Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

ریحاب ناشتے سے فارغ ہوکر صائمہ بیگم کو کچھ دیر ریسٹ کرنے کا کہتی اپنے کمرے میں آگئی تھی. کل رات چینج کرنے کے بعد وہ سوگئی تھی. کیونکہ اُس کے کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی ارحم روم میں نہیں آیا تھا. اور صبح اٹھنے کے بعد بھی ارحم گھر میں موجود نہیں تھا.
صائمہ بیگم سے ہی اُسے پتا چلا تھا کہ کسی ارجنٹ کام کی وجہ سے اُسے جانا پڑا. ریحاب سمجھ نہیں پارہی تھی. کہ ارحم واقعی کام کی وجہ سے گیا ہے یا اُس کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ناراض ہے.
لیکن اِس وقت زیادہ پریشانی اُسے انیس کی ہورہی تھی. صبح سے کتنی بار وہ اس کا نمبر ٹرائے کر چکی تھی مگر کوئی جواب نہیں آرہا تھا. بلیک میلرز کا دیا گیا لاکٹ بھی ارحم نے رات کو اُتار دیا تھا. جس کی وجہ سے اُسے زیادہ پریشانی ہورہی تھی. اگر اُن لوگوں نے اپنے کہے کے مطابق واقعی انیس کو کوئی نقصان پہنچا دیا ہوا تو.
ریحاب پریشانی کے عالم میں کمرے میں ٹہل رہی تھی. اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے.
ارحم فون پر بات کرتا اندر داخل ہوا تھا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اُسے خوشگواریت محسوس ہوئی تھی.
ریحاب سٹائلش سے سی گرین کلر کے شیفون کے فراک میں لائٹ سے میک اپ اور جیولری میں نک سک سے تیار اُس کی ساری تھکن ختم کر گئی تھی.
ریحاب جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی اچانک ارحم کو سامنے دیکھ ہڑبڑا گئی تھی. کیونکہ وہ دوپٹہ بیڈ پر ڈالے لاپرواہی سے کھڑی یہ بھولی ہوئی تھی کہ یہ کمرہ صرف اُس اکیلی کا نہیں تھا.
ارحم اُس کے حسین سراپے پر نظریں گاڑے فون پر بات کرنے میں مصروف اُس کی طرف بڑھا تھا. ریحاب نے جلدی سے بیڈ کی طرف بڑھنا چاہا تھا مگر ارحم نے اُس کے بازو کو گرفت میں لیتے اپنی طرف کھینچا تھا. ریحاب سیدھی اُس کے کشادہ سینے سے جاٹکرائی تھی. اُسنے پیچھے ہونا چاہا تھا مگر ارحم اُس کے گرد اپنے مضبوط بازوں کا حصار کھینچتے فرار کے تمام راستے ختم کردیے تھے. ارحم کے اتنے قریب آجانے پر ریحاب کی دھڑکنوں میں ہلچل مچ چکی تھی.
” گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ. “
ارحم نے فون بند کرتے اُس کے کان کے قریب جھکتے سرگوشی کی تھی. اور اپنے دھکتے لبوں سے اُس کے کان کی لوح کو چوما تھا. ریحاب اُس کی حرکت پر سُرخ ہوتے چہرا دوسری طرف موڑ گئی تھی.
” آئم سوری رات کو کام سے جانا پڑا. اگر کام بہت ضروری نہ ہوتا تو بلکل نہ جاتا.”
ارحم نے ریحاب کا چہرا ٹھوڑی سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا تھا. ریحاب نے بہت مشکل سے نظریں اُٹھا کر اُس کی جذبے لوٹاتی آنکھوں میں دیکھا. جہاں صرف اور صرف اُس کی محبت کے دیپ روشن تھے.
ارحم نے جھک کر اُس کے گلابی گال کو چوما تھا. جو پہلے ہی اُس کی قربت پر لال ہوچکے تھے.
” لگتا ہے میری جان مجھ سے ناراض ہوگئی ہے. اِس لیے کسی بات کا کوئی جواب نہیں دے رہی. پر کوئی بات نہیں مجھے منانا اچھے سے آتا ہے. “
ارحم مسلسل ریحاب کی خاموشی نوٹ کرتا اُس کے ہونٹوں پر جھکا تھا مگر اُس سے پہلے ہی ریحاب نے گھبرا کر ارحم کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اُس کو باز رکھنا چاہا تھا.
” نہیں میں بلکل بھی ناراض نہیں ہوں. اور میں سمجھ سکتی ہوں. کہ آپ کا کام ضروری تھا تو آپ کو جانا پڑا .”
