Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 81)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

وہ جہاز میں بیٹھی مسلسل رورہی تھی

آنسو تھے جوروکنے کا نام نہیں لے رہے تھے

دل تھا جو غم سے پھٹا جا رہا تھا ۔

اس کا اپنا ماموں اس کا سب سے عزیز رشتہ آج صرف اس شخص کے لئے اسے چھوڑ کر چلا گیا ۔

کیونکہ وہ صحیح تھا اور اس کے ماموں نے صحیح کو چنا تھا ۔

ایئر ہوسٹرز کوئی دس بار اس کے قریب آ کر پوچھ چکی تھی میںم آپ کو ڈر تو نہیں لگ رہا ۔

میںم ہم آپ کی سیٹ چینج کروا دیں اگر آپ کو یہاں ڈر لگ رہا ہے تو

اور وہ اسے ایک بار بھی یہ نہیں بتا پائی۔

کہ اس کا ڈر صرف اور صرف یارم کے سینے سے لگ کر ختم ہوتا ہے ۔

تم بے فکر ہو جاؤ یارم میں نے سارا انتظام کروا دیا تھا روح آرام سے پاکستان پہنچ جائیں گی اسے وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔

میں نے ڈرائیور کا انتظام کرا دیا ہے وہ اسے سیدھا فاطمہ بی بی کے گھر لے جائے گا ۔

خضر نے اسے بے فکر کرنے کی ناکام سی کوشش کی جبکہ یارم کمرے میں ادھر سے اُدھرٹہل رہا تھا اور بار بار ایک ہی بات کر رہا تھا ۔

کہ وہ بہت ڈر گئی ہوگی ۔

جانتے ہو خضرجب وہ پہلی بار یہاں آئی تھی اور پہلی بار جب اس نے مجھ سے بات کی تھی تو اس نے کیا کہا تھا ۔

اس نے کہا تھا وہ جہاز میں بہت ڈر گئی ہے اسے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔

اور اس دن میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس سے کبھی اکیلے سفر نہیں کرنے دوں گا ۔

میں تو اپنے آپ سے کیا ہوا وعدہ نہ نبھا سکا ۔

اور وہ جو کہتی تھی کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گی وہ بھی اپنا وعدہ توڑ گئی ۔

وہ جب آئے گی نہ میں اسے غلطی کی بہت بڑی سزا دوں گا ۔اور تم مجھے بالکل نہیں روکو گے ۔

وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولا ۔

جبکہ خضر اس کی حالت پر کچھ نہیں بول پا رہا تھا

وہ جب پاکستان پہنچ جائے تو مجھے بتا دینا خضر کمرے سے جا رہا تھا جب پیچھے سے یارم کی آواز سنائی دی وہ سن کر گردن ہلا تا باہر نکل گیا

ایئرپورٹ کے باہر گاڑی اس کا پہلے ہی انتظار کر رہی تھی ۔

اس سے اس کے بارے میں پوچھ کر اسے خضر کے بارے میں بتایا اور پھر اسے فاطمہ بی بی کے گھر کے باہر چھوڑ آئے ۔

اپنے محلے میں پہنچ کر بہت سارے لوگ اسے پہچان چکے تھے ۔

اور وہاں پر ماریہ بھی اسے دیکھ چکی تھی ۔

لیکن اپنے گھر کی طرف جانے کی بجائے وہ فاطمہ بی بی کا دروازہ کھٹکٹانے لگی ۔

فاطمہ بی بی نے دروازہ کھول کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔

تیری آنے کی خبر تیرا شوہر مجھے پہلے ہی دے چکا ہے ۔

وہ اسے مسکراتے ہوئے بتاتے اندر لے آئیں ۔

شاید وہ بس اس کے یہاں آنے کے بارے میں جانتی تھی

خضر نے اسے ابھی آکر بتایا تھا کہ روح پاکستان پہنچ گئی ہے۔

اور بالکل ٹھیک ہے ۔

ٹھیک ہے فرقان کو بلاؤ ۔یارم نے دوسرا آرڈر دیا

تم اس کے ساتھ کیا کرنے والے ہو ۔اس بیچارے نے خضر نے کچھ کہنا چاہا

اس بیچارے نے مجھ سے میری زندگی دور کر دی ہے اسے سزا ضرور ملے گی ۔

اس نے مجھ سے میری زندگی چھینی ہے

اب میں اس سے اس کی زندگی چھینوں گا ۔

اگلے دس منٹ میں وہ یہاں ہونا چاہیے ۔

خضر نے فرقان کا انجام سوچا تو اس کے اپنے ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے آنے لگے ۔

لیکن وہ جانتا تھا فرقان کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی ۔

