Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rooh-E-Yaram (Episode 56)

Rooh-E-Yaram By Areej Shah

یارم نےجیسے ہی پلٹ کر دیکھا روح زمین پر بے ہوش پڑی تھی وہ تیزی سے اس کی طرف آیا اور اسے اٹھانے لگا ۔

کیا ہوا ہے اسے کون لایا ہے یہاں پر اسے یارم نے غصے سے معصومہ کی طرف دیکھا جو خود بری طرح گھبرائی ہوئی کھڑی تھی ۔

سر مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ لوگ یہاں اس لیے آئے ہیں آپ لوگ تو بات کرنے آئے تھے روح کافی گھبرائی ہوئی تھی اس لیے میں اسے یہاں لے آئی ۔معصومہ نے اپنی صفائی پیش کی جبکہ یارم کا دل چاہا کہ وہ اس کا منہ توڑ دے

اتنی مشکل سے اس نے سب کچھ ٹھیک کیا تھا اور معصومہ کی ایک غلطی کی وجہ سے سب کچھ پھر سے برباد ہو چکا تھا ۔

روح کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ سب کچھ سن ہی نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی چکی ہے ۔

یارم نے احتیاط سے اسے اٹھایا اور وہاں سے سیدھا نکل گیا ۔

وہ بھی خضرکے ساتھ اس کے پیچھے جانے لگی جب شارف نے اسے پکڑ کر زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا ۔

تم باتوں سے سدھرنے والے نہیں ہو معصومہ تمہیں ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے

ڈیول کی ٹیم میں کام کرنے والے لوگ اتنی غلطیاں نہیں کرتے ۔

اپنے منہ پے ہاتھ رکھے معصومہ حیران و پریشان نظروں سے شارف کو دیکھ رہی تھی ۔

جب کہ اسے اس کی غلطی بتا کر سزا دے کر شارف یہ جا وہ جا ہو چکا تھا

وہ اسے سیدھا لے کر گھر آیا تھا ڈاکٹر گھرپر ہی اسے چیک کر رہا تھا شارف خضر معصومہ لیلیٰ سب لوگ یہاں پر تھے ۔

سب لوگ اپنی اپنی جگہ پریشان تھے ۔

لیکن یارم کی حالت ان سب سے مختلف تھی وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی آرام سے نہ بیٹھا بلکہ مسلسل ٹہل رہا تھا وہ شاید آگے کے بارے میں جانتا تھا ۔

کتنی مشکل سے اس نے روح کو اپنا اعتبار دلوایا تھا اور سب پر پانی پھر چکا تھا ۔

معصومہ کتنی بار اس کے قریب آ کر معافی مانگنے کی کوشش کر چکی تھی ۔

معصومہ میں اس وقت کچھ نہیں سننا چاہتا کچھ بھی نہیں اس نے الفاظ الگ الگ کرکے ادا کیے ۔

تو معصومہ خاموش ہوکر بیٹھ گئی

معصومہ جانتی تھی کہ شارف اس سے ناراض ہے وہ پہلے سے ہی اس پر بہت غصہ ہے اب تک معصومہ نے جو اس کے ساتھ کیا اس کی وجہ سے شارف اس سے سیدھے منہ بات نہیں کر رہا تھا ۔

لیکن پھر بھی معصومہ اتنی بڑی قصوروار نہ تھی اس نے شارف کو کبھی نہیں کہا تھا وہ اسے چاہتی ہے یا اس سے شادی کرے گی ۔

اس نے تو ہمیشہ شارف کے جذبات کو بھٹکنے سے روکا تھا اس نے ہمیشہ یہی کہا تھا کہ وہ یہاں صرف اپنے باپ کی موت کا بدلہ لینے آئی ہے نہ کہ گھر بسانے ۔

جبکہ لیلی اب اپنا سارا وقت خضر کے ساتھ گزارتی تھی ۔وہ خضر کو سمجھنے لگی تھی ۔

وہ باظاہر ایک دوسرے کے دوست ہی تھے ۔لیکن خضر کے اندر ایک امید جاگی تھی کیا پتا لیلیٰ اس کی محبت کو قبول کرلے ۔

جبکہ لیلیٰ کو اب خضر کا ساتھ اچھا لگتا تھا ۔فارغ وقت میں وہ اکثر اکٹھے نظر آتے ۔یہاں تک کہ لیلی اب خضر کو اپنا بیسٹ فرینڈ بھی کہنے لگی تھی

۔

روح کو ہوش آئے کافی وقت ہو چکا تھا لیکن کسی میں بھی اتنی ہمت نہ تھی کے اندر اس کے پاس جائے ۔

میں جا کر بات کروں اس سے لیلیٰ نے کہا ۔

نہیں میں خود جاؤں گا ۔یارم نے دھیمی آواز میں کہا۔

تو پھر جاؤ اور بتاؤ اسے اور اب مزید کوئی بھی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

مجھے سمجھ میں نہیں آتا ڈیول تم جھوٹ سے سب سے زیادہ نفرت کرتے تھے اور اپنی ہی محبت سے تم اس حد تک جھوٹ بول رہے ہو ۔

خضر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔

ہاں کیوں کہ میں اسے کھونے سے ڈرتا ہوں ۔خضر میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں میں اسے نہیں کھو سکتا ۔

وہ کہتی ہے کہ میں یہ سب کچھ چھوڑ دوں لیکن میں یہ سب کچھ چھوڑ نہیں سکتا ۔جانے کتنے ہی لوگ ہیں جو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ اللہ ان کے لیے کسی نہ کسی کو ضرور بھجئے گا جو آکر ان کی تکلیف دور کرے گا میں ان لوگوں کی امید نہیں توڑ سکتا ۔

