Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“سر مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے اِس مشن کو لیڈ کرنے کے لیے مجھے چنا میں آپ کی ہر بات سے ایگری ہوں مگر میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اِس مشن کی ڈیٹیل بتانے سے پہلے اِس نام پر غور و فکر کر لیں.”
ارتضٰی سکرین پر جگمگاتے ناموں میں سے ایک نام پر نظریں گاڑھی ہوئی تھیں.
“میجر ارتضٰی آپ جانتے ہیں یہ صرف ایک مشن ہی نہیں ہمارے ملک کی بقا اور سلامتی کا سوال ہے. اِس لیے میں چاہتا ہوں آپ اِس میں پرسنل ریزن سائیڈ پر رکھ کر پروفیشنلی انوالو ہوں. “
جنرل یوسف اپنی توقع کے مطابق اُس کا ردِعمل دیکھ تحمل سے بولے.
“سر آپ اچھے سے جانتے ہیں مجھے اور میرے کام کرنے کے طریقے کو بھی. لیکن شاید آپ کیپٹن ماہ روش ذوالفقار کی اصلیت کو بھول چکے ہیں. جو اُس پر اتنا ٹرسٹ کر رہے ہیں.”
ماہ روش کا ذکر کرتے ارتضٰی کے لہجے میں سرد مہری سی در آئی تھی.
“میں کچھ نہیں بھول رہا میجر ارتضٰی تم سے زیادہ بہتر طریقے سے جانتا ہوں ہر بات. جس طرح تم پر آنکھیں بند کرکے یقین کرتا ہوں اُتنا ہی ماہ روش پر بھی بھروسہ ہے مجھے. وہ کبھی کچھ غلط نہیں کرے گی. جیسے اب تک ہوتی آئی ہے آگے ہی ویسے ہی سُرخرو ہوگی. “

“بہت بڑی بات کر رہے ہیں سر آپ. اینی ویز اپنے کام میں زرا کوتاہی برداشت نہیں کرتا میں. اور اگر آپ کی اُس کیپٹن نے زرا بھی غداری کرنے کی کوشش کی تو ڈیپارٹمنٹ کی انکوائری سے پہلے میں اُسے گولی مار دوں گا. کیونکہ جتنا بھی بھروسہ ہو آپکو اُس پر مگر جس طرح کے حالات اُسے اِس مشن میں پیش آئیں گے اُس کا ڈگمگانا لازم ہے.”
ارتضٰی نے سلگتے لہجے میں کہتے اُنہیں جیسے باور کروانا چاہا تھا.
“میجر ارتضٰی سکندر جیسے پچھلی بار میری کہی گئی بات پر ہارے تھے اِس دفعہ بھی ایسا ہی ہونے والا ہے کیونکہ تم نے ابھی کیپٹن ماہ روش سکندر کو سمجھا ہی نہیں ہے اُس کی طرف سے خود کو جس خول میں بند کردیا ہے تم نے میں جانتا ہوں جب یہ ٹوٹے گا تو سب سے زیادہ نقصان تمہارا ہی ہوگا مگر ابھی شاید تم میری کوئی بھی بات سمجھنا ہی نہیں چاہتے.”
جنرل یوسف نے چیلنجگ انداز میں کہتے اُسے کچھ بھی غلط کرنے سے باز رکھنا چاہا تھا.
مسلسل وائبریٹ ہوتے موبائل کی طرف متوجہ ہوتے جنرل یوسف نے کال اٹینڈ کی تھی.
” واٹ ماہ روش کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے. ابھی کل ہی تو وہ مجھ سے مل کر گئی تب تو بلکل ٹھیک تھی وہ. اچانک ایسا کیا ہوگیا. اوکے آپ اُس کے ساتھ ہی رہیں میں تھوڑی دیر تک پہنچتا ہوں وہاں. “
دوسری جانب سے سنائی گئی خبر پر پریشانی سے ہدایت دیتے وہ فوراً اپنی سیٹ سے اُٹھے تھے.
“کیا ہوا ہے اُسے. وہ اب ٹھیک تو ہے ؟”
ماہ روش کی تکلیف کا سنتے ارتضٰی بے قراری سے اُن کے سامنے آیا تھا.
