Rooh-E-Yaram By Areej Shah Readelle50353 Rooh-E-Yaram (Episode 66)
No Download Link
Rate this Novel
Rooh-E-Yaram (Episode 66)
Rooh-E-Yaram By Areej Shah
آج کل یار م بات بات پر اس پر غصہ ہونے لگا تھا وہ کرتی ہی ایسی حرکتیں تھی کہ اسے غصہ آجاتا اور اس بارش کے موسم میں کوئی گرم کپڑے یا شال وہ پہنتی نہیں تھی جس کی وجہ سے یار م کے غصے کا تقریبا ہر روز نشانہ بنتی ابھی ابھی اس کی حالت بہتر ہوئی تھی کہ پھر سے یہ لاپرواہی یارم کو پسند نہ تھی اس لیے یارم کا دھیان کام پر کم اور اس پر زیادہ رہتا اس وقت بھی وہ آفس میں بیٹھا اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا
فرقان کو بلاؤ یہاں ذرا پوچھو تو سہی ہم سے غداری کرنے کی ہمت کہاں سے آئی اس نے شا رف سے کہا
ڈ یول تمہیں لگتا ہے یہ کام فرقان کا ہے میرا مطلب ہے صارم بھی تو ہو سکتا ہے اس کے پیچھے مجھے صارم پر شک ہے
نہیں شارف صارم ایک پولیس انسپکٹر ہے اور ملک ایک بہت بڑا غنڈا گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو وہ کھائے گا کیا یہ کام صارم کا نہیں بلکہ فرقان کا ہے
کل میرے آنے سے پہلے وہ یہاں میرے آفس میں ہونا چاہیے یار م یہ کہتے ہوئے اٹھ کر باہر کی راہ لی
میڈم ہم جا رہی ہیں سر نے فون کیا ہے کہ وہ آرہے ہیں شفا نے کہا
شفا ابھی کچھ دیر رک جاؤ یارم آنے ہی والے ہیں روح کی اب شفا سے اچھی دوستی ہو چکی تھی جبکہ میری کو اردو ٹھیک سے نہیں آتی تھی لیکن اس سے بات کرنے کے لئے وہ اردو میں بات کرنے کی اکثر کوشش کرتی
میم سر نے فون کیا ہے وہ آرہے ہیں ہیں شفاء نے کہا تو روح نے انہیں جانے کی اجازت دے دی
سانپ کا ڈر اب کچھ حد تک کم ہو چکا تھا لیکن یارم کا ڈر بڑھ گیا تھا
وہ ہر بات میں اسے ڈانٹنے لگا تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ اس میں غلطی اس کی اپنی ہے
اس لئے خاموشی سے اس کی ساری ڈانٹ سن لیتی وہ بھی کیا کرتی یارم اسے بھالو بنا کر رکھنا چاہتا تھا
اور وہ بھالو بن کر نہیں رہ سکتی تھی شفا کے جانے کے بعد وہ باہر آگئی جب نظر اسکی سوئمنگ پول پر پڑی ابھی یارم کے آنے میں بہت وقت تھا تو کیوں نہ وہ تھوڑی دیر انجوائے ہی کرلے
تم یہاں اتنی سردی باہر کیا کر رہی ہو یارم کا لہجہ سخت تھا ۔
لیکن اگلے ہی لمحے یارم نے نوٹ کیا کہ وہ دسمبر کے اس موسم میں سوئمنگ پول کے اندر پیر دیئے بیٹھی ہے ۔
اسےاپنے پیچھے دیکھ کر روح گھبرا کر اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔
وہ۔۔۔ مم۔ ۔میں تو ۔۔۔ بس۔۔اسے کوئی بہانہ نہ سوچا ابھی کل ہی یارم نے اس سے کہا تھا کہ وہ اپنی ذات کو ایک تنکے کا نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اور اب یہ اتنی سردی میں سوئمنگ پول میں پیر دیے بیٹھی تھی
شوز کہاں ہے تمہارے ۔۔۔۔؟ اس بار وہ غصے سے دھاڑا تھا ۔
پہلے تو پول میں پیر دیے اسے اپنے پیروں میں زرہ سی تکلیف محسوس نہ ہو رہی تھی لیکن اب ٹھنڈے فرش پر اس کے پیر برف بن چکے تھے ۔
بہت شوق ہے تمہیں اس طرح سے اپنے آپ کو تکلیف پہنچانے کا ۔یارم کا لہجہ سرد تھا ۔
