھی سے پوچھا مگر پیچھے مڑ کر ابھی بھی نہیں دیکھا.
“تمہارا ہیرو کھڑا ہے. بلکہ صرف تمہارا نہیں ہم سب کا ہیرو کھڑا ہے. کیپٹن ارحم آصف. جلدی سے جاؤ اُس کے پاس ورنہ جیسے لڑکیاں اُسے دیکھ رہی ہیں نظروں ہی نظروں میں نگل جائیں گی. “
کرن کی بات سنتے ریحاب جھٹکے سے پلٹی تھی.
ارحم کیفے کی انٹرنس پر کھڑا نظر آیا تھا.
بلیک پینٹ پر بلیک ہی شرٹ پہنے وہ وہاں موجود تمام لڑکیوں کا دل دھڑکا گیا تھا.
ریحاب پر نظر پڑتے ہی ارحم نے ہاتھ ہلایا تھا. جس پر ریحاب اردگرد دیکھتی جلدی سے اُس کی طرف بڑھی تھی.
ابھی وہ ارحم ہی سے موبائل پر بات کر رہی تھی. ریحاب کو لگا تھا وہ مذاق کر رہا ہے. لیکن ارحم سچ میں اُس سے ملنے پہنچ چکا تھا.
ارحم کو ریحاب کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے تھے. وہاں موجود لڑکے لڑکیوں نے حسد , رشک اور کچھ کچھ حیرت سے بھی اُن کی طرف دیکھا تھا کیونکہ آج تک کسی نے بھی ریحاب کو یونی میں لڑکوں سے نارمل بات کرتے بھی نہیں دیکھا تھا.
ریحاب نے ارحم کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا. کیونکہ اِس وقت وہ دونوں کیفے میں سب کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے.
“آج میں آپ کو اپنے پیرنٹس سے ملوانا چاہتا ہوں. “
ارحم نے اُس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے پوچھا. جب اُس کی بات پر ماہ روش کے اندر بے چینی پھیلی تھی. ارحم کے ساتھ ساتھ وہ اُس کے پیرنٹس کی فیلنگز ہرٹ نہیں کرسکتی تھی. مگر بلیک میلرز کی روز دی جانے والی دھمکیوں سے وہ بے بس ہوکر رہ گئی تھی.
” کیا ہوا آپ کو کوئی اعتراض ہے کیا. “
ارحم نے گاڑی میں بیٹھتے اُس کی خاموشی کے خیال سے پوچھا. اور گہری نظروں سے اُس کا جائزہ لیا.
جو ییلو اور وائٹ کنٹراس کے سوٹ میں بالوں کی ٹیل پونی کیے بہت پیاری لگ رہی تھی.
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں. “
ریحاب اُس کی بولتی نظروں سے کنفیوز ہوتے سیٹ بیلٹ سے اُلجھ رہی تھی. جو پریشانی اور نروس ہونے کی وجہ سے بندھ ہی نہیں رہا تھا.
“لائیں میں ہیلپ کر دیتا ہوں. “
اُس کو کوفت میں مبتلا ہوتے دیکھ ارحم آگے ہوتے اُس کے قریب جھکا تھا.
ریحاب نے اُسی وقت چہرا پیچھے ہٹایا تھا. جب اُس پر جھکتے ارحم کے ہونٹ بے اختیاری میں ریحاب کے روئی جیسے گلابی گالوں سے ٹچ ہوئے تھے.
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ دونوں ہی اپنی جگہ ٹھٹھکے تھے. اُس کے ہونٹوں کے لمس سے ایک برقی رو ریحاب کے جس میں دوڑ گئی تھی.
ارحم نے فوراً سیدھے ہوتے گاڑی سٹارٹ کردی تھی. یہ پہلی بار تھا کہ وہ کسی لڑکی کے اِس طرح قریب ہورہا تھا. اور لڑکی بھی وہ جو اُس کے دل کے تاروں کو بُری طرح چھیڑ چکی تھی.
ریحاب کو ابھی بھی اپنے گال پر ارحم کا دہکتا لمس محسوس ہورہا تھا.
