Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 96) 2nd Last Episode

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یارم چلو یہاں سے روح یہاں نہیں ہم نے کوئی جگہ نہیں چھوڑی اگر وہ یہاں ہوتی تو اب تک مل چکی ہوتی صارم نے اسے سمجھایا

نہیں صارم مرتا ہوا انسان جھوٹ نہیں بولتا وہ مجھے بےبس دیکھنا چاہتا تھا مجھ سے بدلہ لینا چاہتا تھا دیکھو اس نے بدلہ لے لیا

میری روح کو مجھ سے دور کر دیا اس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا میری روح کو مجھ سے چھین لیا ۔اس نے روح کو یہیں کہیں پر چھپایا ہے

یارم اگر وہ یہاں ہوتی تو کیا ہمیں نہیں ملتی ہم نے ہر جگہ ڈھونڈ لیا خضر نے کہا ۔

نہیں خضر اگر یہ اس کی پلاننگ ہوتی تو وہ کبھی نہیں مرتا وہ کبھی میرے سامنے ہی نہیں آتا مجھے لگتا تھا یہ آدمی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن دیکھا اس نے کس طرح سے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا ۔

دیکھا تم نے کس طرح سے اس نے میری دکھتی رگ پر وار کیا ہے یار م بے بسی سے بولا

شونو جو کب سے بھونک بھونک کر اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔

شارف نے اسے ہاتھ مار کر پیچھے کیا

ٹھیک ہے یارم اگر تمہیں لگتا ہے کہ روح یہاں ہے تو ہم اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں صارم نے اٹھتے ہوئے کہا تو شونو اسے دیکھ کر بھونکنے لگا

اف یہ کتا یہاں کیوں آیا ہے صارم جھنجھلا کر بولا

ایک تو وہ پہلے ہی اتنے پریشان تھے اوپر سے شونو انہیں مزید تنگ کیے جا رہا تھا

شارف ایک بار پھر اوپر چلا گیا ۔

جبکہ خضر کھنڈر کی پچھلی طرف اور صارم وہاں کے ٹوٹے پھوٹے کمروں کی طرف چلا گیا

جبکہ یار م راشد کے بے جان وجود کو دیکھ رہا تھا جسے اسے گھورنے سے وہ زندہ ہوکر اسے روح کے بارے میں بتا دے گا ۔

بے ساختہ ہی اس کا دھیان شونو کی طرف گیا جو ایک پرانے کمرے کی طرف جاتا اور پھر مڑکر اسے دیکھتا پھر اس کی طرف آتا اسے دیکھ کر بھونکتا پھر لوٹ جاتا وہ کب سے یہی عمل دہرایا جا رہا تھا ۔

یارم کو کچھ گڑبڑکا احساس ہوا اسے شونو کے پیچھے جانا بےوقوفی لگا لیکن پھر بھی وہ یہ بے وقوفی کر گیا کمرے میں داخل ہوا تو شونو زمین پر پڑا کپڑا منہ کی مدد سے کھینچتے ہوئےیارم کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا

یار م نے اس جگہ کو دیکھا جس کے اوپر بہت سارا کوڑا پھینکا گیا تھا ۔

پھر اس نے شونو کےمنہ میں دبا ہوا کپڑا دیکھا جو تقریبا سارا ہی زمین کے اندر تھا اس کا بس تھوڑا سا ٹکڑا زمین کے باہر تھا اس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔

کالے رنگ کا دوپٹہ صبح روح نے اسی رنگ کے کپڑے پہنے تھے ۔

وہ جلدی سے اس جگہ کی طرف آیا اور کچرا اٹھانے لگا دل میں بے چینی سی ہو نے لگی ۔

اس کے دل نےبے ساختہ دعا کی تھی کہ جو وہ سوچ رہا ہے وہ نہ ہو اس کا دل بری طرح دھڑکنے لگا ۔

اسے لگا جیسے یہ زمین ابھی کھودی گئی ہو نرم زمین پر یارم کے ہاتھوں کے حرکت تیز ہوگئی۔کپڑے کا کچھ اور ٹکڑا سامنے آیا شاید نہیں یقیناً زمین کے اندر اس کی روح دفن تھی

خضر نا امید ہو کر واپس آیا تو یارم کو نہ پاکر ڈھونڈنے لگا اسے ڈھونڈتے ہوئے وہ سارے کمرے دیکھنے لگا

پھر اس کمرے میں آیا جہاں یارم زمین کھود رہا تھا خضر جلدی سے آگے آیا اب روح کا آدھے سے زیادہ دوپٹہ باہر نکل چکا تھا ۔

