Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 80)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

روح یارم کااعتبار توڑ کے باہر آ گئی تھی ۔

اس کا دل چاھا پھوٹ پھوٹ کر روئے لیکن وہ جانتی تھی جس کا اعتبار توڑکے وہ باہر آئی ہے وہ اسے چپ کروانے نہیں آئےگا

لیکن اس کے پاس یارم کو بدلنے کا آخری موقع تھا کسی بھی طرح سے اسے اک عام زندگی دینی تھی اسے یارم کو ایک عام زندگی دینی تھی ایک عام انسان بنانا تھا ۔

نجانے کتنے لوگوں کی زندگی چھننی تھی

یار م آپ تو کہتے ہیں کہ جو کام کرتے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے لیکن جان لینا کب سے ٹھیک ہونے لگا ۔

وہ ایک قاتل تھا اور اسے یارم کوزندگی دینی تھی

جیسی وہ چاہتی تھی آج اس نے یارم کا دل دکھایا اس کا اعتبار توڑ کے باہر آئی ۔

وہ جانتی تھی شاید یارم ا سے اس غلطی کے لیے کبھی معاف نہ کرے ۔

لیکن اس نے سوچ لیا تھا اب وہ واپس آنے کی یہ ہی شرط رکھے گی کہ یارم کو یہ کام چھوڑنا پڑے گا ۔

وہ دوسرے کمرے میں آ کر لیٹ گئی نیند تو ان دونوں کو نہیں آنی تھی ۔

کیونکہ آج ان دونوں کا دل برباد ہوا تھا

ساری رات وہ ایک سیکنڈ کو بھی نہ سویا اور صبح روشنی ہوتے ہیں خضر اس کا ویزا اور پاسپورٹ لے کے آیا تھا ۔

شاید روح نےاسے یہ سب کچھ کرنے کے لئے کہا تھا ۔

۔وہ ایسے ہی کمرے میں لیٹا تھا جب روح کمرہ کھول کے اندر آئی

بنا اسے دیکھے اپنا سامان پیک کرنے لگی وہ خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا لیکن روح نے ایک نظر اس پر نہ ڈالی ۔

اس کے سامنے اس نے اپنا سارا سامان پیک کیا ۔

باہر شاید خضرکے علاوہ کوئی بھی نہ تھا اسی لئے اور کوئی آواز سنائی نہ دے رہی تھی لیکن جب روح نے باہر جا کے کہا کہ معصومہ شونو میں تمہارے حوالے کر کے جا رہی ہوں اس کا بہت خیال رکھنا ۔

یارم کو پتہ چلا کہ وہ چاروں باہر ہیں ۔

لیکن شاید وہ بھی اس کی طرح اس کے جانے کا غم منا رہے ہیں ۔

وہ آہستہ سے اٹھ کر باہر آیا ۔روح نے ابھی بھی اس کی طرف نہ دیکھا ۔

لیکن خضر نے ایک نظر دیکھا اور دوبارہ نہ دیکھ پایا ۔

ایک ہی رات میں اس کی کیا حالت ہو گئی تھی اس کی آنکھیں اس کے رات بھر رونے کی چغلی کر رہی تھی ۔

شارف کا دل چاہا کہ ابھی جا کے اس کے سینے سے لگ جائے اس کی حالت دیکھ کر اسے اپنا دل پھٹتا ہوا محسوس ہوا ۔

نہ جانے اس نازک سی لڑکی کو اس پر ترس کیوں نہیں آرہا تھا ۔

وہ محبت کے سارے مرحلے طے کرچکا تھا وہ عشق کی آخری سیڑھی پر کھڑا تھا ۔

لیکن اس کا ساتھ دینے کے لئے روح تیار نہ تھی ۔

خضر کو لگا کہ اب بھی روح یہاں سے نہ نکلی تو یار م اسے کبھی نہیں جانے دے گا ۔ہمیشہ کے لئے قید کرلے گا ۔

چلو روح ۔

اس نے کہتے ہوئے روح کا بیگ تھاما اور باہر نکل گیا جبکہ خضر کے پیچھے وہ تینوں بھی باہر نکل گئے تھے ۔

جب روح کو اپنے پیچھے سے کسی کا حصار محسوس ہوا ۔

میں تو ایک ہی رات میں تمہارے بغیر تھک گیا کس کے بھروسے چھوڑ کے جا رہی ہو مجھے ۔

روح کو اپنا کندھا پھر سے بھیگتا ہوا محسوس ہوا تو اس کے حصار سے نکل کر باہر چلی گئی ۔