باقی باتوں کے بارے میں سوچتے اُس نے اِن تقاضوں پر تو غور ہی نہیں کیا تھا. بے شک یہ ایک بے اختیاری عمل تھا. لیکن آگے جب ارحم کو اُس پر پورا حق حاصل ہوگا تو پھر… اِس سے آگے ریحاب کچھ سوچ ہی نہیں پائی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“مے آئی کم اِن سر. “
کیپٹن سوہا نے میجر ارتضٰی کے آفس میں داخل ہوتے پوچھا.
“یس کم اِن. “
ارتضٰی کی مصروف سی بھاری آواز اُبھری تھی.
“سر وہ سب لوگ میٹنگ کے لیے آچکے ہیں. اور آپ کا ویٹ کر رہے ہیں. اور کیپٹن ماہ روش کا کہنا ہے کہ وہ آج نہیں آپائیں گی میٹنگ میں. “
فائلز بند کرتے ارتضٰی کے ہاتھ ماہ روش کے نام پر تھمے تھے. سوہا ارتضٰی کے سخت ہوتے تاثرات پر دل ہی دل میں بہت خوش ہوئی تھی. اُس کا تیر نشانے پر لگا تھا.
“کیوں نہیں آپائیں گی وہ ایسا کیا کام پڑگیا ہے اُنہیں جو اِس کیس سے بھی زیادہ ضروری ہے. “
ارتضٰی ماہ روش کا ذکر کرتے زرا تیز لہجے میں بولا.
” جی میں نے پوچھا اُن سے اُن کا کہنا ہے آج وہ اپنے بابا کے ساتھ ہیں اُنہیں ڈسٹرب نہ کیا جائے. “
سوہا ابھی ابھی زیمل سے سن کر آرہی تھی. کہ ماہ روش کے بابا آئے ہوئے ہیں.
جس پر سوہا نے ماہ روش کو کال کرکے جھوٹ بولا تھا. کہ میٹنگ دوگھنٹے لیٹ ہوچکی ہے اور اب سوہا بات کو اپنے مطابق ڈھال کر ارتضٰی کے سامنے پیش کررہی تھی.
وہ ارتضٰی اور ماہ روش کے درمیان کچھ گڑبڑ نوٹ کرچکی تھی. اب بس کسی صورت اُس کا پتا لگانا تھا تاکہ وہ اُسے اپنے کام کو آسان بنانے کے لیے استعمال کرسکے.
اور اُسے اپنا وار کامیاب ہوتا نظر بھی آرہا تھا.
“اوکے آپ جائیں میں آرہا ہوں. “
ارتضٰی نے اپنے اندر اُٹھتی آگ پر قابو پاتے سپاٹ سے انداز میں سوہا کو مخاطب کیا تھا.
سوہا کے جاتے ارتضٰی نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ساری چیزیں نیچے پھینکی تھیں. اور ایک زور دار مکہ بنا کر دیوار سے دے مارا تھا. جس کی شدت اتنی تھی کہ اُس کے ہاتھ سے نکلا خون دیوار پر اپنے نشان چھوڑ گیا تھا.
وہ دھوکے باز لڑکی ہے. ڈھونگ کرتی ہے وہ معصومیت کا. میں اتنا کمزور نہیں ہوسکتا کہ اُس لڑکی کے سامنے بےبس محسوس کروں.
وہ اچھے سے واقف ہے میرے جذبات سے. اور اپنے باپ کے ساتھ مل کر بے وقوف بنانا چاہتی ہے مجھے. کیپٹن ماہ روش ذوالفقار بہت ہوگیا مگر اب مزید نہیں. ایک دفعہ تمہاری کوئی غلطی میرے ہاتھ آجائے پھر دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں. “
ارتضٰی کی آنکھوں سے ماہ روش کے لیے نفرت کے شرارے پھوٹ رہے تھے. اگر وہ دیکھ لیتی تو ضرور جل کر بھسم ہوجاتی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی جیسے ہی اُن سب کو آگے کا لائحہ عمل بتا کر میٹنگ ختم کرنے ہی والا تھا. جب ماہ روش اُسی لمحے اندر داخل ہوئی تھی.
اُسے دیکھ ارتضٰی کے نقوش غصے سے ایک بار پھر تن گئے.
“کیپٹن ماہ روش گیٹ لاسٹ. جاؤ واپس اور پہلے اپنے ضروری کام نبٹاؤ جاکر. تم جیسی آفیسر کی میری ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے. “
ماہ روش کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ارتضٰی دھاڑا تھا. اِس وقت وہ ماہ روش کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا.
