Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 2)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
امی بہت زیادہ پریشان بیٹھی تھی مہمانوں کو گئے ہوئے ابھی تقریبا دو سے تین منٹ ہی ہوئے تھے لیکن ان کی شکلیں ہی بتا گئی تھی رانیہ ان لوگوں کو کچھ خاص پسند نہیں آئی ۔
امی مجھے نہیں لگتا کہ یہ لوگ رشتہ کریں گے دیکھو کیسے عجیب سے سوال پوچھ رہے تھے ہماری رانی سے ۔ ماریہ نے بات شروع کی ۔
ٹیبل پر کھانے پینے کی چیزیں بکھری ہوئی تھی اچھی خاصی مہنگی ترین دعوت کی گئی تھی تانیہ کو توخرچے کا سوچ سوچ کرہول اٹھ رہے تھے ۔
ارے پریشان مت ہو مجھے تو لگتا ہے یہ رشتہ ہوجائے گا اب میری رانی ہے ہی اتنی خوبصورت امی نے رانیہ کا میک اپ سے لدا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا ۔
جبکہ لڑکے کی بہن نے بڑی مہارت سے پوچھا تھا ارے رانیہ جی پارٹی میک اپ کرتے ہوئے تو تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں آپ نے یہ اتنا سارا کھانا کیسے بنایا ۔
جس پر امی نے کہا کہ ان کی بیٹی ہر فن مولا ہے ۔
ویسے امی ایک بات آپ نے نوٹ کی ان لوگوں نے صرف کھانے کی ہی تعریف کی وہ بھی اس منہوس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے کی ۔تانیہ نے ساری توجہ روح کی طرف دلوائیں ۔
ہاں امی بلائیں اسے یہ سارا سامان اٹھائے یہاں سے مجھے تو اس رشتے کوئی اچھی امید نہیں ہے ماریہ نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
اور گھر کی دیوار پہ جاکے کھڑی ہوئی
فاطمہ بی بی روح کو گھر بھیجیں لہجے میں دنیا بھر کی عزت اور محبت سموکر کہا کیونکہ دنیا کے سامنے وہ روح کی سوتیلی نہیں بلکہ سگی بہنیں تھیں
یہ بات الگ تھی کہ فاطمہ بی بی سے کچھ بھی چھپا ہوا نہ تھا
اسی لئے تو ماریا کی آواز سنتے ہی روح نے کاپتی آواز سے کہا آپی میں بس ابھی آئی اور دوڑتے ہوئے دروازے سے نکل کر اپنے گھر کے دروازے کے اندر آگئی
آگئی منہوس۔ اٹھائو یہ سب ۔رانیہ نے اپنے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اسٹائل سے پیچھے کرتے ہوئے اسے کہا
تو وہ تیزی سے آگے بڑھی اور سامان اٹھانے لگی
جب کہ وہ چاروں ٹانگ پہ ٹانگ رکھے وہی باہر صحن میں کرسیوں پر بیٹھی تھی
جب دروازہ بجا اور ایک خوبصورت سا نوجوان اندر داخل ہوا رانیہ فورا الرٹ ہوگئی ۔۔
جب کہ ماریہ اور تانیہ بھی کھڑی ہو کر اسے دیکھنے لگی سب سے پہلے امی سمبھلی
ارے واحد بیٹا کچھ بھول گئے تھے کیا آؤ نا امی نے خوشامدی انداز میں کہا
آنٹی دراصل میرا موبائل وہاں ٹیبل پر رہ گیا ہے واحد مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور میز سے اپنا فون اٹھانے لگا تب ہی روح کچن سے نکلی اور ٹیبل کی طرف آئی
وہ سامنے کھرے لڑکے کو دیکھے بغیر ہی ٹیبل سے سامان اٹھانے لگی ۔لیکن اس کا سارا دھیان روح پے دیکھ کے رانیہ کہ آنکھیں غصے سے سرخ ہونے لگی
اسے کیا مسئلہ تھا واحد کے سامنے باہر آنے کی ضرورت کیا تھی ۔
یہ ہمارے گھر میں کام کرتی ہے امی نے واحد کا دھیان روح کی طرف دیکھتے ہوئے روح کو ہاتھ سے کھینچ کر پیچھے کیا سخت نظروں سے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا روح فوراً ہی کچن میں جا کر چھپ گئی ۔
