Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 45)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

تم یہاں کیا کر رہی ہو روح وہ اس کے پیچھے کھڑا پوچھ رہا تھا جبکہ اس کے ہاتھ میں موبائل فون وہ دیکھ چکا تھا ۔

اچھا فاطمہ بی بی سے بات کر رہی تھی بے بی یہ کوئی وقت ہے ان سے بات کرنے کا ۔

چلو آؤ اندر تمہارے فون سے نہیں لگے گا ان کا نمبر ۔

او میں فون ملا کے دیتا ہوں ۔

میرے خیال میں اس وقت وہاں بھی بہت رات ہو چکی ہوگی۔

تم کانپ کیوں رہی ہو تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے چلو آؤ تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے وہ اس کا ہاتھ پکڑئے اندر کی طرف آنے لگا ۔

روح کا سارا وجود ڈر سے کانپ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ اگنور کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا ۔

روح نے بامشکل اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام

بےبی تم اس طرح سے کانپ کیوں رہی ہو ۔۔۔مجھے تمہاری طبیعت زیادہ خراب لگ رہی ہے تم کچھ کھا لو ۔

تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔

روح بے جان وجود کو اس کے ساتھ گھسٹتی جا رہی تھی

تم پلیز کچھ کھا لو اس طرح سے تو مزید بیمار ہو جاؤ گی وہ فکرمندی سے کہتا اسے کچن کی طرف لے جانے لگا ۔

ب۔ ۔بھوک۔۔ نہیں ہے مجھے وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر اس سے فاصلے پر ہوئی ۔اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی ۔

ہاں بےبی لیکن کھانا کھانا پڑے گا نہ تم یہاں پر بیٹھو میں کھانا گرم کرتا ہوں ۔

وہ اسے زبردستی چئیر پر بٹھا کر کھانا گرم کرنے لگا ۔

آج کی شام میں بہت اسپیشل بنانا چاہتا تھا لیکن ۔۔۔۔۔۔

آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔ آج کی شام جوسرپرائز آپ نے مجھے دیا ہے وہ ساری زندگی یاد رکھوں گی ۔۔۔روح نے اس کی بات کاٹ کر اسے شرم دلانے کی کوشش کی چہرہ ضبط سے سرخ ہو رہاتھا۔ آواز میں واضح کپکپاہٹ تھی ۔

یارم نے اس کی بات سن کر ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کھانا لاکر اس کے سامنے رکھا ۔

بےبی یہ صرف تمہاری غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں تم سے پھر سے جھوٹ بولا گیا ہے اور تم یقین۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے سید یارم کاظمی وہ ٹیبل پر ہاتھ مار کر اٹھتی چلا کر بولی ۔

اس کے اس طرح سے کہنے پر نہ جانے کیوں یارم مسکرا دیا ۔

پھر کافی دیر اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتا رہا

اور پھر ٹھہر ٹھہر کر بولا

روح تم جانتی ہو نہ آئی لو یو ۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا نہ جانے اسے کیا کہنا چاہتا تھا ۔

تم جانتی ہو نامیں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں وہ روح کے قریب آ کر کھڑا ہوا ۔روح نے اس کی بات پر سر جٹکا ۔

روح تم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس شخص کو مارتے ہوئے تم نے دیکھا ہے مجھے تو یہ بھی جانتی ہوگی کہ میں نے اسے کیوں مارا وہ تمہیں اٹھا کر لے گئے تھے تمہیں مارنا چاہتے تھے روح صرف ۔۔۔۔

میری موت میرے اللہ کے ہاتھ ہے آپ ہوتے کون ہے کسی کی زندگی کا فیصلہ کرنے والے ۔روح کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔یارم نے ایک نظر گھور کر اسے دیکھا

مجھے اتنی اونچی آواز پسند نہیں ہے روح ۔تم سے پیار کرتا اس لئے برداشت کر رہا ہوں ۔

ورنہ ابھی تک تم نے میری درندگی کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ۔اور تمہیں میں دکھانا بھی نہیں چاہتا سو مجھے مجبور مت کرو ۔

اور ایک بات یاد رکھو تم میری کمزوری ہو ۔اور ہماری دنیا میں اپنی کمزوریوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے ۔

اور میں ایسا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا

وہ ایک ایک لفظ چھپا چھپا کر بولا

مطلب وہ اس کے سامنے شرمندہ تک نہیں تھا ۔اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس نے روح کو اتنے وقت سے دھوکے میں رکھا تھا ۔

روح کی جان لینا بھی اس کے لئے بہت مشکل نہ تھا ۔

روح کا ڈر مزید بڑھ چکا تھا وہ بے یقینی سے یارم کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی جو اس سے بے خبر کھانے کا نوالہ بنا رہا تھا

روح کھانا کھاؤ ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا یارم اپنا لہجہ نورمل بناتا کھانے کا نوالہ اس کی طرف لے جانے لگا ۔

وہ اب بھی بے یقینی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی یارم نے نوالہ بالکل اس کے لبوں کے قریب رکھا ۔

روح سب کچھ ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا آج جو کچھ ہوا تم سب بھول جاؤ سب کچھ پہلے جیسا ہے ۔

نا تم کچھ جانتی ہو ۔اور نہ ہی کچھ جاننا چاہتی ہو۔

چلو اب کھانا کھاؤ ۔میں سختی نہیں کرنا چاہتا ۔

وہ سخت نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا ۔

اورزبردستی کھانے کا نوالہ اس کے منہ میں ڈال دیا ۔

او تو اب تم چاہتی ہو کہ میں سارا کھانا تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں۔ نوٹی گرل ۔

