Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 50)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یارم سیدھا آفس آیا تھا جہاں پر خضر اس کا انتظار کر رہا تھا ۔

اسے مسکراتا دیکھ کر خضر کو حیرانگی ہوئی کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے یارم بہت پریشان رہنے لگا تھا ۔

کیا بات ہے آج تو تم خوش لگ رہے ہو ۔۔۔؟خضر نے پوچھا

کیوں بھائی میرے خوش رہنے پر پابندی ہے ۔یارم نے الٹا سوال کیا ۔

نہیں کوئی پابندی تو نہیں ہے مگر پچھلے کچھ دنوں سے تم کافی پریشان تھے اس لئے پوچھا ۔

ہاں کیوں کہ مجھے پچھلے کچھ دنوں سے لگ رہا تھا کہ وہ انسپیکٹر میری روح کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس نے تو الٹا ہی کردیا وہ تو روح کو میرے پاس لا رہا ہے ۔یارم مسکراتے ہوئے بولا ۔

مطلب تمہیں اس کے پلان کے بارے میں پتہ چل گیا کیا پلان کیااس نے ۔خضر نے پوچھا ۔

اس کا پلان ہے کہ وہ روح کو میرے قریب کرکے میرے خلاف سارے ثبوت روح کے ذریعے حاصل کرے گا ۔یارم نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔آج کافی دنوں کے بعد اس کے ڈمپلز آب و تاب سے چمک رہے تھے۔

مطلب کے روح اس کا ساتھ دے رہی ہے ۔۔۔؟خضر کو برا لگا ۔

نہیں خضر میری روح بہت معصوم ہے ۔وہ سب کچھ میرے لئے کر رہی ہے ۔وہ مجھے بچانا چاہتی ہے۔

یارم کے لہجے میں اس کے لئے بہت محبت تھی ۔

لیکن ڈیول تم نے وہ فون اس تک پہنچنے ہی کیوں دیا ۔اگر تم معصومہ کو اپنے گھر نہیں جانے دیتے تو وہ فون روح تک پہنچتا اور نہ ہی وہ صارم سے رابطہ کر پاتی ۔

تم نہیں سمجھو گے خضر میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ آدمی میری روح کو کس حد تک میرے خلاف کر سکتا ہے ۔تمہیں پتا ہے روح نے کیا کیا اس بے وقوف نے وہ فون مجھ سے چھپانے کی جگہ میری ہی الماری میں میرے ہی کپڑوں کے نیچے رکھ دیا ۔اس بیچاری کو تو ٹھیک سے چیزیں چھپانا بھی نہیں آتی ۔

تم نے پوچھا نہیں کہ فون کہاں سے آیا خضر نے مسکرا کر پوچھا ۔

نہیں یار بیچاری کنفیوز ہو جاتی ۔ویسے بھی جھوٹ بولتے وقت اتنی کانپ رہی ہوتی ہے کہ صاف پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ۔

مگر پھر بھی میری ہمت دیکھو مجھے ابھی تک پتہ نہیں چلا کے روح جھوٹ بول رہی ہے ۔یارم کی بات پر خضر قہقہ لگا ہنسا۔

آج صبح اس نے بڑی ہوشیاری سے میری جیکٹ سے کی چین نکال لی۔تاکہ وہ اس روم میں جاکر میرے خلاف ثبوت اکٹھے کرے ۔یارم نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔

وہ تمہارے خلاف ثبوت نکال سکتی ہے وہاں سے تم اتنے بے فکر کیسے ہو ۔۔خضر نے پریشانی سے پوچھا ۔

پریشان کیوں ہو رہے ہو وہ کتنی اسمارٹ ہے میں بتا تو چکا ہوں تمہیں لگتا ہے کہ وہاں سے کچھ نکال پائے گی ۔

فرض کرو سب کچھ اس کی نظروں کے سامنے بھی ہوگا تب بھی وہ اسے کچھ نہیں لے پائے گی ۔

یارم نے بے فکری سے بتایا ۔

تم اس بات کو مذاق میں لے رہے ہو جب کہ سچ تو یہ ہے کہ اس کا معصوم دماغ یہ چالاکیاں سوچ ہی نہیں سکتا ۔نا تو اس نے ایسی زندگی جی ہے ۔اور نہ ہی وہ ایسی زندگی کے بارے میں کچھ جانتی ہے ۔

