Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

جنرل آصف اور صائمہ بیگم کو معصوم سی ریحاب بہت پسند آئی تھی. ارحم اُن دونوں کو پہلے ہی سب سچائی بتا چکا تھا.
جنرل آصف کو تو ویسے بھی کوئی اعتراض نہیں تھا. اُنہیں اپنے بیٹے کے فیصلے پر فخر محسوس ہوا تھا. اور صائمہ بیگم بھی ایک پڑھی لکھی سُلجھی ہوئی خاتون تھیں. اُن کو جو تھوڑے بہت خدشات تھے وہ ریحاب سے مل کر اُسے دیکھ کر ختم ہوگئے تھے.
اُن کے پوچھنے پر ریحاب نے اُن دونوں سمیت ارحم کو بھی یہی بتایا تھا کہ اُس کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوگئی ہے اور اکلوتا ہونے کی وجہ سے اُس کا کوئی بہن بھائی نہیں ہے. وہ اِس دنیا میں بلکل اکیلی ہے. ریحاب کے مطابق یہ ایک عارضی رشتہ تھا جو بہت جلد ختم ہوجانا تھا. اِس لیے وہ گھر والوں میں سے کسی کو انوالو نہیں کرنا چاہتی تھی.
مگر ریحاب یہ بات بھول گئی تھی کہ اُس کا پالا کیپٹن ارحم سے پڑا ہے. جو اُس کی فیملی کی ایک ایک ڈی ٹیل کے ساتھ ساتھ اُس کے بلیک میل ہونے کے بارے میں ایک ایک بات جانتا تھا. اور ریحاب کو اُن خطرناک لوگوں کے چنگل سے نکالنے کے لیے یہ سب کررہا تھا.
یہ بات تو ارحم کو بھی اب آہستہ آہستہ سمجھ آرہی تھی. کہ ریحاب کو تو وہ ہر حال میں اُن کے چنگل سے نکال لے گا مگر شاید خود ساری زندگی ریحاب کی محبت کی قید سے کبھی نہ نکل پائے گا. وہ ریحاب کی معصومانہ اور کچھ کچھ بے وقوفانہ حرکتوں کا بُری طرح عادی ہوچکا تھا.
ریحاب کے فون کالز کی ریکارڈنگ کی جارہی تھی. جس کی وجہ سے اُن غنڈوں کی ریحاب سے کی جانے والی ہر بات اور دھمکی سے ارحم باخبر تھا. انیس کی سیفٹی کا بھی ارحم بندوبست کرچکا تھا. ارحم کے بھیجے گئے لوگ غنڈوں کی نظر میں آئے بغیر انیس کی حفاظت کر رہے تھے. ارحم چاہتا تو آرام سے ریحاب کو بلیک میل کرنے والوں کو پکڑسکتا تھا. مگر اُس کا مقصد صرف اُن تک پہنچنا نہیں بلکہ اُن کی پشت پناہی کرنے والے مافیہ کو پکڑنا تھا. تاکہ اُن کو جڑ سے ختم کرسکے. جس کی وجہ سے ابھی اُسے اُن غنڈوں کے ساتھ ساتھ ریحاب کے ساتھ بھی آنکھ مچولی کا یہ گیم جاری رکھنا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

“ماہی تم ٹھیک ہو. سر کو تمہارے ساتھ اتنا مس بی ہیو نہیں کرنا تھا. “
زیمل نے فکرمندی سے پوچھا.
اُسے ماہ روش کی بہت ٹینشن ہورہی تھی. اِس لیے گھر آتے ساتھ ہی فوراً ماہ روش کو کال ملائی تھی.
” میری فکر مت کرو میں ٹھیک ہوں. کون سا پہلی بار ہوا ایسا. اب تو نفرت سہنے کی عادت سی ہوچکی ہے. “
ماہ روش تلخی سے مسکرائی تھی. اُس دشمنِ جاں کے ذکر پر آنکھوں کے گوشے ایک بار پھر نم ہوئے تھے.