خضر نے پہلے اونچی آواز میں شارف اور صارم کو پکارا اس کی پکار سن کر وہ دونوں بھاگے

جبکہ خضر تیزی سے آگے بھرا اور یارم کے ساتھ مل کر زمین کھودنے لگا شارف اور صارم کمرے میں آئیں تو ا نہیں بات کی تہہ تک پہنچتے دیر نہ لگی ۔

ان دونوں نے آگے بھر کر ان کا ساتھ دیا ۔

وہ کھودنے میں احتیاط برت رہے تھے ۔

جب شارف کے ہاتھ میں روح کا کٹا ہوا ہاتھ آیا ۔

اس کے ہاتھ کی نس کو بری طرح سے کاٹا گیا تھا ۔

اور اس کا ہاتھ دیکھ کر شارف کے ہاتھ میں مزید تیزی آ گئی۔

ان چاروں نے مل کر کافی ساری زمین کھودلی تھی وہ روح ہی تھی اس بات کا یقین وہ پہلے ہی کرچکے تھے

لیکن جب روح کا مٹی سے بھرا ہوا چہرہ سامنے آیا یارم نے بے چینی سے اس کا چہرہ صاف کیا ۔

نہ جانے کتنی دیر سے وہ زمین کے اندر تھی

یارم کو صدیق کی موت یاد آئی اس نے صدیق کو اسی طرح سے زمین کے اندر سے نکالا تھا

اسے لگا جیسے روح کی سانسیں رک چکی ہوں

خضر فورا گاڑی کی طرف بھاگا

روح آنکھیں کھولو

روح تمہیں کچھ نہیں ہوگا

اٹھو میری جان میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا

یارم اسے باہوں میں بھرے گاڑی کی طرف بھاگا

کیا ہوا ہے ان کو ڈاکٹر نے حیرانگی سے دیکھا

ڈاکٹر پلیز آپ پہلے اس کی جان بچائیں اس وقت سب سے ضروری پیشنٹ کی جان بچانا ہے

صارم نے اپنا آئی ڈی کارڈ نکالا اور ڈاکٹر کو دیکھایا

کچھ دیر میں پولیس یہاں پہنچ جائیگی میں جانتا ہوں یہ پولیس کیس ہے

اس کو ایک مہرے کے طور پر ہمارے خلاف استعمال کیا گیا ہے

پلیز اس کی جان بچائیں صارم نے کہانی بنائی اور ڈاکٹر کو اپنی بات پر یقین دلاتے ہوئے روح کو چیک کرنے کے لیے راضی کیا ۔

ان کی ہارٹ بیٹ بہت سلو ہے دعا کریں اب سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہوئے کہا

یہ لیڈی تین منتھ سے پریگنیٹ تھی ڈاکٹر نے افسوس سے کہا

تھی مطلب ۔۔۔۔! خضر نے یارم کے کندھے پر رکھا۔

جو خاموشی سے کھڑا تھا جیسے جو کچھ ہورہا ہے وہ سب سے انجان ہے

جی ان کا مس کیریج ہو چکا ہے اور لیڈی کی جان بھی خطرے میں ہے دعا کریں کہ وہ کومہ میں نہ چلی جائیں اگر ایسا ہوا تو ہم انہیں نہیں بچا سکیں گے

ڈاکٹر نے کہا اور واپس چلا گیا

یارم تم خاموش کیوں ہو سنا تم نے ڈاکٹر نے کہا کہ اگر روح کر ہوش نہ آیا تو وہ مر سکتی ہے خضر نے اس کے بے تاثر چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا

یار م تم خاموش کیوں ہو خضر نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

سب کچھ ختم ہوگیا خضریہ میرے گناہوں کی سزا دی گئی ہے میرا بچہ مر گیا ہے میری بیوی اندر بےجان پڑی ہے اور میں یہاں بیٹھا اپنی بے بسی کا تماشا دیکھ رہا ہوں

میں کچھ نہیں کر سکتا راشد مجھے ہارنا چاہتا تھا دیکھو اس نے مجھے ہارا دیا اس نے میری کمزوری پر وار کیا میرا سب کچھ چھین لیا کچھ بھی تو نہیں میرے پاس

یار م کاظمی ہار گیا خضر یارم کاظمی اپنا سب کچھ ہار گیا یارم تم ایسے نہیں ہار سکتے تم ایسے کیسے ہمت ہار سکتے ہو روح کو کچھ نہیں ہوگا یار پلیز صبرکرو تم تو روح سے پہلے مر رہے ہو ۔

