Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 85)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یارم اپنی پرانی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اس کا دروازہ بجا۔

سو محترمہ تشریف لے ہی آئیں ۔وہ مسکراتے ہوئے اٹھا

دروازہ کھولا تو سامنے اپنے آپ کو شال سے کور کیے کھڑی تھی ۔

یار م آپ فاطمہ بی بی کے ۔اس کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی یارم نے اسے کمر سے کھینچ کر کمرے کے اندر کیا اور دروازہ بند کر دیا ۔

اب بولو کیا بولنا ہے بلکہ روکو تم چپ رہو میں بولتا ہوں ۔

بلکہ ایسا کرتے ہیں ہم دونوں ہی نہیں بولتے وہ کہتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا اور استحقاق سے اس کے لبوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی ۔

اور پھر اس کے لبوں سے گردن تک کا فاصلہ طے کرنے میں اس نے چند سیکنڈ لگائے تھے ۔

یارم میری بات ۔

شسش۔ ۔کوئی بات نہیں سننی میں نے تمہاری ۔تم سنو میری بات کتنا تڑپیا ہے تم نے مجھے۔ہر بات کا حساب چکاو۔

میری ہر رات کا حساب دو ۔

سوچنا بھی مت کے آج کی رات تم مجھ سے دو رہوگی۔میرے پاس رہو گی آج ہردوری مٹیے گی روح بی بی۔

اپنی ہر سانس کی تڑپ کا حساب لوں گا

لیکن سب سے پہلے تو تم مجھے اس بات کا حساب دو گی کہ تم مجھ سے اتنی بڑی خوشخبری کیوں چھپائی

بہت ناراض ہوں تم سے ۔تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا روح کیوں چھپائی مجھ سے اتنی بڑی بات ۔

میں باپ بننے والا ہوں ۔تم جانتی ہونہ کتنی بے چینی سے انتظار کر رہا تھا میں اس خبر کا ۔

اور تم مجھے بنا بتائیں یہاں آگئی ۔

روح یا رم کے چہرے کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی جبکہ یارم ابھی تک اس سے اپنے شکوئے کر رہا تھا ۔

روح اس طرح سے چپ رہنے سے تم بچ نہیں جاؤ گی بتاؤ مجھے کیوں نہیں بتایا تم نے اتنی بڑی خوشخبری کیوں چھپائی تم نے مجھ سے

میں تمہاری ہر غلطی معاف کرتا ہوں لیکن یہ غلطی معاف نہیں کروں گا ۔

وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامے پوچھ رہا تھا جبکہ وہ تو ابھی تک شاکڈ تھی ۔

جبکہ اس کی چہرے سے ہوائیاں اڑتی دیکھ کر اب یار م بھی پریشان ہو چکا تھا ۔

روح تم ٹھیک تو ہو ۔۔یارم نے پریشانی سے پوچھا ۔

میں ۔۔میں ماں بننے والی ہوں۔۔۔؟روح نے حیرانگی سے پوچھا۔

کیا میں سچ میں پریگنیٹ ہوں ۔۔؟وہ خیر انگی سےیارم کو دیکھ رہی تھی جبکہ یارم اس کی اس طرح سے انجان ہونے پر کِھل اٹھا ۔

تمہیں نہیں پتا تھا ۔۔وہ اس سے پوچھنے لگا۔

نہیں آپ کو کیسے پتہ چلا ۔یارم آپ کو کس نے بتایا ۔شرم کے مارے روح سے نظریں تک نہیں اٹھائی جا رہی تھی

وہ ابھی تک شوکڈکی کیفیت میں اس سے پوچھ رہی تھی جب یا رم نے اس کا شرمایا ہوا روپ دیکھ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔

روح ہم ماں باپ بننے والے ہیں ہمارا بچہ اس دنیا میں آنے والا ہے ۔

تھینک یو سو مچ مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کے لئے ۔اس نے مسکراتے ہوئے روح کے ماتھے بھی اپنے لب رکھے

