Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 11)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
نہ جانے کیا سوچ کر وہ آج گھر جلدی آ گیا تھا ۔ خضر کو بس اس نے اتنا کہا کہ اسے گھر جانا ہے ۔خضر اس کے سامنے کہاں کچھ بولتا تھا ۔
وہ گھر آیا تو گھر لاکڈ دیکھ کر پریشان ہو گیا روح کہاں جا سکتی ہے ۔
یقینا پڑوس میں۔ اسے منع بھی کیا تھا اسے کہ وہ کہیں نہیں جائے گی لیکن پھر بھی اس لڑکی نے اس کی بات نہیں سنی تھی ۔
وہ پڑوس میں آیا یہاں کی عورتیں اکثر اس سے بات کرنے کی کوشش کیا کرتی تھی اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک عورت باہر نکلی اس نے اس سے روح کے بارے میں پوچھا
ہاں بیٹا تمہاری بیوی ہم گئے تھے کل تمہارے گھر تمہاری بیوی بہت پیاری ہے بہت پیاری باتیں کرتی ہے لیکن وہ یہاں تو نہیں آئی
اس عورت کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا جو اصل بات بتانے کی بجائے اتنی لمبی تہمت باندھ رہا ہے تو یار م اسے گولی مار کے فارغ کر دیتا ۔
جی میں بس یہی پوچھنے آیا تھا
یارم وہاں سے نکلا اور دوسرے فلیٹ کی طرف آیا وہ تقریبا ساڑھے چار سال سے اس بلڈنگ میں رہ رہا تھا اور آج تک کسی سے بات نہ کی اس لڑکی کی وجہ سے اسے سب کا دروازہ کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر بات کرنے پر رہی تھی ۔
ہاں روح کو دوپہر میں۔ میں نے بلڈنگ سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا تھا ۔
میں نے پوچھا تھا کیا ہوا ہے تمہیں تو کہنے لگی کے اندر فلیٹ میں گھٹن ہورہی ہے اس لئے باہر پارک میں بیٹھنے جا رہی ہے وہی ہوگی وہ عورت نے بتایا تو وہ باہر پارک کی طرف آ گیا ۔
لیکن افسوس اسے یہاں پر بھی کوئی نہ ملا ۔
کہاں جا سکتی ہے یہ لڑکی نہ گھر میں ہے نہ بلڈنگ میں اور نہ ہی یہاں۔ یہاں کے راستوں کو بھی نہیں جانتی ہوگی وہ ایسے کیسے منہ اٹھاکے باہر نکل گئی منع بھی کیا تھا میں نے ۔
اس نے جلدی سے خضر کو فون ملایا ۔
میں پتا کرواتا ہوں ایسے کیسے کہی جاسکتی ہے ۔خضر نے کہا ۔
جلدی پتہ لگاؤ نجانے وہ لڑکی کہاں چلی جائیگی ۔اس بے وقوف کو منع کیا تھا میں نے فلیٹ سے باہر مت نکلا ۔
یارم کو نہ جانے کیوں اس پر بہت غصہ آرہا تھا
یارم چھوڑونا اچھا ہی ہے ہماری جان چھوٹ گئی ۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے اس کو اس کا اصل شوہر مل گیا ہو اور اس کے ساتھ چلی گئی ہو ۔اور اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اچھا ہوا ہے وہ کب تک ہمارے ساتھ رہتی اس طرح کی سیدھی سادھی لڑکی ہمارے ساتھ نہیں چل سکتی آج نہیں تو کل تو اسے چلے ہی جانا تھا ۔
بکواس کرنے کے لیے نہیں کہا ہے میں نے جو کہا ہے وہ کرو اس لڑکی کا جلد سے جلد پتہ کر کے مجھے دو وہ غصے سے دھاڑا تھا ۔
اسے ہوش آیا تو اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا اس کے قریب ایک ڈاکٹر اور دو پولیس والے تھے ان میں سے ایک وہی پولیس والا تھا جو اس آدمی سے باتیں کر رہا تھا ۔
پہلے دوسرے پولیس والے نے اس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی ۔
لیکن وہ نہ جانے عربی میں کیا بول رہا تھا روح کو تو ایک لفظ بھی سمجھ میں نہ آیا ۔