“کیا ہوا میجر صاحب کچھ دیر پہلے تو اُسے مارنے کی باتیں کر رہے تھے اب یہ فکر کیسی. آپ کے لیے تو خوشی
کی خبر ہونی چاہئے.”
جنرل یوسف نے اُس کی فکرمندی پر چوٹ کی تھی
“ایسی کوئی بات نہیں ہے. جو بھی ہے مگر اب وہ میری ٹیم کا حصہ ہے. صرف اِسی لیے پوچھ رہا تھا. “
ارتضٰی نگاہوں کا زاویہ پھیرتے بے تاثر لہجے میں بولا.
کشادہ پیشانی پر سلوٹیں واضح تھیں. اپنا اِس طرح عیاں ہونا اُس کو مزید غصہ دلا گیا تھا.
“ڈونٹ وری آپ کی ٹیم آپ کو ایک ویک تک کمپلیٹ مل جائے گی اگر ماہ روش کی کنڈیشن ٹھیک نہ ہوسکی تو اُن کی جگہ میں کسی اور آفیسر کو رپلیس کر دوں گا.
جنرل یوسف اُسے ماہ روش کے بارے میں کچھ بھی بتائے بغیر وہاں سے نکل گئے تھے.
گاڑی ڈرائیو کرتے ارتضٰی کی نظروں کے سامنے بار بار ماہ روش کی روئی روئی گلابی آنکھیں اور بھیگا چہرا آرہا تھا. جو اُسے مزید بے چین کررہا تھا.
اُس کی کمزوری صرف اُس کی فیملی تھی اُن کے علاوہ کوئی نہیں ماہ روش کی جگہ تو اُس نے لائف میں کہیں بھی نہیں رکھی تھی پھر کیوں اُس کی تکلیف پر ایسا حال ہوجاتا تھا. اُس کے لیے اپنے دل میں موجود جذبات کو تو وہ کب سے کھرچ چکا تھا. پھر بھی ہر بار دل کیوں اُس کی وجہ سے تڑپ اُٹھتا تھا.
ارتضٰی نے اپنے آپ سے اُلجھتے گاڑی کو سائیڈ پر روک دیا تھا. پیشانی مسلتے اپنی اندر کی جلن کم کرنی چاہئے تھی. وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا مگر بار بار ایک ہی سوال ذہن میں آرہا تھا کہ ماہ روش نے کس بات کی اتنی ٹینشن لی ہوگی جو اُس کی طبیعت اتنی خراب ہوگئی وہ تو اپنی فیملی کے ساتھ خوش ہے نا.
ماہ روش کی حالت کو اگنور کرنے پر اُس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا. جیسے اُس کی ایک ایک دھڑکن ارتضٰی سکندر کی اِس بے اعتنائی پر احتجاج کر رہی ہو.
میں کیوں سوچ رہا ہوں اُس لڑکی کے بارے میں. نفرت کرتا ہوں میں اُس سے شدید نفرت. وہ اِس قابل نہیں ہے کہ اُسے سوچا بھی جائے. معصومیت اور بے چاری ہونے کا ناٹک کرکے وہ پوری دنیا کو بے وقوف بنا سکتی ہے لیکن مجھے نہیں.
ارتضٰی نے دل میں موجود ہر جذبے پر نفرت کے پہرے بٹھاتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“ماشاءﷲ بھئی آج تو بڑی رونق لگی ہوئی ہے گھر میں. “
جاذل ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے شاہانہ بیگم کے قریب بیٹھتے بولا.
جہاں پہلے سے ہی اُس کی دونوں بڑی بہنیں اپنے بچوں سمیت تشریف لائی ہوئی تھیں.
“ہم نے سوچا ہمارے اکلوتے بھائی جان سے تو زحمت ہوتی نہیں ہمارے گھروں کا ایک چکر ہی لگانے ہم لوگ ہی مل آئیں.
غزالہ نے ناراضگی ظاہر کرتے گہرا طنز کیا تھا.
