Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 77)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 77)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
روح کی طبیعت صبح سے ہی خراب تھی لیکن آج انہیں صارم کے گھر جانا تھا عروہ نے لیلیٰ اور خضر کے لئے اپنے گھر پر دعوت رکھی تھی اور اسی لیے معصومہ اور روح نے اس کی مدد کرنے کے لیے صبح ہی صبح جانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
معصومہ یہاں آئی تو روح کو صوفے پر بیٹھا دیکھ کر پریشان ہو گئی
کیا ہوا روح تم ٹھیک ہو ۔
ہاں میں ٹھیک ہوں چلو روح نے اٹھتے ہوئے کہا کیوںکہ وہ کافی دیر سے اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔
اس نے روح کو دیکھتے ہوئے کہا
نہیں نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں چلو ۔
وہ اسے مسکرا کر یقین دلاتے ہوئے باہر کی طرف چل دی ۔
ارے لڑکیوں مجھے کسی کام کو ہاتھ لگانے دو ۔
عروہ ہر دو منٹ کے بعد کچن میں پہنچ کر ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتی ۔
آپ کو سمجھ نہیں آرہا جا کے بے بی کاخیال رکھیں اگر آپ بے بی کا خیال نہیں رہ سکتی تو اسے بھی ہم اپنے پاس رکھ لیں گے ۔
روح کو ہر وقت بہانہ چاہیے تھا اس چھوٹے سے گول مٹول بے بی کے پاس جانے کا ۔
عروہ کی ایک بھی نہ سنتے انہوں نے اسےواپس بھیج دیا ۔
سب کچھ معصومہ اور روح نے بنایا تھا ۔
جبکہ لیلی تو اپنے آپ کو وی ائی پی کہہ رہی تھی
آخر اس کے لئے تو یہ دعوت رکھی گئی تھی ۔
اور شارف وہ تو معصومہ کے آگے پیچھے لگا تھا ۔
اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ۔
ہر دو منٹ کے بعد اس کے پیچھے کھڑا ہوتا کچھ چاہیے میں لے آؤں ۔
جبکہ اس کی یہ حرکتیں دیکھ کر روح اور لیلیٰ دل ہی دل میں مسکرائے جا رہی تھی
جبکہ خضراور یارم دونوں ہی کام پر تھے ان کو شام کو یہاں آنا تھا ۔
صارم کو معصومہ کے لئے شارف کا یہ پیار دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی تھی ۔
ایک معصوم کا دل دکھانے پر وہ جتنا پریشان تھا شارف کی فکر دیکھ کر اسے اتنی ہی خوشی ہوئی تھی ۔
شام میں سب لوگ صارم کی طرف تھے ۔
کھانا بہت آرام دہ ماحول میں کھایا گیا ۔وہ چاہے جتنا بھی انکار کریں صارم ان کے لئے بہت اہم تھا ۔
وہ ان کا بچپن کا دوست تھا ۔
وہ چاہے اپنی تکلیفوں میں اسے شامل نہ کر سکیں لیکن ان کی خوشیوں پر وہ پہلا حق رکھتا تھا ۔
یارم نے روح کو یہ تو کہہ دیا کہ صارم یہ سب صرف میڈلز کے لیےکرتا ہے جبکہ دل سے وہ بھی جانتا تھا کہ صارم اس سے بہت محبت کرتا ہے اور اس کی بھلائی چاہتا ہے ۔
ہنی مون پر کہاں جا رہے ہو تم دونوں صارم نے لیلی اور خضر سے پوچھا
فی الحال ہم نے کچھ نہیں سوچا ۔۔خضر نے جواب دیا
جب صارم نے ایک لفافہ اس کی طرف بڑھایا یہ ہماری طرف سے تم دونوں کی شادی کا گفٹ ۔
خضر نے مسکراتے ہوئے اس لفافے کو تھام لیا جس میں ترکی ہنیمون کی دو ٹکٹس تھی ۔
تھنکس ۔۔لیلی نے مسکرا کر کہا ۔
صارم کے گھر سے وہ سب لوگ یارم کی گاڑی میں آئے تھے ۔
ان سب کو اپنے اپنے گھر چھوڑ کر وہ روح کو لے کر گھرآگیا روح کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی ۔
اسی لیے شاید آتے ہی سو گئی
