No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
” ابھی اور اِسی وقت اپنے شوہر کیپٹن ارحم کو کال کرکے یہاں بلاؤ. اور اُسے کہنا اکیلا آئے اگر اُس نے زرا سی بھی ہوشیاری کی تو اپنی بربادی کا ذمہ دار وہ خود ہوگا.”
غفور کی بات پر ریحاب کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا تھا. یہ تو وہ اچھے سے جان گئی تھی. کہ اِن لوگوں کی دشمنی اُس سے نہیں بلکہ ارحم سے تھی. اور اتنے لوگوں کے بیچ اُس کو اکیلے بلاکر وہ کسی صورت بھی ارحم کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی.
” جلدی کرو.”
غفور نے دوبارہ اپنے دیے گئے فون کی طرف اشارہ کیا تھا. کیونکہ ریحاب کا فون اُس سے پہلے ہی لے لیا گیا تھا.
جس پر ریحاب نے جان بوجھ کر ارحم کا نمبر ملانے کے بجائے اپنا ایک دوسرا نمبر ملا دیا تھا. جو کہ کب سے بند پڑا تھا.
اُن لوگوں کو ریحاب سے اِس ہوشیاری کی امید نہیں تھی. اِس لیے وہ بنا اِس طرف دھیان دیے خاموشی سے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے. فون سپیکر پر تھا.
اتنی بار ریحاب کے ٹرائے کرنے پر آگے سے کوئی رسپانس نہ ملنے پر وہ دونوں بھی اچھے خاصے اُکتا گئے تھے.
” نمبر یہی ہے نا. اگر ہمارے ساتھ چالاکی کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا تمہارے بھائی کا بہت بُرا حشر کریں گے ہم.”
غفور کی آنکھوں سے ریحاب کو بہت خوف محسوس ہورہا تھا.
” ارحم کا صرف یہی ایک نمبر ہے میرے پاس اور آپ لوگوں کے سامنے ہی تو کال کر رہی ہوں. پتا نہیں کیوں بند جارہا ہے. “
ریحاب کمزور سی آواز میں بولی.
” سر کیپٹن ارحم نہیں تو یہ لڑکی اُس کے ساتھیوں کو تو جانتی ہی ہوگی نا. اتنے ٹائم سے اُس سے رابطے میں ہے. اِس سے پہلے کے کیپٹن ارحم اِس کی غیر موجودگی نوٹ کرتے کوئی ایکشن لے. اُس کے کسی اور ساتھی کو اپنے قبضے میں کرنا ہوگا. کیونکہ ہمیں اِن کا ایک بندہ تو ہر حال میں چاہیئے. “
دلاور کی بات پر غفور نے اثبات میں سر ہلایا تھا.
” ارحم کے اور کس ساتھی کو جانتی ہو تم. جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرنا. کیونکہ کسی نہ کسی کو تو تم جانتی ہی ہو. جھوٹ بول کر تم اپنے لیے صرف مشکل پیدا کرو گی. “
غفور کا لہجہ اب سخت ہوا.
ریحاب کو سمجھ نہیں آرہی تھی. اب کیا کرے کیسے نکلے اِس مشکل سے. اپنی وجہ سے وہ کسی اور کی زندگی خطرے میں کیسے ڈال سکتی تھی.
ارحم کے فون پر بات کرتے اُسے پتا چلا تھا کہ جاذل گاؤں چلا گیا ہے. اور ارتضٰی سے تو اُسے ویسے ہی بہت ڈر لگتا تھا اُس کو یہاں بلانے کی غلطی تو وہ کسی صورت نہیں کرسکتی تھی. پیچھے بچتی تھیں ماہ روش اور زیمل ریحاب جانتی تھی وہ دونوں بہت بہادر تھیں آرام سے اِن کا مقابلہ کر سکتی تھیں.مگر اِس طرح دھوکے سے اُن کو جھوٹ بول کر یہاں بلانا اُسے بہت غلط لگ رہا تھا.
” کیا ہوا ریحاب میڈم کس مراقبے میں چلی گئی ہیں آپ.”
دلاور کی آواز پر ریحاب اپنی سوچوں سے باہر نکلی تھی.
