Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 83)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

معصومہ بہت اداس تھی اور ہر کوئی اس کی اداسی کی وجہ جانتا تھا ۔

معصومہ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ۔جس مقصد کے لئے تم یہاں آئی تھی تم جو کرنا چاہتی تھی وہ مقصد پورا ہوگیا تمہارے باپ کا قاتل اپنے انجام تک جا پہنچا ہے ۔

ہم سب سمجھ سکتے ہیں تمہیں صدیق کی بہت یاد آرہی ہے نا ۔

سچ کہوں تو ہمیں بھی ان کی بہت یاد آتی ہے ۔

جب بھی ایک بڑے بھائی کی ضرورت ہوتی ہے ان کی یاد آتی ہے ۔

جب بھی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تب یہ سوچنے لگتی ہوں کہ کس سے جا کے نصیحت لوں ۔

جب بھی پریشان ہوتی ہو ں کوئی نہیں ملتا ہدایت دینے کے لیے ۔

وہ مجھے اپنی بیٹی کہتے تھے ۔

اور میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ ان کی بیٹی کتنی خوش نصیب ہے ۔

جو ان کی اصلی بیٹی ہے ۔

اب رونا بند کرو ۔

آج تو خوشی کا دن ہے ۔تمہارا خواب پورا ہوا اب ہم تمہارا دوسرا خواب پورا کرنے کے بارے میں سوچیں گے لیلی نے کہا

دوسرا خواب دوسرا کون سا خواب ۔۔۔۔؟معصومہ نے پوچھا ۔

ارے تمہیں دلہن بھی تو بنانا ہے لیلیٰ نے شرارت سے کہا تھا تو وہ شرمائی ۔

اتنا مت شرماؤ یار شارف دولہا بننے سے پہلے ہی شہید ہو جائے گا ۔

لیلیٰ نے مسکرا کر کہا تو شارف کے بارے میں سوچ کر وہ بھی مسکرانے لگی ۔

دیکھیں ان کی طبیعت بہت خراب ہے ۔

ان کا خاص خیال رکھیں رپورٹ کل تک آ جائے گی ۔

دعا کریں جو مجھے لگ رہا ہے ایسا کچھ نہ ہو ڈاکٹر نے انہیں اچھی امید نہ دلواتے ہوئے کہا ۔

آپ کو کیا لگ رہا ہے ڈاکٹر تانیہ نے پوچھا ۔

دیکھیں میں بیکار میں آپ لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں دینا چاہتا کل تک رپورٹ آجائیں گی میں کنفرم کر کے بتاؤں گا آپ کو بس اتنا ہی کہتا ہوں کہ اچھی خبر نہیں ہے ۔

آپ دونوں ان کی بیٹیاں ہیں ڈاکٹر نے پوچھا ۔

نہیں ہم ان کی بیٹیاں نہیں ہیں ہم ان کے پڑوس میں رہتی ہیں ان کا بس ایک ہی بیٹا ہے جو یہاں نہیں ہوتا ۔

تانیہ نے تفصیل سے بتایا

آپ ان کے بیٹے کو بلالیں یہاں ۔بہتر ہوگا کہ باقی تو ہم آپ کو کل بھی رپورٹ آنے کے بعد ہی کچھ بتا سکیں گے ۔

لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں ۔

کہ انہیں اس وقت ان کے اپنوں کی ضرورت ہے ۔

ڈاکٹر نے کہا جبکہ روح پریشانی سے تانیہ کو دیکھ رہی تھی ۔

تو خود بھی بہت پریشان تھی ۔

تانیہ باجی آپ فاطمہ بی بی کے بیٹے کو جانتی ہیں ۔روح نے پوچھا۔

نہیں روح میں نے تو محلے والوں سے ہی سنا ہے کہ ان کا کوئی بیٹا ہے ۔

جو ایک بار یہاں آیا تھا اس کے بعد واپس نہیں آیا ۔تانیہ نے بتایا جبکہ اس کی بات سن کر روح اور پریشان ہو چکی تھی ۔

تو ہم ان کو کیسے بتائیں گے فاطمہ بی بی کی طبیعت کے بارے میں ۔

فاطمہ بی بی سے ہی پوچھیں گے ۔

ڈاکٹر نے کہا ہے کہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے آپ

کہاں ہے آپ کا بیٹا

فون کرے اسے یہاں بلائے ڈاکٹر نے کہا ہے آپ کو آپ کے اپنوں ضرورت ہے

ویسے ہم اس سے زیادہ آپ کے اپنے ہیں لیکن پھر بھی وہ آپ کا بیٹا ہے اسے پتہ ہونا چاہئے آپ کی طبیعت کے بارے میں ۔

چلیں فون کرکے بلائیں اسے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اب آپ کا بہت سارا خیال رکھنا ہے ۔