جان جائے گی میرے ساتھ رہے گی تو آہستہ آہستہ سب کچھ جان جائے گی ۔جانتے ہو خضر میں نے اس سے کہا کہ ہم نارمل زندگی گزارتے ہیں ۔تمہیں اس سب میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔لیکن پھر بھی وہ سب کچھ جاننا چاہتی ہے ۔اگر اس نے سب کو جاننا ہے تو میں اسے سب کچھ ضرور بتاؤں گا ۔میرا بھی یہی خیال ہے کہ اسے پتہ ہونا چاہیے کہ اس کا شوہر کیا چیز ہے ۔اور اس کے بعد بھی اسے میرے ساتھ ہی رہنا ہوگا ۔

یہ جو اسے لگتا ہے نہ کہ مجھے اندر کروا کے وہ واپس پاکستان چلی جائے گی اس کی یہ غلط فہمی میں چٹکیوں میں دور کر سکتا ہوں ۔اور کرونگا ۔میں اسے ضرورت سے زیادہ ڈیل دے رہا ہوں ۔میرے خیال میں اب اسے پتہ چل جانا چاہیے ۔ لیکن اس سے پہلے اس صارم کو بھی اس کی اوقات دکھانا ضروری ہے ۔اسے لگتا ہے کہ میری بیوی کو میرے خلاف کر کے وہ مجھے اندر کروا دے گا ۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ ڈیول کے لئے سب برابر ہے

اور ڈیول کے قانون میں روح کو بھی سزا ملے گی ۔یہاں پر غلطی کرنے والوں کے لیے کوئی معافی نہیں ۔چاہے غلطی کرنے والی میری جان ہی کیوں نہ ہو ۔اگر اس نے مجھ سے دور جانے کی کوشش کی نہ خضر۔ ۔

تو بہت پچھتائیں گی ۔اس کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا

خضر کو روح پر ترس آ رہا تھا

۔ذرا اس جاسوس کو بلانا یہاں جو ہمیں بے وقوف سمجھ کر اپنے آپ کو بہت اسمارٹ سمجھ رہی ہے ۔آج اس کی بھی غلط فہمی دور کر دیتے ہیں ۔

یار م نے کہا

توخضر ہاں میں گر دن ہلاتا باہر نکل گیا

چابی روح کے ہاتھ لگ چکی تھی ۔

میری اور شفاء اس وقت باہر بیٹھی دھوپ سیکھ رہی تھی

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آج دونوں اس پر نظر کیوں نہیں رکھے ہوئے

اس نے اپنے دماغ سے سوچیں جھٹکتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا اور اس کمرے میں آگئی ۔کمرے کو اچھے سے اندر سے لاک کیا تاکہ کوئی بھی نہ آ سکے اور کسی کو شک بھی نہ ہو ۔

پھر اس نے کمرے کی تلاشی لینا شروع کی ۔

اس نے ایک ایک فائل چیک کی ۔جس میں اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا ۔

ٹیبل پر لیپ ٹاپ پڑا تھا ۔شاید اس میں سے کچھ مل جاتا ۔لیپ ٹاپ چلانا اسے نہیں آتا تھا ۔اور یار م اپنے خلاف ایسے ثبوت جو اسے پھانسی کے پھندے تک پہنچا سکتے ہیں وہ اس طرح سے سامنے تو نہیں رکھے گا ۔

وہ بلکل صارم کے دماغ پر چل رہی تھی صارم نے ا سے جو کچھ کہہ رہا تھا وہ بالکل ویسے ہی کر رہی تھی ۔

اس نے اپنا چھپایا ہوا فون نکالا اور صارم کو فون کیا ۔

صارم اسے جو جو فائل چیک کرنے کو کہتا روح کرنے لگی۔

پھر صارم نے اسے لیپ ٹاپ کھولنے کو کہا ۔اس نے ویسا ہی کیا اور جو چیز اسے لیپ ٹوپ پر نظر آئی اس نے سب کچھ بتا دیں ۔

صارم نے کیہں فائلز کھلائیں ۔بہت کچھ چیک کروایا ۔لیکن اس کے باوجود بھی وہ کچھ بھی پتا نہ لگوا پایا ۔

روح کہاں ہیں اس نے شفاء سے فون پر پوچھا ۔

سروہ آپ کے آفس روم میں ہیں ۔شفاء نے بتایا

اچھا لنچ کیا اس نے یارم نے پوچھا

نہیں سر میں گئی تھی پوچھنے انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کا کچھ بھی کھانے کا موڈ نہیں ہے ۔