اس نے اس کی طرف قدم بڑھایا تو وہ پیچھے ہٹنے لگی یارم کو اس طرح سے اسے خود سے دور جاتا دیکھنا بالکل اچھا نہ لگا
اس نے ایک ایک قدم اس کی طرف بڑانا شروع کیا ۔اور اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ پیچھے کی طرف جانے لگی ۔
لیکن جلد ہی دیوار نے اس کا راستہ روک دیا ۔
کیوں خود کو تکلیف پہنچاتی چاہتی ہو۔۔۔۔؟۔تمہیں میں ہنستا کھیلتا خوش رہتا اچھا نہیں لگتا کیا ۔۔۔؟ ۔
تم نے اپنے آپ کو تکلیف پہنچائی مطلب مجھے تکلیف دی اب اس کی سزا دو تمہیں ضرور ملے گی ۔
یارم کا لہجہ اب بھی سرد تھا
نہیں یارم مجھے تکلیف نہیں ہو رہی مجھے عادت ہے اس طرح سے پانی میں پیر رکھنے کی روح نے جلدی سے بتایا نا جانے یہ سر پھرا عاشق اسکے ساتھ کیا کردے۔
تو تمہیں تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔؟ یارم نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ۔
جس پر روح نے نہ میں گردن ہلائی لیکن اگلے ہی پل اسے اپنے پیر پر کچھ محسوس ہوا ۔
آنسو ٹوٹ کر اس کی پلکوں سے گرا یارم کا باری بوٹ اس کے پیر کے اوپر تھا
مجھے تکلیف ہو رہی ہے پلیز یارم اپنا پیرمیرے پیر سے ہٹاہیں اس کے چہرے سے اس کی تکلیف کا اندازہ یارم بخوبی لگا رہا تھا ۔
لیکن اس کی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر یارم نے اس کا پیر اور برے طریقے سے کچلا
جس پر روح کے ہوںٹوں سے بے ساختہ چخ نکلی ۔
آج کے بعد اگر میں نے تمہیں ننگے پیر دیکھا تو میں تمہارے پیر ہی کاٹ دوں گا ۔
پلیز یارم پیر ہٹائیں مجھے تکلیف ہو رہی ہے میں اب جوتے کبھی نہیں اتاروں گی روح نے روتے ہوئے کہا ۔جس پر یارم کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوگئی ۔
میرے بچہ تورو دیا ۔یارم نے اس کے پیر سے اپنا پیر اٹھاتے ہوئے کہا ۔چلو جاؤ اپنے کمرے میں ۔اب کی بار پیار سے اسکا چہرہ صاف کرتے اسے پچکارتے ہوئے کمرے میں جانے کا کہا ۔
جب کہ روح کے لئے ایک قدم اٹھانا بھی محال ہو گیا تکلیف سے ایک بار پھر سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے
لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنے آپ کو یارم کی باہوں میں محسوس کیا ۔
وہ اسے اٹھائے کمرے کی طرف لے جانے لگا ۔
پتا ہے روح میں چاہتا ہوں میں تمہارے پیر کاٹ دوں کیونکہ میں تمہیں ہمیشہ ایسے ہی اپنی باہوں میں اٹھا کر چلنا چاہتا ہوں ۔یارم کے انداز پر روح نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا
مذاق تھا جان تم تو سیریس ہوگئی ۔
یارم نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی زبردستی مسکرادی اب اس پاگل شخص کا کیا بھروسہ سچ میں ہی اس کے پیر اسی وجہ سے نہ کاٹ دے ۔
ایسا نہیں کرنا چاہیے اس طرح سے پیر پانی میں رکھنے سے بعد میں تکلیف ہوتی ہے وہ اسے پیار سے سمجھا رہا تھا اور اس کے سوجے ہوئے پیر پر مرہم لگا رہا تھا ۔
پانی میں پیر رکھنے سے نہیں کچلنے سے تکلیف ہوتی ہے اس کا غصہ کم دیکھ کر روح نے بھی اپنے دل کی بات کہی