روح ان کی میڈیسن نکالتے ہوئے پانی کا گلاس لینے باہر جانے لگی

جب اچانک اسکا سرگھوما اس سے پہلے کہ وہ گر جاتی جلدی سے دروازہ پکڑ کر کھڑی ہوئی

تانیہ فورا اس کی طرف بھاگی

کیا ہوا روح تم ٹھیک تو ہو ۔۔؟

جی تانیہ کا جی میں ٹھیک ہوں بس ذرا سر چکرا گیا تھا ۔

یہ چکر تجھے بہت دنوں سے آرہے ہیں روح تو ٹھیک تو ہے آج ہاسپٹل گئی تھی تو چیک کیوں نہیں کروایا ۔

میں ٹھیک ہوں فاطمہ بی بی اور میں نے چیک اپ کروایا تھا رپورٹس تو معصومہ کے پاس تھی پتا نہیں کیا آیا ہوگا رپورٹس میں ۔روح اداسی سے بولی ۔

تجھے کیا لگتا ہے کیا ہوگا رپورٹس میں فاطمہ بی بی نے پوچھا ۔

مجھے کیا لگے گا۔۔ مجھے کچھ نہیں لگتا وہ شرماتے ہوئے باہر چلی گئی ۔۔

فاطمہ بی بی اسے کیا ہوا ہے تانیہ نے فاطمہ بی بی کو مسکراتے دیکھ کر پوچھا ۔

کچھ نہیں جھلی ہے بالکل ۔جاپانی لے کے آ دیکھ گولیاں نکال کے ہاتھ میں رکھ دی ہیں میری اور پانی دینے کی جگہ شرمائی جا رہی ہے فاطمہ بی بی نے مسکراتے ہوئے تانیہ کو پانی لانے بھیجا ۔

آج بہت دنوں کے بعد وہ گھر آیا تھا ۔

پورا گھر خالی خالی لگ رہا تھا روح کی کمی ہر چیز میں شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔

کتنا تنہا تھا وہ اس کے بغیر

لیکن بہت غصہ بھی اس کی آواز سنتے ہی اس نے فون کاٹ دیا ۔

وہ اپنے کمرے میں آکر بیٹھا ۔

بس بہت ہوگیا روح اب میں مزید تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔

لیکن جب تک تم بلاؤ گی نہیں میں کیسے آؤں گا ۔

پلیز بلا لو روح وہ موبائل پر اس کی تصویر دیکھتے ہوئے بولا اور پھر فاطمہ بی بی کا نمبر ملانے لگا ۔

بیٹری لو ہے ۔اس نے بیٹری کو دیکھتے ہوئے کہا کون سا روح نے مجھ سے بات کر لینی ہے ۔

وہ فون اٹھا کر باہر اپنے موبائل کا چارجر پلگ کرنے لگا

جب نظر ایک فائل پر پڑی

جس پر مسز یارم کاظمی لکھا تھا یہ وہی رپورٹ تھی جو اس دن وہ ہسپیٹل سے لائی تھی

معصومہ نے جانے سے پہلے بتایا بھی تھا کہ رپورٹ باہر ٹیبل پر پڑی ہے ۔

اس نے جلدی سے فائل اٹھاکر کھولیں ۔

لیکن رپورٹ پڑھ کر وہ بے یقینی سے بار بار پڑھنے لگا

روح پریگنٹ ۔میں باپ بننے والا ہوں میرا بچہ روح ماں بننے والی ہے اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی ۔

اس وقت وہ اپنا سارا غصہ ہر ناراضگی بھلا چکا تھا ۔

اس نے جلدی سے فون نکالا ۔

ہیلو ہیلو ۔ہیلو صارم ۔میں بات کر رہا ہوں یا رم۔ یار م نے جلدی سے بتایا

جبکہ اس کی آواز سے ہی صارم اس کی خوشی کا اندازہ لگا چکا تھا شاید روح واپس آ چکی تھی ۔

تبھی تو وہ اسی کو فون ملا کےاپنا تعارف کروا رہا تھا

آگے بول میں جانتا ہوں تو یارم بات کر رہا ہے ۔صارم نے کہا ۔

میں باپ بننے والا ہوں ۔یار م نے خوشی سے بتایا ۔

بہت بہت بہت مبارک ہو یا رم یہ تو بہت خوشی کی بات ہے میں چاچا بننے والا ہوں روح واپس آگئی کیا ۔صارم نے پوچھا ۔

یار م کی خوشی مند پڑگئی نہیں لیکن اب آجائے گی میں لے آؤں گا اسے ۔یارم نے جلدی سے فون بند کیا ۔

