Aaye Ishq Teri Khatir By Farwa Khalid Readelle50116 Episode 28 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28 Part 1
ارتضٰی ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تھا جب لان میں کہیں سے بیلا اُس کی طرف آتے ہمیشہ کی طرح اپنے سٹائل میں اُس کے قریب ہوئی تھی. ارتضٰی کو آج بیلا کا انداز پہلے سے بھی زیادہ بے باک لگا تھا. شاید اُسے بھی ارتضٰی کے اقرار کی خبر مل چکی تھی. اِس لیے وہ مکمل حق جمانے کی کوشش کرتے اُس کے قریب ہورہی تھی. جو کہ ارتضٰی کو بلکل پسند نہیں آرہا تھا.
ارتضٰی اُسے خود سے دور کرنے ہی والا تھا. جب اُس کی نظر ڈرائنگ روم میں بیٹھی ماہ روش پر پڑی تھی. جو ڈبڈبائی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی.
ناہید بیگم اُن دونوں کی ایک ایک حرکت نوٹ کررہی تھیں. ماں تھیں وہ ارتضٰی چاہے اُنہیں کبھی نہ بتاتا مگر وہ اُس کے دل کی حالت اچھے سے سمجھ رہی تھیں.
ماہ روش سے مزید وہاں بیٹھنا بہت مشکل ہورہا تھا. جب وہ کال آنے کا بہانا کرتی وہاں سے نکلی تھی. ارتضٰی سے کچھ فاصلے پر ہی تھی وہ جب فرش ہر گرے آئل پر توجہ نہ دیتے وہ وہاں پاؤں رکھ چکی تھی. لیکن اگلے ہی لمحے اُس کی چیخ ڈرائنگ روم میں گونجی تھی.
کیونکہ اُس کا پاؤں پھسلا تھا. اِس سے پہلے کے وہ بُری طرح زمین بوس ہوتی. ارتضٰی بیلا کو خود سے دور کرتا ماہ روش کی جانب بڑھا تھا. اور اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے گرنے سے بچانا چاہا تھا. مگر وہاں گرے آئل کی وجہ سے ارتضٰی کا پاؤں بھی پھسل گیا تھا اور وہ دونوں ایک ساتھ اُوپر نیچے فرش پر زمین بوس ہوئے تھے. ارتضٰی نے ماہ روش کو اپنے حصار میں لیتے چوٹ لگنے سے بچا لیا تھا.
سب لوگ حیرت سے منہ کھولے یہ منظر دیکھ رہے تھے. وہاں کوئی کم عقل ہی ایسا ہوگا جو ارتضٰی کے انداز میں موجود ماہ روش کے لیے تڑپ نہ دیکھ پایا ہو.
ناہید بیگم نے اُسی لمحے سیڑھیوں سے نیچے آتی زینب کو آنکھوں سے اپنا شک ٹھیک ہونے کا کہتے اُن دونوں کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا تھا.
جو ایک دوسرے میں کھوئے اردگرد موجود لوگوں کو فراموش کرچکے تھے. ارتضٰی نیچے جبکہ ماہ روش اُس کے اُوپر گری تھی. ماہ روش کا سر ارتضٰی سکندر کے چوڑے سینے پر دھرا تھا. ایک ہاتھ کندھے اور دوسرا اُس کے سینے پر رکھا تھا. جبکہ ارتضٰی کے دونوں ہاتھ ماہ روش کی نازک کمر کے گرد لپٹے ہوئے تھے.
” آپ دونوں ٹھیک ہو آپ لوگوں کو چوٹ تو نہیں لگی. اِن بچوں کا کوئی کام سیدھا نہیں ہے. “
نیہا ارتضٰی کے غصے کے ڈر سے جلدی سے اُن دونوں کے قریب آئی تھی. لیکن ارتضٰی سکندر تو اُس وقت شاید کسی اور دنیا میں ہی پہنچا ہوا تھا. ماہ روش کے قریب آنے سے اُس کے تڑپتے بے سکون دل کو قرار آجاتا تھا.اور اِس وقت تو وہ اُس کے بہت قریب تھی اتنا کہ وہ اُس کی دھڑکنے اپنے دل پر محسوس کرسکتا تھا.
نیہا کے کھنکھارنے پر پہلے ماہ روش نے ہوش میں آتے ارتضٰی کے اُوپر سے اٹھنا چاہا تھا مگر ارتضٰی کے آہنی بازوں کی گرفت کی وجہ سے وہ واپس اُس کے سینے پر آگری تھی. ماہ روش کا چہرا خفت اور شرمندگی سے سُرخ ہوا تھا. وہ سب کی نظریں خود پر محسوس کر سکتی تھی.
جب ارتضٰی نے اپنے بےقابو ہوتے جذبات کو کنٹرول کرتے اُسے اپنے حصار سے آزاد کیا تھا.
ماہ روش آزادی ملتے ہی وہاں بغیر کسی سے نظریں ملائے باہر کی طرف بڑھ گئی تھی.
ارتضٰی نے اُٹھتے سوالیہ نظروں سے سب کی طرف دیکھا جو اُسے عجیب نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھیں. ارتضٰی کے دیکھنے پر سب وہاں سے ہٹتے اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوچکی تھیں. بیلا بھی کچھ اُلجھی سی وہاں سے ہٹ گئی تھی لیکن ناہید بیگم اور زینب بیگم ارتضٰی کو خوشمگی انداز میں گھورنے مصروف تھیں.
” کیا ہوا آپ دونوں کو ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں مجھے.”