کیا ہوا روح تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔رات کو نہ جاننے کون سا پہر تھا کہ یارم آنکھ کھل گئی جب روح کو باہر دیکھا تو وہ بھی باہر ہی آگیا
نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں نیند نہیں آ رہی تھی بس اسی لیے باہر آئی تھی
نیند نہیں آرہی تو مجھے جگا لیتی وہ اس کے قریب بیٹھ کر بولا ۔
آپ کو جگا لیتی تو آپ کیا مجھے لوری گا کے سولاتے وہ شررات سے مسکرا کر بولی
بےبی تمہارے لئے یہ کام بھی میں بہت دل سے کروں گا وہ مسکراتے ہوئے اسے اپنے قریب کر کے بولا ۔
روح مسکرانے لگی ۔
تمہیں نہیں لگتا کہ تم دن با دن اور زیادہ خوبصورت ہوتی جا رہی ہو۔وہ اس لے چہرےکواپنے ہاتھوں میں لیے بہت محبت سے کہہ رہا تھا ۔
آپ کو کبھی بری بھی لگتی ہوں ۔روح نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ۔
نہیں تم تو پہلے دن سے ہی قیامت ڈا رہی ہو ۔
یارم آپ نے پہلی بار مجھے کہاں دیکھا ۔میرا مطلب ہے آپ نے مجھ سے شادی کا فیصلہ کیسے کیا ۔
روح پوچھنے لگی ۔
خواب میں یارم نے مسکرا کر کہا ۔
نہیں نہ میں سچی پوچھ رہی ہوں آپ کو میرے بارے میں کیسے پتہ چلا ۔میرا مطلب ہے آپ نے میرے گھر رشتہ کیسے بھیجا ہماری شادی کیسے ہوئی ۔
اس نے پھر سے پوچھا تھا یارم خاموش ہوگیا ۔
ہماری شادی تمہارے یہاں آنے کے بعد ہمارے فلیٹ میں ہوئی تھی ۔
ہم نے آمنے سامنے بیٹھ کے دوسرے کو قبول کیا تھا یارم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیتے ہوئے کہا ۔
قبول تو میں آپ کو پہلے ہی کر چکی تھی روح مسکرائی
جبکہ اس کی اس مسکراہٹ پر یارم اس کا ساتھ نہ دے سکا
روح ہمارے نکاح کی تمہاری نظر میں کیا اہمیت ہے یارم پوچھنے لگا
یار م نکاح کی کیا اہمیت ہوتی ہے روح الٹا اسی سے پوچھنے لگی
میرا وہ مطلب نہیں تھا روح میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ فون پے ہوئے اس نکاح کی تمہاری نظروں میں کیا اہمیت ہے یارم بالکل سیریس انداز میں پوچھ رہا تھا ۔
یارم وہ نکاح ہے ہمارا جس نے مجھے آپ کا کر دیا ۔
جس نے مجھے آپ کے نام لکھ دیا آپ کا نام ہمیشہ کے لئے میرے نام کے ساتھ جوڑ دیا میں آپ کے پاس آ گئی روح مسکراتے ہوئے بولی ۔
اور اس نکاح کی جو ہم نے فلیٹ میں کیا ۔یارم پھر سے پوچھنے لگا تو روح اسے دیکھنے لگی
وہ بھی نکاح تھا یارم لیکن نکاح ہمارا پہلے ہوچکا تھا ۔آپ فون پے ہوئے اس نکاح کو قبول نہیں کر پائے تھے اس لئے آپ نے دوسری بار نکاح کیا لیکن میں آپ کے پاس آئی آپ کے ساتھ رہنے لگی آپ سے محبت کرنے لگی کیونکہ مجھے آپ کے نکاح میں باندھ کر یہاں بھیجا گیا تھا ۔
روح مجھے بہت ضروری کام ہے ۔یارم اتنا کہہ اٹھ کر باہر نکل گیا لیکن صبح کی ساڑھے چار بجے اسے کیا کام ہوسکتا ہے روح سوچ میں پڑ گئی ۔
یارم صبح تک گھر واپس نہیں آیا ۔
پہلے اس کا انتظار کرتی رہی پھر اسے لگا کہ شاید وہ اپنے کام پر چلا گیا ہوگا ۔
شفااور میری کے آنے کے بعد وہ تھوڑی دیر آرام کرنے چلی گئی
کیونکہ اسے ساری رات نیند نہیں آئی تھی اس کی آنکھ کھلی جب معصومہ شونو کو واپس لے کر آئی ۔
کیا ہوا روح تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی معصومہ نے اسے دیکھ کر کہا ۔
مجھے چکر آرہے ہیں کل سے طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔
آج صبح یارم کو بتانے والی تھی لیکن وہ صبح ہی صبح نکل گئے ۔
