Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 41)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

دادا چھوٹے بڑے سب غنڈوں کو اپنے ساتھ ملا چکا تھا ۔ڈیول کو پل پل کی خبر مل رہی تھی۔

وہ سوچ رہا تھا کہ دادا نے ابھی تک کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا آخر اس کا کیا ارادہ ہے ۔

یار م کی سوچ کے مطابق اب تک دادا کو کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھانا تھا پر اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے وہ ڈیول کو نیچا دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک چلا جائے گا ۔

کہیں اس کا ارادہ روح کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرنے کا تو نہیں

دادا کیا سوچ کر چپ ہے ۔کہیں روح کو کوئی نقصان نہیں پہنچا نے والا ۔یا شاید کچھ اور ۔۔۔؟

مجھے روح کو جلد از جلد یہاں سے نکالنا ہوگا

مجھے سمجھ نہیں آرہایارم ہم یہ گھر کیوں چھوڑ رہے ہیں ۔

اس کے گھر میں بہت سارے لوگ تھے اس وقت ۔ان کا ضروری سامان پیک کر رہے تھے ۔

بےبی کیوںکہ میں نے اپنا گھر لے لیا ہے اور اب ہمہیں اس فلیٹ میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے

ہمارا گھر اس گھر سے برا ہے اور بہت آرام دہ ہے تم وہاں آسانی سے گھوم پھر سکتی ہو اب تمہیں اس دو کمروں کے اس چھوٹے سے فلیٹ میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔یارم نے پیار سے سمجھایا

کیا سچ میں ہمارا اپنا گھر ۔اس سے بڑا ہوا دار روح ایکسائٹمنٹ میں بولی تو پاس کھڑا شارف مسکرایا ۔

ہاں روح وہ اتنا بڑا ہے کہ ہم دونوں آرام سے بیڈمنٹن کھیل سکتے ہیں ۔

اور بھی بہت کچھ تمہارا یہ کتا بہت انجوائے کرے گا ۔

یہ کتا نہیں ہے اس کا نام شونو ہے روح نے منہ بنا کر بتایا ۔

ہاں نا وہی شونو میں بھی یہی کہہ رہا تھا غلطی سے منہ سے کتا نکل گیا وہ کیا ہے نا نام کوئی بھی رکھ لو نسل تو نہیں بدل بدلتی ۔شارف اپنی بات کو کور کرنے کے چکر میں اور الجھ گیا روح نے گھور کر دیکھا ۔

یعنی وہ اسے یہ کہنے کی کوشش کر رہا تھا تم چاہے جو بھی نام رکھ لو یہ کتا ہے اور کتا ہی رہے گا ۔

میرا مطلب ہے دنیا کا سب سے پیارا جانور تو کتا ہی ہے اور سب سے پیارے جانور کتے کا سب سے پیارا نام شونو جو دنیا کی سب سے پیاری لڑکی روح نے رکھا ہے ۔

یارم پاس کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا ۔

پھر ان دونوں کو ایسے ہی باتوں میں لگے دیکھ کر اس نے خضر کو مخاطب کیا جو ضروری سامان پیک کر رہا تھا

لیلی سے بات ہوئی تمہاری ۔۔۔؟۔وقتی طور پر اس پر بہت غصہ کر گیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس دن اس نے یارم کی بہت مدد کی روح کی حالت دیکھ کر یارم بہت پریشان ہو گیا تھا اسے اپنا ہوش بھی نہ رہا تھا اگر ایسے میں لیلیٰ اس کے پاس نہ ہوتی ۔تو شاید وہ اس سچویشن کو ہینڈل نہ کر سکتا

اس کی طبیعت ان دنوں کچھ ٹھیک نہیں ہے سو میں نے اسے آرام کرنے کے لیے کہا ہے ۔

اور وہ دوسری لڑکی معصومہ یارم نے پوچھا ۔تو شارف کے کان کھڑے ہوگئے ۔

معصومہ میڈم ضرورت سے زیادہ مصعوم ہے لیکن فکر مت کرو اس کی معصومیت تو میں نکالوں گا ۔فل حال تم دادا والا مسئلہ حل کرو صارم کو ہم بعد سنبھل لیں گے ۔