ارتضٰی کی دھاڑ پر ماہ روش کے ساتھ ساتھ وہاں بیٹھے سب لوگ دہل گئے تھے. سب لوگ پہلے بھی ارتضٰی کا ماہ روش کے ساتھ روڈ بی ہیوئیر نوٹ کرچکے تھے. مگر آج ارتضٰی کے انداز میں موجود واضح نفرت اُن سب کو حیرت ذدہ کر گئی تھی.
“آئم ریلی سوری سر وہ میں… “
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ. میرے سامنے کسی قسم کا فضول ایکسکیوزدینے کی کوشش بھی مت کرنا. “
ماہ روش لرزتے لہجے میں بولی ہی تھی جب ارتضٰی اُس کی بات بیچ میں ہی کاٹتا چیئر سے اُٹھتا اُس کی طرف لپکا تھا. اور وہاں بیٹھے کسی بھی شخص کی پروا کیے بغیر ماہ روش کے بے انتہا قریب جاکھڑا ہوا تھا. ماہ روش نے سہم کر پیچھے ہٹنا چاہا تھا جب ارتضٰی نے اُس کا نازک بازو اپنی آہنی گرفت میں لیتے اُس کو خود سے دور ہونے سے روکا تھا.
باقی سب بھی بھی اُلجھن بھری نظروں سے یہ سب دیکھ رہے تھے.
زیمل کو ماہ روش کے ساتھ ارتضٰی کا یہ انداز پہلے دن سے ہی عجیب سا لگا تھا. مگر ارتضٰی کی پرسنیلٹی اور اُس کے لگن سے کام کرنے کے انداز سے وہ بہت ایمپریس تھی. ماہ روش کے علاوہ وہ تمام فی میل آفیسرز سے عزت سے ہی پیش آتا تھا. لیکن زیمل کو آج اِس طرح اُس کا ماہ روش پر چلانا بہت بُرا لگا تھا وہ بہت مشکل سے خود پر ضبط کرکے کھڑی تھی.
جاذل نے پریشانی سے ارتضٰی کو دیکھا وہ اُس کے ہر مزاج سے آشنا تھا. اور ارتضٰی کا ماہ روش کے ساتھ ایسا برتاؤ دیکھ اُس کی چھٹی حس کچھ غلط ہونے کا الارم دے رہی تھی.
“اِس معصوم چہرے کے پیچھے کتنا گھناؤنا رُوپ چھپا ہے تمہارا. اور کتنا دھوکہ دو گی. بس ایک بار ثبوت میرے ہاتھ لگنے پھر جو حال میں تمہارا کروں گا زندگی بھر یاد رکھو گی. “
ارتضٰی کے حقارت بھرے انداز اور الزام پر ماہ روش نے آنسوؤں سے تر چہرا اُس کی طرف اُٹھایا تھا.
کوئی اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا تھا. ماہ روش کا دل چاہا تھا پوچھے اُس سے ایسا کیا گھٹیا کام کرتے دیکھا تھا اُس نے جو وہ اتنا بڑا الزام لگا رہا تھا. مگر اتنی ہمت کہاں سے لاتی کہ اِس دشمنِ جاں سے کوئی بھی سوال کرسکے.
“بہت مشکل ہے اب ہم دونوں کا اِس مشن پر کام کرنا. کیونکہ میں اب کسی صورت تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا. “
ارتضٰی ماہ روش کے بے حد نزدیک کھڑا تھا. اور اُس کی آواز کا سرد پن ماہ روش کو اپنے اندر تک اُترتا محسوس ہورہا تھا. لیکن ارتضٰی کی بات پر نفی میں سر ہلاتے کچھ بولنا چاہا تھا.
مگر ارتضٰی اُسے کسی قسم کا موقع دیے بغیر جھٹکے سے اُس کو دور دھکیلتا وہاں سے نکل گیا تھا. ماہ روش کی کمر بُری طرح دروازے سے ٹکراتی اُسے زخمی کر گئی تھی.
ماہ روش کسی بھی بات کی پرواہ کیے بغیر ارتضٰی کے پیچھے اُس کے آفس کی طرف بڑھی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“یہ سب کیا ہے. سر ارتضٰی کیوں ماہ روش کے ساتھ ایسا برتاؤ کر رہے ہیں. اُن کے انداز سے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ اُن کی ٹیم کا حصہ نہیں بلکہ اُن کی محرم ہو.”