پھر دوسرا آدمی بولا آپ کہاں سے ہیں آپ عربی جانتی ہیں ۔
شاید اسے دیکھ کر اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ پاکستانی ہے ۔
اس نے نا میں گردن ہلائی ۔تو سامنے کھڑا یونیفارم میں انسپکٹر سمجھ چکا تھا کہ وہ عربی نہیں جانتی لیکن اردو میں اس کی بات سمجھ رہی ہے
کہاں سے ہیں آپ ۔۔۔؟
یہاں کس کے ساتھ رہتی ہیں ۔۔۔۔؟
آپ بے ہوش ہو گئی تھی ہم آپ کو ہسپتال لائے ہیں ۔لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ ہمیں اپنے ایڈریس بتائیں ہم آپ کو آپ کے گھر باحفاظت چھوڑ آئیں گے ۔
صارم نے تحمل سے اس سے بات کی ۔
وہ آدمی مرگیا کیا ۔۔۔۔؟
روح کے ذہن میں ابھی تک اس آدمی کی لاش گھوم رہی تھی جو اس کے سامنے مر گیا
جی ہاں شاید اس کی زندگی اتنی ہی تھی صارم ذرا سا مسکرایا تھا ۔
کیا انسان ایسے ہی مر جاتا ہے ۔۔۔؟ روح نے بہکے بہکے لہجے میں کہا
اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھا صارم پھر بےساختہ مسکرایا
جب موت آئی ہو تو وہ وجہ یہ طریقہ نہیں دیکھتی ۔انسان کیسے مرتا ہے اس کی روح کیسے نکلتی ہے یہ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ اب ہم نے بھی سوچا تھا ہم اس آدمی کو گرفتار کرکے اپنے ماحول کو گناہوں سے پاک کریں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔اس سے پہلے کہ ہم اس آدمی کو گرفتار کرتے اللہ نے اسے اپنے پاس بلا لیا ۔
اب آپ ہمیں اپنا ایڈریس بتائیں ہم آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آتے ہیں ۔
صارم نے جیسے بات ختم کرنا چاہی ۔
ایڈریس ۔مجھے تو ایڈرس نہیں پتا مجھے تو یہاں آئے ہوئے ابھی صرف تین دن ہوئے ہیں ۔ روح نے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے کوئی بات نہیں آپ بتائیں کہ کس کے ساتھ رہتی ہیں ہم آپ کو ان تک پہنچا دیں گے ۔اس ملک کی پولیس کو
عام آدمی کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنے کی اجازت نہ تھی
میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہوں ۔اس نے جلدی سے بتایا نہ جانے کیا وقت ہوا تھا یارم گھرآ چکا ہوگا نہ جانے کتنے وقت سے وہ گھر سے غائب ہے ۔
اس نے پریشانی سے سوچا جبکہ نظروں میں ابھی تک اس شخص کی لاش گھوم رہی تھی ۔
آپ اپنے شوہر کا نام بتائیں ۔صارم نے نرمی سے کہا ۔
ڈیول ۔اسے نام لیتے ہوئے عجیب سا لگا کیا سوچے گا یہ پولیس والا اس کے شوہر کا نام کتنا عجیب ہے
جبکہ سامنے کھڑے پولیس والے نے واقع ہی حیرت کا مظاہرہ کیا تھا ۔
ڈیول۔ خیر میں تو ایک ہی ڈیول کو جانتا ہوں اپنے جانے کس کے بارے میں بات کر رہی ہیں آپ کیا مجھے ان کے بارے میں مزید کچھ معلومات دے سکتی ہیں ۔
صارم نے اپنی سوچ کو جھٹلا کر پھر سے نرمی سے پوچھا
ان کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتی مگر وہ جہاں پر کام کرتے ہیں اور ان کے ساتھ خضر بھائی شارف بھائی اور لیلیٰ بھی ساتھ میں کام کرتے ہیں ۔
اس نے سامنے کھڑے انسان کو ایک اور جھٹکا دیا تھا
صارم کے لئے یقین کرنا بہت مشکل تھا ۔
لیکن پھر بھی اس لڑکی کو اس طرح سڑک پر تو نہیں چھوڑ سکتا تھا خضر لیلیٰ شارف کو وہ جانتا تھا۔
