Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 52)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 52)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
روح بار بار نظریں اٹھا کر یا رم کو دیکھ رہی تھی جو بالکل آرام و سکون سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا راستے میں ان کے دوران کوئی بات نہ ہوئی روح اس سے نظریں چرانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔
جبکہ دل سوکھے پتے کی طرح کانپ کہا تھا وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔
اس نے ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ پے بیٹھے ہوئے یارم کو دیکھا ۔اس کے چہرے پر بلکل بھی کوئی غصہ نہ تھا ۔
جب کہ بار بار روح کو اپنی طرف اس طرح سے متوجہ دیکھ کر مسکراتا
کیا ہوا بےبی تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا ۔اس نے فکر مندی سے پوچھا ۔
یارم اس پےکیا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ نہ تو ڈانٹ رہا تھا نہ اس پر غصہ ہو رہا تھا ۔
گاڑی اسی ہوٹل کے سامنے روکی جہاں وہ اکثر کھانا کھاتے تھے ۔
چلو بےبی بہت بھوک لگی ہے وہ اس کی سائیڈ کا دروازہ کھولے کھڑا اسے باہر آنے کو بولا
روح بھی بنا چوں چراں کے اس کے ساتھ آئی یار م نء لکھانا آرڈر کیا ۔
شروع کر بےبی دیکھنے کے لئے نہیں رکھا یارم نے مسکراتے ہوئے بولا ۔
پرسوں تیار رہنا عروہ اپنی بات کی بہت پکی ہے اگر ہم نہیں گئے تو خود آجائے گی لینے ۔یا رم نے مسکراتے ہوئے کہا
روح تم کچھ کھا کیوں نہیں رہی ۔اس بار وہ شوخی چھوڑ کر ذرا سیریس انداز میں بولا ۔
مجھے بھوک ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں ہے ۔روح نے جلدی سے کہا
کھانا کھاؤ ۔یارم سختی سے بولا
اس نے ایک نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
تمہیں سمجھ نہیں آرہا میں کیا کہہ رہا ہوں میں نے کہا کہ کھانا کھاؤ اس بار وہ غصے سے بولا۔
وہ پہلے ہی ڈری سہمی بیٹھی تھی اس کی سخت گھوری سے فورا کھانا کھانے لگی
جب تک وہ ٹھیک سے نہ کھاتی یارم اسے گھورتا رہا ۔
بےبی تم خود مجھے سختی کرنے پر مجبور کرتی ہو یقین کرو تم پر غصہ کرنا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا ۔
وہ مسکرا کر اسے کہہ رہا تھا جیسے روٹھی ہوئی بیوی کو منانے کی کوشش کررہا ہوں ۔
اب گھر چلیں لانگ ڈرائیو پر پھر کسی دن چلیں گے موسم خراب ہو رہا ہے کھانا کھانے کے بعد یارم نے کہاتو وہ اٹھ گئی
گھر آ چکا تھا وہ گاڑی سے اتر کر اندر چلی گئی ۔باہر بہت بارش ہو رہی تھی ۔جبکہ روح سمجھ نہیں پا رہی تو اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد یارم اتنا نورمل کیسے ہے
یارم کمرے میں آیا تو روح بیڈ پر بیٹھی تھی ۔
روح یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اس طرح سے بنا سویٹر بننا شال کے بیٹھی ہوسردی دیکھی ہے تم نے باہر کتنی ہو رہی ہے ۔
تم انتہائی درجے کی لاپرواہ لڑکی ہو اپنا نہیں تو میرا ہی خیال کرلو تمہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا ۔
وہ اسے ڈانٹتے ہوئے آگے بڑھا ۔
اور اسے بیڈ بر بیٹھنے کا کہتے ہوئے کمبل اس پر ڈالنے لگا ۔
سردی زیادہ ہونے لگی ہے اپنا خیال رکھو ۔
تمہیں کچھ ہوگیا تو پہلے ہی بہت بیمار ہو۔
وہ مسکرا کر کہتا ہے اس کی گود میں سر رکھ گیا ۔
اور اس کے ہاتھ اٹھا کر اپنے سینے پر رکھے ۔
بہت خاص ہو تم بہت خاص ۔آنکھیں بند کیے اس کا ہاتھ اپنے لبوں تک لے گیا ۔
یا رم وہ صارم۔روح نے اپنی صفائی کچھ کہنا چاہا
جب یارم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
صارم نے۔ ۔۔۔
