Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 57)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 57)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
رات کو روتے روتے نا جانے کب روح کی آنکھ لگ گئی ۔
یارم نے اسے زمین سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا ۔یارم روح کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا وہ اسے کبھی بھی نہ بتاتا کہ اس کی ماں نے اس کے ساتھ کیا کیا ہے ۔
لیکن اس کی بار بار پاکستان جانے کی ضد اسے مجبور کر گئی تھی ۔
اب شاید وہ پاکستان جانے کی بات نہ کرے۔
لیکن اس سے دور جانے کی کوشش ضرور کرے گی ۔اب وہ بنا ڈر و خوف کے اس سے کہتی تھی کہ اس کے ساتھ نہیں رہے گی ۔
اور یارم کو ہر حال میں اسے اپنے ساتھ رکھنا تھا ۔چاہے اس کیلئے اب اسے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ویسے بھی پیار اور جنگ میں سب کچھ جائز یے۔
صبح وہ یارم کے بالکل قریب سو رہی تھی ۔
یار م نے کسی تکیے کی طرح اسے خود میں بھیج رکھا تھا ۔
رات بے چینی میں گزر گئی اسے ایک سیکنڈ بھی نیند نہ آئی ۔
وہ اب بھی جاگ رہا تھا ۔
نماز کا وقت ہونے لگا تھا ۔روح نے یقیناً اگلے پانچ دس منٹ میں جاگ جانا تھا ۔
وہ ساری رات اس کے جاگنےکا ہی تو انتظار کرتا رہا ۔
وہ اس کی بیچینی بانٹنا چاہتا تھا ۔
اس کے خیال کے عین مطابق روح زرا سا کسمسائی ۔
اگلے ہی لمحے روح کو اپنے اوپر پر وزن محسوس ہونے لگا ساتھ ہی اپنے آپ کو اس کی نظروں کے حصار میں محسوس کیا اس نے جان بوجھ کر آنکھیں نہیں کھولیں ۔
یارم نے اس کی آنکھیں کھولنے کا انتظار کیا ۔
وہ اس کے اتنے قریب موجود تھا اس لیے شاید وہ اپنی آنکھیں نہیں کھول رہی تھی اس کی جاسوسن ادکارہ بھی تھی ۔یارم کے ڈمپل نمایاں ہوئے
یارم نے اس کے گال کی طرف دیکھا جہاں اس کی چار انگلیوں کے نشان واضح تھے ۔
وہ جب اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے روح ضرور ایسی کوئی بات کرتی کہ اس کا ہاتھ اٹھے ۔
کل رات بھی اس نے ایسا ہی کیا ۔
اور یارم کا ہاتھ اس کے چہرے پر چھپ گیا ۔
یارم نے بے ساختہ اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھے۔جانے کتنی دیر اپنے ہونٹوں کی پیاس بجھاتا رہا ۔اس کے سرخی مائل گال کے ہر نشان پر اس نے اپنے ہونٹوں سے مرہم لگایا ۔
اس کے اتنے قریب سے روح نے ذرا سا پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن یارم نے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا
روح نے سے دور ہٹنے کی کوشش کی بلکہ یارم تو اس کے چہرے کے نقوش میں کھو سا گیا تھا ۔
پھر روح نے باقاعدہ اس کی سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا ۔
پھر مسکرا کر اس سے دور ہوا وہ فی الحال اس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