یارم اب مجھے چلنا چاہیے کوئی دیکھ لے گا ۔روح نے اس سے الگ ہوتے ہوئے کہا ۔

بالکل بھی نہیں یہاں لیٹو آرام سے آج کی رات میں اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ گزاروں گا ۔

اس نے روح کی کوئی دوسری بات سنیں بغیر بیڈ پر جگہ بناتے ہو اس کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا

تم نے امی کو مجھے یہ بتانے کے لئے کیوں منع کیا کہ تم میری بیوی ہو ۔وہ یار م کے کے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی جب یار م نے پوچھا ۔

یارم آپ فاطمہ بی بی کی اکلوتے بیٹے ہیں ۔

نہ جانے کتنے خواب دیکھے ہوں گے انہوں نے آپ کی شادی کے لئے ۔

نہ جانے کیا کیا سوچ رکھا ہوگا ۔

اور اب اگر آپ اچانک انہیں یہ کہیں گے کہ میں آپ کی بیوی ہو تو نے کتنا برا لگے گا ۔اور ویسے بھی مجھے ان سے عجیب سے شرم آنے لگی ہے ۔میں فاطمہ بی بی کی بہو ہوں روح مسکرائی ۔ اور اس کے انداز پر وہ بھی بے ساختہ مسکرا دیا

اسی لئے مجھے لگا کہ آپ کو یہ بات فی الحال انہی نہیں بتانی چاہیے ۔

ہم بعد میں انہیں اپنی شادی کے بارے میں بتائیں گے ۔

روح نے آہستہ سے کہا ۔

وہ میری ماں ہیں آج نہیں تو کل تو یہ بات انہیں پتا چلنی ہی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔بعد میں بھی تو انہیں یہ بات جان کر دکھ ہوگا نہ ۔اور ویسے بھی انہوں نے خود مجھے اپنے آپ سے الگ کیا تھا ۔

انہوں نے آپ کو خود سے الگ کیا تو آپ تو بالکل ہی الگ ہوگئے آپ انہیں بعد میں یہ بات اور حالات بتائیں گے تو نے برا نہیں لگے گا ہم ٹھیک سے انہیں سمجھائیں گے ۔

میں خود انہیں بتا دوں گی ۔

اور تم انہیں یہ بات کب بتاؤگی روح ۔میں یہاں تمہیں لینے آیا تھا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ میں میرے ساتھ کبھی نہیں آئیں گی ۔یارم کے لہجے میں اداسی تھی

بتا دوں گی یارم ۔

ٹھیک ہے کل ہی بتا دینا ۔میں نہیں چاہتا کہ تم اتنے دن مجھ سے دور رہو ۔

یارم میرے خیال سے بھی مجھے چلنا چاہیے یہ نہ ہو کے تانیہ آپی جگ جائیں روح اٹھنے لگی جب یارم نے اسے اپنے قریب کر لیا ۔

اتنے دنوں کی بعد ملی ہو اور دور جانے کی باتیں کر رہی ہو ۔

اور تمہیں لگتا ہے میں تمہیں جانے دوں گا ۔

وہ ایک ہی جھٹکے میں اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔

یارم فاطمہ بی بی آجائیں گی۔

روح کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی جب یارم نے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔

شاید وہ آج اسے بخشنے کے بالکل موڈ میں نہ تھا ۔

یارم تانیہ آپی ۔۔۔۔

روح تم میرا موڈ خراب کر رہی ہو ۔کسی اور کے ساتھ نہیں ہوں اپنے شوہر کے ساتھ ہو تم ۔

کوئی آئیں جائیں جاگے اٹھے سوئیں آئی ڈونٹ کیئر ۔میں بس تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں ۔

جو تم نے میرے ساتھ کیا ہے نہ اس کی بہت بری سزا دینی چاہیے مجھے تمہیں لیکن میں تم سے پیار کر رہا ہوں۔

لیکن چھوڑوں گا نہیں سارے حساب لونگا لیکن اس وقت مجھے بالکل تنگ مت کرو ۔

اچھے بچوں کی طرح اپنا منہ بند رکھو اور مجھے میرا کام کرنے دو ۔

ورنہ میں ابھی امی کو جا کے بتاؤں گا کہ تم میری بیوی ہو اور ہمیشہ کے لئے لے آؤں گا ۔