وہ دوسرا نوالہ بناتے ہوئے مسکرایا تھا ۔

جبکہ ڈر سے کاںپتے ہوئے یارم نے اسے جتنا کھلایا وہ کھاتی گئی ۔

یارم نے اسے اس کی ضرورت کے مطابق کھانا کھلایا اور پھر میڈیسن دینے لگا ۔

بےبی اب تم آرام کرو میں یہی ہوں تمہارے پاس ۔وہ اسے بیڈ پر لیٹاکر کبمل ٹھیک کرتے ہوئے بولا ۔

ڈر کے مارے نیند کی گولی کھانے کے باوجود بھی روح کو نیند نہیں آ رہی تھی ۔

یارم اس کی غیر دماغی اچھے سے محسوس کر رہا تھا ۔

وہ آہستہ سے اس کے قریب لیٹ کر اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔

سب کچھ پہلے جیسا ہے روح سب کچھ بھول جاؤ کچھ نہیں ہوا ۔اس کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے بولا۔

اور اس کی ہر بات پر کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودے ۔

کتنے آرام سے اس شخص نے اس کا اعتبار توڑ دیا ۔

ویسے اب وہ ڈیول کہ ساتھ ہی رہے گی یا اسے چھوڑ کر چلی جائے گی ۔

شارف کو جب سے پتہ چلا تھا کہ روح سب کچھ جان چکی ہے وہ پریشان تھا ۔

نجانے روح کیا فیصلہ کرے اب وہ خضر سے پوچھنے لگا ۔

تمہیں کیا لگتا ہے ڈیول اسے فیصلے کا حق دے گا ۔خضر اس کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

کسی غلط فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے شارف ڈیول اسے کہیں نہیں جانے دے گا وہ اسے اپنے ساتھ ہی رکھے گا ۔

بس دعا کرو کہ روح اس حقیقت کو قبول کرلے ۔

کیونکہ رہنا تو اب اسے ڈیول کے ساتھ ہی ہے ۔

تم معصومہ کو اس بارے میں کچھ مت بتانا میں نہیں چاہتا کہ یہ بات باہر نکلے ۔خضر نے کہا تو شارف کو ایک بار پھر سے غصہ آگیا

آخر وہ ہر بات میں معصومہ کو شامل کیوں کرتا تھا ۔

دیکھو خضر معصومہ کسی کی کوئی خبری نہیں ہے جو خبر باہر لے جائیگی ۔شارف نے غصے سے کہا لیکن اس وقت اس کا لڑنے کا کوئی موڈ نہ تھا۔

میں ایسا نہیں کہہ رہا ہوں شارف لیکن میں نے خود اسے انسپیکٹر سے بات کرتے ہوئے سنا ہے ۔

وہ اسے ہماری خبریں دیتی ہے تم گرنٹی لے لو وہ بھی وکرم کے بارے میں بھی سب جانتا تھا ۔

اور ایسے سب کچھ بتانے والی معصومہ ہی ہے تم یقین کرو یا نہ کرو۔ میں نے ڈیول کو اس بارے میں بتایا تھا لیکن اس نے کہا ۔کہ ہمیں یہ ساری باتیں پہلے تمہیں بتانی چاہئیں تاکہ تمہیں بعد میں برا نہ لگے ۔

ورنہ تم جانتے ہو ڈیول کے ساتھ غداری کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے ۔

وہ اس کا کندھا تھپتھپا کر باہر جانے لگا ۔

میں ثابت کروں گا خضر کہ معصومہ اس سب میں ملوث نہیں ہے ۔پھر تمہیں سب کے سامنے اس سے معافی مانگنی ہوگی ۔وہ غصے سے بولا

افسوس تمیں ہم پر یقین نہیں ہے شارف ۔محبت اندھی ہوتی ہے ۔۔۔ وہ نفی میں سے ہلاتا باہر نکل گیا

اس کی اچانک آنکھ کھل گئی۔ پھر سے وہی منظر آنکھوں کے سامنے تھا ۔

جو اس نے ابھی اپنی آنکھوں کے پار دیکھا تھا ۔

زمین پر تڑپتا ہوا آدمی ۔اس کے قریب کھڑا ظالم درندہ ۔جو پل میں اس کی زندگی چھین گیا ۔

وہ ایک بار پر نڈھال سی ہو کر بستر پر گر گئی

میں نہیں رہ سکتی ایسے لوگوں کے بیچ ۔یہ سب لوگ قاتل ہے مجھے میرے گھر واپس جانا ہے ۔

مجھے واپس پاکستان جانا ہے

کیا کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو میری مدد کر سکے ۔

صارم سے بھی میں رابطہ نہیں کر سکتی ۔بس وہی میری مدد کر سکتا یے کاش میں پہلے اس کی باتوں پر یقین کر لیتی۔

میں صارم سے رابطہ کیسے کروں ۔وہ بے بسی سے سوچنے لگی ۔

پھر دماغ میں ایک خیال آیا کل رات یارم نے اس سے کہا تھا کہ وہ فاطمہ بی بی سے اس کی بات کروائے گا ۔

اگر وہ فاطمہ بی بی سے بات کرکے صارم کا نمبر انہیں دے کر ساری بات صارم تک پہنچا دے تو ۔۔۔۔

ہاں یہ ہو سکتا ہے۔۔ مگر اس کے لیے یارم سے بات کرنی ہو گی ۔ایک بار پھر سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

یارم کا دھاکہ ایک بار پھر سے یاد آنے لگا۔

وہ شخص اس کے سامنے کیا تھا اور اس کے پیچھے کیا