“ٹھیک کہا آپی آپ نے. جاذل کے واپس آنے کا سن کر وہاں سب کتنے خوش تھے مگر جاذل نے ہمارے سسرال میں قدم رکھنا بھی پسند نہیں کیا.”
سمیرا نے بھی منہ پُھلایا.
غزالہ اور سمیرا کا سسرال ایک ہی تھا جہاں جانا جاذل کو دنیا کا سب سے مشکل کام لگتا تھا کیونکہ اُن دونوں کی نندیں ایسے اُس کے گرد منڈلاتی تھیں جیسے مکھیاں شہد کے گرد. اُن کا مقصد وہ اچھے سے جانتا تھا اِس لیے زیادہ سے زیادہ وہ جانے سے پرہیز ہی کرتا تھا.
“بس یہی ایک وجہ ہے کہ اُن کا اتنا پیار مجھ سے ہضم نہیں ہو پاتا. اور دوسرے دن تو آپ لوگ یہاں پہنچی ہوتی ہو اب میں وہاں جاکر کیا کروں. “
جاذل کا انداز چڑانے والا تھا اور وہ چڑھ بھی گئی تھیں.
“دیکھ رہی ہیں اماں اپنے لاڈلے بیٹے کی باتیں ابھی تو بیوی آئی ہی نہیں تو یہ حال ہے جب آئے گی تو پھر پتا نہیں کیا ہوگا. “
غزالہ شاہانہ بیگم کی طرف دیکھتی شکایتی لہجے میں بولی.
“بس یہی ایک بات اِسی وجہ سے میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا. “
جاذل کو تو جیسے موقع مل گیا تھا انکار کرنے کا.
“نہ پُتر بہت ہوگیا. اب میں تیری ایک نہیں سنوں گی اگر کوئی لڑکی پسند ہے تو بتاؤ. نہیں میں تو ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی دیکھ کر بیٹھی ہوں یہاں. اِس بار تو تمہیں شادی کروائے بغیر نہیں جانے دوں گی.”
شاہانہ بیگم بھی جیسے بھری بیٹھی تھیں فوراً سے جاذل کی خبر لی تھی.
حمیرا بھی اپنے بھائی کی درگت بنتے دیکھ وہاں آبیٹھی. غزالہ اور سمیرا اب شوخی سے جاذل کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھیں.
“ماں اتنی جلدی بھی کیا ہے. آپ کو بتایا تو تھا ابھی پانچ چھے سال شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا. “
جاذل بے دلی سے بولا.
“ایک ہی اکلوتے پُتر ہو تم میرے. میں خوشیاں دیکھنا چاہتی ہوں تمہاری. اپنی نسلیں آگے بڑھتے دیکھنا چاہتی ہوں. اتنی زمین جائیداد ہونے کے باوجود تیری خواہش پر تمہیں نوکری کرنے کی اجازت دی . مگر تم مہینوں غائب رہتے ہو. تمہارے بیوی اور بچوں ہوئے تو اُن سے ہی دل بہلا لوں گی. “
شاہانہ بیگم اِس بار اُس کی کو بات بھی سننے کے موڈ میں نہیں لگ رہی تھیں.
جاذل نے بے چارگی سے اپنی بہنوں کی طرف دیکھا جو اب مزے سے انجوائے کر رہی تھیں.
“بلکل اماں ٹھیک کہہ رہی ہیں. اب تو خاندان والے تمہارا رشتہ پوچھنے گھر تک آنے لگے ہیں. کیونکہ ہمارے بھائی جیسا شاندار مرد خاندان میں تو کیا پورے گاؤں میں نہیں ہے. اور سبینہ خالہ بھی انگلینڈ سے کال کرکے پوچھ رہی تھیں تمہارا. وہ بھی اپنی بیٹی کے لیے تمہاری خواہش مند ہیں. “
سمیرا فخریہ لہجے میں گویا ہوئی.
جاذل نے خود کو چاروں طرف سے پھنستے ہوئے محسوس کیا تھا.
“اوکے ٹھیک ہے آپ کی بات مانوں گا مگر اپنا اِس دفعہ کا کام ختم کرنے کے بعد. “
جاذل اُن کے سامنے ہار مانتے بولا.