اچھا ٹھیک ہے جب اس کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں جائے تو پھر سے پوچھنا ۔

اور اگر تب بھی منع کردیا تو مجھے فون کرنا

اوکے سر ۔

بس اتنا کہتے ہوئے فون بند ہوگیا ۔

بے وقوف لڑکی جاسوسی بعد میں بھی تو کرسکتی ہے پہلے کچھ کھا تولے ۔

پتا تو چلے کتنی جاسوسی کر چکی ہے وہ اپنا لیپ ٹاپ اون کرتے ہوئے مسکرایا ۔

اور آفس روم میں لگے کیمرے کی مدد سے اسے دیکھنے لگا ۔

ہلکے گلابی رنگ کے سادہ سے سوٹ میں دوپٹا کمر پر باندھے اپنا مشن بخوبی سر انجام دے رہی تھی ۔

گڈ گرل ۔ میری کیوٹ سی جاسوسن۔ سب کچھ کرنا مگر سامنے ٹیبل پرپڑی یو ایس بی چیک مت کرنا ۔

وہ مسکراتے ہوئے سے دیکھنے لگا ۔

وہ فون کان سے لگائے صارم کی ساری ہدایات پر عمل کر رہی تھی ۔

پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنے ہاتھ اور دو بٹے کے بیچ میں اچھے سے اپنا فون چھپانے کی کوشش کی کیوں کہ کافی حد تک ناکام رہی تھی۔ ویسے بھی وہاں کون تھا جو اس کی چوری پکڑنے والا تھا ۔

پھر تھوڑی دیر کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلی۔تو یار م نے لیپ ٹاپ آف کر دیا ۔

اس وقت معصومہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور اپنے آپ کو بہت کونفیڈنس ظاہر کر رہی تھی

جب یارم نے سائیڈ ٹیبل سے کچھ نوٹوں کی گڈیاں نکال کر اس کے سامنے رکھے کھی ۔

پھر کچھ کاغذات نکالے ۔

یہ رہا تمہارا پاسپورٹ اور ویزا تم یہاں سے جا رہی ہو ۔یارم نے آرڈر دیا ۔

مگر سر میں تو آپ لوگوں کے ساتھ کام کرنے آئی تھی مجھے میرے بابا کی موت کا بدلہ لینا ہے آپ مجھے اس طرح سے واپس نہیں بھیج سکتے معصومہ نے ایک نظر شارف کو دیکھا ۔

کیونکہ وہ جانتی تھی اور کوئی اس کا ساتھ دے یا نہ دے لیکن شارف ضرور دے گا ۔

مجھے بھی یہی لگ رہا کہ معصومہ کے تم اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے آئی ہواور ہمارے ساتھ اچھا ٹیم ورک کرو گی ۔خضر نے بولنا شروع کیا

لیکن مجھے افسوس ہے کہ تم ہمارے ساتھ کام کرنے کی جگہ ہماری جاسوسی کر رہی ہو وہ بھی اس پولیس والے کے لیے ۔

معصومہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن پھر ایک نظر شارف کی طرف دیکھا ۔جوان سے بےنیاز اپنے موبائل پر لگا تھا

تم جانتی ہو ہم تم سے اتنی نرمی سے کیوں پیش آرہے ہیں کیونکہ تم صدیق کی بیٹی ہو ۔ اور وہ ہمارا بہت اہم آدمی تھا ۔لیکن اب وہ ہمارے بیچ نہیں ہے ۔

تمہارے یہاں آنے سے ہمیں خوشی ہوئی تھی معصومہ لیکن ہمیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ تم ان لوگوں کا ساتھ دے رہی ہو جنہوں تمہارے باپ کو مار دیا ہاں معصوم تمہارے باپ کا قتل کرنے والے کوئی غنڈے نہیں تھے بلکہ یہ پولیس والے تھے ۔پولیس نے اسے سچائی پتا لگانے کے لئے اتنا ٹیوچر کیا تھا کہ اسے زندہ زمین میں دفنا دیا ۔

اور تم ان پولیس والوں کا ساتھ دے رہی ہو اور ہمیں دیکھو ہم پھر بھی تم سے نرمی سے پیش آرہے ہیں ۔ہم تمہیں واپس بھیج رہے ہیں ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ہے تم وہ واحد لڑکی ہو جو ڈیول کے ساتھ غداری کر کے بھی زندہ ہو اور وہ بھی صرف تمہارے باپ کی وجہ سے ۔

خضر ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا ۔لہجے میں نرمی جبکہ زبان سے کڑوے الفاظ بول رہا تھا ۔جبکہ شارف بے نیازی سے اپنے موبائل پر PUBG کھیل رہا تھا .