آنٹی آپ کے گھر میں کوئی نوکر کام کرتا ہے اس کا ذکر آپ نے پہلے نہیں کیا واحد کا دھیان ابھی بھی کچن کے دروازے کی طرف ہے جہاں روح ابھی غائب ہوئی تھی
ہاں بیٹا وہ دراصل اسی محلے سے ہی آتی ہے تھوڑا بہت کام کرتی ہے تو میری رانیہ اسے کچھ نہ کچھ دے دیتی ہے انہوں نے اس کا دھیان ایک بار پھر سے رانیہ کی طرح دلانے کی کوشش کی لیکن اس کی شکل کی بیزاری ہی بتا رہی تھی کہ اسے رانیہ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے
اسی محلے میں گھر ہے اس کا۔ ۔ ۔۔۔کہاں ۔۔۔۔؟واحد نے جیسے ان کی اگلی بات سنی ہی نہ تھی
جبکہ اندر بیٹھی روح کو ایک بار پھر سے اپنی شامت آتی ہوئی نظر آرہی تھی
اور پھر ویسا ہی ہوا تقریبا کچھ ہی دیر بعد باہر سب سے پہلے رانیہ کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنا شروع ہوئیں
میں نے کہا تھا نا امی یہ لڑکی میرا گھر نہیں بسنےدےگی دیکھا دیکھا آپ نے کیسے وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا اور اسی کے بارے میں پوچھ رہا تھا اور اس کے گھر کی انویسٹیگیشن کر رہا تھا
یہ لڑکی کبھی میرا گھر نہیں بسنے دے گی میں اسے جان سے مار ڈالوں گی جان بوجھ کر یہ واحد کے سامنے آئی ہے وہ تیزی سے کچن کی طرف کی اور روح کے کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر باہر لانے لگی ۔
جب کہ ایسا کرنے سے تانیہ اور ماریا کی آنکھیں چمک اٹھیں انہیں بھی تو ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل ہی گیا تھا ۔انہیں تو صبح سے ایک بار بھی ہاتھ اٹھانے کا موقع نہ ملا تھا
دیوار سے دیوارجڑی ہونے کی وجہ سے اسے چلانے کی اجازت نہ تھی نہ جانے کتنی دیر خاموشی سے ان چاروں کی مار کھاتی رہی ۔
کبھی کبھی دل چاہتا تھا کہ وہ بھاگ جائے اس دنیا سے یا خود کشی کر کے مر ہی جائے وہ اکثر اللہ سے پوچھتی تھی اگر اس کے ماں باپ مار ڈالے تو اسے زندہ کیوں زندہ رکھا محبت کے قابل لڑکی تو ہرگز نہ تھی اگر محبت کے قابل ہوتی تو کوئی تو اس سے محبت کرتا ۔
کوئی تو ہوتا جو اس کے زخموں پر مرہم لگاتا وہ ایک انچاہا وجود تھی اتنی مار کھانے کے باوجود اتنی ذلت کے باوجود اس اٹھ کر رات کا کھانا بنایا خود کھانے کی ہمت نہ تھی ۔
عشاء کی نماز ادا کرکے چٹائی پر لیٹ گئی
اگلے دن دوپہر گیارہ کے قریب وہ لوگ واپس آئے انہیں اتنی جلدی جواب کی امید نہ تھی اور نہ ہی رانی کل کے طرح آج تیار تھی بلکہ وہ تو ابھی ابھی اٹھی تھی
امی نے خوشامدی انداز میں انہیں بلایا لیکن اگلی بات پر ان کا چہرہ اُفق ہوگیا
وہ لڑکی جو آپ کے گھر میں کام کرتی ہے ذرا بتائیں اس کا گھر کہاں ہے وہ دراصل واحد نے جب سے اسے دیکھا ہے ہمیں ایک پل کو بھی چین نہیں لینے دیا
کچن میں کھڑی روح کی روح ایک بار پھر سے کانپ گئی بھی تو کل کے زخم ہرے تھے ۔
جب کہ کچھ ہی دیر میں باہر امی کی آواز آنے لگی وہ تمام لہٰذومروت بھولی ا نہیں سنانے میں مصروف تھی ۔
امی نے اونچی اونچی آواز میں کہا اگر اسے رانیہ پسند نہیں ہے تو روح بھی نہیں ملے گی کیونکہ وہ اسی گھر کی لڑکی ہے۔
اسی منہوس نے دورے ڈالے ہونگے اس پر پہلے تو میں اسے رفع دفع کرونگی اس گھر سے ۔امی نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا ۔