اُن دونوں کے جاتے ہی زیمل غصے اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولی.
“کیا پتا واقعی وہ اُن کی محرم ہو. “
سوہا ایک ادا سے اپنے شولڈر کٹ بالوں کو جھٹکتے بولی.
مگر ماہ روش اِس وقت اُس سے بات کرکے مزید اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی.
سوہا اُس کے اگنور کرنے پر لاپرواہی سے سر جھٹکتی وہاں سے نکل گئی تھی. وہ اپنی طرف سے آگ لگا چکی تھی. اب باقی کا کام میجر ارتضٰی کے ایگریسو موڈ نے کرنا تھا.
اپنے کام میں ایسے ہی تو اُس نے ایک نام نہیں بنایا تھا وہ ہتھیاروں سے زیادہ جذبات سے کھیلتی تھی.
وہ اپنی کامیابی پر خوش ہوتی یہ بھول چکی تھی کہ اِس بار اُس کا پالا میجر ارتضٰی سے پڑا تھا.
جو ہر میدان کا ماہر کھلاڑی تھا. مسٹر ہنڈرنڈ پرسنٹ کا خطاب اُس نے ایسے ہی تو نہیں جیتا تھا.
“آپ اپنے دوست کو سمجھاتے کیوں نہیں. یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا. یہاں ماہ روش کی بہادری اور ذہانت سے سب واقف ہیں. اُس نے بہت کم وقت میں اپنا ایک نام بنایا ہے.
مگر ایک لیڈر ہونے کی حیثیت سے بھی سر ارتضٰی کا اتنا حق نہیں بنتا بات بات پر ماہ روش کو ذلیل کرنے کا. “
زیمل کا بس نہیں چل رہا تھا کیا کر ڈالے.
“محترمہ وہ اِس وقت میرے دوست نہیں ایک آفیسر کی طرح آن ڈیوٹی پر ہیں. اور میں اچھے سے جانتا ہوں ارتضٰی کو بغیر کسی ریزن کے وہ کسی کے ساتھ اتنا بُرا برتاؤ نہیں کرسکتا ایک لڑکی کے ساتھ تو بلکل نہیں.”
جاذل خود بھی ارتضٰی کی وجہ سے پریشان تھا. کیونکہ آج ارتضٰی اُسے بہت ڈسٹرب لگا تھا.
ارتضٰی اپنے جذبات چھپانے میں ماہر تھا.مگر آج ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ آپے سے باہر ہوگیا تھا.
“تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے سر نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ماہ روش کے ساتھ جو کیا وہ بلکل ٹھیک ہے. “
زیمل نے لڑنے والے انداز میں رخ جاذل کی طرف موڑا.
“اُف اب آپ لوگ لڑنا مت شروع ہوجانا پہلے ہی ماحول اچھا خاصہ خراب ہوچکا ہے. “
ارحم اُن دونوں کے بگڑے تیور دیکھ کر بولتا وہاں سے نکل گیا تھا. ماہ روش اُس کو بلکل بہنوں کی طرح عزیز تھی اور وہ بھی اُسے سگے بھائی سے کم نہیں مانتی تھی.
ماہ روش کے آنسو دیکھ اُس کا دل بہت دُکھا تھا.
“زیمل آپ کو ہمیشہ بات کو غلط رنگ دینے کا اتنا شوق کیوں ہے. میں نے ایسا کب بولا کہ وہ ٹھیک تھا. “
جاذل بھی اُسی کے انداز میں بولا.
“میں غلط رنگ نہیں دیتی آپ کی بات ہوتی ہی غلط ہے.”
زیمل جاذل کو گھورتی اپنی سیٹ سے اُٹھی تھی. اُس کے ساتھ ایک کرسی چھوڑ کر ہی جاذل کی کرسی تھی.
جاذل کو گھورنے کی وجہ سے وہ مڑے ہوئے کارپٹ کو
نہیں دیکھ پائی تھی. اور اچانک ٹھوکر لگنے کی وجہ سے لڑکھڑا کر وہ منہ کے بل گرنے ہی والی تھی. جب جاذل نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے آگے اپنا بازو پھیلاتے اُسے گرنے سے بچاتے اپنی طرف کھینچا تھا.
زیمل اچانک رونما ہونے والی افتاد پر سیدھی جاذل کی گود میں جاگری تھی.