خضر نے سمجھاتے ہوئے کہا

ہاں کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ روح نہیں بچے گی یہ اللہ کی طرف سے میرے لیے سزا ہے میرے گناہوں کا انجام یہی ہونا تھا اللہ نے مجھے میرے گناہوں کی سزا دے دی ہے خضر

یارم نے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو کو صاف کرنے کی زحمت نہ کی

کون سے گناہ یارم کونسی سزا وہ گناہ جو تم معصوم عورتوں لڑکیوں اور بچیوں کو ان درندوں سے بچانے کے لیے کیے ہیں۔

نہیں یارم وہ گناہ نہیں ہیں وہ تیری نیکیاں ہیں تو نے جن لوگوں کو ختم کیا نہ وہ اللہ کی نظروں میں بھی گنہگار تھے اور ویسے بھی دنیا میں ایک پتا بھی اس مالک کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا اللہ نے تجھے ان معصوم لڑکیوں کا محافظ بنایا ہے

تجھے اتنی ہمت دی ہے کہ تو ان کی حفاظت کرسکے تجھے تو اللہ سے اپنا انعام مانگنا چاہیے اور تو اس کا عذاب سمجھ رہا ہے اللہ اپنے پیاروں کاامتحان لیتا ہے تاکہ اس کے پیارے مصیبت میں اسے مدد کے لیے پکارئیں جا جا کے تو اللہ سے مدد مانگ بے شک وہ نوازنے والا ہے خضر نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا ۔

لیکن یہ ڈاکٹر۔ ۔ ۔۔۔ یار م نے بے بسی سے کہا

یہ ڈاکٹر تجھے کیا دیں گے یہ ڈاکٹر خدا نہیں ہیں ۔

نوازنے والی ذات صرف اللہ کی ہے ۔یہ لوگ تجھ سے تیری روح کو چھینے گے تو ان کی بات پر یقین کر رہا ہے

یہ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے ۔

ان کی بات پر یقین کرنے سے بہتر ہے تو اللہ سے مانگ خضر نے اسے سمجھایا

تو ٹھیک کہہ رہا ہے خضر میں اللہ سے مانگوں گا یہ ڈاکٹر مجھے کچھ نہیں دے سکتا مجھے یقین ہے میرا اللہ مجھے مایوس نہیں کرے گا

وہ مجھے میری روح کو واپس کر دے گا میں اس کی آزمائش پر پورا اتروں گا

خضر میری روح کو کچھ نہیں ہوگا میں ان ڈاکٹروں سے اپنی روح کو نہیں مانگوں گا میں اللہ سے مانگو گا یارم یقین سے کہتا ہوں وہاں سے اٹھا اور باہر نکل گیا خضر جانتا تھا کہ وہ کہاں گیا ہے ۔

آئی ایم سوری سر آپ کی بیوی ریکور نہیں کرپارہی وہ بہت زیادہ ڈری ہوئی ہیں انہیں لگتا ہے کہ وہ ابھی تک زمین کے اندر ہیں

سانس نہیں لے پا رہی وہ ابھی تک زندہ ہیں مجھے حیرت ہے ۔

جبکہ ایسے کیس میں کسی کا بچنا ناممکن ہے مجھے نہیں لگتا کہ وہ بچ پائیں گی۔

میں آپ کو اس کیس میں کوئی امید نہیں دے سکتا ڈاکٹرنے ناامیدی سے کہا تو یارم نے اس کا گریبان پکڑ لیا ۔

میری روح کی زندہ ہونے پر حیرت ہو رہی ہے تمہیں تم ہوتے کون ہو میری روح کے بارے میں ایسی بکواس کرنے والے ۔

کیا ہو تم خدا ہو۔۔۔ بولو خدا ہو تم نہیں نا ۔۔پھر کیوں یہ بکواس کی تم نے تم نہیں بچاؤ گے میری روح کو اللہ بچائے گا اسے وہ زندگی دے گا تم نہیں میری روح کو میرا اللہ بچائے گا اور تم حیرت کرتے رہ جاؤگے یارم ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا ڈاکٹر لڑکھڑا کر دیوار کے ساتھ لگا

میں اپنی روح کا اچھے سے اچھا اور بہتر سے بہتر علاج کرواؤں گا ۔

پیپرز بنواؤ میں اسے کسی بہتر ہسپتال میں لے کے جاؤں گا جہاں تم جیسے نااہل ڈاکٹر نہیں ہوں گے ۔