ریحاب کے جلدی جلدی اپنی بات کہنے پر ارحم کا ایک زوردار قہقہ برآمد ہوا تھا.
” مطلب ناراض نہیں ہو مجھ سے تم. “
ارحم نے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے تصدیق کرنی چاہی تھی. جس کے جواب میں ریحاب نے زور زور سے اثبات میں سر ہلاتے اُسے یقین دلایا تھا.
” میری بیوی اگر مجھ سے ناراض نہیں ہے سب ٹھیک ہے تو کیوں نہ تھوڑا سا پیار کرلیا جائے. “
ارحم کی معنی خیز بات پر ریحاب نے مشکوک انداز میں اُسے دیکھتے پیچھے ہٹنا چاہا تھا. مگر ارحم اُس کے گرد گرفت مضبوط کرتے اُسے اپنے قریب تر کرچکا تھا.
” میں اتنا بھی شریف نہیں ہوں ڈئیر وائف. “
ارحم کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی.
” ارحم پلیز.. “
ریحاب اِس سے پہلے کے کچھ کہتی ارحم اُس کے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیتے اپنی محبت کی شدتوں سے اُسے روشناس کرواتا چلا گیا تھا. ریحاب نے ارحم کی شرٹ کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑ رکھا تھا. ارحم کے لمس میں بے پناہ محبت کے ساتھ ساتھ بے حد نرمی بھی تھی. ریحاب کو اپنا سانس رُکتا محسوس ہورہا تھا. جب اُس نے ارحم کے سینے پر دباؤ ڈالتے اُسے دور دھکیلا تھا.
ارحم بھی ریحاب کا خیال کرتے فوراً پیچھے ہوا تھا. جو سر اُس کے سینے پر ٹکائے گہرے گہرے سانس لیتے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی.
” ابھی سے یہ حال ہورہا ہے. ابھی تو میں نے ٹھیک سے پیار کیا ہی نہیں. “
ارحم نے اپنی چھوئی موئی سی نازک بیوی کی حالت دیکھتے اُس کا مذاق اُڑایا تھا. جس کے جواب میں ریحاب اُسے گھور بھی نہ سکی تھی. وہ جو سوچ کے آئی تھی کہ ارحم کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دے گی. اور نہ ہی اپنے دل کو کسی بھی صورت اِس شخص کے سامنے کمزور پڑنے دے گی. سارے ارادے دھرے کے دھرے رہ گئے تھے. دل اُسے دغا دے گیا تھا.
وہ ارحم اور اُس کے گھر والوں کے اچھے سلوک اور بے پناہ محبت کے آگے ہار رہی تھی. آج سے پہلے اُس نے اِس طرح کا فیملی کا پیار اور کیئر کہاں دیکھی تھی. اِنہیں چیزوں کے لیے ہی تو وہ ساری زندگی ترستی آئی تھی. اور اب جب ملی تھیں تو وہ بھی ادھوری خوشی لیے.
کاش کہ وہ ارحم کو سب سچ بتا سکتی. اپنے پیرنٹس انیس کے بارے میں اور سب سے بڑی بات بلیک میلرز کے بارے میں.
یا
کاش یہ تلخ حقیقت ہوتی ہی نہ اُن کے بیچ تو سب کتنا اچھا ہوتا. ارحم کا خود سے دور جانے کا ڈر نہ ہوتا اُسے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” واؤ خیریت آج اتنی بیوٹی فل لیڈیز نے مجھے کیسے یاد کرلیا.”
ارتضٰی نے جیسے ہی ناہید بیگم کے کمرے میں قدم رکھا سامنے ہی زینب بیگم اور ناہید بیگم کو منتظر پایا تھا.
” ارتضٰی بیٹا ہم دونوں کو آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے اور ہمیں اُمید ہے آپ ہماری بات کا مان ضرور رکھیں گے. “
زینب نے محبت پاش نظروں سے اپنے لاڈلے بھتیجے کی طرف دیکھا تھا. جس نے ہمیشہ اُنہیں اپنی ماں کے جتنا درجہ دیا تھا.
” آپ لوگوں کا ہر حکم سر آنکھوں پر مگر سوائے ایک بات کے. اِس لیے اُس ٹاپک سے ہٹ کر کوئی بات ہے تو ضرور کریں.”
ارتضٰی مسکراتے ہوئے اُن دونوں کے سامنے صوفے پر بیٹھتے اپنا مطلب باور کروا گیا تھا. جس پر دونوں نے بے بسی سے اُس کی طرف دیکھا.