جاذل کے اُوپر اپنی پوزیشن دیکھ زیمل شرم سے پانی پانی ہوئی تھی. اُس کا سر جاذل کے کندھے سے لگا ہوا تھا اور اُس نے بے ساختگی میں جاذل کے کالر کو دبوچ رکھا تھا.
جاذل نے زیمل کے نرم گرم وجود کو بہت ہی نرمی سے تھام رکھا تھا. جیسے وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو اور اُس کے زرا سے زور سے پکڑنے پر ٹوٹ جائے گی.
“اب لگا دیں مجھ پر الزام کے میں نے جان بوجھ کر آپ کو اپنے اُوپر گرایا ہے. “
جاذل نے فرصت سے زیمل کے سُرخ چہرے کی طرف دیکھا. بہت کم ہی ایسا نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا. جس میں زیمل کنفیوز ہوتی تھی اور اُس کی بولتی بند ہوجاتی تھی.
زیمل اُس کی کسی بھی بات کا جواب دیے بغیر اُس کی بانہوں کا حصار توڑتی وہاں سے نکل گئی تھی اور اپنی بے دھیانی پر خود کو ہی کودنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
“سر پلیز آپ ایک بار میری بات تو سن لیں. “
ماہ روش بھاگتے ہوئے ارتضٰی کے پیچھے آفس میں داخل ہوئی تھی.
“اگر اپنی بھلائی چاہتی ہو تو چلی جاؤ یہاں سے. “
ارتضٰی رُخ موڑے کر اپنے غصے پر قابو پاتے برداشت کے کڑے مراحل پر تھا.
“سر آپ مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں. ایسا کیا قصور سرذد ہوا ہے مجھ سے کہ جس کے بارے میں میں بھی نہیں جانتی. “
ماہ روش نے ہمت کرکے اپنی بات پوچھ ہی لی تھی. مگر غلط ٹائم اور غلط جگہ پر.
ارتضٰی اُس کی بات پر طیش میں آتے ماہ روش کی طرف پلٹا تھا. اور اُسے کمر سے دبوچتے اپنے بے حد نزدیک کر گیا تھا. وہ دونوں اِس وقت ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ بآسانی ایک دوسرے کی دھڑکنے محسوس کرسکتے تھے.
ماہ روش کا دل اتنی قربت پر بُری طرح دھڑکا رہا تھا. اور ٹانگیں بھی ہولے ہولے کانپ رہی تھیں.
” تم اور تمہارے باپ نے میرا سب کچھ چھین لیا. میرے خاندان کی خوشیاں چھن گئیں. میرے اپنے ہنسنا بھول چکے ہیں. ترستا ہوں میں اپنی ماں اور جان سے عزیز پھوپھو کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کے لیے.
اور تم پوچھتی ہو نفرت کی وجہ بتاؤں میں تمہیں. “
ارتضٰی کا چہرا ماہ روش کے اتنے قریب تھا. کہ اُس کے بولنے پر ہلتے لب ماہ روش کے گال سے بُری طرح ٹچ ہورہے تھے. ماہ روش پر اُس کی قربت اور باتوں سے دوھری قیامت گزر رہی تھی.
ارتضٰی کا ایک ہاتھ ماہ روش کی گردن جبکہ دوسرا کمر کے گرد لپٹا ہوا تھا. جس کی وجہ سے ماہ روش ہل بھی نہیں پارہی تھی. ارتضٰی کی گرم سانسوں اور ہونٹوں کے لمس سے ماہ روش کو اپنا چہرا جلتا محسوس ہورہا تھا. مگر ارتضٰی آج اُسے کسی صورت بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا.
” جس طرح میرے گھر کو برباد کیا ہے اگر میں چاہوں تو ایک ہی پل میں تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی کرکے تمہارے باپ کا سارا غرور مٹی میں ملا دوں. “
ارتضٰی کی آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر نمایاں ہوا تھا. اور ارتضٰی نے ایک ہاتھ ماہ روش کے سُرخ نرم ملائم ہونٹوں پر رکھ کر اُنہیں بے دردی سے مسل دیا تھا.
ماہ روش اُس کے عمل پر درد محسوس کرتی حصار سے نکلنا چاہا تھا.
اُسے ارتضٰی سے خوف محسوس ہونے لگا تھا.
جاری ہے.