” ماہی پلیز ایسا مت بولو. مجھے پورا یقین ہے بہت جلد تمہاری ساری آزمائشیں ختم ہوجائیں گی. “
زیمل اپنی بہن جیسی دوست کی تکلیف پر دل سے دکھی ہوئی تھی. جو چھوٹی سی عمر سے ہی نجانے کتنے دکھ برداشت کر چکی تھی.
” مجھے تو لگتا ہے یہ ساری اذیتیں اب میرے ساتھ ہی ختم ہوگی. “
ماہ روش آج کے واقع کے بعد کچھ زیادہ ہی دل برداشتہ ہو چکی تھی. ارتضٰی سکندر کے نفرت کے چلائے گے تیر ابھی بھی اُس کو اپنے دل کے آڑ پار محسوس ہورہے تھے.
” ماہی میری جان کیوں ایسا سوچ رہی ہو. اور سر یوسف نے تم سے وعدہ کیا ہے ساری سچائی تمہیں بتائیں گے. کیا پتا سب سچ جان کر تمہاری ساری تکلیفیں دور ہوجائیں. اور ہاں وہ تمہیں تمہاری ماما کا بھی تو بتائیں گے نا. “
زیمل اُس کو تسلی دیتے بولی.
مگر ماہ روش کو محسوس ہو رہا تھا سچائی جان کر اُس کی اذیت کم نہیں بلکہ بڑھنے والی تھی.
” ﷲ کرے ایسا ہی ہو. اچھا چھوڑو اِن ساری باتوں کو. آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب. “
ماہ روش تکلیف دہ ٹاپک چینج کرتے بولی.
” ماما کی طبیعت تو اب بہتر ہے ماہی. مگر مسلسل ایک ہی بات کی ضد پکڑے وہ میری طبیعت بگاڑنے کے چکروں میں ہیں. “
زیمل اکتاہٹ بھرے انداز میں بولی.
” کیوں کیا ہوا.”
ماہ روش حیران ہوئی.
” وہ میری شادی کروانے کے لیے ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ چکی ہیں. اب تو اِس معاملے میں میری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہیں.”
زیمل کے انداز پر ماہ روش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی.
” تو مان کیوں نہیں لیتی اُن کی بات. شادی تو کرنی ہی ہے نا ایک دن. “
ماہ روش بیڈ کراؤن سے سر ٹکاتی بولی.
” مجھے نہیں کرنی یہ شادی وادی. ہزار جھنجھٹ ہوتے اِس کے. اور اِس شادی کی وجہ سے ماما کے ساتھ ساتھ اپنے پیشن اپنے پروفیشن سے بھی دور ہونا پڑے گا. جس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی. “
زیمل کافی پریشان تھی کیونکہ سلمہ بیگم کا اسرار دن بدن بڑھ رہا تھا.
” ہممہ اور اگر کوئی ایسا بندہ مل جائے تمہیں. جو اِن دونوں چیزوں سے تمہیں دور کیے بغیر تم سے شادی کر لے تو. “
ماہ روش کچھ سوچ کر مسکرائی.
” کوئی اتنا اچھا نہیں ہوسکتا جو اتنا کمپرومائز کرے. “
زیمل منہ بناتے بولی.
” ہو بھی سکتا ہے. اپنے اردگرد نگاہیں تو دوڑاؤ. “
ماہ روش کا اشارہ جاذل کی طرف تھا. اُس دن ارتضٰی کے آفس کے باہر جاذل اور زیمل کو اکٹھا دیکھ کر ماہ روش نے بعد میں بھی اُن دونوں کو جب بھی میٹنگ میں یا کہیں بھی اکٹھا دیکھا تو جاذل کی آنکھوں میں زیمل سے بات کرتے ایک الگ سی چمک محسوس کی تھی.
” ماہی کس کی بات کررہی ہو مجھے نہیں سمجھ آرہا. “
زیمل اُلجھی.