یارم کہتے ہوئے پھر سے اس کے لبوں پر جھک گیا اور اس بار روح نے کوئی مزاحمت نہ کی ۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ آدمی جو کہتا ہے وہ کرتا ہے۔

یا رم اب مجھے جانے دیں نا تھوڑی دیر میں آزان شروع ہوجائیگی فاطمہ بی بی جاگ جائیں گی۔

روح نے اس کے قریب سے اٹھنے کی ایک اور ناکام سی کوشش کی ۔

جب یارم نے اسے پھرسے پکڑ کے اپنے قریب کر لیا۔

چلی جاؤ لیکن جانے سے پہلے میری ایک شرط ہے ۔

آج اس نئے سال کی پہلی صبح میں تم سے اس نئے سال کا تحفہ مانگتا ہوں ۔

یارم نے اس کے لبوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوئے کہا ۔

میں آپ کو تحفہ دے چکی ہوں ۔آپ مزید میرے پاس کچھ نہیں ہے آپ کو دینے کے لیے ۔روح اس کا اشارہ سمجھ کر گھبرا کر بولی ۔

لیکن وہ تحفہ تو میں نے دیا ہے ۔تمہاری باری تو اب آئی ہے ۔

وہ کہتے ہوئے ایک بار پھر سے اس پر جھکا تھا ۔

نہیں یارم پلیز جانے دیں۔

وہ جانتی تھی یہاں سب مزاحمتیں بے کار ہیں پھر بھی ناکام سی کوشش کرنے لگی ۔

جبکہ یارم اس کی کسی بھی بات پہ دھیان نہ دیتے ہوئے اپنے کام میں مگن تھا ۔

جب اذان شروع ہوگئی۔

یارم چھوڑیں مجھے ۔وہ اسے پیچھے دھکیل کی باہر بھاگی تھی ۔

جبکہ یارم اس کی سپیڈ دیکھ کر ہسنے لگا ۔

اس کی بات ٹھیک تھی اگر یارم اچانک اپنی ماں کو یہ کہتا ہے کہ وہ شادی کرکے آیا ہے تو انہیں برا لگے گا ۔

لیکن روح کو ان سے شرم کیوں آرہی تھی ۔

محترمہ کے لاجک ہی عجیب ہیں۔

وہ مسکراتے ہوئے دوبارہ لیٹ گیا

تم پاس نہیں ہوتی تب بھی نیند حرام ہوتی ہے تم پاس ہوتی ہو تب بھی نیند کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔

روح بے بی کیوں میری نیند کی دشمن بنی ہوئی ہو ۔وہ ایک بھرپور انگڑائی لے کر اپنے اوپر کمبل ڈالنے لگا

جب نظر اس جگہ گی جہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے روح اس کے ساتھ تھی وہ بے ساختہ مسکرایا ۔

بہت ظالم ہو یار ۔وہ اس جگہ پر ہاتھ پھیرتا سونے کی کوشش کرنے لگا ۔

وہ جلدی سے کمرے میں آئی اور اپنی جگہ پر لیٹ گئی ۔

جبکہ تقریبا دو منٹ بعد ہی فاطمہ بی بی نے اسے پکارنا شروع کیا ۔

روح اٹھ نماز پڑھ لے ۔

ان کے کہنے کی دیر تھی کہ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔

ارے یہ دروازہ کس نے کھلا چھوڑ دیا میں نے تو آتے ہوئے بند کیا تھا فاطمہ بی بی سوچتےہوئے اٹھی ۔

وہ میں پانی لینے گئی تھی روح نے فورا جھوٹ بولا

فاطمہ بی بی ہاں میں ہلاتی اٹھ کر واش روم چلی گئی ۔

اللہ پوچھے آپ کو یارم نئے سال کی پہلی صبح ہی مجھ سے جھوٹ بلوایا پورے سال ہی جھوٹ بولتی رہوں گی۔

وہ یارم کو کوستی اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