Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 60)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

صارم کو خضر نے واپس کر بھیج دیا تھا اور مائرہ کا کوئی اتا پتا نہ تھا ۔

صارم کو بس یہ پتا تھا کہ اس کی بیٹی پروبلم میں ہے ۔

وہ لوگ کبھی بھی اس کی بیٹی کی جان لے سکتے ہیں ۔

یا رم کے ساتھ جتنا وہ کر چکا تھا اس کے بعد یارم اس کی مدد کرتا یہ بات بالکل ناممکن تھی وہ تو اب پچھتا رہا تھا کہ وہ روح کو واپس چھوڑ آیا ۔

کیوں کہ روح کو واپس چھوڑنے کے بعد بھی ان لوگوں نے مائرہ کو اس کے حوالے نہ کیا تھا ۔

عروہ کی طبیعت خراب تھی اور ایسے میں وہ بار بار صرف اپنی بیٹی کا نام لے رہی تھی ۔

صارم کے پاس اس کے کسی سوال کا کوئی جواب نہ تھا ۔

فی الحال تو صرف اور صرف یار م کی منتیں کر سکتا تھا ۔

لیکن اس کے لیے بھی یار م اس کا فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔

ڈاکٹر نے روح کے بازو کی ٹھیک سے ڈریسنگ کی تھی سب کچھ ٹھیک تھا اس کی ہڈی ٹوٹنے سے بچ گئی تھی ۔

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر اسے ہدایات بتا کر چلا گیا

مائرہ ٹھیک ہے مائرہ اور صارم واپس چلے گئے روح نے شارف کے پوچھا

جب کہ اس وقت وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی

شارف نے ایک نظر خضر کو دیکھا ۔

شارف کے اس طرح خضر کو دیکھنے پر روح کو پھر سے غصہ آنے لگا تھا

آتو گئی ہوں میں واپس اب چھوڑ دو خدا کے لئے اس معصوم کو یہی چاہتے تھے نہ تم لوگ آگئی ہوں میں یہاں واپس ۔روح غصے سے چلاتے ہوئے بولی ۔

کوئی احسان نہیں کیا ہے تم نے واپس آکر اپنی شوہر کے گھر واپس آئی ہو ۔

اور اپنا یہ ایٹیٹیوڈ ذرا کم کرو جن لوگوں کے پاس جا رہی تھی نہ اس گھر میں تمہاری کیا اوقات ہے اچھے سےجانتے ہیں ۔خضر غصے سے بولا ۔

خضر بس کرو وہ پہلے ہی تکلیف میں ہے ۔یارم جیسے تڑپ اٹھا ۔

ہاں بےبی تم فکر مت کرو مائرہ کو ہم نے صارم کے ساتھ واپس بھیج دیا ہے ۔

مائرہ اب بالکل ٹھیک ہے ۔وہ خضر کو گھورتے ہوئے بولا تو خضر کمرے سے باہر نکل گیا ۔

شارف کھانا بھیجو روح کے لئے ۔اس نے شارف کو کہا تو وہ فورا کمرے سے باہر نکل گیا

شارف دروازے سے ہی کھانا دے کر چلا گیا یارم روح کے لیے کھانا لے کر آیا تو اس نے منہ پھیر لیا ۔

وہ نا اس سے کوئی بات کر رہی تھی اور نہ ہی کھانا کھا رہی تھی۔

یارم اپنا غصہ کنٹرول کرے ابھی بھی اسے پیار سے منانے کی کوشش کر رہا تھا ۔

اگراس کی جگہ کسی اور نے یہ حرکت کی ہوتی کی یارم اس کا کیا حال کرتا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔

پلیز کھانا کھالو کب تک بھوکی رہوگی میری جان پلیز کچھ کھا لو

اس بار جب روح نے اس کا ہاتھ جھٹکا تو بھی اپنا کنٹرول کھو بیٹھا ۔اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا ۔

میرا دماغ خراب ہے جو میں کب سے پیار سے منانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔

میں مزید نخرے نہیں برداشت کرسکتا ۔شرافت سے کھانا کھاؤ ورنہ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا اس نے روح کے چہرے کو دیکھا جہاں وہ اپنے چہرے پر رکھے بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

یارم نے اس کے گال پہ ہاتھ رکھا وہ اس پے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا تھا وہ اپنے آپ پر جتنا کنٹرول کر رہا تھا روح اتنا ہی اس کے غصے کو ہوا دے رہی تھی

یارم محبت سے اس کے گال کو سہلا رہا تھا جب روح اسے دیکھنے لگی

ایسے مت دیکھو تمہیں سمجھ نہیں آرہا میں کہہ رہا ہوں ایسے مت دیکھو مجھے ۔نجانے وہ کیسی نظروں سے دیکھ رہی تھی یارم اس سے نظریں تک نہیں ملا پا رہا تھا ۔

پلیز مت کرو میرے ساتھ اس طرح میں کبھی اتنا بے بس نہیں ہوا جتنا تمہارے سامنے

بہت پیار کرتا ہوں تم سے خدا کے لیے میری بات مان لو ۔کہی نہیں جا سکتی تم یہاں سے ۔کتنی زیادہ چوٹ لگی ہے تمہیں ۔وہ اس کا بازو تھامتے ہوئے بولا ۔

اوچ۔۔۔۔۔۔۔روح نے فوراً بازوچھڑاتے ہوئے آہ بھری۔

دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا کیا کر رہی ہو درد ہوگا ۔یارم نے بے اختیار اس کا بازو تھاما ۔

نہیں ہورہا مجھے درد آپ دے رہے ہیں مجھے درد بار بار میرے سامنے آ کر میرے ساتھ زبردستی کر کے نہیں رہنا چاہتی میں آپ کے ساتھ کیوں زبردستی کر رہے ہیں میرے ساتھ ۔نہیں کھانا مجھے کھانا ۔چلے جائیں آپ یہاں سے اس وقت سب سے زیادہ مجھے تکلیف آپ کو دیکھنے سے ہورہی ہے ۔روح کہتے ہوئے رونے لگی

پلیز چلے جائیں ۔۔۔

روح میں چلا جاؤں گا پلیز تم کھانا تو کھا لو ۔یارم نے جیسے مینت کی تھی ۔

کچھ نہیں کھانا مجھے لے جائے اسے یہاں سے پلیز چلے جائیں یہاں سے میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے آگے وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی

یارم ایک آخری بار اسے دیکھتا کمرے سے باہر نکل گیا

وہ کمرے سے باہر نکلا تو خضر غصے سے باہر ٹہل رہا تھا

بہت بڑا کر رہے ہو یارم تمہیں اس کو سزا دینی چاہئے اسے تاکہ وہ دوبارہ ایسی غلطی کرنے کے بارے میں نہ سوچے لیکن تم تو پیار سے ٹریٹ کر رہے ہو ۔

ہاں سزا دوں تاکہ وہ مجھ سے بدگمان ہو کر مجھے ہمیشہ کے لئے چھوڑکر چلی جائے ۔یارم کے لہجے میں ڈر تھا ۔

اس طرح سےٹریٹ کرنے سے کیا وہ ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی نہیں یارم۔ تم پر یہ نرمی سوٹ نہیں کرتی ۔

تم شیطان ہو شیطان رہو فرشتہ بننے کی ضرورت ہے ۔

جتنا اچھا بنو گے روح اتنی تم سے دور جائے تمہارانرم لہجہ اسے خود سر بنا رہا ہے ۔

تم جتنا اسے پیار سے بات کرو گے وہ اتنے تم سے دور ہو گی کیونکہ اس کے دل میں تمہارا ڈر ختم ہوچکا ہے ۔

یاد رکھنا یارم روح تمہارے ڈرسے تمہارے پاس رہ سکتی ہے ۔لیکن تم سے پیار کر کے وہ کبھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ اس کی دنیا الگ ہے تم سے ۔

اور وہ اپنی دنیا میں واپس جانا چاہتی ہے ۔

اگر مجھ پر یقین نہیں ہے تو پیار سے آزما لو ورنہ جو ہو وہی بن کر دکھاؤ

تم جو اس کے سامنے بننے کی کوشش کر رہے ہو تم نہیں ہو یا رم کم از کم اپنی محبت کے لیے اپنا آپ مت چھپاؤ

۔وہ اسے آئینہ دکھاتا باہر نکل گیا ۔