کیونکہ اس کی غلطی چھوٹی نہیں تھی

وہ جب سے آئی تھی فاطمہ بی بی کی گود میں سر رکھ کے روئے جارہی تھی ۔

اگر تجھے وہاں سے آنا اتنا ہی بڑا لگ رہا ہے تو تُو کیوں آئی تھی روح ۔

وہیں رک جاتی اپنے شوہر کے پاس ۔اگر وہ صحیح ہے تو کیوں آئی تو اسے چھوڑ کے ۔

بس میرا بچہ تو رونا بند کر اور ویسے بھی تو نے اس سے وقت مانگا ہے

وہ تجھ سےاتنی محبت کرتا ہے تیرے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے

وہ تیرے ایک اشارے کا منتظر ہے جب تو چاہے گی وہ آجائے گا تجھے لینے۔پگلی وہ کوئی چھوڑ تھوڑی نہ رہا ہے تجھے جو اس طرح سے رو رہی ہے

لیکن تو مجھے ایک بات کا جواب دے

۔اگر تجھے سب کچھ پتہ چل گیا تھا تو وہاں سے واپس کیوں نہیں چلی گئی ۔

فاطمہ بی بی پیار سے اس کا سر اپنی گود میں رکھے آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بات کر رہی تھی ۔

فاطمہ بی بی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس وقت ۔

لیکن سارے راستے ایک بات میں سمجھی ہوں میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔

مجھے ان کے پاس واپس جانا ہے ۔

لیکن میں نہیں جا پائی۔جہاز کے اناونسمٹ ہوچکی تھی ۔خضر بھائی میرا مطلب ہے ماموں نے مجھے جانے کے لئے بولا۔

تو میں آگئی ۔مجھے نہیں آنا چاہیے تھا نا مجھے وہیں سے لوٹ جانا چاہیے تھا ۔وہ روتے ہوئے بولی ۔

میں کیوں آگئی فاطمہ بی بی ۔وہ روتے ہوئے بولی ۔

کیونکہ تو عورت ہے ۔

ایک عورت اپنی محبت کے درجات ہمیشہ بلند رکھتی ہے ۔

لیکن مرد محبت نہیں کرتا مرد عشق کرتا ہے جب مرد عشق کرتا ہے نہ تو انا، ضد، غرور سب چھوڑ دیتا ہے ۔

وہ اپنی محبت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے ۔

لیکن عورت کی محبت میں ضد ہوتی ہے وہ محبت کے بدلے محبت چاہتی ہے ۔

خاص کر جب اسے یہ پتہ چل جائے کہ وہ مرداس سے محبت کرتا ہے تو مغرور ہو جاتی ہے ۔

تو بھی تو مغرور ہوگئی ہے ۔دیکھ اللہ نے تجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔

لیکن تجھ میں اتنی ہمت نہ آئی کہ تو اس شخص کے پاس لوٹ کر چلی جائے جو تیرے لئے روتا رہ گیا ۔

اس شخص نے محبت میں تجھے غرور دیا ۔اورتو اس کا غرور توڑ کے آگئی ۔

بہت برا کیا تو نے روح بہت برا ۔ایک دل کے کئی ٹکڑے کرآئی۔

لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بدلا ۔جا لوٹ جاؤ اس کے پاس بُلا لے اسے کتنا وقت دیا ہے اس نے تجھے ۔فاطمہ بی بی نے پوچھا ۔

ایک مہینہ ۔۔روح معصومیت سے بولی ۔

عاشق ہے تیرا پہلے آجائیے گا ۔آزما کے دیکھ لے اس امتحان میں بھی پورے سو نمبروں سے پاس ہو گا

اٹھ جاکے نماز ادا کر جاخدا سے معافی مانگ ۔

وہ سب کی سنتا ہے تیری بھی سنے گا ۔

فاطمہ بی بی کہتے ہوئے آہستہ سے اس کے قریب سے اٹھی

فرقان اس کے سامنے زمین پر پڑا تھا ۔

شارف اسےایئرپورٹ سے پکڑ کر لایا تھا ۔جو یارم سے ڈر کر ملک سے فرار ہو رہا تھا۔

مجھے معاف کردو ڈیول مجھ سے غلطی ہوگئی میں نہیں جانتا تھا کہ بھابھی تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتی

میں تو بس انہیں یہ بتا رہا تھا ۔

فرقان ابھی بول ہی رہا تھا جب یار م نے ایک پلاسٹک شاپر اس کے منہ پر چڑھا دیا ۔

جانتے ہو فرقان سانس روکنا کسے کہتے ہیں ۔

“اسے”

وہ شاپرکو زور سے پکڑتے ہوئے اس کی سانس بند کرنے لگا ۔

کیسا محسوس ہو رہا ہے سانس روک رہی ہے نا جان جا رہی ہے ۔

میری بھی جارہی ہے ۔

پچھلے آٹھ گھنٹے سے پل پل مر رہا ہوں ۔

ایک ایک سیکنڈ تڑپ رہا ہوں ۔

بالکل تمہاری طرح یہی میرا بھی حال ہے ۔میں اس کے بغیر مر جاؤں گا لیکن تمہیں جینے نہیں دوں گا ۔