” میں ارحم کی صرف ایک ساتھی کو جانتی ہوں. ماہ روش نام ہے اُس کا. “
ریحاب اپنی خود غرضی پر دل میں گلٹی محسوس کرتی خود سے بھی بہت شرمندہ تھی. مگر اِس وقت وہ اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتی تھی. ارحم اور انیس کو خطرے سے بچانے کے لیے اُس نے ماہ روش کو خطرے میں ڈال دیا تھا. مگر وہ جانتی تھی ماہ روش اُس کی مدد ضرور کرے گی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش کمرے میں بند اپنی بدنصیبی اور محرومیوں سے گزاری زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی. اُس کا دل چاہ رہا تھا ابھی ہی خود کو ختم کردے. ایسی زندگی کا کیا کرنا جس میں وہ اپنی ماں کے قریب نہیں جاسکتی تھی. جس میں ارتضٰی سکندر کا ساتھ نہیں تھا.
مگر باقی سب باتوں کی طرح اِس معاملے میں بھی وہ بے بس تھی.
اب تو اُس ستمگر کے لیے رو رو کراُس کے آنسو بھی ختم ہوچکے تھے.مگر ارتضٰی کی شدید نفرت دیکھ کر لگتا تھا. شاید وہ ماہ روش کے مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہونی تھی.
ماہ روش کی حالت اِس وقت بہت قابلے رحم لگ رہی تھی. وہ ارتضٰی کی نفرت پر اب بہت بُری طرح ٹوٹ اور بکھر چکی تھی. اُسے کسی بہت اپنے کی ضرورت تھی. مگر اُس کی بدقسمتی کہ اُس کے پاس تو ایسا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا. سوائے زیمل کے.
ماہ روش بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے نیچے بیٹھی ہوئی اپنی قسمت پر رو رہی تھی. جب اُس کا فون بجا تھا.
زیمل کا نام دیکھ ماہ روش نے فوراً کال ریسیو کی تھی. اِس وقت وہ اتنی بُری کنڈیشن میں تھی کہ اگر اپنا دکھ شیئر نا کرتی تو اُس کا دماغ پھٹ جانا تھا.
” ماہی کیا ہوا ہے تم رو کیوں رہی ہو. تم ٹھیک تو ہونا. “
زیمل ماہ روش کی آواز سنتی فکرمندی سے بولی.
جس کے جواب میں ماہ روش اپنا ضبط کھوتی پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی.
اور اپنی زندگی کی تمام تلخ حقیقتوں سے اُس کو آگاہ کرتی چلی گئی تھی. ارتضٰی کے لیے اپنی بے پناہ محبت اور اُس کا ہر بار بے دردی سے ٹھکرانا.
ساری حقیقت جان کر زیمل کا دل اپنی جان سے پیاری دوست کے دکھ پر درد سے پھٹ رہا تھا. جو اتنی سی عمر میں کتنے غم برداشت کر رہی تھی.
” زیمل کیا تمہیں بھی میری اصلیت جاننے کے بعد مجھ سے نفرت محسوس ہورہی ہے. کیا میں واقعی اتنی قابلے نفرت ہوں. “
ماہ روش نے کرب سے آنکھیں میچتے پوچھا تھا. اُس کے سامنے بار بار ارتضٰی کی نفرت سے بھرپور نگاہیں گھوم رہی تھیں.
” ماہی میری جان کیسی باتیں کر رہی ہو. پلیز خود کو اتنا ہلکان مت کرو.”
زیمل کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے سنبھالے ماہ روش کو.
” زیمل سر مجھ سے بہت نفرت کرتے ہیں. میں نہیں برداشت کرسکتی اُن کی نفرت. بہت بہت زیادہ چاہتی ہوں اُنہیں. وہ کیوں نہیں سمجھتے میں بے قصور ہوں. میرے بابا کے گناہوں کی سزا وہ مجھے کیوں دے رہے ہیں. “
ماہ روش آج خود کو بلکل بھی نہیں سنبھال پارہی تھی.
” سر ارتضٰی تم سے نفرت نہیں کرتے. صرف کچھ غلط فہمی کا شکار ہیں. مگر ماہی خود کو سنبھالو ایک دن سب ٹھیک ہوجائے گا. میں ابھی آفس میں ہوں تھوڑی دیر تک تمہارے پاس پہنچتی ہوں. “
زیمل جلدی جلدی اپنی جگہ سے اُٹھتے بولی. اِس وقت ماہ روش کو اُس کی بہت زیادہ ضرورت تھی.
زیمل سے بات کرنے کے بعد ماہ روش کال بند کر کے موبائل رکھنے ہی والی تھی. جب ایک بار پھر اُس کا فون بجا تھا. انجان نمبر دیکھ ماہ روش نے ایک دو بیل کے بعد کال اٹینڈ کر لی تھی. مگر آگے سے ریحاب کی گھبرائی روتی ہوئی آواز سن کر ماہ روش الرٹ ہوئی.