ارتضٰی کو اُن دونوں کے دیکھنے کا انداز کسی اور طرف اشارہ کررہا تھا. لیکن اُن دونوں کے نفی میں سر ہلانے پر وہ چینج کرنے کی غرض سے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا.
” بھابھی آپ ٹھیک کہہ رہی تھیں. ارتضٰی ماہ روش کے لیے ضرور کچھ محسوس کرتا ہے یہ صرف نام کی وجہ سے نہیں ہے. ماہ روش کو دیکھ کر ارتضٰی کی آنکھوں میں جو چمک آتی ہے. وہ کوئی عام بات نہیں ہے. “
زینب کو بھی ناہید بیگم کی بات پر یقین آگیا تھا آج اُن دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر. مگر ناہید بیگم نے ابھی تک زینب کو ماہ روش کے فادر کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارتضٰی نے آج پورے ایک سال کے بعد اپنے بابا کے آفس میں قدم رکھا تھا. کیونکہ آج اُن کی برسی تھی. وہ ہر سال اسی دن اُن کے آفس میں آتا تھا اور ذی ایس کے کو اُس کے انجام تک پہنچانے کے عزم کو مزید پختہ کرتے اُن سے کیے گئے عہد کو تازہ کرتا تھا.
اور ساتھ ہی ذوالفقار کے لیے دل میں موجود انتقام اور نفرت میں بھی مزید اضافہ ہوتا تھا. ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی جنرل یوسف یہاں سے گئے تھے.
ارتضٰی آنکھیں موندے سکندر کی چیئر سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا جب اُس کا موبائل بجا تھا. موبائل کان سے لگاتے آگے سے جو خبر ملی تھی وہ ارتضٰی کے قہر کو آواز دے گئی تھی.
اُن کے ایک آفس پر حملہ کرکے تین اہلکار کو شہید کردیا گیا تھا. ارتضٰی کا دل چاہا تھا ابھی جاکر ذی ایس کے کو تباہ و برباد کردے. اُس کا وہ حال کرے کہ آئندہ کوئی بھی دشمن اِس پاک سر زمین کی طرف بُری نگاہ ڈالنے کی کوشش بھی نہ کرے مگر اِس وقت وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا.
ماہ روش کا کل سے رو رو کر بُرا حال تھا. یہ جانتے ہوئے بھی کہ ارتضٰی سکندر اُسے کبھی قبول نہیں کرے گا. دل پھر بھی اُس بے مہر ستمگر کے لیے پاگل ہورہا تھا. کیونکہ وہ میجر ارتضٰی سکندر سے صرف محبت ہی نہیں بلکہ عشق کی حد تک چاہنے لگی تھی. اُس کے ہر بات ٹھکرانے کے باوجود اُس کے جذبات میں کمی آنے کے بجائے مزید شدت آرہی تھی.
ماہ روش یہ جانتی تھی کہ ارتضٰی اور گھر کے تمام لوگوں کو اُس کے زندہ ہونے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا. لیکن وہ تو جانتی تھی نا. اِس لیے وہ جنرل یوسف سے بات کرکے ایک آخری کوشش کرنا چاہتی تھی.
ماہ روش کو بتایا گیا تھا کہ جنرل یوسف میجر سکندر کے آفس میں موجود ہیں اِس لیے ماہ روش پہلی بار اُس طرف آئی تھی. وہ آفس میں ہلکا سا ناک کرتے اندر داخل ہوئی تھی.
چیئر کا رُخ پیچھے کی طرف موڑے دیوار کی طرف کیا گیا تھا. اِس لیے ماہ روش اُن کا چہرا دیکھ نہیں پائی تھی. اور اِس وقت وہ جس کنڈیشن میں تھی اُس نے اتنا دھیان دینا ضروری نہیں سمجھا تھا.
” انکل مجھے آپ سے میجر ارتضٰی سے متعلق بہت ضروری بات کرنی ہے. “
اُس دشمنِ جاں کا نام لیتے ماہ روش کی آنکھوں میں نمی دوڑ گئی تھی.
” انکل آپ جانتے ہیں نا وہ میرے لیے کیا ہیں. میں اُن سے کتنا پیار کرتی ہوں. اُن کے بغیر نہیں رہ سکتی نہ اُنہیں کسی اور کا ہوتے دیکھ سکتی ہوں. پر مجھے پتا چلا ہے وہ شادی کررہے ہیں. پلیز انکل اُنہیں کسی طرح روک لیں پلیز. میں اُن سے بہت محبت کرتی ہوں. اُن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی. پلیز انکل اگر وہ کسی اور کے ہوگئے تو میں مر جاؤ گی.”
ماہ روش نے پہلی بار ارتضٰی کے متعلق کسی کے سامنے اِس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا. وہ بھی صرف اِس لیے کہ وہ کسی صورت ارتضٰی کو کھونا نہیں چاہتی تھی. اور اِس سب میں اُس کی ہیلپ صرف جنرل یوسف ہی کرسکتے تھے.
ماہ روش کو حیرانی ہوئی تھی کہ اُس کی اتنی پریشانی سننے کے باوجود جنرل یوسف نے اُس کی طرف ایک بار بھی دیکھا کیوں نہیں. اور نہ کسی بات کا جواب دیا. ماہ روش ابھی اِسی کشمکش تھی جب چیئر گھمائی گئی تھی. اور سامنے بیٹھے ارتضی سکندر کو دیکھ ماہ روش کے پسینے چھوٹ چکے تھے.
جاری ہے