اندازہ بھی نہیں ہے کہ تم نے مجھ سے کیا چھینا ہے ۔وہ شاپر کو مزید کٙس کر پکڑتے ہوئے بولا ۔

جب فرقان نے اس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اپنا منہ چھوڑونا چاہا ۔

ابھی تم مرے نہیں فرقان جب مر جاؤ گے میں چھوڑ دوں گا

وہ پرسکون انداز میں بولا ۔

کیوں تڑپ تڑپ کے مرناچاہتے ہو میں تمہیں آسان موت دے رہا ہوں اس نے مزاحمت نہ چھوڑی تویارم نے کہا ۔

تم ایسے نہیں مانو گے وہ اس کی مزاحمت اگنور کرتا اسے پیچھے کی طرف دھکا دےچکا تھا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ آگ کی لپٹ میں آنے لگا ۔

چیخنے چلانے کی آواز دور دور تک جا رہی تھی مگر اس آگ سے اسے بچانے والا کوئی نہ تھا ۔

ایک ہفتہ گزر چکا تھا لیکن روح میں اتنی ہمت نہ آئی کہ یارم سے بات کر سکےاور نہ ہی یا رم نے اسے فون کیا۔

دونوں کی طرف سے خاموشی تھی روح اپنے فیصلے اور نادانی پر پچھتا رہی تھی ۔

جبکہ یارم اس کی طرف سے پہل کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا ۔

خضر نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ واپس ضرور آئے گی ۔

تم آج بھی گھر نہیں گئے خضر جیسے ہی اپنے آفس آیا اسے آفس میں بیٹھا دیکھ کر پوچھنے لگا جب سے روح گئی تھی وہ واپس اپنے گھر نہ گیا ۔

کیوں جاؤں گھر پہ کون ہے جو میرا انتظار کر رہا ہے ۔

انتظار کرنے والی تو چھوڑ کر چلی گئی۔یارم کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بول رہا تھا ۔

سرخ آنکھیں رات بھر نہ سونے کی نشاندہی کر چکی تھی

شراب پی ہے تم نے ۔خضر نے اس کے قریب آ کر پوچھا ۔

تم جانتے ہو میں پینا چھوڑ چکاہوں ۔جو چیز میری روح کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔

وہ ابھی بھی اسی انداز میں بولا تھا ۔

روح کو تمہاری اداسی بھی پسند نہیں ہے وہ اس کے قریب بیٹھ کر رہنے لگا ۔

اگر اسے میری اداسی پسند نہ ہوتی تو کبھی چھوڑ کر نہیں جاتی ۔

گھر جاؤ یارم حالت دیکھو اپنی ۔جب سے وہ گئی ہے شیو تک نہیں کی ہے تم میں ۔روح سے پہلے بھی تمہاری ایک زندگی تھی ۔اس سے پہلے بھی تم جی رہے تھے تو اب کیوں نہیں ۔خضر کو اب اس پر غصہ آنے لگا تھا جو روح کے لئے اپنا آپ برباد کر رہا تھا ۔

تم کبھی نہیں سمجھ سکتے ہیں خضر۔ وہ لڑکی میری جان ہے ۔وہ اس دنیا کی پہلی لڑکی ہے جو مجھے میرے یارم کہہ کے پکارتی ہے جو مجھے اپنا کہتی ہے ۔وہ میری سانسوں میں بستی ہے اس کے بغیر سانس نہیں لے سکتا ہوں ۔

اور تم کہتے ہو اس کے بغیر جی لو

ہاں اس سے پہلے میری زندگی تھی اس کے بعد کچھ نہیں ہے اگر وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے نا مر جاؤنگا تمہارے وعدے پےزندہ ہوں یاد رکھنا ۔

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہتا باہر نکل گیا

فاطمہ بی بی آپ نے تو کہا تھا وہ مجھے بلا لیں گے لیکن وہ تو مجھے فون ہی نہیں کر رہے۔

تو خود کرلے فاطمہ بی بی نے مسکراتے ہوئے کہا

لیکن روح اب رونے والی ہوگئی تھی

میں کیسے کروں وہ مجھ سے ناراض ہوں گے ۔اب روح کی آنکھوں میں سچ مچ آنسو بہنے لگے ۔

تو کیا تجھے شوہر کو منانا نہیں آتا۔

وہ ناراض نہیں ہوتے مجھ سے روح نے بے بسی سے کہا ۔

ماموں کو فون کرتی ہوں ۔لیکن وہ بھی تو مجھ سے ناراض ہیں ۔

وہ پھرسے اداسی سے بیٹھ گئی ۔

شارف بھائی کو فون کروں لیکن ان میں سے تو کسی کا نمبر نہیں ہے میرے پاس میرے پاس صرف یارم کا نمبر ہے ۔