کیا وہ جو کچھ سوچ رہا ہے وہی تھا یا کچھ اور وہ بُری طرح الجھتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گیا
خضر نے ہر جگہ پتہ کروا لیا تھا وہ کہیں بھی نہیں تھی اسے اصل بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی ۔
آخر یارم اتنا پریشان کیوں تھا اسے کیا مطلب تھا اس لڑکی سے اچھا ہی تھا جو اس سے جان چھوٹ رہی تھی لیکن یارم پاگلوں کی طرح اس کا ہر طرف پتہ کروا رہا تھا ۔
یارم نے ہر جگہ اپنے آدمی لگا دیے تھے ۔
جو کہ روح کو ڈھونڈنے میں مصروف تھے ۔
جبکہ لیلیٰ بہت پرسکون ہو کر بیٹھی تھی ۔ وہ بہت خوش تھی کہ جیسے وہ راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے وہ اپنے آپ ہی چلی گئی ۔
سب نے یہی کہا تھا کہ اچھا ہی ہے کہ اس کی جان چھوٹ گئی وہ اس لڑکی کو کب تک سںبھالتے ۔
آج نہیں تو کل اس نے چلے ہی جانا تھا ۔
لیکن یارم کو نا جانے کیا مسئلہ تھا جو ہر طرف اس لڑکی کے بارے میں پتہ کروا رہا تھا ۔
اور کسی میں اتنی ہمت بھی نہ ہو رہی تھی کہ اس کے قریب جا کر اس سے وجہ پوچھتے کیوں کہ اس وقت وہ اتنے غصے میں تھا ۔
کہ اس کے قریب جانے کی ہمت کسی میں نہ تھی ۔
ایک بات تو کلیئر تھی کہ اب اگر وہ اسے مل گئی تو وہ روح کو جان سے مار دے گا ۔
ان لوگوں نے پہلی بار یارم کو کسی کے لیے اتنا پریشان ہوتے دیکھا تھا ۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ یارم کی پریشانی کی وجہ کو سمجھ نہیں پائے تھے ۔
جی ہاں یہی میرے شوہر کے کام کرنے کی جگہ ہے آپ مجھے بالکل ٹھیک جگہ پر لائے ہیں روح نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا ۔
ورنہ اس سے پہلے تو وہ اتنی پریشان تھی کہ نہ جانے وہ اس تک پہنچ بھی پائے گی یا نہیں ۔
آئیں میں آپ کو اندر تک چھوڑ دیتا ہوں صارم نے کہا ۔
نہیں تھینکیو آپ نے میرے لئے اتنی پریشانی اٹھائی اب میں چلی جاؤں گی ۔
وہ ا سے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
نہیں پریشانی کیسی یہ تو ہماری ذمہ داری ہے صارم کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکان تھی ۔
آئیے میں آپ کو آپ کے شوہر کے حوالے کرکے ہی جاؤں گا ۔
وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا جب کے اس کے دماغ میں بس ایک ہی بات تھی جتنی معصوم یہ لڑکی بننے کی کوشش کر رہی ہے اتنی ہے نہیں ۔
ڈیول کی بیوی اتنی معصوم ہو ہی نہیں سکتی ۔یہ لڑکی پچھلے تین گھنٹے سے اسے بےوقوف بنا رہی تھی اور وہ بنا جا رہا تھا ۔
اور اگر نہیں تو یقینا یہ لڑکی جھوٹ بول رہی تھی ۔
جو بھی تھا ابھی سے پتہ چل ہی جانا تھا ۔
وہ ہال کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور ساتھ میں اس کے لئے بھی دروازہ کھولا ۔
جبکہ ہال میں صارم کو داخل ہوتے دیکھ کر یارم کو بہت غصہ آیا اس وقت وہ اس کی شکل تو ہرگز نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔
لیکن جب اس کے پیچھے روح کو دیکھا تو غصہ کنٹرول کرنا مزید مشکل ہو گیا ۔
وہ تیزی سے آگے بھرا اور صارم کے پیچھے سے روح کا بازو کھینچ کر آگے کیا اور بنا سوچے سمجھے درا در چارپانچ تھپڑوں سے اس کا منہ لال کر دیا ۔