یارم اسے سخت نگاہوں سے گھورتا باہر نکل گیا جبکہ ڈاکٹرنے سامنے بیٹھے خضر کو دیکھا جو اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے یہاں کے منظر سے بے خبر ہو ڈاکٹر اپنے کپڑے ٹھیک کرتا وہاں سے چلا گیا

ڈاکٹر نے باہر قدم رکھا تو یارم لپک کراس کے قریب آیا یارم نے پاکستان کے سب سے بیسٹ ہسپتال میں روح کو شفٹ کر دیا تھا

کیونکہ اُس ہسپتال کے ڈاکٹرز ناامیدی سے روح کو بچاننے سے انکار کر چکے تھے ۔

ایم سوری مسٹر یار م وہ نہیں بچ سکتی وہ کوما میں جا چکی ہیں اب ان کا علاج بیکار ہے ان کا دماغ کام کرنا چھوڑ چکا ہے

اور اب نہیں بچ سکتی وہ اپنے آپ کو مردہ تصور کر چکی ہیں اور اب اپنی موت کو محسوس کر چکی ہیں ان کا بچنا نا ممکن ہے ڈاکٹر نے جواب دیا

کیا مطلب ہے اس کا بچنا ناممکن ہے کچھ نہیں ہوگا میری روح کو تم ہوتے کون ہو اس طرح اسے کہنے والے وہ بھی یہی بکواس کر رہا تھا اور تم بھی یہی کہتے ہو

تم دو ٹکےکے ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتے میں اپنی روح کو دبئی لے جاؤنگا دیکھنا تم بالکل ٹھیک ہوجائے گی میری روح یارم غصے سے بولا

اب کہیں بھی لے جائے لیکن وہاں کے ڈاکٹر بھی یہی کہیں گے وہ نہیں بچ سکتی آپ اپنا وقت اور پیسہ ضائع کر رہے ہیں یارم کے غصے کو دیکھ کر ڈاکٹر نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔

دیکھیں مسٹر یارم اب اس مشینری کا کوئی فائدہ نہیں ۔آپ کی وائف نہیں بچ سکتی ۔ڈاکٹر اس کے غصے کو نظرانداز کیے اس سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا

سب بیکار ہو تم لوگ کچھ نہیں ہوگا میری روح کو میں اسکا علاج کرواؤں گا کچھ نہیں ہونے دوں گا میں اس کو لے جاؤں گا یہاں سے سب کے سب بے کار ہو تم وہ غصے سے بولا

۔جبکہ ڈاکٹر صرف اس کی حالت پر افسوس ہی کرسکتا تھا

یارم اسے دبئی لے آیا تھا لیکن دوبئی کے ڈاکٹر کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ اب ایک زندہ لاش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اس کا بچنا ناممکن ہے اگر وہ کبھی کومے سے باہر نکلیں تو مردہ حالت میں ہوگی وہ تقریبا مر چکی ہیں بس کو ما میں ہونے کی وجہ سے اسے زندہ کہا جا سکتا ہے ورنہ ایسے لوگ زندہ میں شامل نہیں ہوتے ۔

ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا یارم نے دنیا کے سب سے بہترین ڈاکٹر سے رابطہ کیا لیکن سب کا یہی کہنا تھا کہ روح کے اندر اب کچھ نہیں ہے وہ مردہ موجود ہے ۔

وہ خود ہی اپنے آپ کو ریکور نہیں کر رہی وہ اپنے آپ کو مردہ تصور کر چکی ہے سات دن گزر چکے تھے روح نے کوئی رسپونس نہ دیا دنیا کا کوئی ڈاکٹر اسے اچھی امید نہ دلا سکا یارم کا غصہ بڑنے لگا تھا وہ کسی سے بات نہیں کرتا سوائے روح کے ۔

وہ اپنا سارا وقت کے ساتھ گزارتا وہ اسے واپس گھر لے آیا تھا اس کے لیے اسپیشل نرس کا انتظام کیا تھا جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتی شار ف لیلی معصومہ خضر تقریبا ہر روز ہی اسے ملنے آتے ۔

اسے روز مرہ کے بات بتاتے اسے دوبارہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کرتے ۔

وقت گزرنے لگا تھا یارم واپس ویسا ہی ہوتا جا رہا تھا ظالم درندہ اس نے پھر سے ترس کھانا چھوڑ دیاوہ سارا دن گناہوں کی دنیا میں رہتا اور ہر رات روح کا یارم بن جاتا ۔