“ماں صدقے میں جانتی تھی میرا پُتر میری بات بلکل نہیں ٹالے گا. مگر ابھی تو دو سال بعد واپس آیا ہے. ایک مہینے کی چھٹی تو ملنی ہی چاہئے تھی. “
شاہانہ بیگم خوش ہونے کے ساتھ اُداس بھی ہوئی تھیں. مگر جانتی تھیں اُن کا بیٹا ملک کا محافظ ہے. وہ اُسے روکنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں.
“آپ فکر مت کریں میں ملنے آتا رہوں گا آپ سے اور آپ پیاری پیاری لڑکیاں دیکھیں میرے لیے.”
جاذل اُن سب کے پریشان چہرے دیکھ اُن کے پسندیدہ ٹاپک کی طرف موڑا تھا. جس میں وہ کامیاب بھی رہا تھا کیونکہ وہ سب پھر سے شروع ہوچکی تھیں.
ابراہیم صاحب کا شمار بہت بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا. اپنے آباؤ اجداد کی پیروی کرتے وہ گاؤں میں ہی اپنی آبائی عالی شان حویلی میں مقیم تھے.
اُن چار بچے تھے. غزالہ, سمیرا, جاذل اور سب سے چھوٹی حمیرا.
جاذل اکلوتا ہونے کی وجہ سے سب کی آنکھوں کا تارا تھا. بڑی دونوں بہنوں کی شادی ہوچکی تھی جبکہ حمیرا ابھی پڑھ رہی تھی. اِس لیے شاہانہ بیگم کو ہر وقت جاذل کی شادی کی فکر تھی جو کسی صورت شادی کرنے کو تیار ہی نہیں تھا.
جاذل کو شادی کسی جھنجھٹ سے کم نہیں لگتی تھی. کسی کا پابند ہوکر رہنا اُسے بلکل بھی پسند نہیں تھا. اِسی لیے وہ کسی سے کمٹ ہونا ہی نہیں چاہتا تھا. مگر اپنی ماں اور بہنوں کی اتنی محبت اور خواہش دیکھ یہ کڑوا گھونٹ پینے پر راضی ہوگیا تھا.
اُسے ارتضٰی اگلے مشن کے بارے میں آگاہ کر چکا تھا اِس لیے اُس نے شاہانہ بیگم سے وقت مانگا تھا. کیونکہ ابھی کچھ ٹائم تک وہ صرف اگلے مشن پر ہی مکمل توجہ مرکوز کرنا چاہتا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“سارے بزدل حرام خور پال رکھے ہیں میں نے. وہ ایک لڑکا تم سب کو پیٹ کر اُس لڑکی کو لے کر بھاگ گیا اور تم لوگ اب میرے سامنے کھڑے رو رہے ہو. “
غفور اپنے بندوں پر غصے سے دہاڑا تھا. جو ارحم سے اچھی خاصی مار کھانے کے بعد اب زخمی حالت میں اُس کے سامنے سر جھکائے کھڑے تھے.
“باس ہم نے بہت کوشش کی تھی مگر.”
اُن میں سے ایک ہولے سے منمنایا. جب اُسی وقت غفور کا سب سے خاص آدمی دلاور اندر داخل ہوا تھا.
“باس اُس لڑکے کا پتا چل گیا ہے اُس سے تو بہت پرانی رشتہ داری نکل آئی ہے ہماری.”
دلاور کی بات پر غفور چونکتے اُس کی طرف متوجہ ہوا.
“کیا مطلب ہے تمہارا. “
غفور نے باقی سب کو وہاں سے باہر جانے کا اشارہ کیا تھا.
“جنرل آصف کے اکلوتے چشم و چراغ کیپٹن ارحم آصف نے کی ہے ہمارے آدمیوں سے اُلجھنے کی کوشش. ابھی تو جنرل آصف سے بہت سارے حساب باقی تھے. جو اُس کا بیٹا بھی اُس کی لسٹ میں شامل ہوگیا. “
دلاور غفور کی طرف دیکھتا پُر اسرار مسکراہٹ بکھیرتے بولا.