معصومہ کا صارم سے کیا تعلق شارف ان کے پاس کھڑا پوچھ رہا تھا ۔

ہم یہاں کام کرنے آئے ہیں ۔۔ تمہارا معصومہ نامہ سننے کے لئے نہیں ۔بہتر ہوگا کہ کام پر دھیان دو ۔تمہارے چہیتی آئی نہیں تم نے تو کال کرکے اسے یہاں بلایا تھا ۔خضر نے بات بدلنا چاہی

اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔شارف بس اتنا بول کر پھر سے روح کے کتے کے ساتھ کھیلنے لگا ۔

روح تمہیں خواب آتے ہیں اس کے پاس کھڑا پوچھنے لگا ۔

یارم اور خضر نے ہمیشہ کی طرح اس کی بےفضول بات پر گردن نفی میں ہلائی اس کا کچھ نہیں ہوسکتا خضربولا ۔

خواب تو سب کو آتے ہیں مجھے بھی آتے ہیں ۔کبھی کبھی تو بہت ڈراؤنے خواب آتے ہیں روح نے ہاتھوں سے ڈرا نہ چاہا تو یارم بے اختیار مسکرا یا ۔

تم نے خواب میں کبھی مجھے دیکھا ہے ۔میرا مطلب ہے اتنا ہینڈسم ۔شارف کی بات مکمل ہونے سے پہلے روح بول پڑی

نہیں ڈراؤنے خواب آتے ہیں اب اتنے بھی ڈراونے نہیں آتے اس سے پہلے کے شارف اس کے بات سمجھتا یار م اورخضر کا بے ساختہ قہقہ بلند ہوا ۔

اس نے ان کی طرف دیکھا اور پھر روح کو گھور نا چاہا لیکن وہاں اب کوئی نہ تھا ۔

پھر وہ خود بھی مسکرا دیا ۔

میری بہن بھی میری طرح ہے ۔ حاضر جواب ۔

ڈراؤنی ۔۔شارف کی بات ختم ہونے سے پہلے خضر بولا ۔

اوئے میری بیوی بہت کیوٹ ہے روح کی تعریف یارم برداشت نہ کر پایا

وہ تینوں مسکرائے اور اپنے کام پر لگ گئے

اگر وہ سب کچھ سن چکا ہے تو ابھی تک اسنے تمہارے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا ۔صارم اس وقت معصومہ سے بات کر رہا تھا

یہی تو مجھے سمجھ میں نہیں آرہا اگر ڈیول کو خضر نے سب کچھ بتا دیا ہوتا تو اب تک وہ مجھے گولی مار چکا ہوتا معصومہ واقع ہی بہت ڈری ہوئی تھی

تم گھبراؤ نہیں ۔میں خود اس سے بات کروں گا ۔بس اتنا پتا چل جائے کہ خضر کو کتنا پتہ چل چکا ہے ۔

تم سارا الزام مجھ پر لگا دینا کہ میں زبردستی تم سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

صارم نے پریشانی سے کہا ۔

نہیں صارم میں اپنے لیے تمہیں مصیبت میں نہیں ڈال سکتی ۔معصومہ پریشان تھی

تم پریشان مت ہو مجھے کچھ نہیں ہوگا میں سب سنبھال لوں گا ۔بس ایک بار میں اس لڑکی کو سب کچھ بتا دوں یارم کیسے کسی کی زندگی اس طرح سے برباد کر سکتا ہے

اس نے اس لڑکی کو اپنی بیوی بنا کے رکھا ہے اسے کچھ بتایا تک نہیں ہے

اسی لئے میں نے اس کی بیوی کو ٹارگٹ کیا ہے مجھے لگ رہا ہے کہ یارم اس کی بات ضرور سنئے گا ۔اگر وہ سچ میں اس سے پیار کرتا ہے تو اس کی بات وہ ضرور مانےگا ۔

صارم نے کہا ۔

لیکن صارم اگر روح کو سب کچھ پتہ چل گیا تو کیا گرنٹی ہے کہ بیچاری ڈیول کے ساتھ رہنا چاہیے گی مجھے تو لگتا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر چلی جائے گی یا شاید ڈیول سر روح کو مار نہ دیں معصومہ نے پریشانی سے کہا ۔

اگر وہ اس سے سچا پیار کرتا ہے تو اسے مارے گا نہیں اور نہ ہی وہ کسی بے گناہ کو مارتا ہے ۔