” ماہ روش مجھے آپ کی مدد کی بہت سخت ضرورت ہے. پلیز میری مدد کریں. “
ریحاب روتے ہوئے بولی.
” ریحاب ہوا کیا ہے. ارحم کہاں ہے اِس وقت. اور آپ کہاں ہو. “
ماہ روش فکرمندی سے بولی.
“میں نہیں جانتی ارحم کہاں ہے. مجھے کچھ لوگوں نے کڈنیپ کر لیا ہے. پلیز یہ مجھے مار دیں گے. ارحم میری کال اٹینڈ نہیں کررہے پلیز میری ہیلپ کریں. “
ریحاب ڈرے سہمے لہجے میں بولی.
” واٹ. تم فکر مت کرو. کچھ نہیں ہوگا تمہیں. تم پریشان مت ہو. کیا تمہیں کچھ آئیڈیا ہے وہ لوگ تمہیں کہاں لے کر گئے ہیں. “
ماہ روش فوراً گاڑی میں بیٹھتی گھر سے نکل آئی تھی. شام رات میں ڈھل رہی تھی. ہلکا ہلکا اندھیرا ہر طرف پھیل رہا تھا.
ریحاب نے اُن لوگوں کے بتائے گئے ہنٹس دیتے ماہ روش کو راستہ سمجھایا تھا.
ماہ روش نے ریحاب کو جلد ہی وہاں پہنچنے اور اُسے بچانے کی تسلیاں دیتے فون بند کردیا تھا. اور جلدی سے ارحم کا نمبر ڈائل کیا تھا.
اِس وقت وہ اپنی پریشانی بھول کر اپنی ڈیوٹی اپنے فرض اور اپنی دوستی کو نبھانے میں سرگرم ہوچکی تھی.
ارحم اُسے بتا چکا تھا کہ ریحاب کو بلیک میل کرنے والے کوئی عام لوگ نہیں تھے. بلکہ ایک بہت بڑا اور خطرناک گینگ تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ارحم اور ارتضٰی اِس وقت ایک بہت ہی اہم مشن پر تھے. ذی ایس کے نے باہر سے اپنے کچھ بہت اہم دوستوں کو بلوایا تھا. جن کی آج کی خفیہ میٹنگ میں اُن کے نئے عزائم بے نقاب ہونے تھے.
ارتضٰی کا پورا ارادہ تھا کہ اُن سے معلومات ملنے کے بعد وہ اُنہیں موقع ملتے ہی گرفتار کر لیں گے. وہ دونوں پچھلے آٹھ گھنٹوں سے یہاں موجود تھے.
وہ بہت ہی ہوشیاری کے ساتھ اندر داخل ہوئے تھے اور اب میٹنگ کے دوران اپنے خفیہ کیمروں اور ریکارڈز سے بہت ساری معلومات حاصل کر چکے تھے.
ارحم ارتضٰی کے قریب بلکل مختلف حلیے میں کھڑا تھا. اُن دونوں کو پہچاننا اور شناخت کر پانا کسی کے لیے ممکن نہیں تھا.
ابھی وہ خاموشی سے کھڑے تھے جب ارحم کا فون بجا تھا. ہلکی سی وائبریشن پر ارتضٰی نے اُسے ایک گھوری سے نوازا تھا.
ارحم نے بھی اِس وقت کال اٹینڈ کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا. مگر یکے بعد دیگر بار بار فون آنے پر ارحم کے ساتھ ساتھ ارتضٰی کو بھی حیرت ہوئی تھی. ارتضٰی کے کہنے پر ارحم نے یس کا بٹن پریس کیا تھا. جب اُس کے کانوں میں لگے ہینڈ سیٹ میں ماہ روش کی پریشان آواز گونجی تھی.
” ماہ روش کیا ہوا سب خیریت ہے. “
ماہ روش کے نام پر ارتضٰی بھی ارحم کی طرف متوجہ ہوا. ارحم کی آواز اتنی آہستہ تھی. کہ ماہ روش اور ارتضٰی ہی بمشکل سن پارہے تھے. وہاں وہ لوگ اُونچا بول کر کسی کو مشکوک نہیں کرسکتے تھے.
مگر ماہ روش کی سنائی جانے والی خبر پر ارحم کے بدلتے رنگ پر ارتضٰی بھی حیران ہوا.