” میجر جاذل کی بات کررہی ہوں یار. جو اتنے اچھے سے بات کرتے مگر تم ہر وقت اُن سے چونچیں لڑانے کو تیار رہتی ہو. “
ماہ روش کی بات پر زیمل کی بھنوئے تن گئے تھے.
” ماہی تمہیں میرے لیے سوچنے کے لیے اُس بدتمیز میجر کے علاوہ کوئی اور نہیں ملا تھا کیا. “
زیمل کے دانت پیسنے پر ماہ روش مسکرائی.
” بدتمیز کہاں ہیں اتنے سُلجھا ہوئے ہیں. اتنی عزت سے بات کرتے. اب تم کرتی جو ایسے ہو اُن کے ساتھ. اب اُس بندے نے جواب تو دینا ہے نا. “
ماہ روش نے زیمل کو چھیڑا.
” اگر سُلجھے ہوئے انسان ایسے ہوتے ہیں تو میں بدتمیز ہی ٹھیک ہوں. “
زیمل نے چڑتے ہوئے جواب دیا.
” میں نے تو صرف ایک مشورہ دیا ہے. ایک بار سوچنا ضرور اِس بات پر. کیونکہ تمہارے ساتھ ایسا کول مائینڈڈ بندہ ہی گزارا کرسکتا ہے. “
ماہ روش نے فون بند کرتے ہوئے ایک بار پھر یاددہانی کروائی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

ارتضٰی شاور لے کر سیدھا جم خانے میں چلا گیا تھا. سینے میں بھڑکتی آگ کی وجہ سے نیند تو اُسے آنی نہیں تھی.
مسلسل کئی گھنٹے گزرنے کے بعد وہ اذانوں کے ٹائم کمرے میں داخل ہوا تھا. جیسے ہی اُس نے اندر قدم رکھا اُس کا فون بجنے لگا تھا.
انجان نمبر دیکھ ارتضٰی نے فوراً کال پک کی تھی. مگر آگے سے آتی آواز پر وہ فوراً الرٹ ہوا تھا.
الوینہ کی دی گئی اطلاع پر وہ اُس کا شکریہ ادا کرتے عجلت میں واش روم کی جانب بڑھا تھا. اور اگلے دس منٹ میں گاڑی میں بیٹھ کر آفس کی جانب جاتے اُس نے ٹیم کے تمام ممبرز کے فون پر میسج سینڈ کیا تھا.
ارتضٰی کے پہنچنے کے پندرہ منٹ بعد ہی وہ سب بھی اُس کے سامنے موجود تھے.
اُن کے وہاں انٹر ہونے کے ساتھ ہی ارتضٰی کے کہنے پر اُن کے موبائل فونز اور اُن کے پاس موجود ہر طرح کی ڈیوائس فل چیکنگ کے بعد ضبط کر لی گئی تھی. وہ لوگ یہ ہوتا دیکھ اتنا تو سمجھ گئے تھے. کہ معاملہ کافی حساس ہے.
مگر ارتضٰی نے یہ سب صرف سوہا کی وجہ سے کروایا تھا. تاکہ وہ کسی سے کوئی رابطہ نہ کرسکے.
” آج لاہور میں ہونے والے تمام بڑے سکولز کے سالانہ ایونٹ میں ذی ایس کے ایک بہت بڑا حملہ کروانے والا ہے. جس میں ہزاروں کے حساب میں جانی نقصان ہونے کا خطرہ ہے. جس بلڈنگ میں یہ ایونٹ منعقد ہونا ہے وہ پانچ منزلہ ہے. یہ بھی ہوسکتا خود کش حملہ آور حلیہ بدل کر وہاں داخل ہوں یا پھر پہلے سے ہی وہاں بارودی مواد نصب کر چکے ہوں. کچھ نہیں کہا جاسکتا. مگر ہم نے کسی بھی صورت اُن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانا ہے. “
ارتضٰی کی بات پر وہاں موجود تمام نفوس کے دل میں ذی ایس کے کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کا عزم مزید پختہ ہوچکا تھا. سوائے ایک انسان کے جو سکون سے وہاں براجمان تھی.
