Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 64)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یارم نہ جانے کتنی دیر وہاں بیٹھے روح کو سنتا رہا

یار پلیز۔۔۔۔م۔ ۔۔ مجھےیہاں ۔۔۔۔۔یہاں سے ۔۔۔۔۔نکالیں۔ ۔مم۔ ۔۔۔۔۔ میں آئندہ ایسی ۔۔۔۔۔کک۔ ۔۔۔کوئی حرکت ۔۔۔۔۔نی۔۔نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔پلیز مجھے معاف۔۔۔۔۔ کر دیں ۔۔۔۔۔۔خدا کے لئے ۔۔۔۔۔مجھے یہاں ۔۔۔۔سے نکال لیں۔۔۔یارم کہاں ہے آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے س۔۔۔۔۔سن رہے ہیں نہ ۔۔۔۔۔؟میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ یہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ مجھے چ۔ ۔۔۔۔۔چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔ نہیں جا ۔۔۔۔۔سکتے ۔۔۔

میں۔۔۔۔۔آآآ۔ ۔۔ آپ ۔۔۔۔۔کو ۔۔۔چھ۔ ۔۔۔۔۔چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔۔ کبھی نہیں جاؤں گی۔۔۔۔ یارم۔ ۔۔۔۔۔پلیز مجھے۔۔۔۔۔ یہاں سے۔۔۔۔ نکالیں۔ ۔۔۔ یہ سانپ۔ ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ک۔ ۔۔ کاٹ لے۔۔۔ گا

یارم۔ ۔۔۔۔ پلیز دروازہ۔۔۔۔۔ کھولیں ۔۔۔۔۔۔میں آپ ۔۔۔۔۔۔کے آگے ہاتھ۔۔۔۔۔۔ جوڑتی ہوں۔۔پپپ۔۔۔۔ پلیز مجھے یہاں۔۔۔۔۔۔ سے نکالنے میں آئندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسی کوئی حرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کروں۔۔۔۔۔ گی میں ۔۔۔۔۔۔آآآ۔۔آپ کو چھوڑ ۔۔۔۔۔۔کر کہیں نہیں۔۔۔۔۔۔ جاؤں گی

۔ ۔ ۔ ۔۔۔یارم۔ ۔۔۔۔ یہاں بہت۔۔۔۔۔۔ اندھیرا ہے ۔۔۔۔۔۔۔بہت تھوڑی سی جگہ ہے۔۔۔۔۔۔ میں کھڑی رہ۔۔۔۔۔۔۔۔ کر تھک چکی ۔۔۔۔ہوں میرے پاؤں ۔۔۔۔۔۔۔میں درد ہونے۔۔۔۔۔۔ لگا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سا۔ ۔سانپ میرے اوپر ۔۔۔۔۔چل رہا ہے پلیز۔ ۔۔۔۔۔دروازہ کھلیں۔ ۔۔۔۔یہ۔ مجھے کاٹ لے گا ۔۔۔

یارم مجھے۔۔۔۔۔۔ بہت ڈڈ۔۔۔۔۔۔ ڈر لگ۔۔۔۔۔۔ رہا ہے ۔پلیز کھولیں۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔بہت ڈر لگ ۔۔۔۔۔۔۔رہا ہے۔۔۔۔۔۔ ۔یارم آپ میری۔۔۔۔۔۔۔۔ بات سن۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے ہیں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز دروازہ ۔۔۔۔۔۔۔کھولے مجھے بہت۔۔۔۔۔۔ ڈر لگ رہا ہے ۔

وہ کب سے دروازہ کھٹکھٹاتی چلائے جارہی تھی اور دروازے کے باہر کھڑا یارم اسے سن رہا تھا ۔

پھر آہستہ آہستہ آواز ختم ہوتی بند ہوگئی

جبکہ یارم کسی بے جان مجسمے کی طرح کھڑا رہا ۔

رات ڈیڑھ بجے کا وقت تھا ۔۔یارم نے آہستہ سے دروازہ کھولا

روح دیوار کے ساتھ لگی زمین پر پڑی تھی ۔

سانپ اس کے جسم پر رینگ رہا تھا ۔

وہ تقریبا نو فٹ لمبا اور کافی موٹا سانپ تھا ۔

یار م نے ہاتھ بڑھا کر وہ سانپ اٹھا کر اس سے دور کیا ۔

پھر اس نے آہستہ سے روح کے بےہوش موجود کو اٹھایا ۔

مجھے یقین ہے جان یہ تمہاری آخری غلطی ہے ۔اور یقین مانو اس سے زیادہ برا میں تمہارے ساتھ کر بھی نہیں سکتا ۔