اور اسے رات کی ہر سوچ سے دور رکھنا چاہتا تھا ۔یارم آہستہ سے اس کے قریب سے اٹھ کر سیدھا ہوا ۔
سویا دیکھ کر بالکل ہی فری ہو جاتے ہیں ۔روح بڑبڑاتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھنے لگی جبکہ یارم سن چکا تھا ۔
اگلے ہی لمحے یارم نے اسے کھینچ کر بیڈ پر گرایا اور خود اس کے اوپر آ گیا ۔
تو ایسا کہو نہ بےبی سوئے ہوئے پیار کر رہا تھا تو اچھا نہیں لگا جاگتے ہوئے پیار کرو ۔وہ اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے بولا اور اس کی سانس روک گیا ۔
جانے کتنی ہی دیر ہو اس کے لبوں پر جھکا اپنے آپ کو سیراب کرتا رہا ۔آج اس کا بخشنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
اس کے لبوں سے اپنے ہونٹ الگ کرتے ہوئے وہ اس کی گردن پر جھکا ۔
یارم پلیز مجھے نماز ادا کرنی ہے ۔روح سمجھ چکی تھی کہ اگر اب بھی کچھ نہ بولی تو یارم صبح صبح اس کے ہوش ٹھکانے لگائے گا ۔روح بڑی مشکل سے یہ الفاظ ادا کر پائی
یارم نے نظریں اٹھا کر ایک نظر اس کا چہرہ دیکھا۔ جہاں کسی قسم کی کوئی بے زاری نہ تھی۔
وہ اس کے قریب آنے پر کبھی بے زار نہیں ہوتی تھی اور یہ ہی چیز یارم کو پر سکون کرتی ۔ یارم نے اس سے فاصلہ قائم کرتے ہوئے منہ بنایا تو روح موقح دیکھتے ہی بھاگ نکلی۔
یارم نے ایک سرد آہ بھر کر واش روم کے دروازے کو دیکھا۔
یارم کے جانے کے بعد روح پہلے پورے کمرے میں ٹہلتے رہی ۔
یہ تو وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ آدمی اسے یہاں سے نکلنے نہیں دے گا ۔اور اب وہ جاتی بھی تو کہاں جاتی اس کی ماں نے تو اسے بیچ دیا ۔
لیکن کیوں کیا وہ اتنی بے مول تھی ۔
روح سوچتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی وہ اس کی سگی ماں نہ تھی لیکن وہ ماں تو تھی ایک ماں اپنی بیٹی کے ساتھ اتنی گری ہوئی حرکت کیسے کر سکتی ہے ۔
اگر اس کی جگہ اس کی اپنی تینوں بیٹیوں میں سے کوئی اور ہوتا تو کیا وہ اس کے ساتھ ایسا کرتی کبھی نہیں ۔
بیچنے کے لئے تو اس کے پاس سوتیلی بیٹی تھی ۔
جسے بیچنے کے بعد اس کو کوئی افسوس نہ تھا ۔
اگر یارم اس سے محبت نہ کرتا تو۔اس وقت کہاں ہوتی یہ سوچ بھی اس کے دل کے کہیں ٹکڑے کر رہی تھی ۔
یار م جیسے قاتل کے ساتھ جہاں اس کا رہنا ناممکن تھا وہی وہ اپنی ماں کے پاس بھی نہیں جا سکتی تھی ۔
اپنی بے بسی پر جتنا رو سکتی تھی روئی پھر اٹھ کر باہر آ گئی ۔
اگر یار م سب کچھ چھوڑ دیتا ۔تو اس کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرتی ۔لیکن اب نہیں یارم کبھی نہیں بدل سکتا تھا وہ ایک درندہ تھا ۔
اس لیے اس نے یارم کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔
روح کی زندگی میں یارم جیسے شخص کی کوئی جگہ نہ تھی ۔ وہ ایک قاتل کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی ۔