ریحاب اُن درندوں کے قبضے میں تھی یہ بات ہی اُس کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی. ریحاب تو اُس کے گھر میں فل سیکیورٹی میں تھی. اور انیس بھی سیف تھا تو ریحاب باہر کیسے نکلی تھی.
ارحم صبح سے اِس کام میں اُلجھا ہوا ریحاب کی طرف سے مطمئن تھا. مگر وہ نہیں جانتا تھا. اتنا بھیانک سرپرائز اُس کا منتظر ہوگا.
” ارحم تم فکر مت کرو. میں جانتی ہوں تم اِس وقت جہاں ہو. وہاں سے کام ادھورا چھوڑ کر نکلنا بہت مشکل ہے تمہارے لئے. مگر تم پریشان مت ہو میں وعدہ کرتی ہوں تم سے ریحاب کو کچھ نہیں ہونے دوں گی. “
ارحم ابھی اُسے منع کرنے ہی والا تھا جب ماہ روش نے جلدی جلدی اُسے کچھ بھی بولنے کا موقع دیے بغیر اپنی بات ختم کی جب کال کٹ گئی تھی. کیونکہ ماہ روش کے موبائل کی بیٹری ڈیڈ ہوجانے کی وجہ سے فون بند ہوچکا تھا. ارحم کے بار بار ٹرائے کرنے پر فون بند ہی مل رہا تھا.
ارحم سمجھ چکا تھا ریحاب کو اُن لوگوں نے ٹریپ کیا ہے. ورنہ اُس کے گھر کے اندر تک جانا اُن لوگوں لیے ممکن نہیں تھا. ریحاب کی جان تو اب خطرے میں تھی ہی مگر اب جس طرح ماہ روش کو وہاں بلایا جا رہا تھا. یہ سب ماہ روش کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوسکتا تھا.
ارحم نے جیسے ہی ساری بات ارتضٰی کو بتائی. ریحاب کی بے وقوفی اور ماہ روش کے جذباتی پن پر غصے سے اُس کا دماغ گھوم گیا تھا.
ماہ روش کا خود کو خطرے کی طرف لے جانے پر ارتضٰی کا دل کسی انہونی کے خیال سے بے چین ہوا تھا.
” ارحم وہ بہت خطرناک لوگ ہیں. ماہ روش کو بلانا ضرور اُن کی کوئی سازش ہے. میں جانتا ہوں ماہ روش بہت ذہین اور بہادر ہے مگر وہ اِس وقت ریحاب کا اُن لوگوں کے ہاتھ میں کٹپتلی بنائے جانے کے بارے میں نہیں جانتی. اِس لیے ماہ روش کا اکیلا وہاں جانا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے. تم فوراً نکلو اُس کے پیچھے. میں یہاں سب سنبھال لوں گا.”
ارحم نے پہلی بار ارتضٰی کے منہ سے ماہ روش کے لیے تعریف سنی تھی. اور اُس کے لیے اتنا فکرمند دیکھا تھا. اگر ماہ روش ارتضٰی کو اپنے لیے اِس طرح پریشان ہوتے دیکھ لیتی تو ضرور اپنے حواس کھو دینے تھے.
” مگر سر آپ اتنے سارے لوگوں کا یہاں اکیلے مقابلہ کیسے کریں گے. یہاں پر بھی تو خطرہ ہے. “
ارحم دونوں طرف سے پریشان ہوا تھا. ایک طرف فرض تھا.تو دوسری طرف محبت اور بہنوں جیسی دوست تھی.
مگر ارتضٰی کو اِس وقت ماہ روش کی فکر ہورہی تھی. جس کی جان کو ریحاب سے بھی زیادہ خطرہ تھا.
اُس نے سختی سے ارحم کو وہاں سے جانے کا آرڈر دیا تھا. اُس کا اپنا دل چاہ رہا تھا کہ کسی بھی طرح اُڑ کر ماہ روش تک پہنچ جائے مگر اِس وقت اپنی ڈیوٹی اپنے ملک کی سلامتی کی خاطر وہ بے بس تھا.
اُس نے ارحم کو اپڈیٹ کرتے رہنے کی ہدایت کرتے وہاں سے بھیج دیا تھا. بار بار ماہ روش کا آنسوؤں سے بھیگا چہرا اُس کی آنکھوں کے سامنے آکر اُسے ڈسٹرب کررہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ روش نے ریحاب کی بتائی گئی لوکیشن سے کافی فاصلے پر گاڑی روک دی تھی. وہاں ہر طرف درخت تھے اور آگے کی طرف گھنا جنگل تھا.