کس کی اجازت سے تم نکلی تھی فلیٹ سے میں نے منع کیا تھا نا ۔ اس کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچے غصے سے پھنکارا تھا ۔
جب کہ روح نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کچھ ایسا ہونے والا ہے ۔
ہال میں سناٹا چھا چکا تھا ۔یہ تو طے تھا کہ یارم اسے بخشنے والا نہیں ہے لیکن سب کو یہی لگا تھا کہ یارم ایک گولی کا استعمال کرے گا ۔
می۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ روح نے بمشکل کچھ بولنے کی کوشش کی
ہاتھ پیر بری طرح سے کانپ رہے تھے وہ پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی لیکن یارم کے رویے نے اس کی روح تک ہلا دی ۔
یہ تمہاری پہلی اور آخری غلطی تھی ۔اس نے جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑتے ہوئے اسے دور پھینکا وہ جا کر دیوار سے لگی ۔
اور وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔
جب کہ صارم اپنے سامنے یہ کروائی ہوتے دیکھ کر حیران پریشان کھڑا تھا ۔
جبکہ یارم اب ریلیکس لگ رہا تھا ۔
آپ کے یہاں تشریف لانے کی وجہ جان سکتا ہوں اس نے غصے سے صارم کی طرف دیکھا ۔
وہ یہ لڑکی بے ہوش ہو گئی تھی اس نے کہا کہ تمہاری بیوی ہے تو میں اسے تمہارے پاس چھوڑنے آیا تھا ۔کیا یہ سچ میں تمہاری بیوی ہے صارم نے بے یقینی سے پوچھا ۔
ہاں یہ لڑکی میری بیوی ہے ۔اور تم اس لڑکی سے کم ازکم دس فٹ کی دوری پر رہوگے ۔اب تم جا سکتے ہو تم اپنی ڈیوٹی کر چکے ہو ۔
اس نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
تم نے شادی کب کی ۔۔۔۔؟
صارم کا بھی مزید تشویش کرنے کا ارادہ تھا
سوری میں تمہیں انوائٹ کرنا بھول گیا ۔ یارم نے جیسے بات ختم کی تھی ۔
مطلب تم نے سچ میں شادی کی ہے کیایہ سچ میں تمہاری بیوی ہے وہ اپب بھی بے یقینی سے بول رہا تھا
واپسی کا راستہ اس طرف ہے یارم نے ہال کے مین گیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔
مطلب صاف تھا کہ وہ اس سے مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ۔
لیکن اس کے باوجود بھی صارم وہاں سے نہیں گیا ۔
جبکہ خضر اور شارف کو لگا تھا کہ وہ صارم کو سچ بتائے گا ۔ یہ لڑکی اس کی بیوی نہیں تھی وہ صرف غلط فہمی کی بنا پر ان تک پہنچی تھی وہ کیوں اس سے جھوٹ بول رہا تھا ۔
یارم نے ایک نظر ہال میں کھڑے ہر انسان پر ڈالی اور پھر دیوار سے چپکی بیٹھی روح کو دیکھا جو مسلسل رو رہی تھی ۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا اور اس کا بازو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گیا ۔
جبکہ اب صارم کے ساتھ باقی سب بھی بے یقینی سے انہیں جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے
گاڑی میں بھی وہ مسلسل روتی رہی یارم نے ایک لفظ بھی نہ کہا اور اسے گھسیٹا ہوا فلیٹ کے اندر لا کرپٹکا ۔
اگر تمہیں یہاں فلیٹ میں گھٹن ہو رہی تھی تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا باہر کیوں نکلی ۔۔۔۔؟
وہ بالکل اس کے قریب کھڑا پوچھ رہا تھا ۔
مجھے۔۔۔۔ لل۔ ۔۔لگا آآآآپ۔۔۔۔۔۔ ککک۔ کے۔۔۔۔۔۔۔۔ آآآآنے سس۔ ۔ے پہل۔ پہلے ۔۔۔
ِپہلی اور آخری غلطی تھی میں آخری بار بتا رہا ہوں ۔