اسے بہت پیاس لگ رہی تھی وہ سیدھی کیچن میں آئی ۔ابھی اس نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی ہی تھی کہ سامنے ٹیبل پر اسے شفا کا فون نظر آیا جب کہ وہ دونوں باہر دھوپ میں بیٹھی تھی۔
روح نے جلدی سے فون اٹھایا ۔اور اپنے کمرے میں آئی ۔یارم کس طرح سے اس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ اس کے پل پل کی خبر رکھتا ہے ۔
اس کی چوری سے لے کر اس کے آفس روم تک جاکر ثبوت ڈھونڈنا ۔یارم کسی نہ کسی طریقے سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔
روح نے انتہائی احتیاط سے شفا کا فون اپنے ہاتھ میں چھپایا اور بیڈ کے سائیڈ سے اپنا فون اٹھایا ۔کیوں کہ اس کے پاس صارم کا نمبر اسی فون میں سیو تھا۔
اب روح کو کسی اسی جگہ جانا تھا جہاں شفا اور میری کی نظر سے بچ سکے۔
وہ باہر نکلی اور نظر چھت کی سڑھیوں پر پڑی اس سے پہلے وہ کبھی چھت پے نہیں گئی تھی۔ اس نے ایک نظر باہر لان کی طرف دیکھا ۔ جہاں وہ دونوں باتوں میں مصروف تھی۔ اور پھر اس نے آہستہ آہستہ سڑھیاں چڑنا شروع کیا تاکہ اس کے قدموں کی آواز باہر نہ جا سکے۔
چھت پے جا کے اس نے صارم کو فون کی ۔
انجان نمبر صارم نے سوچ سمجھ کر اٹھایا ۔
صارم پلیز مجھے یہاں سے نکالیں میں یارم کے ساتھ نہیں رہ سکتی وہ کبھی نہیں بدل سکتے روح نے روتے ہوئے کہا صارم کو بے ساختہ اس پر ترس آیا ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی اور یار م کے بیچ اس معصوم کے ساتھ کچھ غلط ہو ۔
وہ یہ تو سمجھ چکا تھا کہ روح اب اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتی اب ا سے یارم کے پاس رکھنا بے مقصد تھا ۔وہ اپنے مطلب کے لئے ایک معصوم کا استعمال نہیں کرسکتا تھا ۔
روح تم اس وقت کہاں ہو میں لوکیشن ٹریس کر کے وہاں پہنچتا ہوں تم بس وہاں سے نکلو ۔صارم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
لیکن صارم میں یہاں سے کیسے نکلوں میں تو چھت پے ہوں آپ سے چھپ کر بات کر رہی ہوں باہر لان میں وہ دونوں بیٹھی ہیں گاڑی کے قریب ڈرائیور کھڑا ہے باہر دروازے پر چوکیدار ہے میں یہاں سے نہیں نکل سکتی روح نے روتے ہوئے کہا ۔
اس کا مطلب تھا کہ روح کے ساتھ ہر وقت کوئی نہ کوئی تھا
چھت کے آگے پیچھے دیکھو کہیں تو کوئی جگہ ہوگی نکلے گی ۔صارم نے اسے سمجھا کر کہا تو وہ چھت سے آگے پیچھے وہاں سے نکلنے کی جگہ ڈھونڈنے لگی ۔
یہاں پر ایک چھوٹا سا دروازہ ہے جو باہر چھوٹی سی روڈ پے کھلتاہے ۔لیکن چھت اس سے بہت اونچائی پہ ہے میں وہاں نہیں پہنچ سکتی ۔روح نے بے بسی سے کہا ۔
روح فاصلہ اور اونچائی مت دیکھو ۔اگر تم یہ سب کچھ دیکھتی رہی تو وہاں سے کبھی نہیں نکل پاو گی تمہیں ہمت کرنی ہو گی۔ میں تمہاری لوکیشن پر پہنچاتا ہوں تم اپنا پارسپورٹ ویزہ اور کارڈ اٹھا لاو اگر ممکن ہو تو ۔صارم فون بند کر چکا تھا۔
روح ہمت جمع کی اور ایک بار پھر سے وہ دروازہ دیکھا ۔