” ارتضٰی بیٹا ایسا کب تک چلے گا. آپ کو نہیں مگر ہمیں آپ کی فکر ہے. اور ہم لوگ کسی صورت صرف ایک ضد میں آپ کو پوری زندگی خراب نہیں کرنے دے گے. آپ کو شادی کرنی ہی ہوگی. اور بیلا سے اچھی لڑکی مجھے نہیں لگتا کوئی اور ہوگی. جو آپ کو اور آپ کے مزاج کو اچھے سے سمجھ سکے. مگر پھر بھی اگر آپ کو کوئی اور پسند ہے تو بتا سکتے ہیں. کیونکہ شادی تو آپ کی اب ہوکر رہی گی. “
ناہید بیگم بھی اُسی کی طرح دوٹوک انداز میں بولیں. اُن کی بات پر ماہ روش کا بھیگا چہرا اُس کی آنکھوں کے پردے پر لہرایا تھا. اور دل کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا تھا.
وہ اپنے اندر کی گھٹن سے تنگ آچکا تھا. اور سکون چاہتا تھا جو اُسے کسی صورت مل ہی نہیں رہا تھا.
” اوکے اگر میں آپ لوگوں کی خوشی کی خاطر شادی کر بھی لوں. مگر جس رشتے میں میری دلی رضامندی شامل نہیں ہوگی وہ میں کیسے نبھا سکتا ہوں. اِس طرح تو دوسرے فریق کی زندگی خراب کرنے والی بات ہے.”
ارتضٰی سکندر کو کسی بات کے لیے منانا اُن کے لیے ہمیشہ ہی بہت مشکل ہی رہا تھا. اور یہ تو پھر بات ہی ایسی تھی.
” ارتضٰی بیٹا آپ کیوں خود کو بلا وجہ کی سزا دے رہے ہو. میرے دل پر پہلے ہی بہت باتوں کا بوجھ ہے. آپ کو اِس طرح کی بے رنگ زندگی گزارتے دیکھنا میرے لیے بہت مشکل ہے. مجھے اپنا آپ مزید گنہگار لگتا ہے.”
زینب بیگم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے. وہ چہرہ دونوں ہاتھوں پر گرائے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں. ارتضٰی اُن کی بات پر تڑپ اُٹھا تھا. وہ فوراً اپنی جگہ سے اُٹھتا زینب کے سامنے جا بیٹھا تھا. وہ اُن کو کسی صورت دکھی نہیں دیکھ سکتا تھا.
” پھوپھو آپ ایسا کیوں بول رہی ہیں. آپ کسی کی گنہگار نہیں ہیں. آپ اور ہم سب اچھے سے جانتے ہیں آپ کا کسی بھی بات میں کوئی قصور نہیں تھا.
اوکے ٹھیک ہے اگر آپ سب لوگوں کی یہی خواہش ہے تو میں آپ کی بات ماننے کو تیار ہوں. آپ لوگوں کی مرضی آپ جس لڑکی سے چاہتے ہیں میں شادی کرنے کو تیار ہوں. “
ارتضٰی اپنے دل پر جبر کرتا بہت مشکل سے بولا تھا. کیونکہ اُس کے لیے اپنی فیملی سب سے زیادہ اہم تھی اور اُن کو کسی صورت دکھی وہ نہیں دیکھ سکتا تھا.
ناہید اور زینب بیگم اُس کی بات سنتے خوشی سے کھل اُٹھی تھیں. چاہے جیسے بھی مگر اُس نے شادی کے لیے رضامندی دے دی تھی. اُن کے لیے یہی کافی تھا.
” میں آصفہ اور احمد بھائی سے بات کر لوں پھر بیلا کے حوالے سے. وہ لوگ تو نجانے کتنی بار دبے لفظوں میں اِس رشتے کے متعلق بات کرچکے ہیں. “
ناہید بیگم جلدی سے بولیں تھیں کہ کہیں ارتضٰی پھر نہ موڈ چینج کر لے.
” ماما جیسے آپ کو مناسب لگے آپ کرلیں. “
ارتضٰی اُن دونوں کے خوشی سے جگمگاتے چہروں کو دیکھتے مسکراتا وہاں سے باہر نکل گیا تھا.
لیکن شادی کے لیے ہاں کرکے اُس کی بے سکونی مزید بڑھ گئی تھی. وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اُس کے ساتھ. ہمیشہ ماہ روش کو ہرٹ کرکے وہ خود بے چین کیوں ہوجاتا تھا.