ٹریننگ میں اُنہیں سب سے پہلے یہی بات سیکھائی گئی تھی کہ کسی پر بھی آنکھ بند کر کے بھروسہ نہ کیا جائے. اِس لیے وہ ریحاب کی بات پر پوری طرح سے یقین نہیں کرپائی تھی.
ریحاب کا بات کرنے کا انداز اور لوکیشن بتانا ماہ روش کو کسی حد تک شک میں مبتلا کر گیا تھا. اُسے اتنا تو یقین تھا کہ ریحاب اُس کے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتی. مگر اُن لوگوں کے ڈر سے وہ اُن کی باتوں میں آکر کچھ غلط بیانی کر بھی سکتی تھی. اِس لیے ماہ روش نے آگے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا تھا.
ماہ روش بتائی گئی ڈائریکشن میں سیدھ میں چلتی جارہی تھی. جب کافی آگے آکر اُسے ہر طرف لوہے کی باڑ لگی نظر آرہی تھی. جو درختوں کے ساتھ باندھ کر آگے جانے کا رستہ بند کیے ہوئے تھی.
دائیں سائیڈ پر تھوڑا سا آگے جانے پر ماہ روش کو ایک جگہ سے باڑ ہٹی ہوئی دکھائی دی تھی. جہاں سے شاید آگے جانے کا راستہ بنایا گیا تھا. ماہ روش نے قدم آگے بڑھایا ہی تھا. جب ایک خیال کے آتے محتاط ہوتے اُس نے پاؤں پیچھے کر لیا تھا.
اندھیرا کافی حد تک پھیل چکا تھا. مگر ابھی بھی ہلکی ہلکی روشنی موجود تھی. ماہ روش نے گہری نگاہوں سے اردگرد کا جائزہ لیا تھا. جب اچانک ایک درخت پر لگے کیمرے پر ماہ روش کی نظر پڑی تھی.
اُس کا شک ٹھیک نکلا تھا. اِس جگہ کو مانیٹر کیا جارہا تھا. کیونکہ اِن لوہے کی باڑز کو پار کرنا بہت مشکل تھا تو اندر داخل ہونے کے لیے یہ ہی راستہ استعمال کیا جانا تھا. جس پر اُنہوں نے کیمرہ لگا رکھا تھا. تاکہ جو بھی اندر داخل ہو. آسانی سے اُن لوگوں کی نظر میں آسکے.
ماہ روش وہاں سے پیچھے کی طرف ہٹتے تیزی سے دوسری جانب بڑھی تھی. ہر طرف باڑ لگی ہوئی تھیں. نا اُوپر سے پھلانگ کر جایا جاسکتا تھا اور نہ ہی نیچے سے. ماہ روش نے اپنا دماغ استعمال کرتے زمین کے تھوڑا سے ہی اُوپر لگی باڑ کے نیچے موجود مٹی کو دونوں ہاتھوں سے ہٹانا شروع کردیا تھا.
کافی دیر کی محنت کے بعد مٹی ہٹا کر گڑھا کافی گہرا کھود دیا تھا. جس کے اُوپر سے رینگتے وہ بآسانی اندر کی طرف کھسک گئی.
وہاں سے تیز قدموں سے اندر کی طرف کافی دور آکر اُسے ایک بوسیدہ مگر کافی بڑی عمارت نظر آئی تھی. جسے دیکھ ماہ روش اندازہ لگا سکتی تھی کہ ریحاب یہی موجود ہے.
ماہ روش درختوں کے اُوٹ میں ہوتے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی. جب اُسے اندر سے ہاتھ میں بندوق تھامے ایک شخص باہر کی طرف آتے اور اردگرد کا جائزہ لیتے نظر آیا تھا.
ماہ روش اُس کے قریب موجود درخت کی اُوٹ میں کوئی تھی. وہ جیسے ہی پلٹا ماہ روش نے پیچھے سے اُس پر جھپٹتے اُس کی گردن کو پکڑا تھا. اور اپنے بازو پر باندھی رسی کو اُس کی گردن پر لپیٹتے اُس کا گلا گھونٹ دیا تھا. کچھ دیر تڑپنے کے بعد ہوش سے بے گانہ ہوتے وہ شخص ایک طرف لڑھک گیا تھا.