یارم نے اپنا فون نکالا تھا ۔

فرقان کو بول دو کہ اپنی قبر تیار کروا لے کیونکہ اس کے پیچھے کوئی نہیں ہے جو اس کے لیئے قبر بنوائے گا بس اتنا کہہ کر وہ فون بند کر چکا تھا ۔

پھر باہر آیا ۔

روح کے ساتھ وہ چاروں ایئرپورٹ چھوڑنے جارہے تھے ۔

خضر اسپیشل سروسز رکھوانا اسے ڈر لگتا ہے ۔

وہ خضر کو کہہ کر پیچھے ہو گیا تھا ۔

جبکہ روح اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہ کر سکی ۔

اس نے بہت ہمت سے یہ فیصلہ کیا تھا اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایک بار اگر اس نے یارم کی نظروں میں دیکھ لیا تو دوبارہ کبھی اسے یہ موقع نہیں ملے گا

اسےنہیں لگا تھا کہ اسے ایئرپورٹ پر صارم ملنے آئے گا صارم تو جانتا بھی نہیں تھا کہ وہ پاکستان جانے والی ہے

تو تم جا رہی ہواسے چھوڑ کے صارم نے پوچھا ۔

آپ کو تو خوش ہونا چاہیے نجانے کیوں روح تلخ۔ ہوئی

اگر مجھے تب اندازہ ہوتا نہ وہ تم سے کتنی محبت کرتا ہے تو میں اس سے اس کی زندگی چھنینے کی غلطی کبھی نہ کرتا بہت سستی نہیں نکلی تمہاری محبت ۔۔۔؟

خیر خوش رہو ۔صارم بھی اسی کے انداز میں بولا ۔

ایرپورٹ پے وہ اپنی فلائٹ کا اناوسمنٹ کا انتظار کرنے لگی۔

جانتی ہو روح میں نے کبھی سوچا نہیں تھا میری بھی فیملی ہوگی بہت چھوٹی سی عمر میں مجھے ایک کلب میں بیچ دیا گیا دبئی کے ہر کلب کا ایک رول ہے جب تک لڑکی 18 سال کی نہ ہوجائے اسے کسی کے سامنے بیچا نہیں جاتا ۔ اسے امید نہ تھی کہ لیلیٰ اس سے اس طرح سے کوئی بات کرے گی ۔

وہ خاموشی سے سننے لگی ۔

مجھے کمپیوٹر کی اے ٹو زیڈ ہر چیز جانے کا شوق تھا مجھے جنون تھا کہ میں کسی کے بھی کمپیوٹر میں جا کر اس کی ہر چیز کو ہینڈل کروں۔

میں سکھنے بھی لگی تھی ۔

کہ مجھے بیچ دیا گیا کمپیوٹر سے عشق کرنے والی لڑکی ایک کلب میں ڈانس کرتی تھی ۔

سارا دن ناچنے کے بعد ہمیں صرف اتنے پیسے ملتے تھے کہ ایک وقت کا کھانا کھا سکے ۔

ایسے میں میرا کمپیوٹر آپریٹر بننے کا خواب ادھورا ہی رہ گیا ۔لیکن پھر بھی میں نے کمپیوٹر سے کبھی دوری نہیں بنائی یہ میرے شوق تھا جسے میں نے ہر قیمت پر پورا کرنا تھا ۔

ایک دن وہ کلب بند ہوگیا سب لڑکیوں کو آزادی مل گئی جانتی ہو وہ آزادی کس نے دلوائی تھی تمہارے یار م نے۔ اور پھر اس نے مجھے اپنے ساتھ کمپیوٹر ہیکنگ کے کام پر رکھ لیا ۔

اس نے صرف میری عزت نہیں بچائیں اس نے میرے خواب ٹوٹنے سے بچائے تھے ۔

میں یہ نہیں کہتی کہ یارم صحیح ہے وہ غلط ہے ساری دنیا کے لئے غلط ہوگا لیکن وہ تمہارے لئے غلط نہیں ہے اس نے تم سے محبت نہیں کی روح اسنے تم سے عشق کیا ہے ۔

میں یہ نہیں کہتی کہ تم ابھی میرے ساتھ واپس چلو لیکن پلیز واپس آ جانا وہ تمہارے بغیر مر جائے گا ۔