میں تمہیں تکلیف کبھی نہیں دینا چاہتا جان لیکن اگر میں آج یہ نہیں کرتا تو تم روز یہ کام کرتی۔
روز روز تکلیف سہنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی بار سہہ لو
ڈیول میں نے کچھ نہیں کیا تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں کبھی تمہارے خلاف جا سکتا ہوں میں تمہارا وفادار ہوں پلیز میرا یقین کرو
فرقان اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کی پرواہ کیے بغیر یارم کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں مصروف تھا
ڈیول فرقان مر تو سکتا ہے لیکن تمہارے ساتھ کبھی غداری نہیں کر سکتا یہ سارا کام ضرور اس انسپکٹر کا ہوگا میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہی تمہارے خلاف اپنے آدمیوں کو چھوڑے ہوئے ہے تم مجھ پر یقین کرو میں تمہیں سب کچھ پتہ لگوا کر دوں گا فرقان اس کے سامنے بیٹھا اپنے ایک ہاتھ سے اپنے دوسرے ہاتھ کا خون روکے ہوئے بیٹھا تھا جو کہ بری طرح سے بہ رہا تھا
ٹھیک ہے فرقان میں تمہیں وقت دیتا ہوں مجھے کل ان لوگوں کے بارے میں ساری انفارمیشن چاہیے جو میرے خلاف یہ کام کر رہے ہیں یہ تمہارے پاس اچھا موقع ہے مجھے اپنی وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے اب تم میرے کتنے وفادار ہو اس کے بعد مجھے پتہ چل ہی جائے گا شارف اسے ہسپتال لے جاؤ ڈیول کا آرڈر ملتے ہی شارف اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور فرقان بھی اسے دیکھ کر اٹھ گیا
تم لیلی کو شادی کے لیے کب پرپوز کرو گے ان دونوں کے جانے کے بعد اس نے حضر سے پوچھا
ڈیول میں پرپوز کر چکا ہوں اب اگر وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی تو میں کیا کر سکتا ہوں
ہم کچھ دن کے بعد کہیں آؤٹنگ کا پلان بناتے ہیں وہاں تم لیلیٰ کو پروپوز کروگے ڈ یو ل نے آرڈر دیا تھا
اوکے سر اور کوئی حکم خضر مسکرایا
آرڈر تو تجھے لیلیٰ دے گی شادی کے بعد ابھی تو بڑا پیار پیار کر رہا ہے بعد میں پتہ چلے گا کے لیلی ٰکس کھیت کی مولی ہے
یار ڈرا کیوں رہے ہو ابھی تو پہلی منزل پہ پارکی ہے پیار کی حضر مسکراتے ہوئے اٹھا
وہ میں چلتا ہوں آج میرا لیلیٰ کے ساتھ ڈنر پلاین ہے خضر مسکراتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا
وہ گاڑی سے نکلا اور تیزی سے گھر کے اندر جانے لگا ۔کیونکہ بارش بہت تیز تھی لیکن پھر بھی اتنی سی دیر میں وہ آدھے سے زیادہ بیگ چکا تھا
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ سب سے پہلے اپنی جان عزیز بیوی کو دیکھنا چاہتا تھا
سب سے پہلے اس نے کچن میں جانکا جہاں وہ اکثر پائی جاتی تھی لیکن آج وہاں نہیں تھی یقین وہ بیڈروم میں ہوگی
بیڈ روم کا دروازہ کھولا تو وہاں بھی نہیں تھی
اس کے غیر موجودگی میں اس کے کسی دشمن میں بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ یہاں آتا
تو پھر وہ کہاں گئی ۔۔۔؟
وہ جس طرح سے گھر کے اندر آیا تھا ویسے ہی باہر نکلا
اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا جب نظر سامنے چھت پر تیز بارش میں بھیگتی اس کی جان سے پیاری بیوی پر پڑی