تمہیں تکلیف پہنچا کے خوشی نہیں ملتی مجھے ۔

اتنی سی بات کیوں نہیں سمجھتی ہو نہیں چھوڑ سکتا میں یہ سب کچھ ۔

میں اس دھندل میں بہت آگے نکل چکا ہوں ۔یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے روح۔ اور کوئی راستہ ہے بھی تو صرف موت اور میں تو تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں ۔

روح تم آئی ہو تو مجھے زندگی کا مطلب سمجھ آیا ہے ۔میرے اندر جینے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے خواہشوں نے جنم لیا ہے اور تم مجھ سے دور جانا چاہتی ہو۔

اب تمہارے یہاں سے جانے کے سب راہ میں بند کر چکا ہوں ۔

اب تمہارے پاس صرف ایک راستہ ہے اور وہ راستہ یارم کاظمی ہے ۔

اب تمہیں زندگی کی ہر سانس کے ساتھ آخری سانس بھی یارم کاظمی کے ساتھ ہی لینی ہوگی ۔ورنہ میں یہ سانسیں چھین لوں گا ۔

صرف میری ہو تم صرف میری ۔وہ اسے بیڈ پر لٹا کر واپس بیسمیٹ میں آگیا ۔

اس نے سانپ والا دروازہ بند کیا ۔ اور دوسرے اسی سائز کے کمرے میں آیا ۔

وہاں سے ایک چابک اٹھایا ۔اپنے آپ کو بھی دردی سے مارنے لگا ۔

اپنے آپ کو نجانے کتنی دیر تکلیف دینے کے بعد بھی اسے سکون نہ ملا تھا ۔

اپنے آپ کو مارتے مارتے اس کے ہاتھ دکھنے لگے لیکن وہ ناروکا ۔وہ روح کو تکلیف پہنچانے کی سزا خود کو دے رہا تھا ۔

میں جانتا ہوں روح میں تمہیں تکلیف پہنچاتا ہوں لیکن میں کیا کروں میں ایسا نہیں کرنا چاہتا لیکن پھر بھی مجھ سے ایسا ہوجاتا ہے روح میرے اندر ڈر ہے کہ تم مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ گی تو میں کیسے جیوں گا ۔

روح میں مر جاؤنگا میں سچ کہتا ہوں تمہارے بغیر میں مر جاؤں گا ۔

میں جانتا ہوں تم آسانی سے میرے ساتھ نہیں رہ سکتی اسی لیے تو میں نے یہ سب کچھ کیا ۔

تم مجھ سے پیار نہیں کر سکتی نہ تو نہ کرو لیکن مجھے چھوڑ کر مت جاؤ ۔

میں کیسے جیوں گا تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو چابک مارنے کے بعد وہ ہیٹنگ روم میں آ کر کھڑا ہوگیا اس کا سائز بھی بالکل اس سانپ جیسے روم جتنا تھا ۔

یہ ہیٹنگ یارم کے زخموں کو ناسور بنا رہی تھی اکثر وہ اپنے دشمنوں کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا ۔

وہ نجانے کتنی دیر اپنے آپ کو وہاں اذیت پہنچاتا روح سے اپنے کیے کی معافی مانگتا رہا ۔

کیوں کہ یہ سب کچھ اور وہ کے سامنے نہیں کرنا چاہتا تھا اسے روح کے سامنے اپنے آپ کو مضبوط دکھانا تھا

تاکہ وہ اس پر یہ ثابت کر سکے کہ اس سے دور جانے کی کوئی بھی سزا اسے مل سکتی ہے

اس کے جسم پر کوئی چیز رینگ رہی تھی وہ نیند میں بار بار اپنے اوپر ہاتھ پیر مار رہی تھی ۔

وہ کبھی اپنی ٹانگ سے ہاتھ مارکے اسے خود سے دور کرتی تو کبھی اپنے بازو کو سہلاتی ۔

یارم اس کے قریب لیٹا اس کی ساری حرکتیں نوٹ کر رہا تھا ۔شاید نہیں یقینا ابھی تک اس سانپ کے خوف سے باہر نہیں نکلی تھی ۔

یارم نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔

کچھ نہیں ہے روح میں ہونا تمہارے ساتھ ۔

گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

کچھ نہیں ہوگا تمہیں وہ سانپ میں نے واپس اسی کمرے میں بند کر دیا ہے وہ وہاں سے نہیں نکل سکتا ۔

بالکل ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ نرمی سے اس کو سہلاتا اپنے ساتھ لگائے لیٹا تھا ۔

جبکہ روح اسے اپنے پاس محسوس کرتی تھوڑی دیر میں پرسکون ہو کے پھر سے سو گئی ۔