وہ ُجلدی سے نیچے آئی شفاکا فون احتیاط سے اسی جگہ پر رکھا جہاں سے اٹھا کے لے گئی تھی ۔
وہ کمرے میں آئی اور کمرے کی سب کھڑکی دروازے بند کر دیے ۔پھر بیڈ پر لیٹ کر لائٹ آف کر دی ۔
اسے نے بڑی مشکل سے اندھیرے میں اپنا کارڈ ویزہ اور پاسپورٹ نکلا صارم نے اس سے کہا تھا کہ ضرور کمرے میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہے جس سے وہ ہر وقت تم پر نظر رکھتا ہے ۔
اس نے صارم کے آئیڈیا کے مطابق ہی کام کیا تھا ۔
وہ اپنی چیزیں اٹھا کر ایک بار پھر سے آ کر بیڈ پر لیٹ گئی ۔
روح نے سارے کاغذ اچھے سے چھپائے اور لائٹ آن کر کے بے زاری دیکھنے گلی۔ تاکہ وہ یہ دیکھانے میں کامیاب رہے کہ اسے نیند نہیں آ رہی اور وہ زبردستی سونے کی کوشش کر رہی ہے۔
پھر وہ منہ بناتی باہر نکل آئی۔ اور ایک بار پھر سے گھمنے لگی اور چلتے چلتے ایک بار پھر سڑھیاں چڑنے لگی۔
وہ چھت پے آئی اور اپنی سارم ہمت جمح کر کے آنکھیں بند کی اور چھت سے کود گئی۔
اچھی خاصی چھوٹ لگ گئی رونا بھی بہت آیا ۔
لیکن اس وقت اپنے رونے کا پلان کینسل کرتی وہ دروازے کی طرف آئی کودنے کی وجہ سے جسم کا ایک ایک حصہ درد کرنے لگا تھا ۔
وہ دروازہ کھول کر تیزی سے باہر کی طرف بھاگی ۔جہاں پیچھے اسے ایسا لگا کہ کوئی گاڑی اس کے پیچھے آرہی ہے پلٹ کر دیکھا تو صارم اپنی گاڑی کے ساتھ اس کے پچھے آ رہا تھا ۔
وہ بھاگ کراس کی طرف آئی اور اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی
روح تمہیں تو بہت زیادہ چوٹ لگی ہے اس نے روح کی کلائی دیکھتے ہوئے کہا جہاں سے خون نکل رہا تھا
چوٹ بہت زیادہ لگی ہے ہمیں پہلے ہوسپٹل چلنا ہوگا صارم نے فکر مندی سے کہا ۔
جبکہ وہ اپنے آنسو روکے صرف ہاں میں گر دن ہلا گئی
یارم اپنے آفس میں آیا جہاں لیلیٰ کو وہ بہت ہی ضروری کام دے کر گیا تھا ۔
لیلیٰ سب کچھ ٹھیک ہے نہ وہ اس کے قریب آ کر پوچھنے لگا جو اس کی سیٹ پر بیٹھی تھی اسے دیکھتے ہی اٹھ کر کھڑی ہوگئی
ہاں ڈیول سب کچھ ٹھیک ہے روح نے پہلے سونے کی کوشش کی مگر اسے نیند نہیں آئی تو پھر آگے پیچھے گھومنے لگی اور اب وہ چھت پر ہے
میرے خیال سے اسے اس وقت تک اگر چپاچپا یاد ہو چکا ہوگا لیلی نے مسکرا کر کہا ۔
یارم اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اسے دیکھنے لگا اسے وہ کہیں بھی نظر نہ آئی شاید وہ چھت پر تھی اور چھت پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگا تھا ۔اس نے شفا کا فون کر کے روح کو دیکھنے کو کہا ۔
کیونکہ چھت پر کوئی بھی ایسی چیز نہ تھی جیسے وہ نظارہ بنا کر دیکھ سکتی ۔
تھوڑی دیر کے بعد شفا نے گھبرا کے فون کرکے اسے بتایا کہ روح گھر پر کہیں نہیں ہے
میں تمہیں اس کے لیے معاف نہیں کروں گا صارم ۔یارم نے مٹھیا بھجیتے ہوئے کہا۔
خضر مائرہ کو اٹھا لاوْ۔ اب صارم کو میں اسی کے طریقے سے سمجاوں گا۔ یارم نے غضہ کنٹرول کر نے کی کو شش نہیں کی ۔