اپنے لوگوں کو اِن سب کے باخبر ہونے کا نہ بتاسکنے کا افسوس بھی تھا. مگر اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے وہ خود ہی انکو ناکام کرنے کے پلان بنا چکی تھی.
” اگر ہم سیکیورٹی کو ہی ہائی الرٹ کردیں تو اُن کو اندر داخل ہونے سے بھی روکا جاسکتا ہے. “
جاذل کی بات پر ارتضٰی نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
” سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے. مگر ایونٹ آج صبح 9 بجے سٹارٹ ہونا ہے.جس میں اب صرف تین گھنٹے رہ گئے ہیں. اِسی کی وجہ سے وہاں کل سے ہی لوگ بڑی تعداد میں پہنچ چکے ہیں. اب یہ بھی ممکن ہے کہ حملہ آور پہلے سے ہی اندر موجود ہوں. اِس لیے کسی قسم کی جلد بازی کرکے نقصان ہوسکتا ہے. وہاں اردگرد بہت ساری بلڈنگز بھی موجود ہیں اِس لیے تباہی کے چانسز زیادہ ہیں. ہماری زرا سی بھی لاپروائی بہت بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے. “
ارتضٰی کی بات سے سب ایگری ہوئے تھے.
” سر میرے خیال میں ہمیں اردگرد کی بلڈنگز خالی کروا دینی چاہیے اگر اچانک ایک ساتھ لوگوں کو باہر نکالا تو ہڑبڑاہٹ میں لوگ خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی کافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے. “
ماہ روش نے کچھ سوچتے ہوئے ایک تجویز پیش کی تھی.
” لیکن اِس طرح تو حملہ آور الرٹ بھی ہوسکتا ہیں نا. اور ٹائم سے پہلے ہی اگر اُس نے بلاسٹ کردیا تو. “
اِس سے پہلے کے ارتضٰی ماہ روش کی بات کا جواب دیتا زیمل نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا.
” کیپٹن ماہ روش ٹھیک کہہ رہی ہیں بلڈنگز خالی کروانا ٹھیک رہے گا. اور ضروری نہیں بلڈنگز خالی کرانے کا مقصد ہم سیکیورٹی ریزن بتائیں. ہم دوسرے طریقے سے بھی خالی کروا سکتے ہیں. “
ارتضٰی نے آپس میں موجود ہر رنجش کو اِس وقت سائیڈ ہر رکھتے ماہ روش سے ایگری کیا تھا. کیونکہ اِس وقت اُن دونوں کا مقصد ہی اِس ملک کے محافظ بن کر بے قصور اور معصوم بچوں کی حفاظت کرنا تھا.
ارتضٰی بات ختم کرکے سب کو نکلنے کا اشارہ کرتے باہر کی طرف بڑھ گیا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

کچھ ہی دیر میں وہ سب مختلف گیٹ اپس میں اندر داخل ہوچکے تھے. ارتضٰی نے سوہا کو اپنے ساتھ ہی رکھا ہوا تھا. جس کی وجہ سے سوہا کو کچھ بھی کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا.
سب نے کانوں میں ائیر پیس لگا رکھے تھے جس سے وہ ایک دوسرے سے رابطے میں تھے. تین پورشن کی اچھی طرح چیکنگ کرنے کے بعد وہ اتنا کلیئر کرچکے تھے. کہ یہاں کوئی بارودی مواد نصب نہیں ہے. اب دو پورشن رہ گئے تھے جہاں رش اور لوگوں کی زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے اُنہیں کافی مشکل پیش آرہی تھی.
اُن سب کی نظریں ایکسرے مشین کی طرح ہر ایک شخص کا گہرائی سے جائزہ لے رہی تھیں. مگر ابھی تک اُن کی نگاہوں میں کوئی ایسا مشکوک شخص نہیں آیا تھا. کیونکہ ذی ایس کے نے بھی اپنے بندے کافی ٹرینڈ کرکے بھیجے تھے جن کا پکڑا جانا آسان نہیں تھا.