ماہ روش کچھ دیر وہاں سائیڈ پر چھپی رہی تھی. جب کافی دیر بعد کوئی شخص باہر نہ آیا تو ماہ روش نے پہلے والے شخص کی زمین پر گری چادر کو اُٹھا کر اپنے گرد لپیٹا اور ﷲ کا نام لیتے اندر کی طرف قدم بڑھا دیے تھے.
اندر ہر طرف بلکل اندھیرا تھا. ماہ روش کو آگے بڑھنے میں بہت دشواری پیش آرہی تھی. ایک دفعہ اُس کا سر دیوار سے بُری طرح ٹکرایا تھا. درد کے ساتھ ساتھ ماہ روش کو پیشانی پر ہلکی سی نمی کا احساس ہوا تھا. مگر اِس وقت اُس کا فوکس صرف ریحاب کو ڈھونڈنا تھا.
ماہ روش کو دو کمروں سے بولنے اور قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں. جن کو سنتے وہ جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی.
اُوپر تقریباً سارے کمرے ہی کھلے تھے سوائے ایک کے جسے باہر سے لاک کیا گیا تھا. ماہ روش جلدی سے کوریڈور میں بنی کھڑکی سے باہر کی طرف کود گئی تھی. اور باہر لگے پائپس کی مدد سے ہال کی دیوار کے قریب پہنچتے اُس کی کھڑکی پر ہلکا سا دباؤ ڈالا تھا.
جس سے وہ فوراً کھلتی چلی گئی تھی. اور ایک ہی جمپ میں ماہ روش اگلے ہی لمحے ہال کے اندر تھی.
وہ ہال کافی بڑا تھا. جہاں بہت سارے لکڑی کے ڈبے رکھے گئے تھے.
ماہ روش جیسے ہی آگے بڑھی اُسے کسی کی ہچکیوں کی آواز سنائی دی تھی. آواز کا تعاقب کرتے وہ جیسے ہی اُس طرف آئی ایک طرف کونے میں ریحاب کو سکڑ سمٹ کر بیٹھے دیکھ ماہ روش نے ایک گہرا پرسکون سانس ہوا میں خارج کیا تھا. ریحاب کو سہی سلامت دیکھ وہ بہت خوش ہوئی تھی.
” ریحاب تم ٹھیک ہو. “
ماہ روش کی پکار پر ریحاب نے جیسے ہی سر اُٹھایا سامنے کھڑی ماہ روش کو دیکھ وہ ساکت ہوئی تھی. اُسے یقین نہیں آرہا تھا. ماہ روش اُس کے سامنے کھڑی ہے. وہ بھاگ کر ماہ روش کے گلے لگی تھی.
” ریحاب فکر مت کرو. میں اب تمہارے ساتھ ہوں کچھ نہیں ہونے دوں گی تمہیں. چلو میرے ساتھ. “
ماہ روش نے اُس کے آنسو صاف کرتے ہاتھ تھام کر ساتھ چلنے کو کہا.
ماہ روش نے ایک قدم چل کر ریحاب کی طرف دیکھا تھا. جو اُسی طرح اپنی جگہ پر کھڑی تھی.
” میں آپ کے ساتھ نہیں آسکتی. “
ریحاب کا لہجہ اچانک تبدیل ہوا تھا. ماہ روش نے ناسمجھی سے اُس کی طرف دیکھا.
جب اُسی لمحے ہال کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی. ماہ روش نے ریحاب کا ہاتھ کھینچتے اپنے ساتھ چلنے کو کہاں تھا کیونکہ وہ لوگ کسی بھی وقت اندر داخل ہوکر اُن تک پہنچ سکتے تھے. مگر ریحاب اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں تھی. بس خاموش نظروں سے ماہ روش کی طرف دیکھ رہی تھی.
” ریحاب کیا کررہی ہو. پاگل ہوگئی ہو کیا چلو یہاں سے. “
ماہ روش کو اب ریحاب پر غصہ آرہا تھا.
” ماہ روش چھوڑو میرا ہاتھ. “
ماہ روش نے جیسے ہی ریحاب کو اپنے ساتھ کھینچا. ریحاب زور سے چلائی تھی. اور اُسی لمحے غفور دلاور اپنے باقی آدمیوں کے ساتھ وہاں داخل ہوا تھا.
” واؤ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز کیپٹن ماہ روش. آپ تو ہماری سوچ سے بھی زیادہ بہادر نکلیں. “
غفور کی بات پر ماہ روش نے بے یقین نظروں سے ریحاب کی طرف دیکھا تھا. جو اِس وقت خود کو ماہ روش سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں سمجھ رہی تھی.