“ہاہاہاہا زبردست کیا خبر سنائی ہے تم نے. اب مزا آئے گا. ہمارا شکار خود چل کر ہمارے پاس آیا ہے. “
غفور اُس کی بات سنتا خباثت سے ہنسنے لگا تھا.
“میرے لیے کیا حکم ہے اُس لڑکی کے ساتھ ساتھ اُس کے مہربان عاشق کو بھی اُڑا دیا جائے. “
دلاور کی بات سنتے غفور نے نفی میں سر ہلایا تھا
“نہیں ایسا کچھ نہیں کرنا. جنرل آصف نے میرے بھائی کو مجھ سے چھینا تھا نا. اب میں اُس کے بیٹے کا وہ حال کروں گا کہ جنرل آصف اپنے بیٹے کی بربادی پر تڑپنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے گا.”
لہجہ نفرت اور انتقام سے بھرپور تھا.
“کیا مطلب باس میں سمجھا نہیں. “
“یہ لڑکی اب کرے گی ہمارا کام. “
غفور دلاور سے ریحاب کی تصویر پکڑتا غیر معمولی انداز میں بولا
“باس یہ لڑکی بھلا ہمارے لیے کیا کرسکتی ہے. “
دلاور نے اُس کے تاثرات پر غور کرتے اُس کے ارادے سمجھنے کی کوشش کی تھی.
“میں اُس جنرل آصف کے بیٹے کو اتنی آسان موت بلکل نہیں دوں گا. اُسے تڑپا تڑپا کر ماروں گا اور اُس میں ہمارا ساتھ دے گی یہ لڑکی. کافی خوبصورت اور معصوم لگ رہی ہے وہ جتنا بھی ہوشیار ہو بغیر کسی قسم کے شک میں پڑے جلد ہی اِس کے جال میں پھنس جائے گا. “
غفور کی آنکھوں میں شیطانیت چمک رہی تھی. بہت وقت بعد کوئی ایسا موقع ہاتھ آیا تھا جسے وہ ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا.
“واہ باس کیا زبردست پلان ہے اُس لڑکی کو اُٹھا لاؤں پھر
تاکہ اُسے اپنے رنگ میں ڈھال سکیں. “
دلاور کا دل ریحاب کا حُسن دیکھ اچھا خاصہ بے ایمان ہوچکا تھا.
“نہیں ایسا کچھ نہیں کرنا ضرور اُس ارحم نے اُس لڑکی کے گرد اپنے آدمی چھوڑ رکھے ہوں گے اور ہم اُسے کسی صورت اِس لڑکی کے حوالے سے مشکوک نہیں کرسکتے. اگلے ایک گھنٹے میں اِس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا چاہئے مجھے. پھر بتاتا ہوں آگے کیا کرنا ہے. “
غفور کے سختی سے منع کرنے پر وہ بے دلی سے اثبات میں سر ہلاتے باہر نکل گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“اُف میرے خدا یہ رونگ نمبر اب سونے بھی نہیں دے رہے. ابھی سبق سیکھاتی ہوں اِسے میں. “
ریحاب نے غصے سے پھر سے موبائل کی رنگ ٹون بجنے پر غصے سے کال اٹینڈ کی تھی.
“مسئلہ کیا ہے بھئی تمہارے ساتھ. شرم نہیں آتی آدھی رات کو شریف لڑکیوں کو فون کرکے تنگ کرتے ہوئے.”
ریحاب آگے سے کسی کو بولنے کا موقع دیے بغیر شروع ہوچکی تھی.
جب اُس کو بلکل پہلے والے موڈ میں بولتے دیکھ ارحم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی. اور گھڑی پر نظر دوڑائی جہاں ابھی صرف آٹھ بجے تھے.
وہ ایک بہت ضروری کام میں بزی تھا اور جیسے ہی فارغ ہوا ریحاب کا خیال آتے ہی فوراً اُسے کال ملائی.
“آئم سوری اگر میری وجہ سے آپ ڈسٹرب ہوئی تو میں نے تو صرف آپ کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا تھا. مگر آپ کی آواز نے سب بتا دیا ہے. سو گڈ نائٹ.