شسش ۔میں نے پوچھا کچھ ۔۔۔؟ نہیں نا تو کیوں مجھے یاد لا رہی ہو کہ تم نے مجھے دھوکا دیا ہے ۔میں نے کب کہا کہ مجھے صفائی چاہیے ۔تمہیں لگتا ہے تم مجھ سے دور جا سکتی ہو ۔۔۔؟ میں تمہاری اس غداری کو تمہاری نادانی سمجھ کر بولنے کی کوشش کر رہا ہوں اور تم مجھے بار بار یاد دلارہی ہو ۔
اندازہ بھی نہیں ہے روح میرے ساتھ غداری کرنے والوں کا میں کیا حشر کرتا ہوں ۔میں تمہیں اس غلطی کی کوئی سزا نہیں دینا چاہتا ۔میں تمہیں خود سے بدگمان نہیں کرنا چاہتا ہوں ۔پلیز بار باران سب باتوں کا ذکر مت کرو میرے سامنے میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا روح
اس لیے بہتر ہوگا کہ مجھے یاد مت دلاؤ کہ تم نے میرے ساتھ غداری کی ہے ۔
میں بھول جانا چاہتا ہوں مجھے بھولنے دو ۔
آآ۔ ۔۔۔۔آپ کو پتہ۔۔۔۔۔ کیسے چلا ۔۔۔؟ روح پھر سے بولی ۔
میں نے کہا مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی ۔
لیکن مجھے۔۔۔۔۔۔ کرنی ہے ۔۔۔۔مجھے نہیں رہنا۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔مجھے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔یہاں سے ۔۔۔۔مجھے پاکستان ۔۔۔۔واپس آنا ہے ۔۔۔۔۔آپ کے ساتھ
چٹاخ۔ ۔۔مجھے چھوڑ کے جاؤ گی تم ۔ہمت کیسے ہوئی تمہاری ایسی بکواس کرنے کی ۔یارم کا زوردار تھپڑاس کے گال پر پڑا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ تھپڑ سے سنبھلتی یارم نے اس کےبال میھٹی میں جکڑ لیے
دوبارہ ایسی بکواس کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھنا میں تمہیں جان سے مار دوں گا لیکن مجھ سے دور نہیں جانے دوں گا ۔وہ اس کے منہ پر دہاڑا تھا ۔
نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ میرے نہیں رہنا مجھے کسی قاتل کے ساتھ ۔آپ قاتل ہیں۔ نہیں رہ سکتی آپ کے ساتھ ۔۔روح چلاتے ہوئے بولی تھی ۔
جب یار م نے اس کا ہاتھ تھاما اور گھسٹتے ہوئے بلکنی لے آیا
بارش اپنے زوروں پر تھی ُُ
یارم نے ایک جھٹکے سے اسے باہر بارش میں دھکا دیا ۔
تمہارے پاس آج رات کا وقت ہے میں تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں سنبھل جاؤ۔شاید یہ بارش تمہارے دماغ سے مجھ سے دور جانے کی اس سوچ کو دھو دے ۔یہ آخری موقع ہے تمہارے پاس اس کے بعد تم مجھ سے کسی قسم کی رعایت کی امید مت رکھنا ۔اس نے بلکنی کے شیشے کا دروازہ بند کردیا ۔
یارم کو کیسے پتہ چلا کہ روح کے پاس موبائل ہے ۔
وہ لڑکی ہی بیوقوف ہے ۔میں کیسے سوچ رہا تھا کہ عام سی لڑکی اس معاملے میں میری مدد کر سکتی ہے ۔
پتا نہیں یارم اس لڑکی کے ساتھ کیا کرے گا ۔
اور معصومہ نہ جانے وہ کہاں ہے ۔وہ مسلسل اپنے فون سے معصومہ کو فون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا ۔
پتا نہیں یہ دونوں لڑکیاں ٹھیک بھی ہوں گی یا نہیں ۔
اب اور کوئی چارہ نہ تھا ۔اس نےیارم کو فون کیا ۔
اور یارم نے پہلی بل پے ہی فون اٹھا لیا۔
یارم میری بات سنو اس سب میں روح کی کوئی غلطی نہیں ہے میں نے اسے کہا تھا ۔۔۔۔
تم نے اس سے کہا تھا کہ تم مجھے پھانسی کے پھندے سے بچائو گے ۔تم میری بیوی کو میرے اللہ خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔تم نے میری بیوی کو ڈال بنایا ۔تم نے میری بیوی کو میرے خلاف کر دیا ۔وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔ وہ مجھے چھوڑنا چاہتی ہے ۔صرف تمہاری وجہ سے ۔
اور اب وہ تمہاری غلطی کی سزا بھگت رہی ہے
میں نے تم سے کہاتھا صارم میری بیوی سے دس قدم کے فاصلے پر رہنا ۔میری فیملی کی طرف آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا ۔لیکن تم نے میری بات نہیں مانی ۔تم نے اچھا نہیں کیا صارم تم نے میری روح کو مجھ سے دور کردیا ۔تمہیں اس کا حساب چکانا ہوگا ۔
میں تمہیں اس کے لئے کبھی معاف نہیں کروں گا یا رم نے غصے سے کہتے ہوئے کہتے ہوئے فون کاٹ دیا اور پھر فون کو اٹھا کر دیوار سے دے مارا