ارتضٰی مسلسل تمام پورشنز میں لگے کیمروں کی نگرانی کروا رہا تھا. اور تمام فوٹیج چیک کرنے کی ہدایت دے رہا تھا. تاکہ چھوٹی سے چھوٹی مشکوک حرکت کو پکڑا جاسکے.
” کیپٹن زیمل آپ کی دائیں طرف سے گزر کر ایک مشتبہ عورت لیڈیز واش روم کی طرف بڑھ رہی ہے. فوراً اُس کے پیچھے جائیں. “
جاذل کو کافی دیر سے ایک عورت کی حرکتیں تھوڑی مشکوک لگ رہی تھیں. وہ کتنے ہی چکر تمام پورشنز کے لگا چکی تھی. اور اب اُسے واش روم کی طرف بڑھتے دیکھ جاذل نے فوراً زیمل کو اُس کے پیچھے جانے کا آرڈر دیا تھا. آٹھ بج چکے تھے اور نو بجے رش بڑھنے کے ساتھ ساتھ چیف گیسٹ کے آتے ہی بم بلاسٹ ہونے کا خطرہ تھا.
زیمل معمول کے انداز میں چلتی اُس کے پیچھے بڑی تھی. اُس عورت نے عبایا پہن رکھا تھا اور بار بار ٹشو سے اپنا پسینہ صاف کرتی زیمل کو شک میں مبتلا کرگئی تھی.
واش روم میں داخل ہوکر اُس نے واش بیسن پر جھک کر پانی کے چھینٹے منہ پر مارے تھے. زیمل بھی اُس کے ساتھ والا نل کھول کر کھڑی ہوگئی تھی. مگر زیمل کو فیل ہوا تھا کہ شاید اُس کے پاس کھڑے ہونے کی وجہ سے وہ جو کام کرنے آئی تھی وہ نہیں کرپارہی تھی.
زیمل واش بیسن سے ہٹتے سائیڈ میں ترتیب سے بنائے گئے واش رومز کی طرف بڑھی تھی اور دوسرے واش روم میں داخل ہوئی جہاں سے اُس عورت کے سامنے شیشے سے اُس کی ہر حرکت دکھائی دے رہی تھی. زیمل نے دروازے کو ہلکا سا کھلا رکھا تا کہ آرام سے اُس عورت کو دیکھ سکے.
” کیپٹن زیمل ایوری تھنگ از آل رائٹ. “
کافی دیر کے انتظار کے بعد زیمل کی طرف سے کوئی رسپانس نہ ملنے پر جاذل نے پوچھا.
” یس.”
زیمل نے مختصر سا جواب دیا تھا. جب اُس کی نظر شیشے سے نظر آتے منظر پر پڑی اُس عورت نے اپنے عبائے کے اگلے بٹن کھول رکھے تھے. جس کے اندر تھوڑی سی جگہ سے بارودی مواد والی جیکٹ نظر آرہی تھی.
زیمل نے ایک سیکنڈز کی بھی دیر کیے اُس عورت کی طرف بڑھی زیمل کو اپنی طرف آتے دیکھ وہ بھی الرٹ ہوتے زیمل پر وار کرنے پلٹی تھی مگر زیمل کے ایک ہی وار سے اُس کا سر دیوار سے جاٹکرایا تھا. زخمی ہونے کے باوجود وہ زیمل کی طرف لپکی تھی. اور ساتھ ہی پکڑے جانے کے خوف سے ہاتھ میں پکڑے ریموٹ کا ایک بٹن پریس کردیا تھا. جو کہ اپنے ساتھیوں کو الرٹ کرنے کا اشارہ تھا.
زیمل اُس کو دوبارہ دبوچتے اُس کا سر پکڑ کر بیسن پر پٹخہ تھا. وہ عورت نیم بے ہوش سی ہوگئی تھی. زیمل ابھی جھکی ہوئی تھی جب دو مرد اور ایک عورت بھاگتے اندر داخل ہوئے تھے.