ارحم نے تفصیلی جواب دیتے اُس کی کچھ بھی بات سنے بغیر فون بند کردیا تھا.
“حد ہوگئی مجھے کیا پتا تھا آگے سے یہ ہوگا. ایک تو اِس بندے کا اٹیچیوڈ ہی ختم نہیں ہوتا. “
ریحاب نے اُس کے اِس طرح کال کاٹنے پر دانت پیسے جب ایک بار پھر فون بجا تھا.
“دوبارہ کال کرنی تھی تو اتنا نخرہ دیکھانے کی کیا ضرورت تھی. “
دوبارہ کال آتے دیکھ ریحاب نے سوچا
“جی فرمائیں مسٹر ارحم آصف اب پھر کیا ہوا. “
ریحاب کے بولتے ہی آگے سے ایک زور دار قہقہ اُبھرا تھا.
“کون.؟”
ریحاب نے حیران ہوئی.
“یہ بھی پتا چل جائے گا مس ریحاب علی.”
ریحاب ٹھٹھکی.
“میرا نام کیسے جانتے ہو اور کیوں کال کی مجھے. اگر اب جواب نہیں دیا تو میں نے کال کاٹ دینی ہے. “
ریحاب اب قدرے سخت لہجے میں بولی.
” نہ نہ ایسی حرکت مت کرنا نقصان اُٹھاؤ گی. ویسے تمہیں فون کرنے کی ایک وجہ یہ بتانا بھی تھا کہ تمہارا بھائی انیس اپنے کالج ٹرپ کے ساتھ سوات پہنچ چکا ہے. “
ریحاب کو اُس کی باتوں اور انداز سے اب گھبراہٹ محسوس ہونے لگی تھی.
“کیا مطلب ہے تمہارا میرے بھائی کو کیسے جانتے ہو تم.”
اُس کے منہ سے انیس کا نام سنتے ریحاب نے غصے سے پوچھا
“لگتا ہے آپ کو تو تمہیں سے زیادہ بھی سب کچھ جاننے کی جلدی ہے. چلو تمہاری مشکل آسان کر ہی دیتا ہوں. کل جو کچھ ہوا اچھے سے یاد تو ہوگا ہی سہی.”
اُس کی سرسراتی آواز پر ریحاب کے موبائل تھامے ہاتھ کانپے تھے.
“میرے آدمیوں کا تمہارے اُس عاشق نے جو حال کیا ہے. تمہیں کیا لگتا تمہیں چھوڑ دوں گا میں. تمہیں اِس کی سزا تو ضرور ملے گی. زرا کھڑکی سے پردہ ہٹا کر دیکھو.”
اُس کی دھمکی آمیز انداز پر ریحاب مرے مرے قدم اُٹھاتی کھڑکی کی طرف بڑھی تھی. جب ہاسٹل کے باہر ایک آدمی ہاتھ میں بندوق اُٹھائے نظر آیا تھا جس کا رخ ریحاب کی طرف تھا. ریحاب گھبرا کر پردہ گراتی پیچھے ہٹی تھی.
“دیکھو پلیز مجھے معاف کردو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی. میں نے وہ ویڈیو بھی ڈیلیٹ کردی ہے. “
ریحاب منت بھرے لہجے میں بولی اُس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے.
“ایک شرط پر میں تمہیں اور تمہارے بھائی کی جان بخش سکتا ہوں. مگر اگر کسی قسم کی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو اگلے دن ہی دروازے پر اپنے بھائی کی لاش پاؤ گی.”
غفور اُسے پوری طرح دھمکاتے ہوئے اپنی مطلب کی بات پر آیا.