۔اور مجھے یقین ہے کہ روح یارم کو مجبور کر دے گی سیلنڈر کرنے پر ۔اور اگر ایک بار یارم ہمارے ہاتھ لگ گیا دبئی میں مافیا راج کا نام و نشان ختم ہو جائے گا اس وقت مافیا کا سب سے بڑا ڈان ڈیول ہے ۔

مجھے مافیا ورلڈ ختم کرنا ہے مجھے یہ گندگی ختم کرنی ہے معصومہ پلیز میری ہیلپ کرو میں کچھ غلط نہیں کر رہا اور میں اپنے وعدے کے مطابق تمہارے بابا کے قاتلوں کوڈھونڈنے میں تمہاری مدد ضرور کروں گا

یہ میرا وعدہ ہے تم سے ۔اب پریشان مت ہو اور آرام کرو ۔

صارم کا فون بند ہونے کے بعد بھی نجانے کتنی دیر وہ سوچتی رہی کیا وہ صحیح کر رہی ہے ۔جب روح کو یہ سب کچھ پتہ چلے گا تو وہ کیسا ری اکیٹ کرے گی روح کی تو زندگی برباد ہو جائے گی ۔

یارم اور وہ اس وقت اپنے نئے گھر میں تھے جو دوسرے گھر سے کافی برا اور ہوا دار تھا ۔

کیسا لگا ۔۔۔؟یارم نے روح کے پاس آکر پوچھا جب کہ شار ف اورخضران کا سامان اندر لے کے جا رہے تھے ۔

بہت اچھا ہے ۔۔ روح نے خوش ہو کر کہا

یارم مجھے ایک بات بتائیں آپ نے تو کہا تھا کہ وہ فلیٹ بھی آپ کا اپنا ہے تو اب آپ اس فلیٹ کا کیا کریں گے ہم تو یہاں آ گئے ہیں ۔ روح نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

وہاں اسلحہ سیورہے گا ۔ اس کی بات کا یار م نے تو کوئی جواب نہ دیا لیکن شارف خضر کے کان کے قریب بولا تھا ۔

خضر بے اختیار مسکرایا ۔

آئیڈیا برا نہیں ہے ۔ خضر نے آنکھ دبا کر کہا

جبکہ شونو صاحب اب یارم کے پیر کے ساتھ چپکے ہوئے تھے جس کی وجہ سے یارم بہت زیادہ اریٹیٹ ہو رہا تھا ۔

روح اسے پیچھے کرو ورنہ میں سے کک کر دوں گا ۔یارم نے سختی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

اف کتنے بے رحم انسان ہیں آپ ایک چھوٹے سے جانور کو لے کر ایسا کہتے ہیں ۔

روح اسے جانور مت بولو یہ تمہارا شونو ہے شارف نے دہائی دی۔ اور بھاگ کر باہر اور سامان لانے لگا ۔

جبکہ روح نے پیچھے سے اس کی پیٹھ کو گھورا تھا ۔

جیسا آپ کہیں گے ویسا ہی ہوگا ۔

آج جب ڈیول اپنے کام پر جائے گا ہم اس لڑکی کو اٹھا لیں گے ۔اور پھر ہم اس سے اپنے کام نکلوائیں گے ۔

اسے لگتا ہے کہ گھر چینج کرکے وہ لڑکی کو ہم سے بچا لے گا لیکن یہ صرف اس کی غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں ۔ہم اس پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں وہ کب کیا کرتا ہے سب کچھ ہمارے علم میں ہے

وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن ڈیول نے وہ ثبوت جو میرے آدمی کے خلاف اپنے پاس رکھا تھا وہ آگے پہنچا دیا ہے ۔

کل انڈین گورنمنٹ اسے سنٹرل جیل سیٹ کر دے گی مجھے کسی بھی حالت میں وہ ثبوت واپس چاہیے ۔

اور وہ لڑکی بھی جس کی وجہ سے اس نے میرا گریبان پکڑنے کی ہمت کی ہے ۔

دادا نے اپنے سامنے بیٹھے کہیں غنڈوں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔جو کسی نہ کسی وجہ سے یارم کے دشمن بنے ہوئے تھے ۔

اور اب اس سے بدلہ لینے کے لیے دادا کا ساتھ دینے سب سے آگے پہنچے تھے ۔