لیکن روح سے دور بھی نہیں رہ سکتا روح میری جان ہے میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر ۔تمہیں پتا ہے روح وہ واحد انسان ہے جیسے میں بنا کسی غلطی کے سزا دے رہا ہوں ۔

یارم اسے دیکھتے ہوئے اٹھا اور کمرے کے اندر جانے لگا

وہ کمرے میں آیا روح بالکل خاموش بیڈ پر بیٹھی تھی ۔

یارم اس کے قریب آکر بیٹھا وہ تب بھی کچھ نہ بولی۔

لیکن جب یارم نے اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی روح نے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا ۔

ہاتھ مت لگائے مجھے دھوکا دیا ہے آپ نے مجھے ۔آپ ویسے ہی ہیں۔ بالکل بھی نہیں بدلے ۔نہیں رہ سکتی آپ کے ساتھ ۔مجھے نہیں رہنا یہاں مجھے پاکستان بھیجے ۔

میں اپنے گھر واپس جاؤں گی ۔روح اسے دیکھ کر بولی

پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں لیکن میں یہ سب کچھ نہیں چھوڑ سکتا ۔

تو ٹھیک ہے مجھے چھوڑ دیں روح اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی لیکن اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے یارم کا زوردار تھپڑ اسے بیڈ پر گرا گیا تھا ۔

خبردار جو ایسی بکواس دوبارہ کی وہ ایک ہاتھ سے اس کی بال اپنی مٹھی میں پکڑتے ہوئے بولا

میں نہیں رہوں گی یہاں چلی جاؤں گی یہاں سے اور آپ مجھے زبردستی یہاں نہیں رکھ سکتے ۔

مجھے میرے گھر والوں کے پاس جانا ہے آپ ایک بے حس اور بے رحم انسان ہیں ۔اور آپ جیسے انسان کے ساتھ زندگی نہیں گزاری جاسکتی بلکہ آپ کو تو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے ۔

کسی کی جان لینے والا انسان نہیں ہو سکتا ۔مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے پاکستان واپس جانا ہے مجھے میرے گھر جانا ہے اپنے گھر والوں کے پاس وہ چلا چلا کر بولی ۔

کون سے گھراور کون سے گھو والو کی بات کر رہی ہوروح ان لوگوں کی جنہوں نے تمہیں بیچ دیا ۔کوئی ہنسی خوشی نکاح نہیں کروایا گیا تھا تمہارا بیچا گیا تھا تمہیں یہاں ۔تمہارے نام کی دولت پر وہ لوگ عیش کر رہے ہیں ۔تمہیں بیچ کر جو رقم انہیں ملی ہے اس پر جی رہے ہیں ۔روح تمہیں دنیا میں کوئی اتنا پیار نہیں کرتا جتنا سید یارم کاظمی کرتا ہے ۔میرے پیار کا مقابلہ ان لوگوں کے ساتھ مت کرو ۔

میں بے حس ہوں بے رحم ہوں لیکن اتنا گرا ہوا نہیں ہوں کہ اپنی خوشیوں کے لیے کسی کو بیچ دوں ۔

تمہیں اندازہ بھی ہے یہاں تمہارے ساتھ کیا کیا ہو سکتا تھا ۔جن لوگوں کے لئے تمہارے دل میں اتنی محبت ہے نا وہ تم سے محبت نہیں کرتے تمہیں بیچ کر اپنی زندگی سنوار چکے ہیں وہ آگے بڑھ چکے ہیں روح ۔

یارم شروع میں جتنے غصے سے بولا تھا اب اس کا غصہ اتنا ہی ٹھنڈا ہو چکا تھا اس وقت وہ روح کا چہرہ تھامے محبت سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔

کیونکہ روح کی سوچ ابھی تک وہیں روکی تھی کہ اسے بیچ دیا گیا تھا ۔

اس کا نکاح نہیں کروایا گیا تھا بلکہ پیسوں کی خاطر اسے بیچ دیا گیا تھا ۔

بچپن سے وہ اپنے ماموں کے نام کے طعنے سنتی تھی ۔امی ہمیشہ اسے کہا کرتی تھی ۔تیرا ماموں تجھے چھوڑ کر بھاگ گیا ۔۔۔روح جب پیدا ہوئی تب اس کا ماموں صرف 13 سال کا تھا وہ تو اس کا نام تک نہیں جانتی تھی بس اتنا پتا تھا کہ اس کا ایک رشتہ ہے جو دنیا میں اب بھی موجود ہے وہ ہمیشہ اپنے اس ماموں کی زندگی کی دعائیں مانگتی تھی ۔ہاں شاید وہ شخص آج اس کے قریب ہوتا اسے اس کا سہارا ملتا تو وہ اس طرح سے نہ بکتی ۔

لیکن وہ اب اسے کہاں ملتا ۔۔۔ وہ تو 18 سال پہلے ہی اپنی بہن کے مرنے کے بعد اسے چھوڑ کر کہیں غائب ہوگیا تھا

روح روتے روتے زمین پر بیٹھ گئی ۔جبکہ یارم نے بھی زمین پر بیٹھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔

روح کی ذات اتنی بے مول تھی آج ایک اور راز روح پر فاش ہوا تھا

ہاں جی کیسی لگی کیا لگتا ہے آپ کو لیلیٰ خضر کی محبت قبول کرے گی شارف اور معصومہ میں سب کچھ اوکے اوکے ہو جائے گا ۔یارم کا اگلا قدم اب کیا ہوگا ۔روح کیا اب اس کے ساتھ رہے گی ۔صارم ان کے خلاف کیا پلان کر رہا ہے اور روح کا ماموں کون ہے ۔تفصیل سے تذکرہ کریں تاکہ لکھنے میں اور مزا آئے