وہ اُس لڑکی کے ساتھ جو اُس کے سب سے بڑے دشمن کی بیٹی تھی کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتا تھا لیکن جانے انجانے میں اُسے سب سے گہرا رشتہ دل کا رشتہ بنا بیٹھا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” ماہی چلو میرے ساتھ. اتنے اچھے ہیں وہ سب. دیکھنا تمہیں اُن سب سے مل کر بہت اچھا لگے گا. “
زیمل ماہ روش کے بہت انکار کے باوجود بھی اُسے نور پیلس ساتھ گھسیٹ لائی تھی.
” زیمل کبھی تو کسی کی سن لیا کرو. ایسے اچھا تو نہیں لگتا نہ کسی کے گھر جانا. “
ماہ روش ارتضٰی کی وجہ سے وہاں جانے سے گریزہ تھی. ورنہ اُس کا بہت دل چاہ رہا تھا اپنی ماما سے ملنے کا اُن سے بات کرنے کا.
” نکاح والے دن ناہید آنٹی نے خود بولا تھا مجھے کہ تمہیں کبھی لاؤں اُن کے گھر.”
زیمل ماہ روش کا ہاتھ تھامے نور پیلس کے اندر قدم رکھ چکی تھی.
” تھینک گارڈ زیمل آنی آپ آگئیں. یہ دیکھیں اِس ہادی نے کیا کیا ہے. سارا آئل فرش پر پھینک دیا ہے. اور پینٹنگ ابھی تک مکمل نہیں کرپایا. آپ پلیز ہماری ہیلپ کر دیں گی.”
زیمل کو ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا دیکھ طلحہ بھاگتا ہوا اُس کے پاس آیا تھا. اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
ماہ روش حیرت سے زیمل کو جاتے دیکھتی رہی تھی. جب ایک طرف سے اُسے ناہید بیگم آتی دکھائی دی تھیں.
” ارے بیٹا آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں اندر آئیں نا. “
ناہید بیگم ماہ روش سے ملنے کے بعد اُسے اندر کی طرف لے گئی تھیں.
جہاں سامنے ہی نیہا, منیزہ اور صباحت بیگم کے ساتھ بہت سارے ڈریسز پھیلائے بیٹھی تھیں.
” آپ کے گھر کوئی شادی کا فنکشن ہے کیا. “
ماہ روش نے وہاں پھیلی چیزوں اور ہلچل دیکھ کر سرسری سا پوچھا تھا. مگر آگے سے ملنے والا جواب اُس کو ہلا کر رکھ گیا تھا.
” بیٹا لگتا ہے ارتضٰی نے ابھی تک اپنے کولیگز میں نہیں بتایا. دراصل کل اُس کی منگنی ہے میری بھانجی بیلا کے ساتھ. “
ناہید بیگم نے بات کرتے جانچتی نظروں سے ماہ روش کا چہرہ دیکھا تھا اور ماہ روش کا بدلتا رنگ دیکھ کر اُن کا شک ٹھیک نکلا تھا. ماہ روش اور ارتضٰی کے درمیان ضرور کچھ تھا جس کو وہ دونوں خود سے بھی چھپانے کی کوشش کررہے تھے.
ماہ روش کو لگا تھا ہوا میں آکسیجن کم ہوگئی ہو. اُس کا فرض اُس کی ڈیوٹی مزید اُس سے کتنا امتحان لینے والی تھی. اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کا شوہر میجر ارتضٰی سکندر کسی اور لڑکی سے شادی کرنے والا تھا.
ماہ روش ابھی انہیں سوچوں میں اُلجھی ہوئی تھی جب دروازے کے اندر سے اُسے ارتضٰی کے بازو میں بازو ڈالے بیلا اندر آتے دکھائی دی تھی. ہنستے ہنستے جب بیلا نے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھا تو ماہ روش کے اندر آگ سی بھڑک اٹھی تھی.
اُس کا دل چاہا تھا اُس لڑکی کو کھینچ کر ارتضٰی سکندر سے دور پھینک دے جو صرف اُس کا تھا. مگر پھر ارتضٰی پر نظر پڑتے وہ اندر سے ٹوٹی تھی وہ بھی تو بیلا کے ساتھ کتنا خوش لگ رہا تھا.
اور ویسے بھی ارتضٰی کے نزدیک اُس کی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی. وہ اُس کے لیے ایک غدار اور دھوکے باز سے زیادہ کچھ نہیں تھی. ماہ روش کو ارتضٰی اِس وقت اپنی دسترس سے بہت دور لگا تھا.

جاری ہے