Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 82)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

تم آج بھی گھر نہیں گئے ۔

وہ آفس آیا تو اسے بیٹھے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

تمہیں بتا چکا ہوں جب روح واپس آئے گی تب جایا کروں گا ۔فی الحال مجھے وہ گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔

زہر لگتا ہے مجھے وہاں جانا ۔

روح کے بغیر سب کچھ خالی خالی ہے ۔

اس کی آواز ہی سنا دو خضر کتنے دن ہو گئے ہیں اس کی آواز نہیں سنی ۔

یارم نے کہا ۔

آج اسےگئے ہوئے 13 دن ہوچکے ہیں خضر اداسی سے مسکرایا ۔

تیرہ دن نہیں خضر تیرہ دن دس گھنٹے پنتالیس منٹ یارم نے کہا ۔

وہ واپس آ جائے گی۔ اس نے فاطمہ بی بی کا نمبر ملاتے ہوئے یارم سے کہا ۔

اسے واپس آنا پڑے گا خضر۔

اسلام علیکم فاطمہ بی بی کیسے ہیں آپ ۔۔خضر کے پوچھنے کی دیر تھی کہ وہ دوڑ کے فاطمہ بی بی کے قریب آ بیٹھی ۔

ہاں بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں میری روح کا شوہر کیسا ہے انہوں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ۔

جی وہ بھی بس ٹھیک ہی ہے اس کی جان تو آپ کے پاس ہے ۔وہ باہر ہے میرا روح سے بات کرنے کا بہت دل چاہ رہا تھا اس لیے فون کر لیا خضر نے مسکرا کر کہا ۔

ہاں بیٹا کیوں نہیں ۔یہ لو بیٹا بات کرو وہ فون اس کی طرف بڑھا کر اٹھ کر چلی گئی ۔

جب کہ خضرنے فون اسپیکر پر ڈال دیا ۔

ہیلو خضر بھائی میرا مطلب ہے ماموں کیسے ہیں آپ اور وہ کیسے ہیں ۔وہ بہت مدھم سی آواز میں بولی

جبکہ اس کے ماموں کہنے پر جہاں خضر کا دل خوش ہو گیا تھا وہیں اس کے وہ کہنے پر یار م کھل اٹھا تھا ۔

تمہارا وہ جیسا چھوڑ کے گئی تھی ویسا ہی ہے اور میں بالکل ٹھیک ہوں خضر نے ایک نظریارم کی طرف دیکھا جو اسے آنکھوں کے اشارے سے اسے اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے سے منع کر رہا تھا ۔

وہ ابھی بات کر رہئے تھے کہ روح کو باہر سے شور کی آواز آنے لگی ۔

ماموں گھر سے شور کی آواز آرہی ہے میں آپ سے بعد میں بات کروں گی وہ جلدی سے فون رکھ کر باہر کی طرف چلی گئی ۔

امی خدا کے لئے مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی مجھے لگا تھا وہ مجھے بہت پیار کرے گا

مجھ سے شادی کر لے گا لیکن اسے صرف میرے جسم سے پیار تھا ۔

وہ مجھے شادی کا جھانسہ دے کر میری عزت کو دو کوڑی کا کرگیا ۔

تانیہ تعظیم کے قدموں میں گرائی روئے جارہی تھی۔

جبکہ پورا محلہ اس پر لعنت ڈالنے میں مصروف تھا۔

کس منہ سے آئی ہے یہاں واپس بیوہ ماں کو جینے دے چار دن دفع ہو جا یہاں سے ۔محلے والے اسے باتیں سنانے میں مصروف تھے جبکہ تعظیم دروازہ اندر سے بند کیے روئے جارہی تھی ۔

سب اسے باتیں سنا سنا کر اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو چکے تھے ۔

جب فاطمہ بی بی نے آگے بڑھتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

چلو بیٹا اندر تمہاری غلطی کابل معافی نہیں ہے لیکن وہ ماں ہے آج نہیں تو کل اس کا دل پگھل ہی جائے گا

فون بند ہونے کے بعد خضراس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا وہ چاہتا تھا کہ اس کا دھیان بٹ جائے

لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ یارم کا دھیان کبھی روح سے نہیں ہٹے گا ۔

آج وہ انسپیکٹر ایک ضروری میٹنگ کے لیے دبئی آنے والا ہے یہ موقع اچھا ہے صدیق کا انتقام لینے کے لیے

جس طرح سے اس نے صدیق کو زمین کے اندر زندہ دفن کر دیا تھا اسے ایک ایک سانس کے لیے محتاج کر دیا تھا ہم اس سے بھی بری موت دیں گے اسے ۔

یارم نے غصے سے کہا پھر اسے بتانے لگا ۔

جانتے ہو خضر اگر وہ یہ سب کچھ اپنے فرص کے لئے کرتا شاید میں اسے معاف کر دیتا لیکن یہ سب کچھ اس نے پیسے لیئے کیا ۔

اس نے ہم سے ہمارا دوست ہمارا بڑا بھائی چھین لیا اس جیسے فرض سے غداری کرنے والے شخص کے لئے اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں

تم معصومہ کو لے کر وقت پے وہاں پہنچ جانا وہ اپنے باپ کے قاتل کو اپنے ہاتھوں سے مارے گی ۔

وہ تانیہ کو اپنے گھر کے اندر لے کے جانے لگی جہاں وہ روح کو اپنے گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ رونے لگی

مجھے معاف کر دو روح میں نے تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔

بچپن سے لیکر جوانی تک بے وجہ بے مطلب تم پہ ہاتھ اٹھاتی رہیں تمہیں ذلیل کرتی رہیں اور دیکھو آج میں خود ذلیل ہو کر رہ گئی ۔

مجھے لگا تھا وہ اس دنیا کا سب سے اچھا شخص ہے مجھے بہت خوش رکھے گا لیکن اس نے تو مجھے دو کوڑی کا نہ چھوڑا ۔

میں کہیں کی نہ رہی تانیہ روتے ہوئے بولی جبکہ وہ یوں ہی اسے اپنے ساتھ لگائے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی ۔

خضر ناجانے معصومہ کو اپنے ساتھ کہاں لے کے جا رہا تھا پتا تو بس اتنا کی آج وہ کسی بہت بڑے مقصد کے لئے کہیں جارہے ہیں ۔

سڑک پر اندھیرا تھا بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں بھی کمال کا اضافہ ہوا تھا ۔

وہ لوگ وہاں پہنچے یارم ایک آدمی کو سڑک پر پھینکے اس کے سر پر کھڑا تھا ۔

اس نے یونیفارم پہن رکھی تھی ۔شاید نہیں یقینا وہ پولیس والا تھا اس پولیس والے کے ساتھ انکی کیا دشمنی ہو سکتی ہے اور معصومہ کا یہاں آنا اتنا ضروری کیوں تھا

آو معصومہ میں تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔یا رم نے اسے دیکھ کر پستول اس کی طرف بڑھائیں ۔

یہ ہے تمہارے باپ کا قاتل۔ میں تمہیں دس سیکنڈ دیتا ہوں ختم کرو اسے ۔

وہ پستول اس کی طرف بڑھا کر کہنے لگا جبکہ اسے دیکھتے ہی معصومہ کا خون کھول اٹھا تھا تو یہ تھا اس کے باپ کا قاتل ۔جس نے ایک ایک سیکنڈ اس کے باپ کو تڑپایا تھا ۔

ایسی موت اسے سوچ کر لوگ کانپ کر رہ جاتے ویسے موت اس کے باپ کو دی تھی ۔

دیکھنے غصے سے کہیں زیادہ اسے اپنے باپ کی موت کا سوچ کر رونا آ رہا تھا کی اس سے اس پر رحم نہ آیا تھا ۔

وہ تو سب کی بھلائی چاہنے والا انسان تھا

معصومہ مجھے نہیں لگتا ہے تم میں اتنی ہمت ہے یارم نے اس کے ہاتھ سے پشتول لینا چاہا ۔

جو معصومہ کو اپنے ہاتھ پر کسی کے ہاتھ کی گرفت سخت ہوتی محسوس ہوئی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو شارف اس کے ہاتھ پر پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا

نہیں ڈیول معصومہ کمزور نہیں ہے سامنے دیکھو وہ تمہارے باپ کا قاتل ہے

یہی ہے وہ شخص جس نے تمہارے باپ کا قتل کیا تھا کیا تم اسے ایسے ہی جانے دوگی شارف نے پوچھا تواس نے روتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی ۔

تو سامنے دیکھو ۔ اس سے اس کی زندگی چھین لو جس طرح سے اسے تمہارے باپ سے اس کی زندگی چھین کر تمہیں یتیم کردیا ۔

معصومہ نے اس شخص کی طرف دیکھا جو زمین پر بے ہوش پڑا تھا

جب شارف نے اس ہاتھ میں پکڑے پستول کے ٹریگر پر زور ڈالا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے ایک گولی اس سے نکلی اور سامنے پڑے آدمی کو لگی ۔

وہ آدمی ذرا سا ہلا پھر بے جان ہو گیا ۔

مبارک ہو معصومہ صدیق کا قاتل مر گیا تمہارا بدلہ پورا ہوا ۔

شارف کے کہنے کی دیر تھی کے معصومہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

جب کہ خضر نے خوشی سے یارم کو گلے لگایا تھا ۔

تبھی یارم کا فون بجنے لگا ۔

فون پر فاطمہ بی بی کا نمبر جگمگا رہا تھا اس نے فورا فون اٹھایا ۔

ہیلو ماموں ۔روح کی آواز گونجی ۔

میں ہوں یارم۔ یارم نے کہا اور اگلے ہی لمحے فون بند ہوگیا

یار م کو روح کی اس حرکت پر غصہ آیا تھا ۔

اپنے ماموں سے میرا حال پوچھ سکتی ہے مجھ سے بات کرتے ہوئے جان جاتی ہے سارے حساب چکاو گی روح بی بی اتنی آسانی سے معاف تو میں بھی نہیں کروں گا ۔

وہ غصے سے فون واپس جیب میں ڈال چکا تھا ۔

روح نے ابھی یارم کے فون پر فون کیا تھا

بہانہ تو خضر کا تھا کہ وہ خضر سے بات کر رہی تھی

اور کچھ نہیں تو یار م کی آواز کی سن لیتی

تبھی فاطمہ بی بی بیہوش ہو گئی تانیہ کی چیخ کے ساتھ وہ واپس کمرے سے باہر بھاگ گئی تھی ۔

تانیہ باجی انہیں اچانک کیا ہوگیا وہ فکرمندی سے ان کے قریب بیٹھی ۔

پتا نہیں روح اچانک سے بےہوش ہوگئی ہیں چلو جلدی سے ہوسپیٹل لے کے چلتے ہیں

تانیہ نے کہا تو فورا سے اپنی چادر لے کر اٹھ گئی