بار بار شارف کی طرف مت دیکھو معصومہ وہ سب کچھ جانتا ہے لیلیٰ جو کب سے اسے شارف کی طرف دیکھتا نوٹ کررہی تھی مسکراتے ہوئے بولی ۔

یس ڈالنگ ۔اور میں یہ سب کچھ اس دن سے جانتا ہوں جب روح کے گھر پہ تم نے کہا تھا کہ تم اپنی ماں سے بات کر رہی ہو ۔

جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ صدیق آخری بار پاکستان اپنی بیوی کی موت پر گیا تھا ۔

اگر میں چاہتا تو میں وہی بول سکتا تھا کہ تمہاری ماں مر چکی ہے تم کس ماں سے بات کر رہی ہو کہیں تمہارا رابطہ اوپر سے تو نہیں۔۔ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معصومیت سے پوچھا ۔

مجھے افسوس ہے معصومہ تم ان لوگوں کا ساتھ دے رہی ہو جو تمہارے باپ کے قاتل ہیں ۔

میں جانتا ہوں کہ تم صارم کے لیے اپنے دل میں نرم جذبات رکھتی ہو ۔لیکن تم شاید یہ نہیں جانتی کہ صارم اپنی بیوی سے بے انتہا محبت کرتا ہے ّاور تمہارے لئے تو وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا ۔۔۔ اس ساری گفتگو کے دوران یارم پہلی بار بولا تھا ۔

وہ اسے بھاگا کر لایا تھا اپنے ساتھ ۔اس کے پورے خاندان سے دشمنی مول لے کر اس نے شادی کی تھی اس کے ساتھ ۔عروہ اس کے دوسرے بچے کی ماں بننے جارہی ہے اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ اپنی بیوی بچے کو چھوڑ کر تم سے شادی کرے گا ۔وہ تمہیں بے وقوف بنا رہا ہے ۔اور افسوس کے تم بن رہی ہو

یہ تمہارا ٹکٹ پاسپورٹ اور ویزا ہے تم یہاں سے جا سکتی ہوں ہمیشہ کے لئے تمہیں جب بھی رقم کی ضرورت ہو تم ہم سے رابطہ کر سکتی ہو ۔

اور جہاں تک صدیق کے قاتلوں کا سوال ہے تو وہ تم سے زیادہ ہمارا معاملہ ہے ہم خود حل کر لیں گے ۔

اب تم جا سکتی ہو ۔

لیلیٰ اسے یہاں سے بیجنے میں تم اس کی مدد کرو گی اور اسے باحفاظت واپس پاکستان پہنچاؤگی ۔اس نے لیلیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا

اوکے باس۔ لیلیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسے لے کر باہر چلی گئی ۔

جبکہ اب یارم اور خضر دونوں شارف کو بہت سیریس نظروں سے دیکھ رہے تھے

جس نے اپنی گیم میں مگن ایک نظر اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا

مجھے اس طرح سے مت دیکھو میں بالکل ٹھیک ہوں ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

لیکن ان دونوں نے اسے گھورنا نہ چھوڑا ۔

ہاں یار میں کچھ زیادہ سیریز ہوگیا تھا لیکن اب میں ٹھیک ہوں ۔شارف نے انہیں یقین دلانا چاہا ۔

لیکن ان دونوں نے گھورنا نہ چھوڑا

اوکے فائن مجھے برا لگ رہا ہے اس نے ایسا کیوں کیا وہ بھی اس کمینے انسپیکٹر کے لیے ۔یار وہ کمینہ انسپیکٹر مجھ سے زیادہ ہینڈسم تو نہیں ہے وہ اداسی سے بولا ۔

آج رات پارٹی کرتے ہیں شارف کی بیرک اپ پارٹی ۔خضر نے مسکراتے ہوئے پلان بنایا ۔

ہاں مجھے اس کی ضرورت ہے شارف مسکین صورت بنا کر بولا