پہلے تو اس کے اس طرح سے غائب ہونے پر اسے اچھا خاصہ غصہ آرہا تھا اور اب وہ بارش میں نہا رہی تھی
یارم غصے سے سیڑھیاں چڑتا تیزی سے اوپر کی طرف گیا
لیکن آج اس کا روح پر غصہ کرنے کا کوئی موڈ نہ تھا
اب وہ اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتا تھا شاید اپنے پاگل پن پر کنٹرول چاہتا تھا
اب اوپر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا 32 سالہ زندگی میں شاید ہی اسے کسی عورت کو اتنا چاہا تھا وہ عورت ذات سے دور بھاگنے والا کس طرح سے ایک لڑکی اس کے ذہن و دل پر سوار ہوگئی کہ اس کے بغیر جینے کا تصور بھی کرتے ہوئے بھی اس کی جان پر بن آتی تھی
روح کو اپنے پیچھے کسی کے ہونے کا احساس ہوا لیکن اس نے مڑ کر نہیں دیکھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سوائے یارم کےاور کوئی نہیں آ سکتا
وہ بنا پیچھے مڑے اپنے کام میں مصروف رہی اب وہ اس چخیے گاچلائے گا کہ تم بارش میں کیا کر رہی ہو
روح نے اپنے آپ کو اس کی ڈانٹ سننے کے لئے تیار کر لیا تھا
کافی دیر تک کوئی آواز نہ آئی پھر اسے اپنی کمر پر کسی کے مضبوط گرفت کا احساس ہوا
روح نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں
وہ آج تک سمجھ نہ پائی تھی کہ اس شخص میں ایسا کیا تھا جو وہ اس کی محبت میں اس حد تک ڈوب گئی کہ اسےصحیح اور غلط کی پہچان تک نہ رہی
وہ اپنے رب سے دعا مانگتی تھی کہ اسے جیسا بھی انسان ملے اسے پیار کرے یا نہ کرے اسے عزت نہ دے اس کے حق نہ دے ۔
لیکن امی کے جیسا انسانیت سے عاری نہ ہو ۔
لیکن یہاں جو شخص اسے ملا تھا وہ اس سے محبت نہیں بلکہ عشق کرتا تھا ۔
اس کی عزت کرتا تھا اسے اس کے حقوق دیتا تھا لیکن انسانیت نام کی اس میں کوئی چیز نہ تھی ۔
ابھی وہ یہی سب کچھ سوچ رہی تھی جب اچانک یارم نے اسے سیدھا کیا وہ لڑکھڑاتی ہوئی اس کے سینے سے لگی ۔
اور اپنا ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھا لیکن اگلے ہی لمحے اس کی شرٹ پہ وہ داغ دیکھ کر وہ اسے دور ہٹی ۔
فقط ایک ناخون جتنا داغ
اس نے بے یقینی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا
اور پھر ایک ہی لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں سے بھاگ گئی
اس کے شوہر کے اندر انسانیت نہیں بلکہ وہ انسانیت کا قاتل تھا
وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتی نیچے آئی اور اپنے کمرے میں بند ہو گئی
تھوڑی ہی دیر بعد باہر سے چیزیں کے ٹوٹنے آوازیں آنا شروع ہوئی اس کے اندر کا درندہ جاگ چکا تھا وہ اس کے قریب آنا چاہتا تھا اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا ۔
لیکن روح نے اس کی محبت کا مقابلہ ایک بھوند خون سے کردیا ۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی بیڈ پر آ بیٹھی اسے یقین تھا یارم چاہے کتنا ہی غصہ کیوں نہ ہو کبھی یہ کمرہ کھول کر یہ اندر نہیں آئے گا ۔
کیونکہ یہ بات تو وہ بھی جانتی تھی کہ یارم کا اندر کا درندہ بھی روحِ یارم سے عشق کرتا ہے