لیلیٰ خاموش ہو چکی تھی جب اسے شارف کی آواز سنائی دی ۔

میں گیارہ سال کا تھا میرے موم ڈیڈ کا ڈائیورس ہوگیا ۔

دونوں کو میری ضرورت نہیں تھی دونوں نے الگ الگ شادی کرلی ۔

اور مجھے بھول گئے ۔

میرے کچھ دوست تھے جو مجھے اپنے ساتھ ایسی جگہوں پر لے کے جاتے جہاں وہ لوگ مجھے آہستہ آہستہ نشے کا عادی بنانے لگے ۔

جس کے بعد اکثر وہ اپنے کام مجھ سے نکلواتے ۔

میں ایک ڈراپ کے لئے چوریاں کرنے لگا ۔نشے کی لت اس حد تک بڑھ گئی کہ میں کسی کا قتل کرنے کو بھی تیار تھا ۔

اسی طرح ایک دن مجھے یار م ملا ۔

اور میں نے اسے قتل کرتے ہوئے دیکھا ۔میں نے اس سے کہا کہ مجھے بھی پستول دو میں بھی کسی کو بھی مار دوں گا اور بدلے میں تم مجھے پیسے دینا جانتی ہو یارم نے مجھے کیا دیا ۔

رائٹ گال پہ طمانچہ اور ایک طماچے سے ہی میری عقل ٹھکانے لگ گئی شارف مسکرا کر بولا تھا ۔

پھر میں نے اس کی منتیں کی کہ پلیز مجھے اپنے ساتھ رکھ لو میرا کوئی نہیں ہے ۔

تو جانتی ہو اس نے کیا کہا ۔

اس نے کہا کہ آج کے بعد مت کہنا تمہارا کوئی نہیں ہے میں ہوں تمہارا ۔

شارف ابھی بھی مسکرا رہا تھا ۔

وہ ہوگا سب کے لئے برا لیکن تمہارے معاملے میں اس سے اچھا اور کوئی نہیں ہے یارم سے زیادہ تمہیں اور کوئی پیار نہیں کر سکتا ۔

جانتی ہو روح انہوں نے میری سب سے بڑی غلطی معاف کر دیں میں ان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر انہیں دھوکا دینے لگی تھی شارف کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ معصومہ بول اٹھی ۔

لیکن انہوں نے کہا کہ میں ان کی فیملی ہوں ۔اس کے دوست کی بیٹی ہوں وہ مجھے سڑکوں پر رولنے کے لئے نہیں چھوڑ سکتے

وہ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتے نہ جانے کیا سوچ کے مجھے معاف کر دیا

لیکن روح تمہاری ہر غلطی معاف کرسکتے ہیں وہ تمہاری یہ غلطی بھی معاف کر دیں گے پلیز واپس آ جانا ۔معصومہ بہت آہستہ آہستہ بول رہی تھی

اب سب جاؤ تم لوگ ۔۔۔ مجھے روح سے کچھ دیر کے لیے بات کرنی ہے خضر نے سب کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ لوگ خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے ۔

آپ کی کہانی میں پہلے ہی سن چکی ہوں خضر بھائی وہ اس کے قریب آ کر بیٹھا تو وہ کہنے لگی

چلو ایک بار پھر سے سن لو شاید اس بار تمہیں میری کہانی اچھی نہ لگے ۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ واپس آ جانا مت جاؤ یار م تمہارے بغیر مر رہا ہے ۔

بس اتنا کہوں گا کہ تمہارے ماموں نے وعدہ کیا ہے کہ اس کی بھانجی واپس ضرور آئے گی اور اگر تم نے اپنے ماموں کا وعدہ توڑا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا ۔

خضر نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے سے دیکھ کر کہا تو روح بےیقینی سے دیکھنے لگی ۔

وہ تیرہ سال کا تھا جب اس نے پہلی بار اپنے باپ کا قتل کیا تھا

اس کا باپ اس کی ماں کو کسی اور کے بستر پر بھیج رہا تھا اور یار م کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ اس کی ماں کی عزت کو اس طرح سے برباد کیا جائے ۔

میری بہن کو بیس ہزار میں بیچا گیا تھا اور اس بیس ہزار کی قیمت وہ ہر روز دن رات تمہارے باپ کی مار کھا کے چھکاتی

تمہارا باپ دن رات جانوروں کی طرح اسے مارتا تھا اور ہر رات کو استعمال کرتا ۔

اور پھر وہ جب ماں بننے والی تھی تو اس کا علاج تک نہیں کروایا ۔محض سولہ سال کی تھی تمہاری ماں جب تمہیں جنم دیتے ہوئے مر گئی ۔