“کیسی شرط. “
ریحاب
“ارحم آصف کے نزدیک ہونا ہوگا تمہیں. اُسے اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر اُس سے شادی رچانی ہوگی. اُس کے اتنے قریب ہونا پڑے گا کہ وہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات تمہیں بتائے. اپنے پیچھے پاگل کرنا ہوگا اُسے. مگر اِس طریقے سے کہ اُسے کوئی شک نہ ہو تم پر. وہ ایک آرمی آفیسر ہے اتنی جلدی کسی کے جال میں پھنسنے والا نہیں. مگر تمہاری معصومیت دیکھ چکا ہے آرام سے ہر بات پر یقین کرلے گا. مگر اگر ہمیں اوور سمارٹنس دیکھانے کی کوشش کی تم نے تو اپنی عزت اور زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کو بھی کھو دو گی. “
اُس کی باتیں سنتے ریحاب بلکل شاک ہوچکی تھی. وہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکی تھی اور اِس بارے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی.
وہ کسی صورت اِن غنڈوں کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا چاہتی تھی. مگر خود سے بھی زیادہ اُسے اپنے بھائی کی فکر تھی زندگی میں ایک یہی تو خالص رشتہ تھا اُس کے پاس. جسے کھونے کے بعد وہ خود بھی زندہ نہ رہ پاتی. وہ یہ بھی دیکھ چکی تھی کہ وہ لوگ کتنے خطرناک تھے. جو کہہ رہے تھے وہ کر بھی گزرنا تھا.
لیکن ارحم آصف کے احسان کے بدلے وہ اُسے اتنا بڑا دھوکہ کیسے دے سکتی تھی.
“کیا ہوا اتنی دیر لگا کر کیا سوچا جارہا ہے. حالانکہ میں نے تو زیادہ آپشن بھی نہیں دیئے آپ کو. “
غفور اُس کی اتنی لمبی خاموشی پر خباثت سے مسکرایا تھا.
“میں تمہاری یہ شرط ماننے کو تیار ہوں. لیکن تم میرے بھائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گے. “
ریحاب بہتے آنسوؤں کے دوران آنکھیں موندے اذیت سے بولی تھی. اِس کے علاوہ اُس کے پاس اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا.
“ویری گڈ کافی عقل مند لڑکی ہو تم. مجھے تم سے یہی امید تھی. کل سے اپنا کام شروع کر دو. اور مجھ سے کسی قسم کا رابطہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں. جب بھی کوئی بات کرنی ہوگی میں خود رابطہ کروں گا. اور ایک بار پھر یاد دلا رہا ہوں. تم میرے آدمیوں کی نظر میں ہو زرا سی بھی چالاکی پر بہت بڑا نقصان اُٹھاؤ گی.”
وارن کرتے وہ فون بند کرچکا تھا.
ریحاب نے روتے ہوئے اپنا سر دونوں ہاتھوں پر گرایا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارتضٰی کو جنرل یوسف نے مشن کی مکمل بریفنگ دے دی تھی. اور آج ارتضٰی نے اپنی ٹیم ممبرز کو اکٹھا کرکے اُن سے میٹنگ کرنی تھی. اور ہر ایک کو اُن کی ڈیوٹیز بتانی تھی.
اپنے دیئے ہوئے ٹائم کے مطابق ارتضٰی نے کانفرنس روم میں قدم رکھا تھا. اُسے اندر داخل ہوتا دیکھ وہاں موجود تمام نفوس اپنی سیٹ سے کھڑے ہوئے تھے.
ارتضٰی کے تعارف کے بعد میجر جاذل, کیپٹن زیمل, کیپٹن ارحم اور کیپٹن سوہا نے اپنا تعارف کروایا تھا. جب ارتضٰی کی نظریں ماہ روش کی خالی پڑی کرسی کی طرف اُٹھی تھیں. اتنے دنوں کی بے قراری کے بعد دل کو آج کہیں نہ کہیں اُمید تھی اُسے دیکھنے کی. مگر اُسے وہاں موجود نہ پاکر غصے کے ساتھ ساتھ اُس کی طبیعت خرابی کا سوچ کر دل مزید بےچین ہوا تھا.
“مے آئی کم اِن سر. “
جیسے ہی وہ سب کی طرف متوجہ ہوا. ماہ روش کی مترنم آواز پر جھٹکے ارتضٰی نے کرسی کا رُخ دروازے کی طرف موڑا تھا.

جاری ہے