” کیا ہوا. اِس طرح کیا دیکھ رہی ہیں. اب ہر ایک کو اپنی جان بچانے کا حق حاصل ہے. آپ کے دوست کی وائف نے بھی یہی کیا.”
غفور نے بے ہنگم قہقہ لگایا تھا.
” سر یہ مال تو پہلے والے مال سے بھی زیادہ حسین ہے. “
ماہ روش کے بے پناہ حُسن کو دیکھ دلاور کی لال ٹپک رہی تھی. اُس کی بات پر غفور نے بھی گھٹیا نگاہوں سے ماہ روش کی طرف دیکھا تھا.
جو اِس وقت سچویشن سمجھنے کی کوشش کررہی تھی. ریحاب اُنہیں اُس کے بارے میں ساری انفارمیشن دے چکی تھی اور اُن کی بلیک میلنگ میں آ کر اُسے دھوکے سے یہاں بلایا تھا.
” بکواس بند کرو اپنی تم گھٹیا انسان. اور تم جیسے پالتو کتوں میں اتنی ہمت نہیں کے میرے قریب بھی آسکو. “
کس ٹائم سے اُن کی گھٹیا باتیں اور نظریں برداشت کرتی ماہ روش کا دماغ گھوما تھا.
” ہاہاہاہا کانفیڈنس اچھا ہوتا ہے. مگر آپ پر تو آور کانفیڈنس بھی بہت جچتا ہے کیپٹن صاحبہ. ویسے ایک نظر ہماری تعداد تو دیکھ لیں. آٹھ لوگوں سے آپ جیسی ایک نازک لڑکی کیسے مقابلہ کرے گی. “
غفور استہزایہ لہجے میں بولتا اُس کی طرف آیا تھا.
ماہ روش نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھ کر پیچھے کھڑے لوگوں کی طرف دیکھا تھا.
اور ایک مسکراتی نظر اُن سب پر ڈالتے اپنی پاکٹ سے پپر سپرے نکال کر سیدھا اُن کی آنکھوں میں چھڑکا اور حیران پریشان کھڑی ریحاب کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہال کی دوسری سمت بھاگی تھی. پیچھے سے ایک دو فائر ہوئے تھے. مگر ماہ روش ریحاب کو نیچے جھکنے کا کہتی وہاں رکھے بڑے بڑے ڈبوں کے پیچھے جا چھپی تھی.
” یہ تم ٹھیک نہیں کررہی. خود ہی باہر آجاؤ ورنہ انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی. “
غفور اپنی آنکھیں مسلتے غصے سے دھاڑا تھا.
ریحاب اِس سچویشن سے بُری طرح گھبرا گئی تھی.
وہ لوگ دس منٹ تک اُن دونوں کو ڈھونڈتے رہے تھے. مگر ماہ روش ریحاب کی سیفٹی کی خاطر اُسے لیے ایک طرف چھپی رہی تھی.
جب اچانک ہال میں انیس کے چلانے کی آواز گونجی تھی. ریحاب نے جلدی سے اُٹھنا چاہا تھا. مگر ماہ روش نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر نفی میں سر ہلاتے اُسے روکا تھا.
” ریحاب اگر اپنے بھائی کی زندگی چاہتی ہو تو فوراً باہر آجاؤ. “
ریحاب نے التجائی انداز میں ماہ روش کی طرف دیکھا تھا. جو اُسے سمجھانے کی کوشش کررہی تھی کہ یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں. انیس اِن کے پاس نہیں ہے.
مگر ریحاب کو انیس کی آواز اپنے کانوں میں گونجتے سن کر ماہ روش کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا.
ریحاب نے جیسے ہی ماہ روش کا دھیان دوسری ہوتے دیکھا. اُس کو دھکا دے کر اُس کے بازو کو دور جھٹکتے ریحاب نے ماہ روش کے ہاتھ سے گن چھین لی تھی.
اور جلدی سے کھڑے ہوکر ماہ روش پر ہی گن تان لی تھی.
ماہ روش سکتے کے عالم میں ریحاب کی طرف دیکھ رہی تھی. جو بھیگی آنکھوں سے انتہائی بے بسی کی حالت میں اُس پر گن تانے ہوئی تھی. ماہ روش اُس کی کنڈیشن سمجھ سکتی تھی. انیس ریحاب کا اکلوتا پیارا رشتہ تھا. جو اُس کے لیے سب کچھ تھا. وہ کیسے اُس کی چیخوں کی پکار پر آرام سے بیٹھ سکتی تھی.