اور تمہیں لاکر تمہاری سوتیلی ماں اور اس کی بیٹیوں کے سامنے پھینک دیا

اور انہیں ایک نوکر کی ضرورت تھی جو میری صورت میں انہیں مل گیا ۔

وہ لوگ دن رات مجھ سے کام کرواتے صرف تمہاری ایک جھلک دکھانے کے لئے میں دن رات تمہیں ایک نظر دیکھنے کے لیے پاگلوں کی طرح دوڑتا اور اپنا کام نکلوا کر وہ مجھے گھر سے باہر پھینک دیتے سارا دن ساری رات میں گھر سے باہر سردی میں تڑپتا رہتا

کوئی نہیں تھا پوچھنے والا ۔

جس دن یار م قتل کرکے گھر سے بھاگا میں بھی اس کے پیچھے بھاگ آیا ۔

وہاں سے بھاگ کر ہم ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں دو لڑکے ایک لڑکی کو زیادتی کا شکار بنا رہے تھے ۔

میں نے اسے پتھر مارا اور یارم نے اسے اپنا چاقو دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے سامنے ایک لڑکا مر گیا اور دوسرا بھاگنے لگا یار م نے مجھے آرڈر دیا کہ اسے بھاگنے مت دینا اور میں نے اسے بھاگنے نہیں دیا اور اس کے بعد میں آج تک اس کے آرڈرز فولو کر رہا ہوں ۔

یہ کہتے ہوئے مجھے شرم نہیں آتی کہ میں یارم کا آدمی ہوں

ہم دونوں ایک سمندر کے پاس پہنچے تو وہاں کچھ لوگ چوری سے دبئی جارہے تھے انہیں میں صدیق اور صارم بھی تھے صارم یتیم لڑکا تھا جسے صدیق اپنے ساتھ لے کے جا رہا تھا اور جب اسے پتہ چلا کہ ہم بھی یتیم ہیں تو وہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے گیا

ہمیں نہیں پتا تھا کہ صدیق وہاں کیا کام کرتا ہے لیکن اس نے ہمیں بہت اچھے سکول میں ڈالا تھا ہماری اچھی تعلیم کا خیال رکھنے لگا میں نے اسے بتایا کہ میں یہاں پر بہت پیسہ کما کے تمہیں اپنے ساتھ لے کے آؤں گا ۔

صدیق نے میری بہت مدد کرنے کی کوشش کی لیکن ایک دن ہمیں پتہ چلا کہ وہ یہ کام کرتا ہے وہ دبئی کے ڈان کے آگے کام کرتا ہے ۔

صارم پندرہ سال کا تھا جب اسے پتہ چلا کہ صدیق یہ کام کرتا ہے تو وہ ہمیں چھوڑ کر ایک یتیم خانے میں چلا گیا اور وہیں اپنی پڑھائی مکمل کرنے لگا ۔

اسے یہ سب کچھ غلط لگتا تھا لیکن مجھے اور یارم کو یہ سب کچھ بالکل ٹھیک لگتا تھا کیونکہ جو مقصد ہم نے پورا کرنا تھا وہ بس اسی کام سے پورا ہو سکتا تھا اور ہمارا مقصد تھا کہ ہم کسی بھی عورت کو استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔

اورہم نے اپنا مقصد پورا کیا 16 سال کی عمر میں یارم نے اس ڈان کو قتل کردیا اور خود اس کی جگہ بیٹھ گیا ۔

اس کے بعد سےیارم دبئی کا ڈان ہے اور میں اس کا سب سے خاص آدمی مجھے فخر ہے یہ بات کہنے میں ۔

خضر ابھی بول رہا تھا کہ روح کی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہوگئی ۔

جاوروح تم یارم کو اس لیے چھوڑ کے جا رہی ہو کیونکہ وہ ایک قاتل ہے ۔کیونکہ وہ ایک غنڈہ ہے لوگوں کی جان لیتا ہے لیکن مجھے فخر ہوتا ہے یہ کہنے میں کہ میں اس کا آدمی ہوں۔

تمہیں اپنی بھانجی بنا کر اس دن گلے لگاؤں گا جب تم یارم کے پاس واپس آو گی ورنہ یہی سوچوں گا کہ تم میرے دوست کا دل دکھانے والی ایک عام سی لڑکی ہو مجھے میری بھانجی کبھی ملی ہی نہیں تھی خضر جا چکا تھا جبکہ روح آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی جہاز کی طرف جانے لگی ۔

اور یہ وہ وقت ہے جب وہ سہی اور غلط میں فرق نہیں کر پا رہی تھی