جبکہ ان لوگوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس گھر میں آ کر انہوں نے اس بچی کی جان مشکل میں ڈال دی ہے
اس عورت نے ایک نظر کچن کی کھڑکی سے جھانکتی معصوم سی اس لڑکی پر ڈالیں جو اپنی شامت کا انتظار کر رہی تھی
اور چلی گئی
امی اونچی اونچی آواز میں روح کو پکار رہی تھی وہ سست قدموں سے چلتی باہر نکلی ۔جہاں امی ہاتھ میں پائپ اٹھائے ۔۔ اسے پاس آنے کا اشارہ کر رہی تھی۔
سر وہ فائل میرے ہاتھ لگ چکی ہے جس پر ان سب لوگوں کے نام لکھے ہیں جن کے پاس وہ ویڈیو تھی ۔
اس کے علاوہ میں نے وہ ویڈیو ریموو کردی ہے
اور میں کچھ ہی دنوں میں دبئی پہنچ آؤں گی
ڈان کے ساتھ کام کرنا تو میرا خواب ہے ڈان کے ساتھ کام کر کے ہی میں اپنے بابا کا بدلہ لونگی مجھے پتا ہے کہ وہ بابا کا بدلہ لینے میں میری مدد ضرور کریں گے معصومہ نے انفارمیشن دیتے ہوئے کال بند کر دی ۔
خضر نے یہ بات آکر ڈان کو بتائی
ڈان پہلے ہی اپنی ٹیم میں ایک لڑکی کو رکھ کر پچھتا رہا تھا اب دوسری لڑکی کو اپنے ساتھ رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
اس لیے اس نے خضر کو کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے لڑکی کے سامنے اس کے باپ کے قاتل کو ختم کیا جائے تاکہ وہ لڑکی اپنی زندگی میں آگے بڑھے
جب کہ کسی اور لڑکی کا نہ سن کر ڈان کے قریب صوفے پر بیٹھی اسٹائلش لیلیٰ کے لب مسکرا اٹھے
مجھے پتا ہے اس دنیا میں کوئی بھی لڑکی میری جگہ نہیں لے سکتی اس نے قدرے ہلکی آواز میں خضر سے کہا کیونکہ ڈان کے سامنے اس طرح کی کوئی بھی بات کرنا آلاوڈ نہیں تھا
کچھ دیر بعد لیلیٰ بھی چلی گئی
تم لیلیٰ کے بارے میں کیا سوچتے ہو خضر نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
ؐلیلیٰ کے بارے میں کیا سوچتا ہوں وہ ایک لڑکی ہے میری ٹیم میں کام کرتی ہے اگر اچھی ورکر نہ ہوتی تو شاید میں اسے اپنے ساتھ نہیں رکھتا
لیلیٰ ایک بہت اچھی ہیکر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوبصورت بھی تھی۔
لیلیٰ تمہیں پسند کرتی ہے وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے خضرنے اس کا دھیان لیلیٰ پر لے جانے کی ناکام سی کوشش کی
تو ڈان نے اس چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تم شادی کرلو گھربساو وہ تمہارا کام بھی سمجھتی ہے لیلیٰ کے ساتھ اچھی گزرے گی
خضر تم میرے بچپن کے دوست ہو بچپن کا ساتھ ہے ہمارا میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں نہیں مارنا چاہتا اسی لیے کسی دن ٹائم نکال کے زیادہ نہیں بس آدھا گھنٹہ تم خود کشی کر لو کیونکہ مجھے تمہیں اپنے ہاتھوں سے مارتے ہوئے بالکل اچھا نہیں لگے گا ۔
وہ سفاک انداز میں بولا ۔
وہ محبت کرتی ہے تم سے صرف تمہارے لئے ہے وہ یہاں پر تمہیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے وہ تمہارے ساتھ وفادار ہے ۔
خضر نے ایک اور ناکام کوشش کی لیکن اس بار ڈیول کی گھوری نے اس کا منہ بند کر دیا
میں انڈرورلڈ کاڈان ہوں خضر عشق سے حسین ہے میری دنیا
وہ کہہ کر جانے لگا
اور اگر تمہیں عشق ہو گیا تو ۔۔۔؟خضر نے جیسے آج ہار نہ ماننے کی ٹھان رکھی تھی
اس دنیا میں وہ لڑکی ہی نہیں بنی جس کے عشق میں یارم کاظمی گرفتار ہو جائے
وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا وہاں سے نکل گیا
ہر انسان کا جوڑ بنا ہے اس دنیا میں تمہیں بھی کوئی نہ کوئی ضرور ملے گی پھر پوچھوں گا تم سے عشق حسین ہے یا تمہاری دنیا
۔میں نے تو اس وقت ہی کہا تھا اس لڑکی کو گھر سے نکال دو جب اس کا باپ مرا تھا تب تو تم نے میری بات سنی نہیں اس وقت تمہیں فری کی نوکرانی چاہیے تھی
ابھی تو کچھ نہیں اس کی خوبصورتی تیری ساری بچیوں کی زندگی برباد نہ کر گئی تو نام بدل دینا
اقصی خالہ جو کہ امی کی بچپن کی سہیلی تھی ان کے گھر میں آئی تھی
تومیں کیا کروں تم ہی بتاو یہ لڑکی میری بچیوں کی زندگی برباد کر دے گی دوسری بار رانیہ کا رشتہ ٹوٹا ہے 29 سال کی ہوگئی ہے وہ لیکن ابھی تک کنواری بیٹھی ہے
ہائے یہ منہوس تیری بیٹیوں کا نصیب کھا جائے گی
اقصی خالا نے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کہا
اپنی بیٹیوں کو بٹھا ایک طرف اور جلدی سے اس کے ہاتھ پیلے کرکے اس کو رفع دفع کر تا کہ تیری بیٹیوں کے اچھے رشتے آئے خالہ نے کہا
ارے کہاں سے کرو شادی میرے پاس اسکیلئے پھوٹی کوڑی نہیں ہے بڑی مشکل سے میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے جہز جمع کیا ہے
ارے تجھ سے جہز مانگ کون رہا ہے میں ایک عورت کو جانتی ہوں وہ نہ رشتے کرواتی ہے
لیکن کچھ نہیں لیتی الٹے پیسے دیتی ہے
اقصی خالہ نے سرگوشی والے انداز میں کہا
کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا امی کا انداز بھی سرگوشانہ تھا ۔
ارے وہ کوئی دبئی میں شیخ رہتا ہے لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہونی چاہیے فون پر لڑکی سے نکاح پڑھاتے ہیں اور دبئی بلا لیتے ہیں پہلے لڑکی اس شیخ کے ساتھ رہتی ہے اور بعد میں ۔ خالہ بولتے بولتے خاموش ہوگئی
بعد میں ۔۔۔؟
بعد میں شیخ لڑکی کو آگے بھیچ دیتا ہے آخر جو لڑکی کے آباؤ اجداد کو رقم دیتا ہے وہ واپس وصول بھی تو کرنی ہوتی ہے
کیا مطلب ہے لڑکی بیچ دیتے ہیں امی اب بات کو سمجھیں تھی
توبہ توبہ معصوم سی لڑکی ہے میں اس کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کروں گی چند پیسوں کے لیے نہیں بیچوں گی امی نے فورا انکار کر دیا
اقصی کی سہلی جو کافی عرصے سے مشہور تھی کہ لڑکیوں کے نکاح دبئی میں پڑھاتی ہے اس نے کہی بار کہا کہ میری بیٹیوں کے نکاح کروا دو لیکن اقصی خالہ ہمیشہ ہی ٹال دیتی
ارے ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی میں یہ تھوڑی کہہ رہی ہوں اسے بیھج دو میں تو بس تم کہہ رہی تھی کہ راستے سے ہٹاؤ میں نے تو بس آئیڈیا دیا
اب تمہاری بیٹوں کی زندگی برباد کر رہی ہے 25 سال کی تو ماریا ہوگئی ہے اور جب تک یہ یہاں رہیں گی تب تک تمہاری بیٹیوں کا کہیں کوئی چانس نہیں ہے
اور جنہیں تم چند پیسے کہہ رہی ہوں نہ بی بیس لاکھ ہیں ارے دھوم دھام سے اپنی بیٹیوں کی شادی کر سکتی ہو تم خالا بس اتنا بول کر اپنا بیگ اٹھا کر اٹھنے لگی
بیس لاکھ ۔امی کامنہ رقم سن کر کھل گیا
ارے یہ تو کچھ بھی نہیں لڑکی خوبصورت اور کم عمر ہو جیی کہ روح ہے تو بیس پچیس اور تیس میں بھی بدل سکتے ہیں خالہ مزید لالچ دیتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی
