Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 79)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 79)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
روح مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی ۔
اور نہ ہی میں اسے کہیں جانے دوں گا ۔
تم نے کیا سوچ کے اس سے وعدہ کیا خضر اب وہ اس کا گریبان پکڑ کے کھڑا تھا ۔
کیا تم نے اس وعدہ کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھا تھا نہیں نہ ۔
میری روحمجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی اور نہ ہی میں اسے کہیں جانے دوں گا ۔
میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو کچھ نہیں سمجھنا مجھے وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ۔
دیکھو یارم ۔۔۔کچھ نہیں دیکھنا مجھے وہ پھر سے دھاڑا تھا اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ وہ مجھے چھوڑنے کی بات کر رہی ہے میں خود اس سے جاکر پوچھتا ہوں ۔
یارم روح کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب خضر نے اسے پکڑ لیا ۔
دیکھو میں جو کہہ رہا ہوں سمجھنے کی کوشش کرو روح کو وقت چاہیے ۔
اتنی بڑی حقیقت قبول کرنا اس کے لئے مشکل ہے ۔
وہ اس بات کو قبول نہیں کر پا رہی کہ وہ بنا نکاح کے ڈھائی مہینے تمہارے ساتھ رہی ہے ۔
دیکھو یارم ہر بار تمہاری نہیں چلے گی تمہیں روح کی بات سمجھنی نہیں پڑے گی ۔
خضر نے اسے سمجھانا چاہتا ۔
اچھا۔۔۔۔ یار م طنزیا مسکرایا ۔
اب مجھے سمجھنا چاہیے ۔صحیح کہہ رہے ہو یار مجھے سمجھنا چاہیے وہ مجھے چھوڑ کر جانے کی بات کر رہی ہے اور تم مجھے سمجھا رہے ہو
تمہیں جو بھی کرنا ہے کر لو حضر وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گی میں اسے کہیں جانے نہیں دوں گا وہ غصے سے کہتا کمرے میں جانے لگا
کیا کروگے اسے واپس سانپ والے کمرے میں قید کرو گے یا مارو گے پیٹو گے کیا کرو گے ۔
بتاؤ مجھے وہ غصے سے بولا ۔
سانپ کی بات کا طنہ تم مجھے نہیں دے سکتے خںر تمہارے ہی کہنے پر میں نے
میں نے یہ نہیں کہا کہ اسے سانپ کے آگے پھینک دو ۔
میں نے نہیں کہا تھا یارم اسے اتنی بری سزادو میں نے تمہیں صرف اس پر سختی کرنے کے لئے کہا تھا ۔
اور میں نے کیوں کہا تھا ۔۔
کیونکہ تب تمھاری کوئی غلطی نہیں تھی وہ بے وجہ تم سے دور بھاگ رہی تھی لیکن اب تم غلطی پر ہو تمہیں یہ بات روح پہلے بتانا چاہیے تھی کہ کہ تم شیخ شمس نہیں بلکہ یارم کاظمی ہو ۔
غلطی یہاں تمہاری ہے اس کی نہیں ۔اس بار تم اسے کچھ نہیں کہہ سکتے ورنہ ۔
ورنہ۔۔۔۔۔؟ تم مجھے ورنہ کی دھمکی دو گے خضر میں نے بنایا ہے تمہیں۔میری دوستی بھول گئی یا پھر بھانجی کا پیار ماموں کے لیے دوست سے زیادہ بھر گیا یار م غصے سے بولا
یارم جتنا میں تم سے وفادار ہو اتنا روح سے نہیں میں تمہارے لئے آج بھی رو ح کے پاس گیا تھا میں تمہارا کوئی احسان بھولا نہیں ہوں ۔
اور نہ ہی تمہارے ساتھ کسی قسم کی کوئی غداری کر رہا ہوں ۔
غداری نہیں کر رہے بلکہ مجھ سے میری جان چھیننے کی بات کر رہے ہو اس باریارم پریشانی سے بیٹھ گیا تو خضر بھی اس کے قریب آ بیٹھا
میں وہاں اندر اس کا ماموں نہیں تمہارا دوست بن گیا تھا میں نے روح سے اس کی خواہش پوری کرنے کا وعدہ اسے اپنی بھانجی نہیں بھابھی بنا کر دیا تھا ۔
یارم میں بھی چاہتا ہوں تم دونوں ساتھ رہو۔میری بھی یہی خواہش ہے کہ وہ تمہارے ساتھ خوش رہے ۔
لیکن یارم ہر رشتے کو سمجھنے کے لئے وقت دیا جاتا ہے تم رو ح سے اس کے فیصلے کا حق چھین رہے ہو ۔
وہ بس تم سے وقت مانگ رہی ہے جو ڈھائی مہینے بغیر نکاح کے اس نے تمہارے ساتھ گزارے ہیں
اگر وہ شمس کے ساتھ ہوتے تو نہ جانے کتنوں کے ساتھ گزارتی یارم پھر سے اس کی بات کاٹ کر بولا تھا ۔
میں مانتا ہوں یارم لیکن وہ کسی شمس کے ساتھ نہیں تھی وہ تمہارے ساتھ تھی اس کے لیے تم اس کے شوہر تھے ایک لڑکی جو رشتوں کو سمجھتی ہے میاں بیوی کے رشتے کے تقاضے کو سمجھتی ہے وہ یہ بات قبول نہیں کر سکتی کہ اس نے ڈھائی مہینے کسی اسے شخص کے ساتھ گزارے ہیں جس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا ۔
تمہاری بات ٹھیک ہے یارم اگر وہ شمس کے ساتھ ہوتی تو نہ جانے کتنے لوگوں کے ساتھ اس سے آگے وہ کچھ نہیں بول پایا ۔
وہ مجبور ہوتی یارم اسے مجبوری میں یہ سب کچھ قبول کرنا پڑتا لیکن تم سے وہ پیار کرتی ہے تمہارے نکاح میں ہے تو اسے مجبور کیوں کیا جائے ۔
یارم اس کے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے تو لوٹ کر تمہارے پاس ہی آئے گی اسے یہ رشتہ قبول کرنے کے لیے تھوڑا سا وقت دے دو ۔
اس سے میں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اپنا وعدہ نبھا ؤں گا اور تم سے میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں روح کو واپس لے کے آؤں گا ۔
میں اسے تم سے دور نہیں جانے دوں گا یہ وعدہ ہے تمہارے دوست کا ۔
اور یہ وعدہ میں تمہارا دوست بن کر رہا ہوں روح کا ماموں بن کے نہیں ۔رو ح چاہے میری بھانجی ہو لیکن تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے وہ میرے لیے ۔
پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو اور وہ کونسا کسی غیر کے پاس جا رہی ہے وہاں خضرنے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
میں اس سے بات کروں گا اگر وہ میری بات نہیں سمجھی تو ٹھیک ہے میں اسے وقت دوں گا ۔
لیکن زیادہ نہیں ۔یارم نے کچھ سوچ کر کہتے ہوئے قدم کمرے کی طرف بھرائے ۔
کتنا وقت چاہیے تمہیں اس نے کمرے میں آتے ہوئے کہا ۔
کیا ۔۔۔روح نے پوچھا
کیا کا کیا مطلب ہے میں پوچھ رہا ہوں کتنا وقت چاہیے تمہیں اس رشتے کو سمجھنے کے لئے وہ غصے سے بولا تھا ۔
دیکھیں یارم۔ رؤح نے کچھ کہنا چاہا
کوئی بھی فضول بات نہیں کرنا بس مجھے بتاؤ تمہیں کتنا وقت چاہیے میرا ساتھ قبول کرنے کے لئے ۔
ایک گھنٹہ دو گھنٹے ایک دن دو دن ایک ہفتہ دو ہفتے یہ ایک مہینہ اس سے زیادہ میں تمہیں ایک سیکنڈ نہیں دے سکتا ۔
جلدی سے فیصلہ کرو ۔
ورنہ میں فیصلہ کروں گا میرا فیصلہ تم جانتی ہو وہ پھر بھی تمہیں سنا دیتا ہوں کہیں نہیں جا سکتی تو مجھے چھوڑ کر ۔
بلکہ جانے کی ضرورت بھی کیا ہے یہیں رہو سوچو سمجھو اس رشتے کے بارے میں میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گا ۔
تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے روح تم یہیں رہ کر کوئی بھی فیصلہ کر سکتی ہو ۔
تم مجھے میری غلطی کی سزا دینا چاہتی ہونا کہ میں نے تمہیں کچھ نہیں بتایا تو یہی مسئلہ ہے نہ کہ میں نے تمہیں سچائی نہیں بتائی اپنے بارے میں ۔وہ اس کی دونوں گالوں پر اپنے ہاتھ رکھے پوچھ رہا تھا ۔
نہیں یارم مجھے اس بات سے اعتراض نہیں ہے کیا آپ نے اپنی سچائی چھپائی ۔نہ ہی مجھے اس بات سے اعتراض ہے کہ آپ نے مجھ سے جھوٹ بول کر نکاح کیا ۔
میں تو خوش ہوں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ آپ نے میری عزت بچائی ۔
لیکن دکھ مجھے اس بات کا ہے کہ اگر وہ نکاح جھوٹا تھا اور آپ جانتے تھے کہ میرا کوئی نکاح نہیں ہوا تو نے فورا سے نکاح کیوں نہیں کیا ڈھائی مہینے بعد کیوں
کیا آپ صرف میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے مجھے اپنی رکھیل ۔۔۔۔۔۔۔اس کے بات ابھی بیچ میں ہی تھی کہ یارم کا ہاتھ روح پر پھرسے اٹھا تھا ۔
سوچی بھی کیسے تم نے اتنی بکواس گھٹیا بات تمہارے دماغ میں آئی کیسے ۔
میں نے اگر تمہیں اپنی رکھیل بنانا ہوتا تو ہر وقت میسر تھی تم مجھے کبھی بھی استعمال کر سکتا تھا ۔
مجھے تم سے نکاح کرنے کی کیا ضرورت تھی تم مجھے اپنا شوہر مانتی تھی جب چاہے میں اپنے پاس بلا سکتا تھا
لیکن روح میں نے تم سے نکاح کیا ہے تمہیں اپنی بیوی بنایا ہے اور جس سے نکاح کیا جائے وہ شہزادیاں ہوتی ہیں رکھیلیں نہیں
مجھے تو شرم آتی ہے ان لوگوں پر جو اپنی بیوی کو رکھیل کہتے ہیں اپنے بیوی کو یہ گھٹیا نام دیتے ہیں نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کامزق اڑاتے ہیں ۔
نکاح شہزادیوں کے ہوتے ہیں تم تو شہزادی ہو میری شہزادی
لیکن میں نے تم سے ڈھائی مہینے تک نکاح نہیں کیا کیونکہ میں کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتا تھا کسی کو اپنی کمزوری نہیں بنانا چاہتا تھا ۔
میں تمہیں باحفاظت پاکستان واپس بھیجنا چاہتا تھا ۔
میں تو اپنے دل و دماغ پر کنٹرول کر چکا تھا میں نے سوچ لیا تھا کہ میں کسی سے پیار نہیں کروں گا
کبھی اپنی فیملی نہیں بناؤں گا کیوں کہ میرا مقصد کچھ اور تھا
لیکن تم نے مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور کردیا ۔
محبت بہت چھوٹا لفظ ہے میں اپنے جذبات کو لفظوں میں بیان بھی نہیں کرسکتا میں تمہیں بتا بھی نہیں سکتا کہ میں تم سے کس حد تک محبت کرتا ہوں