اس لئے ایک نظر باہر دیکھا ۔جہاں وہ اندھیرے میں بارش کے بیچوں بیچ بیٹھی تھی ۔بارش سے بچنے کی کوئی جگہ نہ تھی ۔روح کو تکلیف پہنچا کہ وہ خود کتنی تکلیف میں تھا یہ صرف وہ جانتا تھا ۔
۔وہ اس وقت مکمل بارش میں بھیگی ہوئی تھی ۔
اس کا کانپتا وجود صاف نظر آرہا تھا ۔
وہ فرش پہ بیٹھی رو رہی تھی
یہ تمہارے لئے ضروری ہے روح تم چاہے ڈر کر میرے ساتھ رہو لیکن میرے ساتھ رہو ۔تمہاری زندگی میں سارے اوپشنز سے لیکن مجھ سے دور جانے کوئی اوپشن نہیں ہے
اس نے ایک نظراسے دیکھا اور کمرے کی لائٹ آف کر کے
۔وہ باہر نکل گیا ۔
لائٹ کی وجہ سے جو تھوڑی بہت روشنی باہر آ رہی تھی وہ بھی بند چکی تھی۔
یارم۔ ۔اس نے کانپتی آواز سے یا رم کو پکارا ۔لیکن اندر سے کوئی آواز نہ آئی شاید وہ سو چکا تھا ۔
یار م ۔۔۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔دروازہ کھولیں ۔۔۔۔اس نے شیشےکے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا ۔
اندر سے کوئی آواز نہ آئی ۔
وہ روتے روتے ایک بار پھر سے زمین پر بیٹھ گئی ۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے سردی رگیں چیڑ کے جسم میں داخل ہو رہی ہو۔
بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔اور سردی بڑھتی جا رہی تھی ۔اس لیے کئی بار دروازہ کھلنے کی کوشش کی۔اور کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی آواز نہ آئی ۔
یارم گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے یوں ہی کھڑا تھا ۔
بارش کسی پتھر کی طرح اس کے جسم پر برس رہی تھی۔
سردیوں کی بارشیں شروع ہو چکی تھی ۔
موسم بدل چکا تھا ۔پچھلے کچھ دنوں سے رات روز ہی بارش ہوگئی تھی ۔
جس کی وجہ سے سردی بہت بڑھ چکی تھی ۔
وہ کتنی دیر وہیں کھڑا بارش میں بھیگتا رہا وہ روح کی تکلیف کو محسوس کرنا چاہتا تھا ۔
وہ لوگوں میں سے نہیں تھا ۔جو اپنوں کو تکلیف میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔
وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اپنوں کو تکلیف دے کر خود اس تکلیف کو سہتے ہیں ۔
جب سے روح اس کی زندگی میں آئی تھیں وہ خوش رہنے لگاتھا اسے کوئی اپنا کہنے والا مل گیا تھا ۔وہ روح کو خود سے دور نہیں جانے دے سکتا تھا ۔
تمہیں لگتا ہے ۔مجھ سے دور جانا اتنا آسان ہے روح۔ تم میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو ۔تمہیں یہ احساس دلانا پڑے گا کہ تمہیں بھی تمہاری غلطی کی سزا ضرور ملے گی ۔
اور مجھے یقین ہے ۔کل صبح مجھے میری روح واپس مل جائے گی ۔جس کے دل میں مجھ سے دور جانے کی خواہش نہیں رہے گی ۔
اور اگر ایسا نہ ہوا تو تمہیں اور سزا ملے گی ۔
رہنا تو تمہیں میرے ساتھ ہی پڑے گا ۔
ایسے نہیں تو ویسے ہی ۔
رات نہ جانے کون سے پہر کمرے میں واپس آیا ۔اس نے لائٹ اون کی ۔تو دیکھا بلکنی کے دروازے کے ساتھ روح آنکھیں بند کی ہوئی بیٹھی ہے ۔
اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔
یارم تیزی سے دروازے کی طرف آیا
اس نے دروازہ کھولا اس کے اپنے سارے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔
روح ۔۔۔اس نے روح کو پکارا ۔
روح ۔۔۔آنکھیں کھولو روح۔ ۔۔یارم نے اس کا گال تھپتھپایا ۔لیکن وہ کچھ نہ بولی ۔
یارم کو اب اس کی فکر ہونے لگی
شاید وہ نیم بےہوش تھی ۔وہ اسے احتیاط سے اٹھا کر ڈریسنگ روم میں لایا ۔
اس کے کپڑے بدل کر ٹاول سے اس کے بال سکھانے لگا ۔
اسے بیڈ روم میں لا کر بیڈ پر لٹایا ۔
کافی دیر اس کے قریب بیٹھا اس کے ہاتھ پیر سہلاتا رہا
کچھ دیر بعد یارم کو وہ بہتر لگی
چھوٹی سی جان ہو اور اتنا تھگ کرتی ہو ۔
اس کا ماتھا چومتا وہ واپس ڈریسنگ روم میں آکر اپنے کپڑے بدلنے لگا ۔
اس کے قریب آ کر اسے اپنے سینے میں بھیج کر لیٹ گیا ۔
یقیناً اب تک تمہاری عقل ٹھکانے آ چکی ہوگی ۔
وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا ۔