وہ موبائل ہاتھ میں رکھیے سوچے جا رہی تھی پھر جب سوچ سوچ کے تھک جاتی تو بیٹھ کر رونے لگتی ۔

وہ جب سے یہاں آئی تھی ایک چیز اس نے بہت محسوس کی تھی کہ فاطمہ بی بی کی طبیعت بہت زیادہ خراب رہنے لگی ہے وہ اکثر کھانستی رہتی ۔

دو تین بار اس نے پوچھا تو انہوں نے کہا کچھ نہیں بس موسم کی وجہ سے انہیں کھانسی ہے ۔

فاطمہ بی بی آپ کے بال بہت جڑرنے لگے ہیں ۔وہ ان کے قریب بیٹھی تھی جب وہ اپنے بال بنانے لگی ۔

ارے اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں بال تو گرئیں گے ہی نہ

وہ ابھی یہی ساری باتیں کر رہی تھی کہ دروازہ کھول کے تعظیم اور ماریہ اندر آئی

وہ ایک ہفتے سے انہیں اگنور کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی

انہیں آتا دیکھ کر وہ اندر جانے لگی جب ماریا بول اٹھی ۔

دیکھو اماں میڈم کو دبئی سے کیا ہوکے آئی ہے نخرے ہی نہیں ختم ہوتے ۔

چل بیٹا بہت ہوگئے نخرے آگے چل سارا گھر گندہ پڑا ہے ذرا جھاڑو پوچاہی لگا دے ۔

تعظیم نے ماریہ کو بولنے سے روکنا چاہا ۔

ارے امی چھوڑو ۔ دبئی سے آئی ہے۔ آ تو گئی ہے نہ اس کے نصیب میں یہی سب کچھ کرنا لکھا ہے ۔

نہیں ماریہ باجی میرے نصیب میں یہ سب کچھ کرنا نہیں لکھا میرے نصیب میں کیا لکھا ہے محلے کے بیچ میں کھڑی ہو کر بتاؤں گی ۔

اسے لگا تھا کہ شاید وہ لوگ ذرا سے شرمندہ ہوں گے لیکن وہ تو اسے بیچ کا سکون کی زندگی گزار رہے تھے ۔

ماریہ کی بات نے اسے مزید غصہ دلایا

پورے محلے کو چلا چلا کے بتاؤں گی کہ کیسے آپ نے شمس کے ہاتھوں مجھے بیچ دیا ۔

کیا لگتا ہے آپ کو لُوٹ کے آئی ہوں میں ۔جی نہیں میری عزت کا محافظ میرا اللہ ہے اور اس کے بعد میرا شوہر آپ کے ارادے کامیاب نہیں ہوئے اس سے پہلے کہ میں اس پورے محلے میں آپ کی کوڑی کی بھی عزت نہیں چھوڑوں نکلیں یہاں سے ۔

وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی ۔لیکن آج وہ اپنا سارا غصہ ان پر نکال دینا چاہتی تھی وہ ماں ہو کر ایک بیٹی کو بیچ سکتی تھی تو پھر وہ بھیکی ہوئی لڑکی ہو کر اپنے حق کے لیے لڑے کیوں نہ

اور پھر جس طرح سے اس کا ماموں صرف اس کو ایک جھلک دیکھنے کے لئے تڑپا تھا وہ کیوں ان سے ہمدردی جتاتی

لگتا ہے آپ لوگ ایسے نہیں جائیں گے مجھے ہی باہر نکلنا ہوگا ۔

وہ قدم باہر کی طرف اٹھانے لگی جب تعظیم نے اس کا بازو پکرلیا ۔ ۔

نہ جانے کیوں وہ عورت اسے صدیوں کی بیمار لگی شاید بیٹی کی جدائی نے اسے بہت بدل دیا تھا ۔

تانیہ گھر سے بھاگ گئی تھی یہ خبر تو اسے یہاں آتے ہی مل چکی تھی ۔

جبکہ ماریہ وہ ویسی ہی تھی جیسے چھوڑ کر گئی ۔

تو کہیں مت جا ہم جا رہے ہیں تعظیم کی آواز میں ندامت تھی شرمندگی تھی التجا تھی جسے نہ تو وہ سننا چاہتی تھی اور نہ ہی تعظیم کی شکل دیکھنا چاہتی تھی وہ تو کہیں باتیں لے کے آئی تھی اسے سنانے کے لیے لیکن اس کی حالت دیکھ کر مزید ایک لفظ نہ بول پائی بس اپنا ہاتھ چھڑا کر اندر کمرے میں چلی گئی