سب لوگ ناامید ہوچکے تھے لیکن یارم کو یقین تھا کہ روح ایک نا ایک دن ٹھیک ہو جائے گی ۔

جبکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ایک دن اسی حالت میں وہ مر جائے گی

لیکن یارم کو یقین تھا کہ اس کی روح ٹھیک ہوجائے گی

دیکھو روح آج میں ضرورت سے زیادہ ہینڈسم تو نہیں لگ رہا ایسا کرو تم نظر اتار لو میری یہ نہ ہو کہ مجھے نظر لگ جائے

وہ اکثر اس کی نظر اتارتی تو یارم کو یہ سب اس کی بیوقوفی لگتی اور وہ اس کا مذاق اڑاتا ۔

جبکہ روح اپنی اس بات پر مذاق پسند نہیں کرتی تھی جبکہ یارم کو اس کو چرانے میں مزا آتا

لیکن اب وہ اس کی یہی باتیں یہی سب بے وقوفیاں مس کرتا تھا وہ پل پل تڑپ رہا تھا اس کی زندگی اس کے ساتھ ہونے کے باوجود اس سے بہت دور تھی ۔

روح میری غلطی اتنی بری نہیں جتنی سزاتم دے رہی ہو وہ نرمی سے اس کا گال چھوتا اس کے ساتھ لیٹ گیا روح ٹھیک ہو جاؤ تم جانتی ہو نہ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر

بہت بے رحم ہوتی جارہی ہو روح ۔پلیز ٹھیک ہو جاؤ ۔

پلیز میری زندگی میں واپس آ جاؤ دیکھو تمہارا یارم پل پل مر رہا ہے تمہارے بغیر ۔

پلیز ترس کھاؤ مجھ پر ۔

یارم اپنی بے قراریاں بیان کرتا اس کے قریب سے اٹھا

اچھا سنو مجھے کچھ ضروری کام ہے میں جلدی آ جاؤں گا تب تک تم اٹھ جاؤ یہ کیا تکتی نہیں ہو ہر وقت سوئی رہتی ہو ۔

وہ اپنے لہجے کو سخت بنا کر اسے ڈانٹ رہا تھا جبکہ اس سے بے خبر وہ گہری نیند سو رہی تھی اتنی گہری نیند کے اپنے یارم کی بے چینیوں سے بھی واقف نہ تھی

چلو روح میں تمہیں باہر لے کے چلتا ہوں تم یقیناً گھر میں رہ کر بور ہوگئی ہوگی

چلو ہم تمہیں سیر کروا کے لاتے ہیں خضر نے کہا۔

خضر روز کی طرح آج بھی اس سے ملنے آیا تھا ۔

ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وہ اپنی موت کو قبول کر چکی ہے اب اگر وہ کومہ سے باہر آئی تو مردہ حالت میں ہوگی

وہ کبھی بھی مر سکتی ہے

دو ماہ گزر چکے تھے روح کی حالت میں کوئی بہتری نہ آئی یارم اس کا کسی بچے کی طرح خیال رکھتا

جبکہ روح کسی اور ہی دنیا میں تھی اسے اپنے آس پاس کا احساس نہ ہوتا یا شاید ہوتا

لیکن ڈاکٹر کے مطابق وہ اپنا سارا جسم چھوڑ چکی تھی اس کا دل دماغ جسم کا کوئی حصہ نور ملی کام نہیں کر رہا تھا

اسے مشینوں کے سہارے زندہ رکھا جا رہا تھا اور ڈاکٹر کے مطابق اب یہ مشین اپنا فرض ادا کر چکی تھی

یار م گھر واپس آیا تو نرس جا چکی تھی اس کے کپڑوں پر خون لگا تھا ۔

وہ دوسرے کمرے میں جانے لگا

کہ دل میں ایک عجیب سے ڈرنے جنم لیا

وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں آیا اور روح کو دیکھنے لگا اس پر خوف طاری ہونے لگا

اس نے نرمی سے روح کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔

اسے کچھ عجیب لگا پھر اسے مشین کی طرف دیکھا

وہ لائن جو روح کی چلتی ہوئی سانسوں کو ظاہر کرتی تھی

وہ بالکل سیدھی ہو چکی تھی

حقیقت قبول کرنا مشکل تھا لیکن یارم کی روح سے بہت دور جا چکی تھی ۔

اتنی دور کے واپسی کا سفر اب ممکن نہیں تھا اس کی روح زندگی سے موت کا سفر طے کر چکی تھی ۔