اگلا فون اس نے خضر کو ملایا تھا ۔

میں اپنی روح کو لینے جا رہا ہوں اس نے سلام دعا کا تکلف کیے بغیر کہا ۔

خضر کو لگا کہ سس صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے

میں ٹکٹ بک کروا دو ں اب وہ یارم سے یہی پوچھ سکتا تھا ۔

ہاں پہلے مٹھائی منگوا سب کو بانٹ پھر میری ٹکٹ بک کروا ۔

مٹھائی کس لئے روح کو واپس آنے تو دے خضر کو یار م کسکا ہوا لگ رہا تھا ۔

ابے مٹھائی روح کی واپسی کی خوشی میں نہیں میرے باپ بننے کی خوشی میں ہے ۔

کیا۔ ۔ کب کی بات ہے یہ ۔

جس دن روح یہاں سے گئی اس دن کی یار م نے بتایا

کیا یہ تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کیوں نہیں بتایا اتنے دنوں سے پتہ ہے تمہیں تم نے اسے جانے کیسے دیا خضر کو اب اس پر غصہ آنے لگا ۔

او بھائی مجھے نہیں پتا تھا مجھے تو آج پتا چلا ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ اس لیے اسپتال گئی ہے ۔

خیر چھوڑ ان سب باتوں کو مجھے پاکستان جانا ہے اپنی روح کے پاس

اوکے باس ۔میں دو بکٹ کرواتا ہوں ایک تیرے لیے ایک اپنے لئے ہم دونوں چلتے ہیں ۔خضر نے خوشی ہے کہا۔

خضر وہ ماں بننے والی ہے بنی نہیں ہے اسی لئے تو نہیں صرف میں جا رہا ہوں میں اسے لے کر جلدی واپس آ جاؤں گا ۔یارم نے اس کے ارمانوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا

اب بول اوکے باس یارم نے باقاعدہ اس کا مذاق اڑایا تو خضر ہنس دیا کتنے دن کے بعد وہ خوش تھا ۔

رات کے بارہ ہونے والے تھے تھوڑی ہی دیر میں نے نیا سال شروع ہونے والا تھا ۔

جب فاطمہ بی بی واش روم جانے کے لئے اٹھی

رکھیں رکھیں رکھیں فاطمہ بی بی ابھی مت جائیں روح نے روکنا چاہا

کیوں نہ جاؤں گا فاطمہ بی بی نے حیرانگی سے پوچھا

ارے فاطمہ بی بی پانچ منٹ میں نیا سال شروع ہونے والا ہے ۔

اگر آپ کو واش روم میں پانچ منٹ لگ گئے تو آپ جائیں گی 2019 میں اور واپس آئیں گی 2020 میں روح نے تانیہ کے ہاتھ پے ہاتھ مارتے ہوئے قہقہ لگا یا ۔

رک جا مجھ سے مستی کرے گی تو فاطمہ بی بی اس کا کان مروڑ کر واش روم چلی گئی

کتنی شرارتی ہو گئی ہو تم تانیہ اسے دیکھ کر ہنستے ہوئے بولی تبھی دروازہ بجا ۔

ہائے یہ 2020 کی شروعات ہونے سے پہلے کون ٹاپک پڑا۔

بیوقوف رات کے وقت کون ہو سکتا ہے ۔

فاطمہ بی بی تو واش روم میں ہیں پتہ نہیں دروازے پر کون ہے باجی آپ جا کے دیکھیے نہ پتہ نہیں کون ہوگا مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے روح بستر میں گھستے ہوئے بولی

ہاں تو کیا صرف تمہیں ڈر لگتا ہے مجھے نہیں لگتا میں نہیں جا رہی تانیہ بھی بستر میں گھس گئی اور دروازہ مسلسل بج رہا تھا ۔

مجبور روح کو اٹھ کر دروازے کی طرف جانا پڑا۔

اور بری عادت جو یارم کی ڈانٹ کھا کھا نہ گئی تھی اس نے بنا پوچھے دروازہ کھول دیا ۔

ہیپی نیو ایئر میرا بچہ ۔وہ بے یقینی سے سامنے کھڑے مسکراتے ہوئے اس شخص کو دیکھ رہی تھی ۔

جب کہ وہ اپنے ڈمپل کی نمائش کرتا جھک کر اس کا گال چوم چکا تھا ۔

یارم ۔۔۔روح بس اتنا ہی بول پائی

تمہارا یارم۔ اس سے پہلے کہ یارم آگے بھر کر اسے اپنے گلے سے لگا تا ۔پیچھے سے فاطمہ بی بی آگئی ۔

یارم ۔۔میرے بچے فاطمہ بی بی باہیں پھیلائیں اس کی طرف آ رہی تھی جب یارم نے آگے بھر ک انہیں اپنے سینے سے لگا لیا ۔

امی ۔۔اور ان کے گلے لگ گیا جبکہ فاطمہ بیبی زاروقطارروتے ہوئے اس کے نقوش کو اپنے لبوں سے چوم رہی تھی

میرا بچہ تو واپس آگیا ۔

وہ روتے ہوئے بولی ۔

آپ نے تو نہیں بلایا پر مجھے تو آنا ہی تھا وہ ان کے آنسو صاف کرتے ایک بار پھر سے انہیں اپنے گلے سے لگانے لگا ۔

جبکہ روح دروازے پر کھڑی ابھی بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی تو کیا یارم فاطمہ بی بی کے بیٹے