اُس عورت نے زیمل کو گردن سے جکڑ کر اپنی ساتھی کو آزاد کروایا تھا. زیمل کو شدید مزاحمت کرتے دیکھ اُن میں سے ایک آدمی آگے بڑھ کر ہاتھ میں خنجر لیے زیمل پر حملہ آور ہوا تھا. مگر اپنے تک پہنچنے سے پہلے ہی زیمل اُس کے پیٹ کے نیچے کک مارتے اُسے بلبلانے پر مجبور کرگئی تھی. زیمل کی گردن پر اُس کو جکڑے کھڑی عورت کا دباؤ بڑھ رہا تھا. مگر سانس لینے میں مشکل ہونے کے باوجود زیمل ڈٹ کر اُن سب کا مقابلہ کر رہی تھی.
اِس سے پہلے کے وہ سب مل کر زیمل پر حملہ آور ہوتے جاذل اندر داخل ہوا تھا. اور زیمل کی طرف بڑھتے اُن دونوں آدمیوں کو فلائنگ کک سے دور اُچھالا تھا. اور ایک ساتھ دونوں کو بُری طرح پیٹتے لہولہان کرگیا تھا.
زیمل بھی اُن دونوں کو جاذل کے قبضے میں دیکھ پیچھے کھڑی عورت کی طرف متوجہ ہوئی تھی. جو زیمل کو قابو کرتے اب بے حال ہوچکی تھی. زیمل نے اُس کے سینے پر کہنی ماری جس پر درد سے کراہتے اُس کی گرفت ڈھیلی ہوئی تھی. اُس عورت کے ایک ہاتھ میں بے ہوشی کا انجکشن تھا جو وہ زیمل کے کندھے پر کھونپنے والی تھی. مگر زیمل نے اُس کا بازو مڑوڑتے اُس کا وار اُسی پر ہی لوٹا دیا تھا. جس پر چند سیکنڈز میں ہی وہ بے ہوش ہوتے نیچے گرگئی تھی.
جاذل اُن دونوں مردوں کے ساتھ بُری طرح گتھم گتھا تھا. جب اُس کی نظر پاس سے باہر کی طرف بھاگتی اُس عورت کی طرف پڑی تھی. جاذل نے اُس کے بھاگنے کا مقصد سمجھ کر روکنے کے لیے اپنی ایک ٹانگ آگے کردی تھی. جس پر لڑکھڑا کر وہ عورت منہ کے بل نیچے جاگری تھی.
اس سے پہلے کے وہ اپنے ہاتھ جیکٹ کی طرف بڑھاتے بلاسٹ کرتی زیمل نے جلدی سے اُس پر جمپ کرتے اُس کے دونوں بازو پکڑ کر کمر کی طرف موڑ دیے تھے.
جاذل نے بھی اُن میں سے ایک آدمی کو جیکٹ پہنے دیکھ قابو کررکھا تھا.
جاذل کے انفارم کرتے ہی آرمی اور رینجرز اہلکار اندر داخل ہوئے تھے اور پورے احتیاط سے اُن سب کو وہاں سے نکالتے اُس ایریے سے بہت دور لے گئے تھے.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” کیپٹن ارحم جلدی سے ففتھ پورشن کے ہال نمبر 2 میں پہنچیں. “
ارتضٰی کے آرڈر پر ارحم جلدی سے لفٹ کی طرف بڑھا تھا. ارتضٰی کو سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرتے اہلکار سے وہاں کچھ افراد کی مشکوک حرکات کی اطلاع ملی تھی.
وہ خود اِس وقت فورتھ پورشن پر موجود تھا. یہاں سب سے زیادہ رش ہونے کی وجہ سے زیادہ ڈینجرس قرار دیا گیا تھا. کیونکہ ابھی اِس پورشن کو بارودی مواد سے بھی کلیئر قرار نہیں دیا جاسکا تھا اور ایک دو لوگ ارتضٰی کی نظروں میں بھی آچکے تھے. اِس لیے وہ یہاں سے کسی صورت نہیں ہٹنا چاہتا تھا.

جاری ہے