لیکن چھوڑو اب باتوں کو یہ میرا آخری امتحان ہے اس کے بعد تم ہمیشہ کے لئے میرے پاس آؤ گی میری بن کر اس کے بعد ہمارے درمیان کوئی نہیں آئے گا کوئی دوری نہیں رہے گی ۔
بولو کتنا وقت چاہیے تمہیں ۔۔میں تمہیں ایک مہینے کا وقت دے رہا ہوں ۔ایک مہینے کے بعد میں لینے آوں گا ۔
اور اس ایک مہینے کے بعد تم مجھے صرف میری روح بن کر ملو گی ۔
سن رہی ہو نہ تم ۔یارم کہتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا تھا ۔
اور اس کے لبوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرکے پیچھے ہٹا ۔
انتظار کروں گا تمہارا اس ایک مہینے میں پل پل مرونگا
یارم کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
اور وہ خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔
رات وہ کمرے میں آیا تو روح سوتی بن گئی ۔
یار م آہستہ سے اس کے قریب آیا اسے اپنی باہوں میں لے لیا
کچھ دیر کے بعد اسے یارم کا لمس گردن پر محسوس ہوا
وہ اسے اپنی باہوں میں بھیجے کتنی ہی دیر اسے دیوانہ ور دیکھتا رہا ۔
پھر کچھ دیر بعد اسے اپنی گردن پر پانی محسوس ہوا روح نے بےساختہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھا لیکن وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ۔
شاید نہیں یقینا وہ اس کے لئے رو رہا تھا ۔
وہ شخص جسے اس نے کبھی کسی کے سامنے جھکتے ہوئے نہیں دیکھا آج وہ اس کے لیے آنسو بہا رہا تھا ۔
روح کا دل چاہا کہ سب کچھ بھلا کر اس کی باہوں میں سماجائے ۔
لیکن وہ یارم کو اس کی غلطی کی سزا دینا چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ یار م ہربار اپنی من مانی کرے وہ اپنےاور یارم کے رشتے کو برابری کا درجہ دینا چاہتی تھی ۔
وہ کچھ وقت اس کے بغیر رہنا چاہتی تھی تاکہ وہ اس کے رشتے کو سمجھ سکے ۔
تھوڑی دیر کے بعد یار م نے آنکھیں کھولی تو اس نے فوراً اپنی آنکھیں بند کر دیں ۔
یارم نے پوری طرح اپنی باہوں میں قید کر رکھا تھا ۔
جبکہ یارم کے آنسو وہ اب اپنے کندھے پر محسوس کر رہی تھی ۔
اب مزید برداشت کرنا اس کے بس سے باہر تھا اس نے ایک جھٹکے سے یار م سے اپنا آپ چھوڑویا اور اٹھ کر باہر جانے لگی جب پیچھے سے یارم کی آواز سنائی دیتی ۔
مت جاؤ مجھے چھوڑ کے تمہارے بغیر میں مر جاؤں گا میں نے تمہیں بتایا تھا نہ کہ تمہارے بغیر میری زندگی کچھ نہیں تو کیوں مجھ سے میری زندگی چھین رہی ہو رحم کرو روح مت جاؤ
یارم نے بے دردی سے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے اپنے پاس بُلانا چاہتا ۔
اپنی دونوں باہیں کھلے وہ اسے یقین سے بلا رہا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر نہیں جائے گی ۔
لیکن روح یہاں ہمت نہیں ہارسکتی تھی اسے یہ رشتہ قبول کرنے کے لئے وقت چاہیے تھا یار م کو یہ بات سمجھانے کے لیے کہ وہ غلط ہے اسے سے دور جانا تھا ۔
صرف ایک ہی پل میں پلٹی اور دروازے سے باہر نکل گئی ۔
جبکہ یارم بے یقینی سے جاتا ہوا دیکھ کر رہا تھا