اگر اب تم اس فلیٹ سے باہر نکلی تو میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا ۔
اپنے پیروں پے کبھی چل بھی نہیں پاؤگی باہر نکلنا تو دور کی بات ۔۔ وہ غصے سے اس کے منہ پر پھنکارا تھا
سسسس۔ ۔سورررری۔ وہ با مشکل بولی ۔
جبکہ یار م اپنے کمرے میں جا چکا تھا ۔
کافی دیر اپنے کمرے میں رہنے کے بعد وہ شاور لے کر باہر آیا تو روح یہاں کہیں نہیں تھی ۔
مین گیٹ کھلا تھا ۔
مطلب کے اس سب کے باوجود وہ پھر سے کہیں چلی گئی۔
وہ تیزی سے مین گیٹ کی طرف آیا لیکن وہاں پر روح کی چپل پڑی دیکھی ۔
ایک چپل یہیں پڑی تھی وہ ایک چپل پہن کر تو جانے سے رہی
وہ دروازہ ایسے ہی کھلا چھوڑ کر روح والے کمرے کی طرف آیا ۔
تو اندر سسکیوں کی آواز آرہی تھی ۔
وہ اپنے کمرے میں تھی ۔وہ پلٹا مین ڈور بند کیا اور کچن میں آیا ۔
سوچا فلحال کچھ ہلکا پھلکا سا ہی بنا لے۔ لیکن فریج کھولا تو وہاں کھانا آلریڈی بنا ہوا تھا شاید وہ کھانا بنا کر کہیں باہر نکلی تھی ۔
کل باتوں باتوں میں اس نے پوچھا تھا کہ آپ کو بریانی پسند ہے ۔ اب اسے سمجھ میں آیا کہ اس نے کیوں پوچھا تھا ۔
اس کا ڈمپل نمایاں ہوا ۔کھانا گرم کر کے اس نے ٹرے میں رکھا اور روح کے کمرے میں لایا ۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔
اس نے لائٹ جلائی تو دیکھا وہ کونے میں بیٹھی رو رہی تھی ۔
وہ آہستہ سے اس کے قریب آ کر زمین پر بیٹھا اور ٹرے اس کے سامنے رکھا ۔
جانتی ہو روح میں پچھلے بیس سال سے اس ملک میں رہ رہا ہوں آج تک میں اس کی گلیوں کو نہیں سمجھ پایا میں کیسے مان لوں کہ فقط تین دن میں تم اس ملک کو سمجھ چکی ہو مجھے بتائے بنا مجھ سے پوچھےایسے ہی کہیں نکل گئی ۔
تمہیں اندازہ بھی ہے پچھلے پانچ گھنٹے سے میں کتنا پریشان تھا ۔
جتنے زندگی کے دن نہیں دیکھی تم نے اتنے دشمن ہیں شہر میں میرے ۔کہاں سے لاتا میں تمہیں کہاں سے ڈھونڈ تا روح۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے پاس بیٹھا بول رہا تھا ۔
پچھلے پانچ گھنٹے سے میں نے بس یہ ایک بات سوچی ہے اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو ۔ روح یہ ملک جیسا دکھتا ہے ویسا نہیں ہے ۔
یہ سب کچھ دکھاوا ہے یہ اصل کچھ بھی نہیں ۔یہاں ہر انسان کے دو چہرے ہیں ۔ روح نے سر اس چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔
اس کے ہاتھوں کے نشان اس کے چہرے پر واضح تھے ۔
روح اگر تم نے دوبارہ ایسی غلطی کی نہ تمہیں دوبارہ تم پہ ہاتھ اٹھانے سے گریز نہیں کروں گا ۔
لیکن مجھے یقین ہے کہ تم دوبارہ ایسا نہیں کرو گی ۔میں جلدی ہی تمہارے لئے کوئی اور گھر کا انتظام کر دوں گا ۔
اب رونا دھونا بند کرو یہ ناراضگی ختم کرو اور کھانا کھاؤ ۔
روح نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی اسے اتنے پیار سے منائے گا اس کے اتنے پیار سے بات کرنے پر روح کو پھر سے رونا نے لگا ۔
اور وہ ایک بار پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ لیکن اس بار اپنے ہاتھوں میں منہ چھپاکر نہیں بلکہ یارم کے سینے میں سر دے کر ۔
آیم سوری میں آئندہ ایسا نہیں کروں گی ۔ وہ روتے ہوئے بولی ۔
جب کہ اسے اپنی باہوں میں بھرے اپنے سینے سے لگائے یارم کاظمی بھول چکا تھا کہ وہ کون ہے