اور یہی لمحہ تھا جب ارحم اور زیمل نے ہال میں قدم رکھا تھا. اور ریحاب کو ماہ روش پر گن تانے دیکھ وہ دونوں بے یقینی سے اپنی جگہ ساکت ہوئے تھے.
دلاور اور غفور اپنا تیر نشانے پر لگتے دیکھ ہنستے ہوئے ارحم اور زیمل کی آمد سے انجان اُن دونوں کی طرف بڑھے تھے. جب پیچھے سے زیمل اور ارحم نے اُن پر فائر کھول دیے تھے.
زیمل کو جیسے ہی ماہ روش اور ریحاب کا پتہ چلا تھا. وہ بھی ارحم کے ساتھ وہاں آگئی تھی. وہ ماہ روش کی ذہنی حالت سے واقف تھی. اِس لیے اُس کے لیے بہت زیادہ پریشان تھی.
اچانک حملہ ہوجانے کی وجہ سے وہ سب بوکھلا گئے تھے. اور جوابی فائرنگ شروع کر دی تھی. ماہ روش نے بھی ریحاب کو سائیڈ پر کرتے اُس کے ہاتھ سے گن کھینچتے اُن پر فائرنگ شروع کر دی تھی.
وہ لوگ اردگرد پڑی چیزوں کے پیچھے چھپ رہے تھے. اُن کے تین آدمی ہلاک ہوچکے تھے. جبکہ ارحم کا ارادہ غفور اور دلاور کو زندہ گرفتار کرنے کا تھا.
ماہ روش مسلسل فائر کررہی تھی. جب اچانک اُس کی نظر غفور پر پڑی تھی. جو ریحاب کے قریب پہنچ چکا تھا. اور اُس پر گولی چلانے والا تھا.
ماہ روش نے اُس کے بازو پر فائر کرنا چاہا تھا مگر
ماہ روش کی گن میں گولیاں ختم ہوچکی تھیں. لیکن ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر ماہ روش نے جلدی سے بھاگ کر آگے آتے ریحاب کو پیچھے کی طرف دھکیلا تھا.
جب سامنے والے کی بندوق سے نکلنے والی چاروں کی چاروں گولیاں ماہ روش کے وجود میں پیوست ہوئی تھیں.
اُس کو خون میں لت پت زمین پر گرتے دیکھ زیمل اُس شخص کو گولیوں سے چھلنی کرتی چلا کر ماہ روش کو پُکارتی اُس کی طرف بھاگی تھی.
دشمنوں سے مقابلہ کرتے ارحم نے نم آنکھوں سے ماہ روش کو گرتے دیکھا تھا. ماہ روش نے واقعی اُس سے کیا وعدہ پورا کردیا تھا. لیکن وہ ماہ روش کو بھی تو کسی صورت کھونا نہیں چاہتا تھا.
ہال کی طرف بھاگتے قدموں سے بڑھتے میجر ارتضٰی کو نجانے کیوں اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھیں. ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر اُس نے اندر قدم رکھا تھا. لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہوش سنبھالے زندگی میں پہلی بار اُس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا.
زیمل کی گود میں سر رکھے ٹوٹتی سانسوں کے ساتھ ماہ روش نے ہال کے دروازے پر ہی کھڑے ارتضٰی کی طرف تکلیف کے باوجود مسکراتی نظروں سے دیکھا تھا. اُس کی آنکھوں کے اندر کی اُداسی اور اذیت جیسے چیخ چیخ کر یہ کہہ رہی تھی کہ میجر ارتضٰی سکندر آج میں نے ثابت کر دیا میں غدار نہیں ہوں. آج تو یقین کرو گے نا میرا.
“ماہ روش آنکھیں کھولو پلیز.”
ماہ روش کو آنکھیں موندتے دیکھ زیمل روتے ہوئے بولی. لیکن ہمیشہ اُس کی ہر بات ماننے والی اُس کی جان سے عزیز دوست شاید اس دفعہ اُس سے بے وفائی کر گئی تھی.
ارتضٰی نفی میں سر ہلاتے دیوانوں کی طرح ماہ روش کی طرف بڑھا تھا. لیکن یہ منظر دیکھنے سے پہلے ہی ماہ روش غافل ہوچکی تھی.
جاری ہے