ورنہ ان کے ساتھ ہوسپیٹل چلی جاتی ۔روح نے اپنا چکراتا ہوا سر تھام کر بتایا ۔
ارے یارتم میرے ساتھ چلو نا میں تمہیں ہسپتال لے چلتی ہوں ۔اور یار م سر کو میں ابھی فون کرکے بتا دیتی ہوں ۔
چلو اٹھو معصومہ نے اپنا فون نکالتے ہوئے یارم کا نمبر ملایا ۔
جبکہ روح کو اپنی طبیعت بہت خراب محسوس ہو رہی تھی ۔
وہ معصومہ کے ساتھ ہسپتال آگئی ۔جب کہ یارم نے کہا تھا کہ وہ آدھے گھنٹے میں اسپتال پہنچ جائے گا ۔
آپ ویٹ کریں کچھ دیر میں رپورٹ آپ کو مل جائے گی ڈاکٹر اسے بول کر اندر چلی گئی جبکہ معصومہ اسے تھام کر باہر بٹھا چکی تھی ۔
تمہاری طبیعت کب سے خراب ہے تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں کتنی لا پرواہ ہو تم ۔
ہمیں نا بتاتی کم از کم سر کو تو بتا دیتی معصومہ ڈانٹتے ہوئے بولی ۔
ارے یار میں کل تک بالکل ٹھیک تھی پتہ نہیں آج ہی یہ سر گھوم رہا ہے ۔
ہائے ہوسکتا ہے کوئی گڈ نیوز ہو ڈاکٹر کیسے مسکرا رہی تھی ۔معصومہ نے شرارت سے کہا تو روح شرمانے لگی ۔
ہائے روح سچ میں اگر یہ ہوجائے تو تمہارا بھی گول مٹول سا پیار سا بے بی معصومہ دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے جڑے خیالی دنیا میں کھو چکی تھی ۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو معصومہ زور اسے اپنے گلے لگاتے ایکسائٹمنٹ میں دعا دینے لگی ۔
آمین ۔روح بے ساختہ بولی ۔
ارے بھابی جی آپ یہاں ۔ڈاکٹر اسے رپورٹ دینے والی تھی جب پیچھے سے فرقان نے اچانک آکر اسے پکارا ۔
معصومہ فرقان کو دیکھ کر ایک سیکنڈ کے لیے گھبرا گئی لیکن پھر اسے یاد آیا کہ روح تو اب یارم کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے ۔
کیسی ہیں آپ ۔ آپ نے مجھے نہیں پہچانا ہوگا میں فرقان ڈیول کا آدمی ہوں ۔
جی آپ کے شوہر سے وفاداری کرنا تو میرا مقصد ہے ۔انہی کیلئے کام کرتا ہوں میں جب ان کو دیکھتا ہوں آپ کے ساتھ تو دل خوش ہوجاتا ہے ۔
ڈیول تو آپ سے بے انتہا محبت کرتا ہے اتنی محبت کہ آپ کی محبت میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہے اب آپ اس کی محبت کا اندازہ یہی سے لگا سکتی ہیں کہ اس نے شیخ کو قتل کرکے آپ سے نکاح کرلیا ۔
اسے فرقان بہت عجیب لگ رہا تھا اس کے بات کرنے کا انداز اس طرح سے اسے مخاطب کرکے یارم کے بارے میں بات کرنا اور پھر اچانک ہی اس کے سر پر دھماکا کرنا روح اسے دیکھ کر رہ گئی ۔
مجھے تو اب تک یقین نہیں آ رہا کہ ڈیول لے شمس شیخ کا قتل آپ کے لیے کیا تھا ۔
وہ آپ سے اس حد تک محبت کر بیٹھا کہ اس نے آپ کے پہلے شوہر کو ہی ۔
فرقان ابھی بول ہی رہا تھا کہ اسے پیچھے سے اپنے کندھے پر بوجھ محسوس ہوا اس نےموڑ کر دیکھا تو یارم اس کے نے کندھے پر ہاتھ تھا
ارے ڈیول تم آگئے میں تمہارے بارے میں ہیں بھابھی جی سے بات کر رہا تھا فرقان مسکراتے ہوئے بولا جبکہ وہ سرخ آنکھوں سے اب روح کو دیکھ رہا تھا
جو آنکھوں میں بے پناہ غصہ اور آنسو لیے ا سے دیکھ رہی تھی
روح میری بات سمجھنے کی کوشش کرو پلیز ۔
اسے یقین تھا کہ وہ روح کو بہت کچھ بتا چکا ہے شمس کا نام تو سن چکا تھا ۔
یارم نے ا سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی روح نے اس کے ہاتھ سے جھٹک دیئے
اور اس سے دور ہوتے ہوئے ہوسپیٹل سے باہر نکل گئی
